جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کا تصورِ زمان و مکان

’’جاوید نامہ‘‘ میں زمان و مکان کا فرشتہ زروان اقبال پر یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ ہر انسانی تدبیر زمان کی تقدیر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ زندگی، موت اور حشر سب زمان ہی کی حرکتیں ہیں۔ انسان، فرشتے اور کائنات سب زمان میں واقع ہوئے ہیں۔ زمان حقیقت آخری کا ضروری جزو ہے:

گفت زروانم جہاں را قاہرم

ہم نہانم از نگہ ہم ظاہرم

ترجمہ اس نے کہا میں زروان (وقت) ہوں، میں جہاں پر غالب ہوں، میں نگاہ سے پوشیدہ بھی ہوں اور ظاہر بھی ہوں۔

بستہ ہر تدبیر با تقدیرِ من

ناطق و صامت ہمہ نخچیرِ من

ترجمہ ہر تدبیر میری تقدیر سے بندھی ہوئی ہے، بولنے والے اور خاموش سب میرے شکار ہیں۔

غنچہ اندر شاخ می بالد ز من

مرغک اندر آشیاں نالد ز من

ترجمہ کلی شاخ میں میری وجہ سے نشوونما پاتی ہے، ننھا پرندہ گھونسلے میں میری وجہ سے نالہ کرتا ہے۔

من حیاتم، من مماتم، من نشور

من حساب و دوزخ و فردوس و حور

ترجمہ میں ہی زندگی ہوں، میں ہی موت ہوں، میں ہی دوبارہ اٹھنا ہوں، میں ہی حساب، دوزخ، جنت اور حور ہوں۔

آدم و افرشتہ در بندِ من است

عالمِ شش روزہ فرزندِ من است

ترجمہ آدم اور فرشتے میرے قیدی ہیں، یہ چھ دن میں بننے والی دنیا میری ہی اولاد ہے۔

ہر گلے کز شاخ می چینی منم

ہم ہر چیزے کہ می بینی منم

ترجمہ ہر وہ پھول جو تو شاخ سے توڑتا ہے، وہ میں ہوں، اور ہر وہ چیز جو تو دیکھتا ہے، وہ بھی میں ہوں۔

’’اسرار خودی‘‘ میں اقبال نے امام شافعی کے مشہور مقولہ: ’’الوقت سیف قاطعوقت کاٹنے والی تلوار ہے‘‘ کی تفسیر کی ہے کہ وقت ایسی شمشیرِ براں ہے کہ یہ جس کے ہاتھ میں ہو اس کی قدرت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قدرت سے زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت علیؓ کے ہاتھ میں بھی یہی شمشیرِ روزگار تھی جس سے آپ نے درۂ خیبر فتح کیا تھا۔ جو شخص زمانے کو محض دن اور رات کی تعداد سے ناپتا ہے وہ گمراہی میں ہے اور زمانے کی اصل حقیقت سے ناواقف ہے:

اے اسیرِ دوش و فردا در نگر

در دلِ خود عالمِ دیگر نگر

ترجمہ اے گزشتہ کل اور آنے والے کل کے قیدی! دیکھ، اپنے دل میں ایک دوسری دنیا دیکھ۔

در گلِ خود تخمِ ظلمت کاشتی

وقت را مثلِ خطے پنداشتی

ترجمہ تو نے اپنی مٹی میں تاریکی کا بیج بویا ہے، (کیونکہ) تو نے وقت کو ایک لکیر کی مانند سمجھا ہے۔

باز با پیمانۂ لیل و نہار

فکر تو پیمود طولِ روزگار

ترجمہ پھر تیری فکر نے شب و روز کے پیمانے سے زمانے کی طوالت کو ناپا۔

ساختی ایں رشتہ را زنارِ دوش

گشتہ ای مثلِ بتاں باطل فروش

ترجمہ تو نے اس دھاگے (وقت) کو اپنے کندھے کا زنار بنا لیا ہے، (اور) بتوں کی طرح باطل بیچنے والا بن گیا ہے۔

جو شخص زمان کی اصل حقیقت سے واقف نہیں وہ حیات جاوداں سے بھی آگاہ نہیں ہے۔ زمان کو بھی لیل و نہار کے پیمانے سے اس طرح ناپنا جیسا کہ ہم نظریۂ اضافیت کے بیان میں بتا چکے ہیں۔ اگرچہ زمان اور مکان ایک دوسرے سے مل کر زمان۔ مکان کا چار ابعادی مسلسلہ بناتے ہیں لیکن پھر بھی زمان اور مکان کا بنیادی فرق باقی رہ جاتا ہے۔ محض مکان یعنی فضا میں مطلق آگے اور مطلق پیچھے کی سمتوں کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے لیکن زمان میں ماضی اور مستقبل کا امتیاز باقی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ زمان کے متعلق ہمارے ادراک اور مکان کے متعلق ادراک میں ایک اہم فرق ہے۔ ہماری زندگی اس پر مشتمل ہے کہ ہم مطلق مستقبل میں آگے کی طرف بڑھتے ہیں اور اس طرح ہمیں وقت کے مختلف وقفوں کے طے کرنے کا احساس ہوتا ہے۔ مکان کے متعلق ہم کو ایسا احساس صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ ہم روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز رفتار کے ساتھ حرکت کریں جو ناممکن ہے۔ اس وجہ سے زمان کے متعلق ہمیں راست ادراک اور تجربہ ہوتا ہے۔ لیکن مکان کے متعلق ہمارا ادراک اور تجربہ بالواسطہ ہوتا ہے۔ مکان کے متعلق ہمارا علم ہمارے حواس پر پڑنے والے اثرات اور ان سے اخذ کئے ہوئے نتیجوں پر مبنی ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح خارجی دنیا کے واقعات کے درمیان جو زمانی رشتے ہوتے ہیں ان کا علم بھی ہم کو بالواسطہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ہمارے شعور میں وقت اور اس کے گزرنے کا جو احساس ہوتا ہے وہ فوری اور راست ہوتا ہے۔ اگر ہم آنکھیں بند کر لیں اور خارجی دنیا کے تمام خیالات کو دل سے نکال دیں تو اس کے باوجود ہمیں وقت کے گزرنے کا احساس ہوتا رہے گا لیکن مکان کی وسعت یا تنگی کا کوئی احساس نہیں ہو گا۔ وقت کا یہی داخلی اور شعوری احساس اس کی امتیازی خاصیت ہے۔ مکان ہمیشہ ایک خارجی شے کے طور پر ہی ادراک ہوتا ہے۔

پروفیسر ایڈنگٹن‌Eddington نے اپنی ایک کتاب (NATURE OF THE PHYSICAL WORLD) میں زمان اور مکان کے اس فرق کو تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ ایڈنگٹن کی یہ کتاب سنہ 1928ء میں لکھی گئی تھی، حالانکہ اقبال نے ’’مثنوی اسرار خودی‘‘ کی تصنیف گزشتہ عالمی جنگ سنہ 1914-1918ء کے دوران میں کی تھی، جبکہ آئن سٹائن‌Einstein کا نظریۂ اضافیت ابھی عام طور پر رائج نہیں ہوا تھا۔ اس مثنوی میں اقبال بتاتے ہیں کہ انسانی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ بجائے زمان کی اصل حقیقت کو سمجھ کر زندگی کو آبدار بنانے کے انسان زمان کو مکان کی طرح تسلسلی سمجھ کر گردشِ لیل و نہار میں اسیر ہو جاتا ہے:

باز با پیمانۂ لیل و نہار

فکر تو پیمود طولِ روزگار

ترجمہ پھر تیری فکر نے شب و روز کے پیمانے سے زمانے کی طوالت کو ناپا۔

تو کہ از اصلِ زماں آگہ نہ ای

از حیاتِ جاوداں آگہ نہ ای

ترجمہ تو جو کہ زمان کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہے، تو ابدی زندگی سے بھی آگاہ نہیں ہے۔

تا کجا در روز و شب باشی اسیر

رمزِ وقت از ’’لی مع اللہ‘‘ یاد گیر

ترجمہ کب تک تو دن اور رات میں قید رہے گا؟ وقت کا راز 'لی مَعَ اللہ' سے سیکھ۔

این و آں پیدا است از اسرارِ وقت

زندگی سرے است از اسرارِ وقت

ترجمہ یہ اور وہ وقت کے رازوں سے ہی ظاہر ہیں، زندگی خود وقت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے۔

اصلِ وقت از گردشِ خورشید نیست

وقت جاوید است و خور جاوید نیست

ترجمہ وقت کی اصل سورج کی گردش سے نہیں ہے، وقت ہمیشہ رہنے والا ہے اور سورج ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔

وقت را مثلِ مکاں گستردہ ای

امتیازِ دوش و فردا کردہ ای

ترجمہ تو نے وقت کو مکان کی طرح پھیلا دیا ہے، اور گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل کا امتیاز قائم کیا ہے۔

وقتِ ما کو اول و آخر ندید

از خیابانِ ضمیرِ ما دمید

ترجمہ ہمارا وہ وقت جس کا کوئی اول و آخر نہیں، ہمارے ضمیر کے گلشن سے پھوٹا ہے۔

عیش و غم عاشور و ہم عید است وقت

سرِ تابِ ماہ و خورشید است وقت

ترجمہ وقت ہی خوشی اور غم، عاشورہ اور عید ہے، وقت ہی چاند اور سورج کی چمک کا راز ہے۔

زندگی از دہر و دہر از زندگی است

’’لاتسبوا الدہر‘‘ فرمانِ نبی است

ترجمہ زندگی زمانے سے ہے اور زمانہ زندگی سے ہے، 'زمانے کو برا نہ کہو' نبی کا فرمان ہے۔

’’بال جبریل‘‘ میں بھی اقبال نے ’’زمانہ‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے جس میں وقت اپنی صفات کا اظہار خود اپنی زبان سے کرتا ہے۔ اس میں فاعل انا کے تسلسلی وقت کا بھی ذکر ہے کہ حوادث اور واقعات یکے بعد دیگرے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ لیکن اصل زمان یہ تسلسلی وقت نہیں ہے بلکہ اصل زمان میں خود زندگی اور تقدیر مضمر ہیں۔ جس شخص کی نظر عارفانہ نہیں ہے وہ اصل زمان سے آگاہ نہیں ہو سکتا۔

جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ

قریب تر ہے نمود جس کی اسی کا مشتاق ہے زمانہ

مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں

میں اپنی تسبیحِ روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ

ہر ایک سے آشنا ہوں، لیکن جدا جدا رسم و راہ میری

کسی کا راکب، کسی کا مرکب، کسی کو عبرت کا تازیانہ

مرے خم و پیچ کو نجومی کی آنکھ پہچانتی نہیں ہے

ہدف سے بیگانہ تیر اس کا، نظر نہیں جس کی عارفانہ