سب سے بڑی مسافت جو اس نے جہاز پر طے کی تھی وہ بحیرہ روم کی تھی جس کو آج کل میڈی ٹرے نین سی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اس سمندر میں اسپین سے اسکندریہ اور عکہ تک جو جہاز چلتے تھے۔ ان پر اکثر جنیو کے ملاح اور جہاز ران ہوتے تھے جو یقیناً فن جہاز رانی میں نہایت ماہر تھے۔ جہازوں کی رفتار سمندر کی حرکت اور سکون کی حالت میں مختلف تھی۔ بعض دفعہ دو رات اور ایک دن میں 50 میل تک جاتے تھے۔ بعض دفعہ اس سے کم مسافت طے کرتے تھے۔ جہاز رانی کی جو اصطلاحیں ابن جبیر کے سفرنامہ میں ہیں ان میں سے اکثر یورپ کی زبانوں سے معرب ہوئی ہیں۔ سمندر کی پیمائش اور جہاز کی رفتار کے لئے جس طرح آج کل ناٹ کا لفظ مستعمل ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک اس زمانہ میں 100 میل کا ایک پیمانہ تھا جس کو مجری10 کہتے تھے۔
جہاز رانی کی اصطلاحوں کے علاوہ سفرنامہ میں جابجا انگریزی مہینوں کے نام معرب کئے گئے ہیں۔ اور اسلامی مہینوں کے ساتھ انگریزی مہینوں کی تاریخ بھی مذکور ہے۔ ان معرب ناموں کی فہرست معہ اصلی ناموں کے اس مقام پر درج کی جاتی ہے۔
| اصلی نام | معرب نام | اصلی نام | معرب نام |
| 1۔ جنوری | ینیر | 7۔ جولائی | یولیہ |
| 2۔ فروری | فبریر | 8۔ اگست | اغوشت |
| 3۔ مارچ | مارس | 9۔ ستمبر | شتنبر |
| 4۔ اپریل | ابریل | 10۔ اکتوبر | اکتوبر |
| 5۔ مئی | مایہ | 11۔ نومبر | نومبر |
| 6۔ جون | یونیہ | 12۔ دسمبر | دجنبر |
غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ ابن جبیر کے زمانہ میں اندلس کے مسلمان عیسائیوں کے ساتھ ان معاہدات اور معاملات کے سبب سے جو ان کے پیش آتے رہتے تھے اپنی تحریروں میں اسلامی تاریخوں کے ساتھ عیسوی تاریخوں کا استعمال کرنے لگتے تھے۔
ابن جبیر نے بلاد اسلام کی سیر و سیاحت کی اور عیسائی ملکوں کی سرحد کو چھوتا ہوا گزر گیا۔ مگر ان ملکوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس کا باعث دریافت کرنے کے لئے ہم کو اس بات پر غور کرنا ہے کہ اس وقت دنیائے اسلام کی کیا حالت تھی۔ یورپ اور ایشیا کے تاریخی نقشوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اسپین کی جنوب میں مرابطین کی حکومت تھی۔ جو رقبہ میں تمام جزیرہ نمائے اسپین کے ایک تہائی حصہ کے برابر تھی۔ اس کے شمال میں عیسائیوں کی پانچ سلطنتیں نوارا، اراگون، کاسٹیل، لیون اور پرتگال قائم تھیں۔ جن کے درمیان اکثر لڑائیاں رہتی تھیں اور جو مجموعی لحاظ سے اسپین کے دو تہائی حصہ پر قابض تھیں۔ عیسائی رفتہ رفتہ جنوب کی طرف بڑھ رہے تھے اور مسلمانوں کی سرحد پر آئے دن حملہ کرتے تھے۔ مرابطین کی حکومت شمالی افریقہ میں بہ نسبت اسپین کے زیادہ تر مستحکم تھی۔ مصر میں صلاح الدین خاندان فاطمہ کا چراغ گل کر چکا تھا اور ملک شام میں جس کے بندرگاہوں پر یورپ کی عیسائی قومیں حملہ کرتی تھیں صلیبی لڑائیوں میں مصروف تھا۔ بغداد میں خلافت عباسیہ قائم تھی جو آہستہ آہستہ زوال پذیر ہو رہی تھی۔ ایشیا کوچک کے ایک حصہ پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ بحیرہ روم کے جزائر میں سے کورسکا، سارڈینیا، سسلی، کریٹ اور سائپرس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکے تھے جو ملک مسلمانوں کے ہاتھ میں رہ گئے تھے ان پر آئے دن غنیم11 کے تاخت کرنے کا خوف رہتا تھا وہ سارڈینیا میں سن چکا تھا کہ عیسائی مسلمانوں کے ملکوں پر حملہ کر کے مردوں اور عورتوں کو گرفتار کرتے اور اس جزیرہ کے بازاروں میں فروخت کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی سن چکا تھا کہ شام کے بندرگاہوں پر جو عیسائی حملہ کرتے ہیں وہ بھی مسلمان اسیروں کے ساتھ بے رحمی سے پیش آتے ہیں۔ غرض کہ عیسائیوں اور مسلمانوں میں اس وقت جو تعصب کی آگ بھڑک رہی تھی اس کے شعلے بلند ہوتے ہوئے ابن جبیر دیکھ چکا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ عیسائی ملکوں کا سفر کر کے اپنے تئیں خطرہ میں مبتلا کرے یا ان ملکوں میں جو حالت مسلمان قیدیوں کی تھی اس کو دیکھ کر رنج و غم میں گرفتار ہو۔ چنانچہ ایک مقام پر وہ لکھتا ہے الحذر الحذر من دخول بلادھم (النصاری) ومن الفجائع التی یعاینھا من حل بلادھم اسری المسلمین یرسفون فی القیود و یصرفون فی الخدمۃ الشاقۃ تصریف العبید والاسیرات المسلمات کذلک فی اسوقھم خلاخیل الحدید فتنفطر لھم الافئدۃ ولا یغنی الاشفاق عنھم شیئا۔ اس زمانہ میں یہ آزادی و بہبودی اور امن و آسائش کہاں تھی جو آج کل انگلش حکومت کے سایہ میں مسلمانوں کو حاصل ہے۔
ابن جبیر کے سفر نامہ پر ایک عام نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اندلس کے انشا پردازوں ادیبوں کا جو عام طرز تحریر تھا اس کو واقعات کے بیان کرنے میں ابن جبیر بہت کم استعمال کرتا ہے۔ مگر مدح یا قدح یا دلی جوش و خروش کے موقع پر وہ اسی طرح مسجع اور مرصع فقرے لکھتا ہے جو اس زمانہ میں مقبول تھے۔ چشم دید واقعات کے علاوہ جہاں کہیں وہ افواہی یا سماعی باتوں کو تحریر کرتا ہے اور جو اس کے نزدیک غیر معتبر ہوتی ہیں ان کو قیل یقال اور یزعم کے الفاظ کے ساتھ لکھتا ہے۔ یا اللہ اعلم الحقیقتہ اللہ یعلم الغیب12 اور اسی قسم کے اور جملے لکھ جاتا ہے۔ بلاد اسلامیہ میں وہ جہاں جہاں گزرتا ہے۔ مدرسوں شفاخانوں مہمانسراؤں مسجدوں اور محتاج خانوں خانقاہوں اور مزاروں کی تلاش کرتا ہے۔ اور مسلمان حکمرانوں کی حکومت کی عام حالت کا نقشہ کھینچتا ہے۔ عمال کی بےجا جبر و تعدی کو جہاں کہیں ہو صاف صاف لفظوں میں بیان کرتا ہے۔ رعیت کے خیالات جو اس وقت کے حکمرانوں کی نسبت تھے ان کو ٹٹول کر لکھتا ہے۔ مسلمانوں اور غیر قوموں کے تعلقات پر بھی اس کی نظر دوڑتی ہے۔ ہر شہر میں جو عجیب عمارت اس کو دکھائی دیتی ہے اس کی اصلی کیفیت تحریر کرتا ہے اس زمانہ کے جن جن مشہور علما و فضلا سے وہ ملا ان کے حالات قلمبند کرتا ہے۔ پرفضا اور خوش نما مقامات کو دیکھ کر وہ لوٹ جاتا ہے اور جو کیفیت اس کے دل پر طاری ہوتی ہے اس کا سماں عجیب الفاظ میں باندھتا ہے۔ مسلمانوں کی شان و شوکت اور ترقی دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور جہاں کہیں وہ ذلت یا تنزل کی حالت میں ہوں ان کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے اور دلی جوش سے ان کے لئے دعا کرتا ہے جن شہروں سے وہ گزرتا ہے۔ اگر وہ دشمنوں کے قبضہ میں آ گئے ہوں تو حسرت بھرے الفاظ میں ان کی گزشتہ حالت کو یاد کرتا ہے اور پکار اٹھتا ہے کہ کاش مسلمان ان کو پھر فتح کرتے۔ کاش ان میں ازان کی آواز پھر گونجتی۔ وہ وطن اور قوم کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے اور اس کا یہ جوش کہیں کہیں پھوٹ پڑتا ہے۔ اس زمانہ کی حالت کے اقتضا سے ہر مسلمان اور ہر عیسائی کی یہی کیفیت تھی غرض کہ اس کا سفرنامہ اگرچہ مختصر ہے مگر نہایت دلچسپ ہے۔
ابن جبیر کے سفر کے مفصل حالات کا لکھنا اس موقع پر ضروری نہیں ہے مگر ہم اس میں سے بعض دلچسپ حالات کو انتخاب کرتے ہیں اور سفرنامہ کے مضامین کا ایک اجمالی خاکہ کھینچتے ہیں مکہ اور مدینہ خاص کر دمشق کی جامع اموی کے حالات اس نے نہایت تفصیل سے لکھے ہیں جو اس جامعیت کے ساتھ کہیں اور نہیں مل سکتے مگر ہم ان حالات کو کسی اور موقع کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔
