جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کا تصورِ زمان و مکان

اگر وہ اسے اچھی طرح سمجھ گئے ہوتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جدید سائنس نے قدیم طبیعیات کی کٹر جبریت کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ بلکہ بتلائے ہوئے اصول یعنی تخلیقی ارتقا (کل یوم ھو فی شانوہ ہر روز ایک نئی شان میں ہے) کے لئے وافر گنجائش موجود ہے۔ اس تخلیقی ارتقا کے اصول کو فرانس کے مشہور فلسفی برگساں‌Bergson نے پیش کیا ہے۔

زمان و مکان کے متعلق اقبال کا تصور

جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے نظریہ اضافیت کے پیش کردہ تصور زمان و مکان سے اقبال متفق ہیں۔ انہیں نظریہ اضافیت کی اس تعبیر سے اتفاق ہے جو وائٹ ہیڈ‌Whitehead نے کی ہے یعنی یہ کہ ’’نیچر کوئی ایسی سکونی حقیقت نہیں ہے جو ایک غیر حرکیاتی خلا میں واقع ہو بلکہ وہ ایسے واقعات کا مجموعہ ہے جو اپنے اندر مسلسل تخلیقی بہاؤ کی خاصیت رکھتے ہیں۔‘‘ زمان اور مکان دونوں اضافی اور حقیقی ہیں لیکن ان دونوں میں سے زمان زیادہ اساسی اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ تمام اشیا میں زمان و مکان دونوں موجود ہیں لیکن ان کا باہمی تعلق ایسا ہے جیسا جسم اور ذہن کا، یعنی زمان ذہن ہے مکان کا۔ اس کے ساتھ ہی اقبال یہ بھی کہتے ہیں کہ آئن سٹائن کا نظریہ بحیثیت ایک سائنسی نظریے کے صرف اشیا کی ساخت سے بحث کرتا ہے لیکن اشیاء کی ماہیت پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا۔ اس بات کو بھولنا نہیں چاہیئے کہ نظریہ اضافیت زمان کی بعض ایسی خصوصیات کو نظر انداز کر دیتا ہے جو ہم پر گزرتی ہیں۔ اس لئے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ زمان کی ساری ماہیت صرف ان خصوصیات پر مشتمل ہوتی ہے جو نظریہ اضافیت میں بیان کی جاتی ہیں کیونکہ یہ نظریہ قدرت کے صرف ان پہلوؤں پر غور کرتا ہے جن پر ریاضیاتی نقطہ نظر سے بحث کی جا سکتی ہے۔

طبیعیات اور سائنس کے نظریوں کی اس خامی اور نقص کو بیان کرنے کے بعد اقبال زمان کی ان خاصیتوں سے بحث کرتے ہیں جو طبیعیاتی نظریے سے باہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خالص طبیعیاتی نقطہ نظر سے ہم زمان کا صرف جزئی تعین کر سکتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہوگا کہ ہم زمان سے متعلق اپنے روزمرہ مشاہدات کا نفسیاتی تجزیہ کریں جس سے زمان کی ماہیت کا ٹھیک ٹھیک پتہ چل سکے گا۔ وہ قرآن کریم کی چند آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں جن میں زمان سے متعلق ہمارے مشاہدات کو اضافی قرار دیتے ہوئے شعور کے نامعلوم مدارج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حقیقی زمان ایک قسم کی تخلیقی فعلیت ہے، اس کے متعلق تواتر کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس کو ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ زمان خالص دوران و مرور ہے۔ ہمارا ذہن اپنی سہولت کی خاطر اس خالص زمان کو متواتر آنات میں تقسیم کر لیتا ہے تاکہ اس طرح حقیقت کی فعلیت کا تصور اور اس کی پیمائش کی جا سکے۔

زمان کے دوران کے متعلق برگساں کا جو نظریہ ہے اور خارجی دنیا اور ہماری روزمرہ زندگی میں رونما ہونے والے تغیروں کے اس کا جو تصور ہے اس سے اقبال متفق ہیں۔ لیکن برگساں کے نزدیک تغیر اور حرکت ہی اصل حقیقت ہیں جس سے ہمیں زمان کا احساس ہوتا ہے۔ فعلیت کو ظہور افعال سے قبل ان کا علم نہیں ہوتا اور نہ ان کے ظہور میں کسی ایسی مشیت کو دخل ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف اقبال کے ہاں تغیر و حرکت فعلیت مطلقہ کی شان ہے۔ فعلیت مطلقہ مبہم اور بے مقصد نہیں اور غایت متعین کرنے سے فعلیت مطلقہ آزاد نہیں رہے گی، غلط ہے۔ اقبال کے نزدیک اگر غایت سے یہ مراد ہے کہ پہلے سے کسی بنے بنائے منصوبے کی تکمیل کی جائے تو زمان غیر حقیقی ہو جاتا ہے۔ ہاں اگر اس سے یہ مراد لی جائے کہ زندگی میں نت نئے مقاصد کی تخلیق جاری و قائم رہے تاکہ وہ اپنا تحقق کرے تو زمان کی نفی لازم نہیں آتی۔ اس طور پر انسان اپنے اوپر موتیں طاری کرتا رہتا اور نئی نئی زندگیاں حاصل کرتا رہتا ہے۔ زمان کا خط پہلے سے کھینچا ہوا موجود نہیں بلکہ اس خط کی کشش جاری رہتی ہے تاکہ زندگی کے امکانات ظاہر ہوتے رہیں۔ مراتب کونیہ ذات واجب کے اغراض ہیں جو ہر آن متبدل ہوتے رہتے ہیں۔ زمان میں حوادث کا وقوع پذیر ہونا اس طرح ہے جیسے ظہور صفات اپنے موصوف میں اور ظہور اغراض اپنے موضوع میں۔ حوادث کے لئے زمان ظرف کی حیثیت نہیں رکھتا، زمان عارضی ہے ان اشیا کے لیے جو ممکنات رکتھی ہیں۔ اس طرح زندگی نت نئے روپ اختیار کرتی رہتی اور پھر اپنے ارتقا کی منزلوں کو طے کرتی جاتی ہے۔‘‘ (روح اقبال، مصنفہ ڈاکٹر یوسف حسن خان، سنہ 1941ء صفحہ 349)

اقبال کے نزدیک داخلی زندگی کے لحاظ سے انا کے دو رخ ہیں جو ہمارے مادی اور روحانی وجود کے متناظر ہیں۔ اقبال ان کو ’’فاعل انا‘‘ (EFFICIENT EGO) اور ’’عاقل انا‘‘ (APPRECIATIVE EGO) کے نام سے پکارتے ہیں۔ پہلے رخ کا لحاظ کر کے انا زمان و مکان کی طبیعی دنیا سے ربط پیدا کرتا ہے۔ اور اگرچہ وہ اپنی عضوی وحدت کو قائم رکھتا ہے لیکن اس کا ظہور چند معین حالتوں میں ہوتا ہے۔ اس فاعل انا کا وقت زمان۔ مکان مسلسلہ کا ایک بعد ہے اور اس وقت میں تسلسل اور تدریج کی وہ خاصیت موجود ہے جس کو اشاعرہ نے بیان کیا تھا۔

قرآن کریم نے عاقل انا کے وقت کی بھی تشریح کی ہے۔ اس انا کا پتہ ہمارے شعوری تجربے کی تحلیل سے چلتا ہے۔ ہم اپنی اس موجودہ زندگی میں خارجی مظاہر میں اس قدر منہمک ہو جاتے ہیں کہ عاقل انا کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔ یہ انا خالص دوران میں وجود رکھتا ہے۔ خالص دوران سے مراد ایسا تغیر ہے جو متوالی نہ ہو۔ اس انا کی زندگی میں شعور کے مختلف مدارج ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔ اس کی وحدت اس جرثومے کی وحدت کے مانند ہے جسے اپنی گزری ہوئی نسلوں کے تمام تجربے وراثتاً پہنچے ہوں اور اس میں اس طرح جاری و ساری ہو گئے ہوں کہ انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ وہ تمام مل کر ایک واحد اکائی بن جاتے ہیں۔ اس عاقل انا کا زمان طبعاً غیر تسلسلی ہوتا ہے اور اس کے تمام تغیر اور حرکتیں ناقابل تقسیم ہوتی ہیں۔ اس کے تمام عناصر باہم گھلے ملے ہوتے ہیں اور اس کی جداگانہ کیفیتوں کی یہ کثرت کمی نہیں بلکہ کیفی ہوتی ہے۔ اسی زمان کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے:

’’انا کل شیٔ خلقناہ بقدرہ وما امرنا الا الواحدۃ کلمح البصرہ‘‘

(ہم نے سب چیزوں کو ایک مقررہ تقدیر پر پیدا کیا ہے۔ ہمارا حکم ایک تھا آنکھ کی جھپک کی مانند تیز) فاعل انا کے لئے یہی ایک غیر منقسم لحظہ دنوں اور برسوں میں منقسم ہو جاتا ہے۔ اس کی طرف بھی قرآن کریم میں اشارہ کیا گیا ہے:

’’الذی خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش‘‘

(اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، چھ دنوں میں، اور پھر قائم ہوا عرش پر)۔ غرض فاعل انا کا دوران جسے ہم قرنوں اور صدیوں میں شمار کرتے ہیں، عاقل انا کے لئے ایک آن واحد ہے۔ اگرچہ روشنی کی موجوں کا تعدد (کثرت) بہت زیادہ ہوتا ہے جن کو گننے کے لئے ہزاروں لاکھوں سال لگ جاتے ہیں لیکن ہم اس روشنی کو چشم زدن میں یعنی دیکھنے کے ایک واحد فوری فعل کے ذریعے محسوس کر لیتے ہیں اور اس طرح تواتر اور کثرت کو وحدت میں بدل دیتے ہیں۔ اسی طرح اگرچہ مقامات اور آنات یعنی مکان کے چھوٹے چھوٹے تغیر فاعل انا کے لئے ناگزیر ہیں لیکن عاقل انا ان مقامات اور آنات کو ترکیب دے کر ایک واحد کلیت میں مبدل کر دیتا ہے، یعنی فاعل انا کی صدیاں اور برس عاقل انا کے زمان میں وہی ایک آن واحد بن جاتے ہیں۔ عاقل انا کا زمان ہم پر فاعل انا کے زمان کی طرح لمحوں کی ایک لڑی کی طرح منکشف نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک عضوی کل کی طرح منکشف ہوتا ہے، جس میں ماضی حال کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔