جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کا تصورِ زمان و مکان

’’مستقبل پہلے سے بندھا ٹکا اور مقرر نہیں بلکہ ایک کھلے امکان کے طور پر موجود رہتا ہے۔ قرآن پاک نے جس چیز کو تقدیر کہا ہے وہ زمان ہی ہے جبکہ اس کو عضوی کل کے طور پر دیکھا جائے۔ تقدیر وہ زمان ہے جبکہ اس کے امکانات کے ظہور سے قبل اس پر غور کیا جائے۔ ہر آنے والا لحظہ نہ صرف نیا ہوتا ہے بلکہ اس کے متعلق پیش گوئی کرنا ناممکن ہے۔ دوران کی کیفیت کو محفوظ کرنے کا ذریعہ انسانی حافظہ ہے۔ حافظے کی بدولت حوادث کی ہر نئی شکل میں ہمارے پاس متبادل طریق کار موجود رہتے ہیں۔ جوں جوں زندگی کی وسعت اور تجربے کی یادوں میں اضافہ ہوتا ہے، ہمارے سامنے انتخاب کا وسیع میدان مستقبل کے امکانات کی حیثیت سے حاضر رہتا ہے۔ امکانات کے تاریک حلقوں میں ہم اپنے احساس اور شعور کی مشعلوں سے روشنی کرتے ہیں اور پھر عمل کا قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ شعور کے بطن ہی سے آزادی اور اختیار جنم لیتے ہیں۔ حافظے کا یہ کام ہے کہ ان گزرے ہوئے ادراکات کی یادوں کو ابھارے جو عملی زندگی میں موجود ادراکات کے ممثل ہیں اور اس طرح ہمیں ایسا فیصلہ کرنے میں مدد دے جو ان مخصوص حالات میں سب سے زیادہ موزوں ہو۔ حافظے کی بدولت ہم وحدانی طور پر دوران کے مختلف لمحوں کی بیک وقت گرفت کر لیتے ہیں تاکہ لزوم کی پابندی سے نجات ملے۔ حافظہ گزشتہ لمحوں کو جتنا زیادہ اپنے اندر سمیٹ لے گا، اسی قدر انسانی اختیار و آزادی کو خارجی عالم میں تصرف کرنے کا موقع حاصل ہو گا۔ جس طرح سرخ رنگ کی حرکت موجی کے بے شمار تعداد کا ہم آن واحد میں ادراک کر لیتے ہیں اسی طرح حافظے کی بدولت شعور و عمل ہی کی آزادی جبر و لزوم کی زنجیروں کو توڑتی اور عمل کی ہر منزل پر سکون و جمود کی بے حرکتی کو اپنے پاؤں تلے کچلتی ہوئی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ جوش حیات کے جلووں میں اگر حرکت و اختیار کی دائمی خواہش نہ ہوتی تو انسانی ارتقا کا قافلہ نہ معلوم ابھی کتنا پیچھے ہوتا۔ خودی یا انا کی آزادی سے انکار صرف اس وقت ممکن ہو گا جبکہ زمان کو مکان کا مترادف قرار دیا جائے اور دوران کی تعبیر وسعت پذیری کے ذریعے ہو۔ دوران خالص کا ادراک وحدانی طور پر ممکن ہے۔ جبکہ ہماری اندرونی کیفیات ہمارے سامنے جیتی جاگتی شکل میں آتی ہیں۔ ان کیفیات کی پیمائش ممکن نہیں اس لئے کہ یہ ایک دوسرے میں مدغم ہوتی ہیں۔ اس دوران کی کیفیت کو عالم میں صرف نفسِ انسانی ہی محسوس کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ صرف وہی آزاد ہے۔ فطرت پر یہ کیفیت عائد ہوتی ہے۔ اس لئے وہ جبر و لزوم کی پابند ہوتی ہے۔‘‘

(روح اقبال، صفحہ 353-354)

قرآن کریم کے تصور کے منافی اس سے زیادہ اور کوئی تصور نہیں ہو سکتا کہ کائنات سوائے ایک بنے بنائے نقشے کے کچھ نہیں جس کے مطابق کام ہو رہا ہو۔ قرآن کی تعلیم کے مطابق کائنات حرکیاتی ہے۔ یہ ایک ہر دم تشکیل پانے والی کائنات ہے، نہ کہ ایک مکمل چیز، جو اپنے خالق کے ہاتھوں سے بہت عرصہ پہلے نکلی تھی اور اب فضا میں مادے کے ایک بے جان ڈلے کی طرح ہر طرف پھیلی پڑی ہے، جس پر وقت کے گزرنے کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ خود ہم کو وقت کے تواتر کا جو احساس ہوتا ہے اس سے اقبال نے حقیقت آخری کا ایک تصور حاصل کیا ہے جو ان کے نزدیک ایک ایسا خالص دوران ہے جس میں خیال، زندگی اور ارادہ ایک دوسرے سے ترکیب پا کر ایک عضوی وحدت بن جاتے ہیں۔ غرض زمان یا وقت اس حقیقت آخری کا ایک لازمی جزو ہے۔

فاعل انا کے تسلسلی زمان اور عاقل انا کے غیر تسلسلی زمان میں امتیاز نہ کرنے کی وجہ سے میک ٹیگرٹ‌McTaggart اور بعض دوسرے مفکرین نے غلطی سے زمان کو غیر حقیقی قرار دیا ہے۔ وہ فرض کر لیتے ہیں کہ زمان کی خاصیت صرف تسلسل ہے اور کچھ نہیں۔ اقبال کا کہنا ہے کہ اگر ہم ماضی، حال اور مستقبل کو زمان کے اجزائے لاینفک تصور کر لیں تو گویا ہم زمان کو ایک خطِ مستقیم تصور کر رہے ہیں جس کا کچھ حصہ ہم طے کر آئے ہیں اور پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور کچھ حصہ ہمارے سامنے پھیلا ہوا ہے اور ہمیں طے کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمان ایک زندہ تخلیقی حرکت نہیں بلکہ ایک سکونی شے مطلق ہے۔ میک ٹیگرٹ اور دوسرے علماء کو، جو جبر و لزوم کے قائل ہیں، اقبال جواب دیتے ہیں کہ مستقبل ایک کھلے امکان کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ ایک معین اور ثابت واقعے کی۔ مستقبل کے امکانات کے لئے ہمیشہ گنجائش باقی رہتی ہے۔ جدید کوانٹم نظریہ اقبال کے ان خیالات کی تائید کرتا ہے۔

اقبال کو یقین تھا کہ اگر ہم اپنے شعوری تجربوں اور مشاہدوں پر اچھی طرح غور کریں تو ہمیں تسلسلی اور عارضی دوران کی تہ میں حقیقی دوران کا پتہ ملے گا۔ جس میں تغیر محض مختلف حالتوں کے تواتر کا نام نہیں بلکہ جس کی اصلی صفت مسلسل تخلیق ہوتی ہے۔ اس حقیقی دوران میں انائے الٰہی موجود ہوتا ہے۔ جس کے لئے نہ کبھی تھکن ہے اور نہ نیند

(لا تاخذہ سنۃ و لا نوماسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند)

اس طرح اقبال بتاتے ہیں کہ انا کی زندگی فاعلیت سے عاقلیت کی طرف اور وجدان سے ذہن کی طرف حرکت پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور اس تغیر اور حرکت سے سالمی۔ جوہری وقت پیدا ہوتا ہے۔ اس استدلال کی مدد سے اقبال وقت یا زمان کے ان دو تصوروں میں پائے جانے والے اختلاف کو رفع کرتے ہیں جن میں سے ایک میں زمان کو ابد کی ایک عضوی وحدت اور کلیت سمجھا جاتا ہے اور دوسرے میں زمان کو سالمی۔ جوہری اور متغیر سمجھا جاتا ہے۔ روزمرہ کے تجربوں اور مشاہدوں کی روشنی میں اور اس اصول کو مان کر کہ ہمہ گیر انا کی ہستی محدود انا کی ہستی کے مشابہ ہے، وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ انائے کامل کا زمان ایک غیر متوالی تغیر ہے، یعنی انائے کامل کا زمان ایک عضوی کلیت ہے جو اس انا کی تخلیقی حرکت کی وجہ سے جوہری یا منقسم نظر آتا ہے۔ اس لئے ایک طرف تو انا دوام اور ابد میں یعنی غیر متوالی تغیر میں اور دوسری طرف تسلسلی زمان میں وجود رکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ تسلسلی زمان ابد اور دوام کے ساتھ اس معنی میں مربوط ہے کہ وہ در حقیقت غیر متوالی تغیر کا ایک ناپ ہے۔ اس طرح الٰہی زمان اور تسلسلی زمان کے درمیانی رابطے کی تشریح ہو جاتی ہے۔ اس تحلیل میں ارتقاء کا اسلامی تصور مضمر ہے۔

اسلام نے زمان کو حقیقی مانا ہے۔ اقبال بھی اسے حقیقی تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ طبیعی زمان۔ مکان جس میں انسانی عقل چکر لگاتی ہے، اصل حقیقت نہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں:

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری

نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ

ہستی و نیستی از دیدن و نادیدنِ من

چہ زمان و چہ مکاں شوخیِ افکارِ من است

ترجمہ ہونا اور نہ ہونا میرے دیکھنے اور نہ دیکھنے سے ہے، زمان و مکان کیا ہیں؟ یہ سب میرے افکار کی شوخی ہے۔

وہ زندگی کو زمان میں ایک مسلسل حرکت سمجھتے ہیں۔ ان کا ایقان ہے کہ انسان اپنے جسم اور روح کے ساتھ مل کر ایک ہی وحدت ہے۔ اور یہ تصور غلط ہے کہ انسان کو دو مختلف حقیقتوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ جو اگرچہ ایک نقطے پر باہم ملتے ہیں لیکن دراصل ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ سچ یہ ہے کہ مادہ اور روح ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔ مادہ نام ہے روح کا جب اس کو زمان مکان میں بیان کیا جائے۔ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ جدید اضافیتی کوانٹم نظریے کی رو سے مادہ اور توانائی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو بہروپ ہیں۔ اس لئے اقبال کے اس قول پر اچنبھا نہیں ہونا چاہیئے کہ ’’جس وحدت کو انسان کے نام سے پکارا جاتا ہے وہ جسم ہے اگر ہم خارجی دنیا میں اس کے افعال پر نظر رکھیں۔ اور روح ہے اگر اس کے انجام دادہ کام کی غایت یا نصب العین کا لحاظ رکھیں۔‘‘

ان کے خطبات کے بعد اگر ہم اقبال کی شاعری پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کئی نفیس اور موثر نظموں میں انہوں نے زمان و مکان کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ چنانچہ ’’بال جبریل‘‘ (ص 126) کے اشعار میں وہ بتاتے ہیں کہ زندگی زمان کے مسلسل تغیر و حرکت کا دوسرا نام ہے:

سلسلۂ روز و شب نقش گرِ حادثات

سلسلۂ روز و شب اصلِ حیات و ممات

سلسلۂ روز و شب تارِ حریرِ دو رنگ

جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

سلسلۂ روز و شب سازِ ازل کی فغاں

جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بمِ ممکنات

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا

ایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ رات