(و) نظریہ اضافیت کے انکشاف سے پہلے مکان، یعنی فضا کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ اس کی کوئی انتہا نہیں ہے، کیونکہ یہ تصور کرنا ناممکن تھا کہ فضا کہیں جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ کسی فضا کے ختم ہونے کو ہم دو طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر کسی کمرے کے ختم ہونے کا خیال کریں، تو ہمارے ذہن میں فوراً دیواروں کا تصور آتا ہے۔ یعنی ہم کہتے ہیں کہ کمرے کے چاروں طرف دیواریں ہیں۔ یا اگر کسی کھیت یا احاطے پر غور کریں تو وہ ایک باڑ سے گھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہم کسی بلند سطح پر چڑھ جائیں اور کچھ دور جانے کے بعد یکایک ختم ہو جائے۔ اس کے بعد ایک گہرا غار ہو اور اس غار کی وادی ہماری نظروں سے پوشیدہ رہے۔ ان مختلف صورتوں میں ہم کہتے ہیں کہ کمرے یا کھیت یا سطح کی انتہا ہے، اور اس انتہا پر دیوار یا غار واقع ہے۔ اب اگر فضا کی بھی انتہا فرض کی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس انتہا پر کیا کوئی دیوار یا کنارہ واقع ہے؟ اور چونکہ فضا کی انتہا کا تصور یا دیوار یا کنارے کا تصور ناممکن تھا اس لئے مان لیا گیا کہ فضا کی کوئی انتہا نہیں، اگرچہ ہمارے حواس یا تجربے ایک خاص حصے سے آگے کی کچھ خبر نہیں دیتے۔
لیکن نظریہ اضافیت کی بنا پر آئن سٹائن نے نہ صرف یہ ثابت کیا کہ کائنات بے انتہا نہیں ہے بلکہ یہ بھی بتایا کہ اس متناہی کائنات کا تصور کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ اگر فضا کی انتہا مان لی جائے تو دیوار یا کنارے کا سوال ہمارے ذہن میں اس لئے آتا ہے کہ ہم نے فضا کو ایک کمرے کی طرح چپٹی (اقلیدسی) سمجھ رکھا ہے۔ ایک کرے مثلاً گولے کو لیجئے۔ اس گولے کی سطح پر انتہا نہیں ہے۔ اس کے کسی دو نقطوں کا درمیانی فاصلہ معین ہے لیکن کیا اس گولے کی سطح پر کوئی حد یا کنارہ ہے؟ اگر زمین کی سطح پر ہم چلنے لگیں تو کیا کسی مقام پر پہنچ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے آگے نہیں جا سکتے؟ ایک کرے کی سطح کے لئے ہمیں یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ انتہا رکھتی ہے لیکن اس کے کسی مقام پر کوئی حد یا کنارہ نہیں ہے۔ فضا کے متعلق بھی ہم ابھی دیکھ آئے ہیں کہ وہ چپٹی (اقلیدسی) نہیں بلکہ پیچ دار اور خمیدہ (نا اقلیدسی) ہے، اس لئے ایک گول کی بھی انتہا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ کوئی حد یا کنارہ نہ ہو۔ ایسی فضا کو ریاضی دان متناہی لیکن غیر محدود کہتے ہیں۔ اس اصطلاح سے صرف اس حقیقت کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ فضا کے کسی دو نقطوں کا درمیانی فاصلہ بے انتہا بڑا نہیں بلکہ معین ہے۔ اگرچہ اس فضا میں ہم جب تک چاہیں چل سکتے ہیں، کوئی حد یا کنارہ ایسا نہیں ہے جہاں پہنچ کر ہمارا سفر ختم ہو جائے۔ علم جغرافیے میں زمین کے گول ہونے کا ثبوت دیتے وقت بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص کسی مقام سے روانہ ہو اور سیدھی ایک ہی سمت میں چلتا رہے تو آخر وہ اسی مقام پر پہنچ جائے گا جہاں سے روانہ ہوا تھا اور اگر اسی طرح چلتا رہے تو جتنی دیر تک چاہے چل سکتا ہے۔ کائنات کے متناہی لیکن غیر محدود ہونے کو بھی اسی طرح تصور کیا جا سکتا ہے۔ اقبال نظریہ اضافیت کے اس نتیجے سے بھی واقف تھے کہ کائنات غیر محدود لیکن متناہی ہے۔ چنانچہ خطبات میں آئن سٹائن کے نظریے کے فلسفیانہ پہلو پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس نظریے کی رو سے فضا مادے پر منحصر ہے۔ آئن سٹائن کے خیال کے بموجب کائنات کسی لامحدود خلا میں ایک جزیرہ نہیں ہے بلکہ وہ غیر محدود لیکن متناہی ہے جس کے آگے کوئی خالی فضا نہیں۔‘‘
(ز) اپنے نظریہ اضافیت کی بنا پر آئن سٹائن نے بتایا کہ توانائی (انرجی) بھی ایک وجود رکھتی ہے جس کو عرف عام میں وزن کہا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے ثابت کیا ہے کہ مادہ اور توانائی دو مختلف اشیا نہیں بلکہ ایک ہی شے کی دو مختلف شکلیں ہیں، جس طرح برف اور پانی ایک ہی شے کی دو مختلف حالتیں ہیں۔ روشنی کی شعاع صرف اسی وقت سیدھے خط میں جاتی ہے جبکہ فضا میں کوئی مادہ نہ ہو۔ لیکن اگر یہی شعاع کسی مادی جسم کے قریب سے گزرے تو اپنے سیدھے راستے سے مڑ جائے گی۔ آئن سٹائن نے ایک ضابطہ بھی معلوم کیا ہے جس کی مدد سے پتا چلتا ہے کہ کسی مادی شے سے کس قدر توانائی اور کسی توانائی سے کس قدر مادہ حاصل ہوتا ہے۔ اس تبدیلی کو دارالتجربہ میں ثابت کیا جا چکا ہے اور اس کو بیسویں صدی کا اہم ترین سائنسی انکشاف مانا جاتا ہے۔ نظریہ اضافیت اور کوانٹم نظریے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کائنات کی ہر شے میں دوئی پائی جاتی ہے۔ ایک ہی شے کہیں ذرے کے خواص کا اظہار کرتی ہے اور کہیں موج کے خواص کا۔ مادے اور توانائی میں کوئی اساسی اختلاف نہیں ہے۔
اس جدید انکشاف نے مادیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ مادہ پرستوں اور دہریوں کا خدا کی ہستی کے خلاف یہ استدلال تھا کہ ایک غیر مادی خالق، مادی اشیاء کو کس طرح پیدا کر سکتا ہے؟ لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ مادے اور توانائی میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے۔
’’اللہ نور السموات والارض‘‘
یعنی خدا آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔ نظریہ اضافیت کے اس فلسفیانہ پہلو کی قدر و قیمت اقبال خوب جانتے تھے۔ چنانچہ وہ خطبات (ص 52) میں فرماتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح ہمیں معلوم ہو گیا کہ قدیم طبیعیات کی مادیت کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ نظریہ اضافیت نیچر کی واقعیت کو معدوم نہیں کرتا بلکہ مادے کے متعلق اس تصور کا خاتمہ کرتا ہے کہ مادہ نیچر میں خود بخود پھیلا پڑا ہے۔ اسی تصور نے قدیم طبیعیات کو مادیت کے غار میں دھکیلا تھا۔ جدید اضافیتی طبیعیات میں مادہ کوئی پائیدار شے نہیں ہے جس کی خاصیتیں بدلتی جائیں، بلکہ یہ محض ایک باہمی تعلق رکھنے والے واقعات کے نظام کا نام ہے۔‘‘
انہی خطبات میں ایک اور جگہ (ص 47) اقبال لکھتے ہیں:
’’آئن سٹائن نے مادیت پر کاری ضرب لگائی ہے اور اس کے انکشاف نے انسانی خیالات میں ایک وسیع الاثر انقلاب کی بنیادیں رکھی ہیں۔‘‘
غرض اقبال نظریہ اضافیت کے اصول کے بہ حیثیت مجموعی قائل ہیں لیکن اس پر ان کا ایک اعتراض بھی ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں ان کا یہ اعتراض اس نظریے سے متعلق ایک غلط فہمی کی بنا پر تھا جو عام طور پر غیر ریاضی دانوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ دوسرے فلسفیوں کی طرح اقبال نے بھی یہ خیال کیا کہ نظریہ اضافیت نے وقت (زمان) کی حقیقت اور واقعیت کو فنا کر دیا ہے۔ اور وقت کو فضا کی ایک چوتھی سمت بنا کر چھوڑ دیا ہے۔ اس طرح مستقبل ایک مقرر کردہ چیز بن جاتی ہے۔ جو اسی طرح معین ہے جیسے کہ ماضی۔ اس طرح زمان کی تخلیقی حرکت باقی نہیں رہتی اور کائنات میں تقدیر اور جبر کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ نظریہ اضافیت کا یہ تصور جو فلاسفہ اور ان کے ساتھ اقبال نے لیا ہے صحیح نہیں ہے۔ وقت چوتھی سمت ضرور ہے لیکن فضا یعنی مکان کی چوتھی سمت نہیں بلکہ زمان مکان سلسلہ کی چوتھی سمت ہے۔ نظریہ اضافیت میں وقت اتنا ہی حقیقی ہے جتنا کہ فضا، بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی حقیقی ہے۔ فضا میں مطلق طور پر پیچھے یا آگے کی سمتوں کو متعین کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے لیکن وقت میں ماضی اور مستقبل کے تعین کا طریقہ اور ذریعہ موجود ہے۔ حرکیات (THERMODYNAMICS) کے دوسرے اصول یعنی ناکاریگی (ENTROPY) میں اضافے کے اصول سے ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ دو واقعات میں سے کون سا واقعہ پہلے ظہور پذیر ہوا اور کون سا بعد میں۔ نظریہ اضافیت نے وقت کے بہاؤ کی سمت پر کوئی اثر نہیں کیا، بلکہ اس کو جوں کا توں چھوڑ دیا۔ واقعات کی ترتیب مشاہد پر منحصر نہیں بلکہ ہر مشاہد کے لئے ایک ہی ہے۔ اقبال نے اوس پنسکی (OUSPINSKI) وغیرہ کے اس خیال پر بجا اعتراض کیا ہے۔ ممکن ہے کہ مشاہد اور مشہود (جس میں واقعات رونما ہو رہے ہیں) کی رفتاروں کے موزوں انتخاب سے معلول کو علت سے پہلے وقوع پذیر کر دیں۔ لیکن جیسا ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، نظریہ اضافیت کی بنا پر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ حوالہ کے محوروں کے انتخاب کا ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے جس کی رو سے علت و معلول کی باہمی ترتیب بدلی جا سکے۔ اقبال اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ’’عام آدمیوں کے لئے آئن سٹائن کے تصور زمان کو سمجھنا مشکل ہے۔‘‘
