جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابن جبیر اور اس کا سفر نامہ (حصہ اول)

 غالباً یہیں رہ کر اس نے قراءت، حدیث، فقہ، ادب اور شاعری میں کمال پیدا کیا۔ فن قراءت ابو الحسن بن ابی العیش سے عربیت اور ادب ابو الحجاج بن یسعون سے حدیث اور فقہ ابو عبداللہ بن عروس اور ابو عبداللہ الاصیلی سے حاصل کی۔ شاعری اور انشا پردازی میں اس کو خاص ملکہ حاصل تھا اور اسی بنیاد پر وہ غرناطہ کے گورنر ابو سعید عثمان بن عبد المومن کا سکرٹری ہو گیا تھا۔ پھر ایک خاص سبب سے جس کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ ملازمت کو ترک کیا اور حج کا ارادہ کیا۔ وزیر لسان الدین بن الخطیب نے لکھا ہے کہ اس کی اور اس کے چند ہم عصر ادیبوں اور انشا پردازوں کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی اس سے اس کی کمال انشا پردازی اور شاعری کا ہم کو اقرار کرنا پڑتا ہے۔

 ابن جبیر کو شاعری اور انشا پردازی کے علاوہ حدیث میں جو توغل‌گہرا انہماک تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ اس نے اس فن کی تکمیل کے لئے ہزاروں میل خشکی اور تری کا سفر کیا۔ ہم اس کے شیوخ اور تلامذہ کے نام آگے چل کے گنوائیں گے۔ یہاں صرف یہ بتا دینا ضروری ہے کہ اس کو فلسفہ اور طبعیات سے نفرت تھی۔ چنانچہ ہم اس مقام پر اس کے چند اشعار اس مضمون کے نقل کرتے ہیں7۔

قد ظھرت فی عصرنا فرقۃ

ظھورھا شؤم علی العصر

ترجمہ ہمارے زمانے میں ایک ایسا گروہ ظاہر ہوا ہے جس کا وجود زمانے کے لیے ایک نحوست ہے۔

لا تقتدی فی الدین الا بما

سن ابن سینا وابو نصر

ترجمہ وہ دین میں کسی کی پیروی نہیں کرتے سوائے اُن طریقوں کے جو ابن سینا اور ابو نصر (الفارابی) نے وضع کیے ہیں۔

یعنی ہمارے زمانے میں ایک فرقہ پیدا ہوا ہے جو زمانہ کے لئے منحوس ہے اس فرقہ کے لوگ دین میں ابن سینا اور ابو نصر فارابی کے سوا کسی کی بات نہیں مانتے۔

ضلت بافعالھا الشنیعہ

طائفۃ عن ھدی الشریعہ

ترجمہ ایک گروہ اپنے قبیح افعال کے سبب شریعت کی ہدایت سے بھٹک گیا ہے۔

لیست تری فاعلا حکیما

تفعل شیئا سوی الطبیعہ

ترجمہ وہ کسی حکمت والے خالق کو نہیں مانتے، (ان کے نزدیک) فطرت کے سوا کوئی شے کچھ نہیں کرتی۔

یعنی ایک گروہ ہے جو اپنی بدکاریوں کے سبب سے شریعت کی سیدھی راہ سے بھٹک گیا ہے۔ اس گروہ کے لوگ طبیعت یعنی نیچر کے سوا کسی فاعل حکیم کے قائل نہیں ہیں جو دنیا میں ذرا بھی دخل دے سکے۔

اس میں شک نہیں کہ ابن جبیر کو فلسفہ اور طبیعیات سے جو نفرت تھی اس کا باعث یہ تھا کہ اس زمانہ میں افریقہ کے شمال اور اندلس کے مشرق میں مرابطین کی حکومت پھیل گئی تھی۔ اور ان کو فلسفہ اور طبیعیات کے پڑھنے والوں سے خاص عداوت تھی۔ منصور اور مامون جو اس خاندان کے نامور فرمانروا ہوئے انہوں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر فلسفیوں اور حکیموں کو قتل کیا یا قید کیا یا جلا وطن کر دیا۔ اس زمانہ سے ملک اندلس سے فلسفہ اور اہل فلسفہ کا نام و نشان مٹ گیا۔ اور جو لوگ بچے کچے رہ گئے وہ اس کی خفیہ تعلیم دیتے تھے مگر یہ جرات کرنی بھی خطرناک تھی اس لئے عام طور پر فقہ و حدیث اور ادب کا چرچا باقی رہ گیا تھا۔

 اس کی شادی وزیر ابو جعفر الوقشی کی بیٹی عاتکہ سے ہوئی جس کی کنیت ام المجد تھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ نہایت محبت سے پیش آتا تھا۔ اور جب سبتہ میں جو شمالی افریقہ کا بندرگاہ ہے اس نے وفات پائی تو ابن جبیر کے دل پر نہایت صدمہ ہوا۔ اور اس نے کئی مرثیے لکھے پھر حج کے ارادہ سے مکہ کو چلا گیا۔ مصر میں پہنچ کر اس نے ابن الخطیب کو جو سبتہ میں قاضی ہو کر آیا تھا یہ اشعار لکھے8۔

بسبتۃ لی سکن فی الثری

خل کریم الیھا اتی

ترجمہ سبتہ کی مٹی میں میرا ایک دوست آسودۂ خاک ہے، ایک سخی دوست جو وہاں آیا تھا۔

فلو استطیع رکبت الھوا

فزرت بھا الحی والمیتا

ترجمہ اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں ہوا پر سوار ہو کر وہاں جاتا اور زندہ (شہر) اور مردہ (دوست) دونوں کی زیارت کرتا۔

یعنی سبتہ‌Ceuta میں میرا ایک دوست زمین میں دفن ہے اور ایک بزرگ دوست اس میں آیا ہے۔ اگر میرا قابو چلتا تو ہوا پر سوار ہوتا اور سبتہ میں ایک زندہ اور ایک مردہ کی زیارت کرتا۔

 ابن جبیر جس طرح اپنے گھر والوں کے ساتھ محبت سے پیش آتا تھا اسی طرح وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اخلاق اور مروت کا برتاؤ کرتا تھا۔ اور ان کی مطلب بر آری سے خوش ہوتا تھا۔ علامہ مقری نے نفح الطیب میں مصنف کتاب ملتمس کی زبانی یہ روایت بیان کی ہے کہ میری بڑی آرزو تھی کہ غرناطہ کا قاضی ابو محمد عبدالمنعم مجھے اپنی دامادی میں قبول کرے میں نے ابن جبیر سے سفارش کرائی اور شادی ہو گئی۔ مگر چند روز کے بعد مجھ میں اور میری بیوی میں ایسی ناچاقی ہوئی کہ میں طلاق دینے پر مجبور ہوا۔ میں نے اس کام کے لئے بھی ابن جبیر کو تکلیف دی کہ وہ قاضی سے کہہ سن کر میری نجات کرا دیں ابن جبیر نے کہا میری غرض تم دونوں کے نکاح سے سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ میں تمہاری رضامندی حاصل کروں اور اب تم دونوں میں جدائی کرانا بھی نہیں چاہتا لیکن چونکہ تم اسی میں خوش ہو اس لئے میں اس کام میں بھی کوشش کروں گا یہ کہہ کر وہ گھر سے باہر نکلے اور قاضی سے کہہ سن کر فیصلہ کرا دیا۔ میں نے دونوں دفعہ ابن جبیر کے چہرے پر غور کیا تو اس پر کوئی علامت احسان جتانے یا ناگوار گزرنے کی نہیں پائی۔ اس کام سے فراغت پا کر وہ میرے مکان پر آئے اور دروازہ کھٹکایا۔ میں نے دروازہ کھول دیا وہ گھر میں چلے آئے اور ایک تھیلی جس میں سو دینار تھے میرے سامنے رکھ دی اور کہا بھائی اس شادی کا باعث میں ہی ہوا تھا اور مجھ کو ذرا بھی شک نہیں ہے کہ اس شادی میں تم کو اتنے ہی مال کا خسارہ ہوا ہو گا۔ جتنا کہ اس تھیلی میں ہے۔ اگر تم اس کو قبول کرو تو میری خوشی کا باعث ہو گا۔ میں نے کہا جناب میں آپ سے اس بات کے کہنے میں ذرا شرم نہیں کروں گا۔ اگر میں اس روپیہ کو قبول کرتا ہوں تو مجھ کو اندیشہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح برباد ہو جائے گا۔ جس طرح میں نے اپنے باپ کا ترکہ جوانی میں غارت کیا۔ میں نے صاف صاف کہہ دیا اور مجھ کو یقین ہے کہ اس کے بعد آپ اصرار نہیں کریں گے۔ ابن جبیر میری بات سن کر مسکرائے اور یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ تمہیں احسان سے بچنے کے لئے اچھا صلہ ہاتھ آیا۔