’’پیام مشرق‘‘ میں ’’نوائے وقت‘‘ والی نظم اقبال کے تصور زمان کو بہت اچھی طرح پیش کرتی ہے۔ طبیعیاتی وقت جو زمان۔ مکان مسلسلہ کی ایک سمت ہے، اضافی ہے۔ لیکن اصل زمان کو قرآن کریم نے وحدت اور کلیت قرار دے کر تقدیر کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ تقدیر محض زمان کا نام ہے جب کہ اس کو امکانات کے ظہور سے پہلے دیکھا جائے۔ تقدیر محض زمان کا نام ہے جب کہ اس کو تواتر کی قید و بند سے آزاد کر دیا جائے۔ یہ وقت جو تقدیر ہے حقیقی ہے اور تمام اشیاء کی جان ہے۔ یہ وقت محض یکساں آنات کا اعادہ نہیں ہے بلکہ اس کا ہر لمحہ بالکل جداگانہ ہے اور اس سے نئی اور انوکھی اشیاء کی تخلیق ہوتی ہے۔ حقیقی وقت میں وجود رکھنا معمولی (تسلسلی) وقت کی جکڑ بندیوں سے آزادی کے مترادف ہے۔ حقیقت میں موجود رہ کر ہم تسلسلی وقت کو لمحہ بہ لمحہ تخلیق کرتے ہیں اور یہ تخلیق بالکل آزادانہ اور غیر مقلدانہ ہوتی ہے۔ وقت کی اس آزاد تخلیقی حرکت پر زندگی کی ساری جدوجہد کا دارومدار ہوتا ہے۔ چنانچہ وقت انسان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میری اصل حقیقت کو معلوم کرنے کے لئے تو خود اپنے اندر دیکھ کہ میں تیری جان ہوں۔ میں شہر، بیابان، جھونپڑی اور محل ہر جگہ پر چھایا ہوا ہوں۔ میں موت کے گھاٹ بھی اتارتا ہوں اور زندگی بھی بخشتا ہوں۔ دنیا میں یہ جتنے ہنگامے ہوتے رہتے ہیں، یہ سب میرے ہی ادنیٰ کرشمے ہیں۔ دوزخ اور جنت میرے ہی دو بہروپ ہیں۔ میں ساکن بھی ہوں اور متحرک بھی۔ میرے امکانات کی کوئی حد نہیں۔ ابھی سینکڑوں کائنات میرے ضمیر میں پوشیدہ ہیں۔ میں انسان کا لباس بھی ہوں اور یزدان کا پیراہن بھی۔ تو صرف تدبیر کر سکتا ہے لیکن تقدیر بالآخر میری ہی ہوتی ہے۔ مجھ میں تیرا راز اور تجھ میں میرا راز پوشیدہ ہے۔ میں تیرے شعور سے نکلتا ہوں اور تیرے ہی شعور میں ختم ہو جاتا ہوں کیونکہ منتہا اور مقصود تو ہی ہے۔ ساری کائنات میں تیرے ہی دم سے گرمیِ محفل ہے۔ پھر تو کیوں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے۔ اگر تو مقام دل کو پا جائے تو ساری کائنات تجھ میں سما جاتی ہے اور تیری بلند آہنگوں سے میرے دریا میں بھی طوفان اٹھتے ہیں:
|
خورشید بہ دامانم، انجم بگریبانم |
در من نگری ہیچم، در خود نگری جانم |
|
ترجمہ سورج میرے دامن میں ہے اور ستارے میرے گریبان میں۔ اگر تو مجھ (ظاہر) میں دیکھے تو میں کچھ نہیں، اگر تو اپنے اندر جھانکے تو میں (تیری) جان ہوں۔ |
|
|
در شہر و بیابانم، در کاخ و شبستانم |
من دردم و درمانم، من عیشِ فراوانم |
|
ترجمہ میں شہر اور بیابان میں بھی ہوں، محل اور خواب گاہ میں بھی۔ میں خود ہی درد ہوں اور خود ہی اس کا علاج، میں ہی بے پناہ عیش ہوں۔ |
|
|
من تیغِ جہاں سوزم، من چشمۂ حیوانم |
چنگیزی و تیموری، مشتے ز غبارِ من |
|
ترجمہ میں دنیا کو جلا دینے والی تلوار بھی ہوں اور آبِ حیات کا چشمہ بھی۔ چنگیز اور تیمور جیسے لوگ میری ہی خاک کی ایک مٹھی تھے۔ |
|
|
ہنگامۂ افرنگی، یک جستۂ شرارِ من |
انسان و جہانِ او از نقش و نگارِ من |
|
ترجمہ فرنگیوں کا (موجودہ) ہنگامہ میری ہی ایک چنگاری کی اُڑان ہے، انسان اور اس کی یہ دنیا میرے ہی نقش و نگار کا کرشمہ ہیں۔ |
|
|
خونِ جگرِ مرداں سامانِ بہارِ من |
من آتشِ سوزانم، من روضۂ رضوانم |
|
ترجمہ مردانِ حر کے خونِ جگر سے میری بہار کا سامان ہوتا ہے۔ میں جلادینے والی آگ بھی ہوں اور جنت کا باغ بھی۔ |
|
|
آسودہ و سیارم، ایں طرزِ تماشا بیں |
در بادۂ امروزم، کیفیتِ فردا بیں |
|
ترجمہ میں ٹھہرا ہوا بھی ہوں اور رواں دواں بھی، میرے تماشے کا یہ انداز تو دیکھ۔ میری آج کی شراب میں آنے والے کل کا سرور دیکھ۔ |
|
|
پنہاں بہ ضمیرِ من صد عالمِ رعنا بیں |
صد کوکبِ غلطاں بیں، صد گنبدِ خضرا بیں |
|
ترجمہ میرے ضمیر کے اندر سینکڑوں حسین جہان دیکھ۔ سینکڑوں گردش کرتے ستارے اور سینکڑوں نیلے آسمان دیکھ۔ |
|
|
من کسوتِ انسانم، پیراہنِ یزدانم |
تقدیر فسونِ من، تدبیر فسونِ تو |
|
ترجمہ میں انسان کا لباس بھی ہوں اور خدا کا پیراہن بھی۔ تقدیر میرا جادو ہے اور تدبیر تیرا جادو ہے۔ |
|
|
تو عاشقِ لیلائے، من دشتِ جنونِ تو |
چوں روحِ رواں پاکیم از چند و چگونِ تو |
|
ترجمہ تو لیلیٰ کا عاشق ہے تو میں تیرے جنون کا صحرا ہوں۔ ہم روحِ رواں کی طرح تیری حدود و قیود سے پاک ہیں۔ |
|
|
تو رازِ درونِ من، من رازِ درونِ تو |
از جانِ تو پیدائم، در جانِ تو پنہانم |
|
ترجمہ تو میرے باطن کا راز ہے اور میں تیرے باطن کا راز ہوں۔ میں تیری جان سے ہی ظاہر ہوا ہوں اور تیری ہی جان میں پوشیدہ ہوں۔ |
|
|
من رہرو و تو منزل، من مزرع و تو حاصل |
تو سازِ صد آہنگے، تو گرمیِ ایں محفل |
|
ترجمہ میں مسافر اور تو منزل ہے، میں کھیت اور تو اُس کا پھل ہے۔ تُو سو سُروں کا ساز ہے، تُو اِس محفل کی رونق ہے۔ |
|
|
آوارۂ آب و گل دریا بہ مقامِ دل |
گنجیدہ بہ جامے بیں ایں قلزمِ بے ساحل |
|
ترجمہ اے آب و گِل میں آوارہ! دل کے مقام پر دریا دیکھ۔ اس بے کنار سمندر کو ایک پیالے میں سمایا ہوا دیکھ۔ |
|
|
از موجِ بلندِ تو سر برزدہ طوفانم |
|
|
ترجمہ میں تیری بلند لہر سے سر اٹھانے والا ایک طوفان ہوں۔ |
