جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابن جبیر اور اس کا سفر نامہ (حصہ دوم)

القاہرہ میں ایک سلطانی شفاخانہ ہے جو وسعت اور شان کے لحاظ سے ایک عالیشان محل دکھائی دیتا ہے۔ سلطان کی طرف سے ایک افسر اس شفاخانہ کا اہتمام کرتا ہے جو فن طب میں پوری دستگاہ رکھتا ہے۔ اس کے پاس دواؤں اور بوٹیوں کے خزانے ہیں۔ وہ دواؤں کی مقدار خوراک سے واقف ہے اور ان کے انواع و اقسام کو خوب پہچانتا ہے۔ شفاخانہ میں متعدد کمرے ہیں جن میں بیماروں کے لئے بہت سے پلنگ تیار ہیں اور ان پر بستر بچھے ہوئے ہیں۔ افسر شفاخانہ کے ماتحت بہت سے ملازم ہیں جو صبح شام بیماروں کی خبر گیری کرتے ہیں اور ان کے لیے مناسب دوائیں اور غذائیں مہیا کرتے ہیں۔ اس مکان کے مقابل ایک اور مکان ہے جہاں بیمار عورتیں رکھی جاتی ہیں اس کے علاج اور تیمارداری کے لیے جدا نوکر ہیں۔ ان مکانوں کے قریب ایک اور وسیع عمارت ہے جس میں بہت سے کمرے اور ہر کمرے کے دروازہ پر لوہے کی جالیاں ہیں۔ یہ پاگل خانہ ہے جہاں ہر قسم کے دیوانے رکھے جاتے ہیں۔ پاگل خانہ کے انتظام کے لیے جدا افسر اور ملازم ہیں جو ان کے حالات دریافت کرتے رہتے ہیں اور ان کو مناسب دوائیں اور غذائیں مہیا کرتے ہیں سلطان ان سب کا حال پوچھتا رہتا ہے اور برابر تاکید کرتا ہے کہ ان کا انتظام درست رہے۔ یہاں ایک اور شفاخانہ ہے جو حسن انتظام کے لحاظ سے بالکل ایسا ہی ہے۔

اس کے بعد ابن جبیر جامع ابن طولون کے حال میں لکھتا ہے کہ یہ مسجد قدیم اور خوش نما عمارتوں میں شامل ہے۔ ان میں سلطان کے حکم سے مغرب کے باشندے اتارے اور ٹھہرائے جاتے ہیں۔ ان کے لیے سلطان کی طرف سے ماہوار وظیفہ مقرر ہے۔ مغاربہ کے مقدمات مصر کا کوئی قاضی یا حاکم نہیں سن سکتا۔ انہوں نے سلطان کی اجازت سے ایک حاکم اپنے درمیان سے انتخاب کر لیا ہے۔ اور وہی ان کے مقدمات فیصل کرتا ہے۔ غرض کہ اس ملک میں کوئی جامع کوئی مسجد کوئی مزار کوئی غریب خانہ اور کوئی مدرسہ ایسا نہیں ہے جس پر سلطان کی توجہ مبذول نہ ہو اور جس میں وہ زرکثیر خرچ نہ کرتا ہو۔ ان کے سوا بہت سے قرآن مجید کے مکتب ہیں جن میں سلطان کی طرف سے حافظوں کی تنخواہ ملتی ہے اور وہ غریبوں اور یتیموں کو قرآن کی تعلیم دیتے ہیں۔

اخمیم کے ذکر میں لکھتا ہے کہ یہ قدیم شہر ہے جو دریائے نیل کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس شہر میں قبطیوں کی قدیم یادگاریں اور عمارتیں ہیں۔ اس کے مشرق میں ایک عالیشان مندر ہے جس کا طول 220 گز عرض 160 گز ہے۔ اس میں چالیس ستون ہیں۔ ہر ستون کا دور 50 بالشت ہے۔ ہر دو ستونوں کے درمیان 30 بالشت کا فاصلہ ہے۔ ان پر رنگ برنگ کی مینا کاری کی گئی ہے اور سر سے پاؤں تک نقش و نگار سے مزین ہیں۔ چھت پتھروں کی ہے جن کا جوڑ کہیں سے معلوم نہیں ہوتا۔ اس پر نادر تصویریں اور عجیب رنگ آمیزی ہے۔ مندر کے ہر ایک دالان میں قسم قسم کی تصویریں ہیں۔ کہیں پرندوں کی تصویریں ہیں جو بازو کھول کر اڑا چاہتے ہیں۔ کہیں خوش رو اور حسین آدمیوں کی تصویریں ہیں جن میں سے ہر ایک کی وضع جدا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں مورت ہے۔ کوئی ہتھیار سنبھالتا ہے کسی کے ہاتھ پر جانور بیٹھا ہے کوئی پیالہ ہاتھوں میں لیے ہے کوئی ہاتھ سے اشارہ کرتا ہے۔ غرض کہ ان کی تمام شکلیں اور ان کے تمام انداز بیان نہیں ہو سکتے۔ اس مندر کے اندر باہر اوپر نیچے ہر طرف تصویریں ہی تصویریں ہیں اور ہر ایک کی شکل اور ہر ایک کی وضع نرالی ہے۔ بعض تصویریں ہولناک ہیں اور انسانوں کی شکل پر نہیں ہیں۔ ان کو دیکھ کر انسان پر دہشت طاری ہوتی ہے یا عبرت اور حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ تمام مندر میں تل رکھنے کی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی تصویر یا نقش یا پیکانی حروف نہ ہوں جن کے سمجھنے سے انسان کی عقل عاجز ہے۔

ایک مقام پر ابن جبیر لکھتا ہے کہ یہ بات سلطان صلاح الدین کی یادگار رہے گی کہ اس نے وہ ٹیکس جو عبیدین کے عہد حکومت میں حاجیوں سے جبراً وصول کیا جاتا تھا موقوف کر دیا ہے۔ اس زمانہ میں حاجیوں پر طرح طرح کا ظلم و ستم ہوتا تھا۔ بعض حاجیوں کے پاس زادراہ کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ جب وہ بندرگاہ عیذاب میں پہنچتے تھے تو ان سے فی کس ساڑھے سات دینار ٹیکس طلب کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی نہ دے سکتا تو اس کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کرتے تھے۔ جس کے سننے سے بدن پر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور جس کے بیان کرنے سے شرم آتی ہے۔ جب عیذاب سے چل کر جدہ میں پہنچتے تھے تو ان حاجیوں کو جن کے نام پر ٹیکس کا وصول نہ ہونا پایا جاتا تھا ان کو پہلے سے بھی زیادہ عذاب میں مبتلا کرتے تھے۔ سلطان نے اس ہولناک دستور کو موقوف کردیا ہے اور اس ٹیکس کے معاوضہ میں جو بدو حاجیوں سے وصول کرتے تھے غلہ وغیرہ مقرر کر دیا ہے۔ پس جو مسلمان یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ بیت اللہ کا حج کرنا اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک رکن ہے اس پر فرض ہے کہ وہ کسی مقام پر اور دنیا کے کسی گوشہ میں ہو سلطان کے لیے دعائے خیر کرے۔13 اس سلطان سے پہلے تو مصر میں یہ حال تھا کہ ہر ایک چیز پر چھوٹی ہو یا بڑی بیچی جائے یا مول لی جائے یہاں تک کہ دریائے نیل کے پانی پر بھی ٹیکس لیا جاتا تھا۔ سلطان نے ان تمام بدعتوں کو مٹا دیا ہے۔ اور تمام ملک میں انصاف اور امن و امان پھیلا دیا ہے۔

ایک جگہ لکھتا ہے کہ اخمیم، قوص اور منیۃ ابن الخصیب‌El Minya (المنیا)14 میں جو دریائے نیل کے کنارے پر آباد ہیں حاجیوں اور مسافروں کی کشتیوں کی تلاشی لی جاتی ہے اور سوداگروں کی کمریں ٹٹولی جاتی ہیں کہ شاید کہیں سے کوئی درہم یا دینار نکل پڑے اور قرآن مجید کی قسمیں دی جاتی ہیں۔ اور یہ وہی جبراً زکوۃ وصول کرنے کی رسم ہے جس کی نسبت پوچھا نہیں جاتا کہ مال پر پورا سال گزرا ہے یا نہیں اور جس کا اسکندریہ کے ذکر میں ذکر آ چکا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ سلطان صلاح الدین اس جبر و تعدی سے واقف نہیں ہے اگر اس کو معلوم ہوتا تو وہ اس دستور کو جاری رکھنا پسند نہ کرتا اور جو لوگ جبراً ٹیکس وصول کرتے ہیں ان سے جہاد کرتا۔ ان سے جہاد کرنا اس لیے واجب ہے کہ وہ ان غریب الوطنوں کے ساتھ جو بیت اللہ کو جاتے ہیں جور و تعدی اور بدمعاملگی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ سب سے زیادہ ہولناک واقعہ جو ہم نے دیکھا وہ یہ ہے کہ ایک طرف سے یکایک ٹیکس لینے والوں کا ایک تندخو گروہ ٹوٹ پڑتا ہے اور لمبے لمبے برچھے ہاتھ میں لیے کشتیوں پر چڑھ جاتا ہے۔ پھر وہ اسباب کی تھیلوں اور گٹھریوں میں برچھے چبھو چبھو کر دیکھتے ہیں کہ ان میں کوئی جنس یا روپیہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اس قدر کھود کھود کر دریافت کرنا تو کیا خدا نے تو تجسس کرنے سے بھی منع کیا ہے خدا اس سلطان کے ہاتھ سے ان ظالموں سے انتقام لے۔