جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابن جبیر اور اس کا سفر نامہ (حصہ اول)

 سرخسی مشہور سیاح اور مورخ ہے جو 652ھ1254-55ء کے قریب ہوا ہے2۔ اس نے 593ھ1196-97ء میں مشرق سے مغرب کا سفر کیا۔ اور بیت المقدس کی زیارت سے فارغ ہو کر مصر میں گیا۔ اسکندریہ سے جہاز میں سوار ہوا اور بحر روم کو طے کر کے مراکو میں داخل ہوا۔ جہاں یعقوب المنصور حکمران تھا اور اس ملک میں مرابطین کی حکومت تھی۔ غالباً اس نے اندلس میں بھی سفر کیا ہے۔ اس کا سفرنامہ جو رحلۃ السرخسی کے نام سے مشہور ہے اب تک نہیں چھپا۔ اس کی ایک کتاب المسالک و الممالک ہے جس میں اس نے ملکوں اور شہروں کے باہمی فاصلے بتائے ہیں۔ یہ کتاب بھی اب تک نہیں چھپی۔

 ابن سعید المتوفی 673ھ1274-75ء اندلس کا مشہور ادیب اور سیاح ہے جس نے مصر، عراق، الجزیرہ اور شام کا سفر کیا اور ایک سفر نامہ مرتب کیا جس کا نام النفحۃ المسکیہ ہے اور وہ اب تک چھپ کر شائع نہیں ہوا۔

عبدری جس نے 688ھ1289-90ء میں حج کے ارادہ سے سفر کیا اور افریقہ کے شمال میں ہوتا ہوا اسکندریہ پہنچا۔ یہاں سے خشکی کی راہ مکہ میں آیا۔ پھر مدینہ اور بیت المقدس کی زیارت سے فارغ ہو کر اسکندریہ ہوتا ہوا اپنے وطن مغرب کو واپس گیا اس کا سفر نامہ لیڈن کے کتب خانہ میں قلمی موجود ہے اور اس قابل ہے کہ چھاپ کر شائع کیا جائے۔

 ابو الفدا نہایت مشہور مورخ اور جغرافیہ نویس ہے جس نے 733ھ1332-33ء میں وفات پائی۔ اس کی کتاب تقویم البلدان 1838ء اور 1840ء کے درمیان پیرس میں بمعہ ترجمہ فرانسیسی دو جلدوں میں طبع ہوئی ہے اور ڈرسڈن میں 1842ء اور 1845ء کے درمیان چھاپی گئی ہے۔ اس کی ایک کتاب مصر کے جغرافیہ پر ہے جو گاٹنجن میں 1776ء میں پروفیسر میکائیل‌Michaelis کے اہتمام سے چھپی ہے۔

ابن الوردی (المتوفی 749ھ1348-49ء) اس نے ایک کتاب جغرافیہ میں لکھی ہے جس کا نام خریدۃ العجائب و فریدۃ الغرائب ہے اور جو 1824ء میں پروفیسر ہیلاندر‌Hylander کے اہتمام سے سویڈن میں چھاپی گئی ہے۔ اس کے ساتھ لاطینی کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ اپسال میں بھی کتاب 1835ء اور 1839ء کے درمیان پروفیسر ٹورنبرگ‌Tornberg کے اہتمام سے دوسری دفعہ دو جلدوں میں چھاپی گئی ہے۔ اس کتاب میں افریقہ عرب اور ملک شام کے متعلق بہت سے جغرافی معلومات ہیں اور اس کے ساتھ ایک عام نقشہ بھی ہے جو اب تک پیرس کے شاہی کتب خانہ میں محفوظ ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ فرنچ زبان میں کیا گیا ہے۔

البلوی جس کا نام خالد بن عیسی اور کنیت ابوالبقا ہے اس نے 736ھ1335-36ء میں قنتوریہ‌Cantoria (اندلس) سے ٹیونس کا سفر کیا۔ وہاں سے جہاز میں سوار ہو کر اسکندریہ میں پہنچا۔ پھر القاہرہ کو دیکھ کر بیت المقدس کو روانہ ہوا۔ پھر عرب میں داخل ہوا۔ اس کے بعد سفر نامہ کا نام تاج المفرق فی تحلیۃ المشرق ہے اور اس کا قلمی نسخہ گوتھا‌Gotha (جرمن) کے کتب خانہ میں موجود ہے۔

 ابن بطوطہ (المتوفی 779ھ1377-78ء) افریقہ کا مشہور سیاح ہے جو 725ھ1324-25ء میں سفر کو نکلا۔ اور عراق، مصر، شام، یمن، ہندوستان، چین، تاتار، سوڈان اور اندلس کی سیر و سیاحت کی اس کے سفر نامہ کا نام تحفۃ النظار فی غرائب الامصار و عجائب الاسفار ہے جس کو ابن جزی نے مرتب کیا اور جو پروفیسر دی فرمری‌Defrémery اور پروفیسر سنگوینتی‌Sanguinetti کے اہتمام سے معہ فرینچ ترجمہ کے پیرس میں 1874ء اور 1877ء کے درمیان 4 جلدوں میں چھپ کر شائع ہوا ہے۔ یورپ کی اکثر زبانوں میں اس سفرنامہ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔

 اس مختصر نوٹ کے بعد اب ہم ابن جبیر کا حال بیان کرتے ہیں اور اس کے سفر کے مختصر حالات قلمبند کرتے ہیں۔

 ابن جبیر کا نام محمد اور کنیت ابو الحسین ہے وزیر لسان الدین ابن الخطیب نے احاطہ بما تیسر من تاریخ غرناطہ میں اس کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے۔ محمد بن احمد بن جبیر بن سعید بن جبیر بن سعید بن جبیر بن محمد بن عبدالسلام بن جبیر الکنانی۔ مگر علامہ مقریزی نے مصر کی تاریخ المقفی میں یہ سلسلہ درج کیا ہے۔ محمد بن احمد بن جبیر بن محمد بن جبیر بن سعید بن جبیر بن سعید بن جبیر بن سعید بن جبیر بن محمد بن مردان بن عبدالسلام بن مردان بن عبدالسلام بن جبیر الکنانی ۔ پہلے سلسلہ سے ابن جبیر عبدالسلام بن جبیر الکنانی کی نویں پشت میں اور دوسرے سلسلہ سے سولہویں پشت میں قرار پاتا ہے۔ بہر حال یہ امر مسلم ہے کہ وہ اسی عبدالسلام بن جبیر الکنانی کی اولاد میں ہے جو اس کے آباؤ اجداد میں سب سے پہلے ملک اندلس میں داخل ہوا تھا۔ لسان الدین ابن الخطیب نے عبدالسلام کی نسبت تصریح کی ہے وہ 123ھ740-41ء میں بلج بن بشر القشیری کی فوج کے ساتھ جو بنو امیہ کی طرف سے اندلس کا گورنر تھا۔ اسپین میں آیا اور شذونہ‌Medina-Sidonia میں اترا۔ اندلس کے فتح ہونے کے بعد عرب کے بہت سے قبائل اطراف ملک میں پھیل گئے تھے۔ ابن حزم نے لکھا ہے کہ قبیلہ بنو کنانہ کے اکثر لوگ طلیطلہ اور اس کے نواح میں آ کر آباد ہوئے تھے ان میں سے قاضی ابو الولید اور وزیر ابو جعفر اور ابن جبیر اس قبیلہ کے مشہور اعیان اور علما میں شمار ہوتے ہیں3۔

 ابن حزم کے بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ابن جبیر کے اسلاف بھی طلیطلہ یا اس کے نواح میں کبھی آباد ہوئے تھے۔ اس لیے ہم ابن خطیب کی روایت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ابن جبیر کو خاص مورخوں نے بلنسی الاصل لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ولادت بلنسیہ‌Valencia میں ہوئی تھی۔ اور مقریزی نے تو صاف یہ لکھ دیا کہ وہ بلنسیہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مقریزی نے اور دوسرے مورخوں نے بلاتفاق اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ابن جبیر نے اپنے باپ احمد بن جبیر سے فن حدیث شاطبہ‌Játiva میں حاصل کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن جبیر کے بزرگ پہلے شذونہ میں پھر بلنسیہ میں اور پھر شاطبہ میں آباد ہوئے۔ شاطبہ صوبہ بلنسیہ کا ایک شہر ہے جو بلنسیہ کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ ابن جبیر کے باپ احمد بن جبیر نے بلنسیہ کو چھوڑ کر اسی شہر میں سکونت اختیار کی تھی۔ اور یہاں کے رئیسوں اور عالموں میں شمار ہوتا تھا4۔

 ابن جبیر کی ولادت بلنسیہ میں جو اسپین کے مشرق میں سمندر کے کنارے پر واقع ہے 540ھ1145-46ء میں ہوئی۔ اور جب اس کا باپ بلنسیہ کو چھوڑ کر شاطبہ میں آیا تو اس کو اپنے ساتھ لے آیا ہو گا۔ ابن جبیر نے اس شہر میں فن حدیث اپنے باپ سے حاصل کیا۔ اس وقت شاطبہ زیبائی اور خوش نمائی اور آب و ہوا کی لطافت کے لحاظ سے مشہور تھا۔ ایک شاعر کہتا ہے5۔

نعم ملقی الرحل شاطبۃ

لفتی طالت بہ الرحل

ترجمہ کیا ہی خوب ہے شاطبہ میں سامانِ سفر اُتارنے کی جگہ اُس نوجوان کے لیے جس کا سفر طویل ہو گیا ہو۔

بلدۃ اوقاتھا سحر

وصبا فی ذیلھا بلل

ترجمہ وہ ایک ایسا شہر ہے جس کے اوقات سحر انگیز ہیں، اور صبح کی ہوا کے دامن میں (شبنم کی) تری ہے۔

ونسیم عرفہ ارج

وریاض غصنھا ثمل

ترجمہ اس کی خوشبو والی ہوا مہکتی ہے اور اس کے باغوں کی شاخیں (مستی میں) جھوم رہی ہیں۔

ووجوھ کلھا غرر

وکلام کلہ مثل

ترجمہ وہاں کے تمام چہرے روشن ہیں اور ساری گفتگو ضرب المثل (کی طرح حکمت سے بھرپور) ہے۔

یعنی جوان آدمی کے ٹھہرنے کے لئے جس کو سفر کرتے مدت گزر گئی ہو شاطبہ نہایت عمدہ مقام ہے وہ ایک ایسا شہر ہے جس میں ہر وقت صبح کا وقت ہوتا ہے اور صبا کا دامن تر رہتا ہے نسیم خوشبو آمیز چلتی ہے اور باغوں میں درختوں کی شاخیں مستانہ جھومتی ہیں۔ تمام لوگوں کے چہرے چمکتے ہیں اور ان کی بات بات ضرب المثل ہے۔ باوجود اس کے ابن جبیر نے غرناطہ میں رہنا پسند کیا اور اس کو شاطبہ پر ترجیح دی۔ کیونکہ اس وقت غرناطہ علم و فضل کا مرکز تھا۔ اور اس میں بڑے بڑے علما و فضلا رہتے تھے اور منظر کی خوبی اور خوشنمائی کے لحاظ سے تو شاطبہ کو اس سے کچھ نسبت نہیں تھی چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے6

غرناطۃ مالھا نظیر

ما مصر ما الشام ما العراق

ترجمہ غرناطہ، اس کی کوئی مثال نہیں؛ نہ مصر، نہ شام اور نہ ہی عراق (اس جیسا) ہے۔

ما ھی الا العروس تجلی

وتلک بالجملۃ الصداق

ترجمہ وہ تو بس ایک دلہن ہے جو جلوہ گر ہے، اور یہ تمام (ممالک) مجموعی طور پر اس کا حق مہر ہیں۔

یعنی غرناطہ کے ساتھ کوئی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتا۔ نہ مصر نہ شام نہ عراق۔ وہ ایک دلہن ہے جو منظر عام میں جلوہ افروز ہے اور یہ تمام ملک اس کی رونمائی کی نذر ہیں۔