اسکندریہ پہنچ کر وہ لکھتا ہے کہ یہاں جہاز سے اترتے ہی سب مسافروں کی تلاشی لی گئی۔ ان کے نام اور ان کی سکونت اور ان کے حلئے لکھے گئے۔ ہر ایک سے جبراً زکوۃ وصول کی گئی۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ مسافروں کے مال پر پورا سال گزر چکا ہے یا نہیں۔ اکثر مسافر تو ایسے تھے جو حج کی نیت سے زادراہ کے سوا کچھ بھی ساتھ لے کر نہیں چلتے تھے۔ میرے دوست احمد بن حسان کو جہاز کے اسباب اور مغرب کے حالات پوچھنے کے لئے جہاز سے اتار لیا پہلے اس کو حاکم اسکندریہ کے حضور میں پھر قاضی کے پاس پھر محصول کے دفتر میں پھر بعض اہل دربار کے پاس لے گئے۔ ہر جگہ اس سے بہت سے سوالات کئے گئے۔ وہ جو کچھ کہتا گیا وہی لکھا گیا۔ اس کے بعد اس کو تو چھوڑ دیا مگر جہاز کے مسافروں کو جہاز سے مال و اسباب اتارنے کا حکم دیا گیا۔ سمندر کے کنارے بہت سے قلی موجود تھے جو تمام اسباب اٹھا کر محصول کے دفتر میں لے گئے۔ یہاں ایک ایک کا حال پوچھا گیا۔ تمام اسباب ذرا ذرا کر کے حاضر کیا گیا۔ اس وقت کچہری آدمیوں سے کھچا کھچ بھری تھی۔ تمام اسباب کی تلاشی لی گئی۔ لوگ عجیب کشمکش میں تھے۔ ایک ایک کی کمر ٹٹولی گئی کہ شاید کوئی چیز چھپائی ہو۔ ہر ایک کو قسمیں دی گئی کہ موجودہ اسباب کے سوا کچھ اور مال تو نہیں ہے۔ اسی کشمکش میں بہت سا اسباب گم ہو گیا۔ اس قدر ذلت اور رسوائی کے بعد ہم نے نجات پائی۔ اس کے بعد ابن جبیر لکھتا ہے کہ غالباً سلطان صلاح الدین کو یہ حال معلوم نہیں ہے۔ اگر اس کو معلوم ہوتا تو وہ انصاف اور مہربانی سے جو اس کی مشہور خصلتیں ہیں اس کا ضرور تدارک کرتا۔ ہم نے اس سلطان کی حکومت میں سوائے اس واقعے کے جو عاملوں کے جبر و تعدی کا نتیجہ ہے کوئی بات شکایت کی نہیں پائی۔ اسکندریہ کی نسبت ابن جبیر لکھتا ہے کہ سب سے پہلی چیز جو نظر کے سامنے آتی ہے وہ اس شہر کی خوشنمائی اور عمارات کی وسعت ہے۔ ہم نے آج تک کوئی شہر نہیں دیکھا جس کی سڑکیں اس سے زیادہ وسیع ہوں۔ جس کی عمارتیں اس سے زیادہ بلند ہوں اور جو اس سے زیادہ قدیم اور شاندار ہو۔ اس کے بازار نہایت پر رونق ہیں سب سے عجیب بات جو اس شہر میں ہے وہ یہ ہے کہ اس میں عمارتیں زمین کے اوپر بھی ہیں اور اندر بھی۔ دونوں قسم کی عمارتیں نہایت مضبوط قدیم ہیں۔ دریائے نیل کا پانی تمام زمین دوز عمارتوں اور کوچوں میں پہنچتا ہے۔ ایک کنواں دوسرے کنویں سے ملا ہوا ہے اور ایک سے دوسرے کو مدد پہنچتی ہے۔ یہاں پردیسیوں کے لئے جو دور دراز مسافت طے کر کے آتے ہیں گزارہ کے لئے وظیفہ ٹھہرنے کے لئے مکانات تعلیم کے لئے مدرسے نہانے کے لئے حمام علاج کے لئے ایک شفاخانہ ہے۔ شفاخانہ میں شاہی طبیب مقرر ہیں جو پردیسیوں کی مزاج پرسی اور خبر گیری کرتے ہیں۔ طبیبوں کے ماتحت بہت سے ملازم ہیں جو بیمار پردیسیوں کے لئے دوا اور غذا تیار کرتے ہیں۔ اس کے سوا جو پردیسی علاج کے لئے شفاخانہ میں آنا پسند نہ کریں ان کے لئے خاص ملازم رکھے گئے ہیں۔ جو ان کے حالات دریافت کر کے شاہی طبیبوں کو خبر کرتے ہیں اور ان کے علاج پر توجہ کرتے ہیں۔ مغرب کے مسافروں پر سلطان کی خاص توجہ مبذول ہے۔ ان کو ہر روز کھانا تقسیم ہوتا ہے۔
اسکندریہ میں رات کو بھی کاروبار جاری رہتا ہے اور یہ عجیب بات ہے۔ یہاں تمام شہروں سے زیادہ مسجدیں ہیں۔ بعض نے بارہ ہزار اور بعض نے آٹھ ہزار مسجدوں کا اندازہ کیا ہے۔ ہر ایک مسجد میں سلطان کی طرف سے ایک امام مقرر ہے جو پانچ دینار یا اس سے کم و بیش تنخواہ پاتا ہے۔
القاہرہ پہنچ کر اہل بیت، صحابہ، تابعین، تبع تابعین علما اور اولیا کے مزارات کا ذکر کرتا ہے۔ اور لکھتا ہے کہ یہاں سیدالشہدا امام حسینؑ کا سر مبارک چاندی کے ایک صندوق میں دفن کیا گیا ہے۔ اس پر نہایت عالیشان اور خوش نما عمارت بنائی گئی ہے۔ اس کی عمارت میں جو پتھر لگے ہوئے ہیں ان پر عجیب گلکاری کی گئی ہے۔ دیواریں قسم قسم کے ریشمی غلافوں سے چھائی گئی ہیں۔ گنگا جمنی قندیلیں روشن ہیں یہاں لوگ کثرت سے آتے ہیں نہایت ادب سے قبر کو چومتے ہیں غلاف کو چھوتے ہیں۔ قبر کے گرد طواف کرتے ہیں۔ اس مقدس مزار کا واسطہ دے کر خدا سے دعا کرتے ہیں اور اس درد سے روتے ہیں کہ کلیجے پھٹ جائیں اور پتھر پگھل جائیں۔
اس کے بعد ابن جبیر نے امام شافعی کے مزار کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ مزار بھی نہایت شاندار اور وسیع ہے۔ اس کے مقابل ایک مدرسہ تعمیر کیا گیا ہے جو اس ملک میں وسعت اور رونق کے لحاظ سے ایک بے نظیر عمارت ہے۔ اگر کوئی شخص اس مدرسہ کو پھر کر دیکھے تو وہ ایک مستقل شہر دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک حمام اور بہت سے ضروری مکانات ہیں۔ مزار پر آج تک تعمیر جاری ہے۔ اور اس پر بے شمار روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔ شیخ نجم الدین خبوشانی نے جو مصر کے ایک مشہور عالم ہیں بذات خود اس مزار کی عمارت کا اہتمام اپنے ذمہ لیا ہے۔ سلطان صلاح الدین نے شیخ کو اجازت دی ہے کہ جتنا روپیہ اس کی تعمیر کے لئے درکار ہو سلطان کے خزانہ سے منگا لیں اور کوئی دقیقہ اس عمارت کے شاندار اور پر رونق بنانے میں باقی نہ چھوڑیں۔
قرافہ کے مشہور مزارات کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتا ہے کہ قرافہ میں اس سرے سے اس سرے تک مزار اور مسجدیں بھی نظر آتی ہیں۔ ان میں پردیسی، علما، صلحا اور فقرا آ کر ٹھہرتے ہیں۔ ہر مزار کا خرچ سلطان کی طرف سے جاری ہے۔ یہی حال قاہرہ کے مدارس کا ہے ہم کو تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ ان پر دو ہزار دینار ماہوار خرچ ہوتے ہیں۔ عمرو بن عاص کی مسجد کی روزانہ آمدنی تیس دینار ہے جو مسجد کی ضروریات اس کے خادموں، مجاوروں، اماموں اور قاریوں میں خرچ ہوتی ہے۔ قاہرہ میں چار مسجدیں نہایت عالیشان ہیں۔ ایک مسجد میں خطبہ ہوتا ہے۔ خطیب اہل سنت کے طریقہ پر امہات مومنین صحابہ تابعین اور آنحضرت کے چچاؤں حضرت حمزہ اور حضرت عباس کو دعا میں شامل کرتا ہے۔ اور وعظ ایسے دردناک طریقہ سے کہتا ہے کہ سخت سے سخت دل نرم ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل پڑتے ہیں وہ خطبہ کے وقت عباسیوں کی رسم کے بموجب سیاہ لباس پہنتا ہے۔ سیاہ چادر پر سیاہی مائل طیلسان ہوتی ہے جس کو مغرب میں احرام کہتے ہیں۔ سر پر سیاہ عمامہ اور کمر میں تلوار لٹکتی ہے۔ منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی منبر پر زور سے تلوار کی ایک ضرب لگاتا ہے تاکہ اس کی آواز سن کر تمام حاضرین خاموش ہو جائیں۔ اسی طرح دوسری اور تیسری سیڑھی پر چڑھ کر تلوار کی ضربیں لگاتا ہے۔ تلوار کی تیسری ضرب میں ہر طرف سناٹا ہو جاتا ہے۔ خطیب دائیں اور بائیں طرف منہ پھیر کر تمام حاضرین کو سلام کرتا ہے۔ اس وقت منبر پر خطیب کے دونوں طرف دو سیاہ علم برپا ہوتے ہیں۔ خطبہ کے انجام ہونے پر وہ سب سے اول عباسی خلیفہ الناصر الدین اللہ کے لئے پھر اس کی خلافت کے زندہ کرنے والے سلطان صلاح الدین کے لئے پھر اس کے بھائی اور ولی عہد ابوبکر سیف الدین کے لئے دعا کرتا ہے۔
