جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابن جبیر اور اس کا سفر نامہ (حصہ دوم)

ابن الخطیب نے لکھا ہے کہ ابن جبیر نے مشرق کے تین سفر کیے پہلے سفر میں وہ آٹھویں شوال 578ھ3 فروری 1183ء کو اپنے وطن سے جدا ہوا۔ اس سفر میں ابو جعفر بن حسان اس کا رفیق تھا۔ بائیسویں محرم 581ھ25 اپریل 1185ء کو وہ اپنے وطن میں واپس آیا۔ اس سفر میں وہ مشرق کے بڑے بڑے عالموں سے ملا اور ان سے استفادہ حاصل کیا پھر ایک سفر نامہ مرتب کیا جس میں سفر کے تمام واقعات اور شہروں کے اور عجیب و غریب حالات بیان کئے ہیں دوسرا سفر 9 ربیع الاول 585ھ27 اپریل 1189ء کو شروع کیا اور یہ وہ زمانہ ہے جبکہ سلطان صلاح الدین بیت المقدس کو فتح کر چکا تھا اور اس کی خبر چار دانگ عالم میں پھیل گئی تھی۔ 13 شعبان 587ھ4 ستمبر 1191ء کو اس سفر سے واپس آیا۔ اور غرناطہ، مالقہ، سبتہ اور فاس میں یکے بعد دیگرے قیام کیا اور ان مقامات میں رہ کر حدیث کا درس جاری کیا پہلے دو سفروں کا آغاز غرناطہ سے ہوا تھا۔ مگر تیسرا سفر سبتہ سے شروع کیا اس سفر کا باعث یہ تھا کہ اس زمانہ میں اس کی بیوی ام المجد کا سبتہ میں انتقال ہو گیا تھا جس سے وہ غایت درجہ کی محبت رکھتا تھا۔ ام المجد کے مرنے سے اس کو اس قدر صدمہ ہوا کہ سبتہ میں ایک دن ٹھہرنا بھی ناگوار ہونے لگا اسی وحشت اور بے قراری کے عالم میں اس نے مکہ کے حج کا ارادہ کر دیا۔ مکہ میں بہت دن تک قیام کر کے بیت المقدس کو روانہ ہوا۔ اس کے بعد مصر کا رخ کیا اور اسکندریہ میں ٹھہر کر حدیث کا درس دینے لگا۔ یہاں 27 شعبان 614ھ28 نومبر 1217ء کو اس نے سفر آخرت اختیار کیا ابن جبیر کے سفر نامہ کو جو رحلہ ابن جبیر کے نام سے مشہور ہے ولیم رائٹ‌William Wright نے جو انگلستان میں ایک عالم مشرقیات ہے 1852ء میں اڈٹ کیا اور لیڈن‌Leiden میں چھپوایا ہے۔ تمام یورپ میں اس سفرنامے کا کامل قلمی نسخہ لیڈن یونیورسٹی کے کتب خانہ میں موجود ہے اسکوریال1 کے کتب خانہ میں جو نسخہ موجود ہے وہ درحقیقت اس سفرنامہ کا خلاصہ ہے لیڈن کے نسخہ میں جغرافیہ کے نام جابجا مشکوک اور غلط ہیں۔ اس لئے سفرنامہ کے فاضل اڈیٹر نے اس کو عبدری، بلوی، ابن بطوطہ کے سفرناموں سے جن میں اس سفرنامہ کی بہت سی عبارتیں اقتباس کی گئی ہیں۔ مقابلہ کیا عبدری2 کے سفرنامہ میں مکہ اور مدینہ کے حالات ابن جبیر کے سفرنامہ سے ماخوذ ہیں۔ بلوی3 نے مکہ اور مدینہ کے علاوہ اسکندریہ اور قاہرہ کے حالات بھی ابن جبیر کے سفرنامہ سے لیے ہیں اور مضمون کی ترتیب بھی بدل دی ہے مگر باوجود کمی و بیشی اور ترتیب بدلنے کے ابن جبیر کی جھلک پائی جاتی ہے ابن بطوطہ کے سفرنامہ میں حلب اور دمشق کے حالات ابن جبیر سے مستعار لیے گئے ہیں۔ سفرناموں کے علاوہ اور کتابیں بھی ہیں جن میں سفرنامہ ابن جبیر سے اقتباس کیا گیا ہے۔ علامہ مقریزی نے عیذاب4 اور اخمیم کے حالات میں مدد لی ہے الفاسی نے شفاء الغرام میں اور الشریشی نے مقامات حریری کی شرح میں بعض عبارتیں ابن جبیر کے سفرنامہ سے نقل کی ہیں۔

علامہ مقری نے ابن رقیق کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ ابن جبیر جس زمانہ میں غرناطہ کے گورنر عثمان بن عبدالمومن کا سکرٹری تھا۔ ایک دفعہ اس کے دربار میں بلایا گیا تاکہ اس کی طرف سے ایک فرمان تحریر کرے ابن جبیر جب دربار میں پہنچا تو عثمان شراب پینے میں مشغول تھا۔ اس نے چاہا کہ ابن جبیر کو بھی اس لطف میں شریک کرے اس خیال سے اس نے ایک جام بھر کے ابن جبیر کی طرف سرکایا۔ ابن جبیر نے اس صحبت سے مکدر ہو کر کہا جناب میں نے آج تک شراب نہیں پی۔ عثمان نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ اب تو ایک نہیں بلکہ سات جام شراب کے پینے پڑیں گے آخرکار ابن جبیر نے اس کی ضد اور اصرار سے مجبور ہو کر شراب کے سات جام بھر بھر کر پیئے۔ عثمان نے وہی جام سات دفعہ اشرفیوں سے بھر کر اس کے دامن میں الٹ دیا۔ مکان پر آ کر ابن جبیر نے مصمم ارادہ کیا کہ اس گناہ کے کفارہ میں کعبہ حج کرے۔ اس نے عثمان سے یہ کہہ کر کہ میں نے اس سال حج کرنے کی سخت قسم کھائی ہے۔ سفر کی اجازت لی۔ اپنی جائداد کو فروخت کیا اور اس سے زادراہ حاصل کیا عثمان نے جو اشرفیاں بطور انعام کے دی تھیں وہ سب خیرات کر دیں5۔

سفر کی تحریک پیدا ہونے کا یہ باعث تھا جو علامہ مقری نے بیان کیا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں ہے کہ اس سفر سے ابن جبیر کو حج کرنا اور اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا ہی مقصود نہ تھا بلکہ اس کو مشرق کے بڑے بڑے مشہور عالموں کی صحبت سے مستفیض ہونے ملکوں اور شہروں کے عجیب و غریب حالات کے مشاہدے کرنے کا شوق تھا جو اس نے حج کے بہانہ سے پورا کیا اس سفر میں اس نے ایک اپنے ہم خیال دوست کو ساتھ لیا تھا جس کا نام ابو جعفر احمد بن حسان تھا اور جو اندہ‌Onda نواح بلنسیہ‌Valencia کا باشندہ تھا۔ ابو جعفر کو بھی ابن جبیر کی طرح حدیث کی تکمیل اور مشرق کے مشہور علما کی ملاقات کا شوق تھا دونوں نے ایک ساتھ حج کیا اور مشرق کے نامور علما ابو سعید بن عصرون ابو قاسم بن عساکر اور ابو الطاہر خشوعی کے حلقہ درس میں شریک ہو کر فن حدیث کی تکمیل کی اور دونوں نے سفر سے واپس آکر اندلس میں حدیث کا درس دیا۔ ابو جعفر فن طب میں بھی ماہر تھا۔ اس نے 598ھ1201-02ء میں جبکہ زندگی کی پچاس منزلیں طے کر چکا تھا۔ مراکش میں رحلت کی۔ ابن جبیر نے آٹھویں شوال 577ھ‌3 فروری 1183ء کو اپنا سفر آغاز کیا اور بائیسویں محرم 581ھ25 اپریل 1185ء کو واپس آیا۔ اس حساب سے سفر کی مدت دو برس ساڑھے تین مہینے ہوتی ہے۔ وہ اپنے وطن غرناطہ جیان ہو کر استجہ‌Écija اور 6سے گزرتا ہوا جزیرہ طریف پہنچا۔ یہاں سے جہاز میں سوار ہو کر آبنائے جبل الطارق کو عبور کیا۔ اور قصر مصمودہ7 ہوتا ہوا سبتہ میں پہنچا جو افریقہ شمالی کا مشہور بندرگاہ ہے۔ سبتہ سے سوار ہو کر اندلس کے کنارے کنارے جزیرہ یابسہ (اویکا‌Ibiza) اور جزیرہ میورقہ (مجور کا) ہوتا ہوا جزیرہ منورقہ (منور کا) میں پہنچا۔ پھر اس کا جہاز سردانیہ (سارڈینیا) صقلیہ (سسلی) اور اقریطش (کریٹ) کے پاس سے گزرتا ہوا اسکندریہ میں لنگر انداز ہوا۔ اسکندریہ سے وہ دمنہور‌Damanhur8 اور قلیوب‌Qalyub کو دیکھتا ہوا القاہرہ پہنچا۔ یہاں سے وہ منفلوط، اسیوط، اخمیم اور قوص وغیرہ مقامات سے گزر کر بندرگاہ عیذاب میں آیا۔ عیذاب سے جدہ تک بحر قلزم کو کشتی میں بیٹھ کر طے کیا۔ جدہ سے خشکی کی راہ مکہ اور مدینہ میں پہنچا۔ پھر کعبہ حج اور رسول خداﷺ کے روضہ مبارک کی زیارت سے فارغ ہو کر رحبہ، قادسیہ، کوفہ اور حلہ وغیرہ مشہور مقامات کی سیر کرتا ہوا بغداد میں داخل ہوا۔ اس کے بعد دمشق تک وہ جن مشہور مقامات سے علی الترتیب گزرا ان کے نام یہ ہیں۔ تکریت، موصل، نصیبین، دنیصر9، حران، منبج، حلب، قنسرین، حماہ، حمص، دمشق کی سیر سے فارغ ہو کر وہ بندرگاہ عکہ میں پہنچا جو بحیرہ شام کے ساحل پر واقع ہے۔ یہاں سے وہ جہاز میں سوار ہوا اور جزائر رمانیہ اقریطش (کریٹ) ہوتا ہوا جزیرہ سقلیہ (سسلی) کے بندرگاہ مسینا‌Messina میں داخل ہوا۔ جزیرہ سسلی کے مشہور مقامات ثرمہ، بلرم (پلرمو) اور اطرابنش‌Trapani کو دیکھ کر وہ پھر جہاز میں سوار ہوا۔  اور جزیرہ یابسہ (اویکا) سے گزر کر قرطاجنہ‌ ‌Cartagena جو (اندلس کے) مشرق میں ایک مشہور بندرگاہ ہے، وہاں اپنا بحری سفر ختم کیا۔ یہاں سے خشکی کی راہ مرسیہ‌Murcia، لورقہ‌Lorca اور وادی آش‌Guadix ہوتا ہوا غرناطہ میں واپس آیا۔ یہ اس کی بحری اور بری سفر کے مقامات کا ایک مختصر خاکہ ہے اگر ان مقامات پر ایک خط کھینچا جائے تو سفر کی کل مسافت نو ہزار میل سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس نے خشکی میں اونٹوں پر سفر کیا۔ دریائے نیل اور بحیرہ قلزم کو کشتی پر اور بحیرہ روم کو جہاز پر طے کیا۔ علاوہ ان صعوبتوں کے جو اس کو ریگستانوں اور بیابانوں سے گزرنے میں جھیلنی پڑیں کئی بار اس کا جہاز سمندر کے خوفناک طوفان میں گھر گیا تھا۔ اور قریب تھا کہ وہ اور اس کے ساتھی موت کے پنجہ میں گرفتار ہوں۔ مگر اس تمام سفر میں اس کے استقلال میں ذرا فرق نہیں آیا۔ اور اس نے دل میں جو ارادہ ٹھان لیا تھا اس کو پورا کر کے رہا۔ بلکہ اس سفر کے ختم ہونے کے بعد اس نے دو سفر اور کئے اور اسی قدر یا اس سے کم دور و دراز مسافت طے کی۔