جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کا تصورِ زمان و مکان

فرض کیجئے کہ ایک ہموار چکنا تختہ زمین پر پڑا ہوا ہے اور اس پر ایک کتاب رکھی ہوئی ہے۔ اگر تختے کے ایک کنارے کو پکڑ کر اس کنارے کو اٹھایا جائے تو کتاب پھسل کر مقابل کے کنارے کی طرف حرکت کرے گی۔ اور اس حرکت کی وجہ زمین کی کشش یا تجاذب کو قرار دینا پڑے گا۔ گویا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اگر کوئی چیز بغیر دھکیلے جانے یا رسی سے کھینچے جانے کے حرکت کرے تو اس کی حرکت کا باعث تجاذب کی قوت ہے۔ اب فرض کیجئے کہ آپ ایک بند ریل گاڑی میں سفر کر رہے ہیں جو ایک سیدھی پٹڑی پر یکساں رفتار کے ساتھ چل رہی ہے۔ ڈبے کے تمام دریچے بند ہیں اور باہر کی فضا آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ اگر گاڑی بغیر دھکے کھائے سیدھی چلتی رہے اور رفتار میں کوئی تبدیلی نہ ہو اور نہ پہیوں کی آواز کان میں آئے، تو آپ کو اس گاڑی کی حرکت یا سکون کا کوئی احساس نہیں ہو سکتا، یعنی آپ نہیں کہہ سکتے کہ گاڑی چل رہی ہے یا ساکن ہے۔ اب چلتے چلتے گاڑی کی رفتار یکایک بدلتی ہے، یعنی تیز یا سست ہوتی ہے، اور آپ ایک دم سامنے یا پیچھے کی طرف جھک جاتے ہیں۔ اگر گاڑی کے فرش پر ایک گولا آزاد رکھا ہوا ہو تو وہ بھی حرکت کرنے لگتا ہے۔ آپ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کے جھک جانے یا گولے کے حرکت کرنے کا سبب کیا ہے۔ گاڑی کی رفتار کے بدلنے کا احساس آپ کو نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ بند گاڑی میں ہیں اور کوئی ایسا تجربہ نہیں کر سکتے جس سے گاڑی کے مقام کی تبدیلی معلوم ہو۔ رفتار اور اس کی تبدیلی معلوم کرنے کے لئے مقام کی تبدیلی معلوم کرنا لازمی ہے۔ آپ کا مشاہدہ صرف اس قدر ہے کہ آپ جھک گئے ہیں اور جتنی چیزیں فرش پر آزاد رکھی ہوئی تھیں وہ حرکت کر رہی ہیں۔ یہ اثر اس وقت بھی ہوتا جب کوئی طاقت ور ہستی گاڑی کو ایک طرف اٹھاتی جس کی وجہ سے گاڑی زمین کی سطح کے ساتھ ایک زاویہ بناتی ہوئی مائل ہو جاتی۔ لیکن آپ گاڑی کے اس اٹھائے جانے کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ آپ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ تمام اشیاء مقابل کے کنارے کی طرف حرکت کر رہی ہیں، اس لئے آپ یہ نتیجہ نکالیں گے کہ مقابل کے کنارے کی طرف کشش یا تجاذب کی قوت پیدا ہو گئی ہے، جیسا کہ آپ نے تختے اور کتاب کی مثال میں دیکھا تھا۔ ریل گاڑی سے باہر کھڑا ہوا مشاہد کہے گا کہ کوئی قوت عمل نہیں کر رہی ہے بلکہ صرف گاڑی کی رفتار بدل رہی ہے۔ آپ دونوں میں سے کسی ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ دونوں اپنی اپنی حد تک حق بجانب ہیں۔ جو چیز آپ کی نظروں میں تجاذبی قوت ہے وہ بیرونی مشاہد کے نزدیک رفتار کی تبدیلی ہے۔ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ قوت مشاہد سے آزاد کوئی مطلق شے نہیں ہے۔

قوت کی اضافیت کو ایک اور طرح سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ کوئی موٹر یا ریل گاڑی سیدھے راستے پر چلتے چلتے مڑتی ہے تو مسافر ایک طرف گرنے لگتے ہیں۔ اس طرح گویا ایک قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر یہ گاڑی مسلسل ایک گول راستے میں چلتی رہے تو اس گول راستے کے مرکز کی طرف ایک مستقل قوت پیدا ہو جائے گی جو نہ صرف مسافروں کو محسوس ہوگی بلکہ ہر اس طبیعی تجربے میں بھی ظاہر ہوگی جو گاڑی میں کیا جائے۔ اسی طرح اگر ہم ایک ڈوری سے پتھر باندھ کر گھمائیں تو ہمارے ہاتھ پر ایک دباؤ محسوس ہوگا۔ یہ دباؤ اسی قسم کی ایک قوت ہے جو موٹر یا ریل گاڑی کے مڑتے وقت محسوس ہوتی ہے۔

فرض کیجئے کہ ایک میدان میں شیر کا ایک بند پنجرا رکھا ہے اور اس کے چوطرف تماشائیوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے۔ دفعۃً پنجرا کھل جاتا ہے۔ پھر تماشائی فوراً ہر طرف بھاگنے لگتے ہیں اور جس قدر ہو سکے، پنجرے سے دور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب فرض کیجئے کہ ایک مشاہد دور بیٹھے ہوئے اس واقعے کو دیکھ رہا ہے۔ اسے شیر کا پنجرا یا شیر دکھائی نہیں دیتا۔ وہ صرف یہ دیکھ سکتا ہے کہ بہت سے لوگ ایک میدان میں جمع تھے اور پھر یکایک اس طرح حرکت کرنے لگتے ہیں کہ ایک خاص مقام سے جہاں تک ہو سکے دور ہو جائیں۔ اس لئے مشاہد یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ اس خاص مقام پر ایک قوت پیدا ہو گئی ہے جو تمام لوگوں کو اپنے سے دور ہٹاتی ہے۔

ان مختلف مثالوں پر غور کرنے کے بعد قوت کے اضافی ہونے کا تصور سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اس منزل پر پہنچ کر آئن سٹائن نے بتایا کہ نہ صرف قوت غیر مطلق اور اضافی ہے بلکہ سرے سے قوت کے وجود کا تصور ہی بے کار ہے، اور حقیقت تک ہماری رسائی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ قوت کوئی خارجی شے نہیں ہے جو مکان زمان سے علیحدہ ہے بلکہ اسی مکان زمان کی ایک حالت ہے جو ہم کو قوت کے طور پر محسوس ہوتی ہے۔ جتنے تجربے اور مشاہدے ہیں ان کی توجیہ مکان کی حالتوں کے لحاظ سے کی جا سکتی ہے۔ قوت کا مفہوم داخل کرنے سے محض پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً ایک دریا کا پانی پہاڑ سے نکل کر وادی میں بہتے ہوئے سمندر میں گرتا ہے۔ تو کیا ہم کہتے ہیں کہ دریا کو سمندر سے عشق ہے اور اس عشق کی قوت پانی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ سمندر پر جا گرے؟ ہم یہی کہیں گے کہ یہاں عشق کی قوت کا مفہوم داخل کرنا غیر ضروری ہے۔ دریا اس لئے نہیں بہتا کہ سمندر اس کو کھینچتا ہے بلکہ اس لئے بہتا ہے کہ اس مقام پر زمین کی نوعیت ہی اس طرح کی ہے اور یہ اس کے لئے آسان ترین راستہ ہے۔ اسی طرح کسی جسم کی حرکت کے متعلق یہ کہنا کہ حرکت ایک قوت کی وجہ سے ہوتی ہے، غیر ضروری پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ بلکہ یوں سمجھنا چاہیئے کہ جسم جہاں واقع ہے اس کے ارد گرد مکان زمان کی حالت ہی کچھ ایسی ہے کہ جسم کا آسان ترین راستہ وہی ہے جو نظر آتا ہے۔ کسی پہاڑ کی چوٹی پر جانا ہو تو ہم یہ نہیں کرتے کہ دامن سے پہاڑ کی چوٹی تک ایک سیدھے خط میں چڑھتے چلے جائیں۔ ظاہر ہے کہ اس سیدھے خط میں پہاڑ کا ڈھال بہت زیادہ ہے اس لئے سیدھا چڑھنا محال نہیں تو دشوار ضرور ہے۔ اس واسطے ہم پہاڑ پر ایسے چکر کاٹنا شروع کرتے ہیں کہ مناسب ڈھال سے سابقہ پڑے اور اس راستے پر چلنا آسان ترین ہو۔ کیا اس صورت میں ہم یہ کہیں گے کہ پہاڑ کی چوٹی سے ایک قوت نکلتی ہے جو ہم کو چکر کاٹنے پر مجبور کرتی ہے؟ ہم تو پہاڑ کی سطح پر صرف اپنا آسان ترین راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ پہاڑ سے نکلنے والی قوت کا کوئی ذکر ہی نہیں اور نہ اس کی ضرورت ہے۔ یہی حال دوسری حرکتوں کا ہے۔ زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ اب اس کی کیا ضرورت ہے کہ زمین اور سورج کے درمیان تجاذب کی قوت فرض کی جائے جو زمین کو گھما رہی ہے۔ یہ کیوں نہ کہا جائے کہ سورج کے اطراف مکان زمان ایک خاص حالت میں ہے اور اس مکان زمان میں زمین اپنے آسان ترین راستے پر جاری ہے۔ قوت تجاذب کا کوئی وجود نہیں۔

پس عام اضافیت کے اصولوں پر آئن سٹائن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جس کو ’’قوت‘‘ کہتے ہیں وہ صرف ’’مکان۔ زمان‘‘ کی ایک خاصیت ہے، کوئی علیحدہ چیز نہیں۔ کائنات کی ہر شے اپنے گرد و پیش کے مکان۔ زمان میں آسان ترین راستہ اختیار کرتی ہے۔ تمام جسموں کی حرکتیں وغیرہ اسی اصول کی بنا پر حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ان وجوہات کی بنا پر آئن سٹائن نے یہ بھی بتایا کہ مادے کی موجودگی زمان۔ مکان کی طبیعی خاصیتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تجربے، مشاہدے اور نظریے سب اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ طبیعی فضا (یعنی مکان۔ زمان) اس قسم کی چپٹی نہیں ہے جس کو اقلیدس‌Euclid کی جیومیٹری میں مان لیا گیا ہے۔ بلکہ طبیعی فضا کی جیومیٹری نا اقلیدسی قسم کی ہے جس میں فیثاغورث‌Pythagoras کا مشہور مسئلہ صحیح نہیں رہتا۔ چونکہ اقلیدسی فضا کو، جس کی جیومیٹری ایک مستوی سطح کی جیومیٹری کے مماثل ہے، ’’چپٹی فضا‘‘ کہتے ہیں، اس لئے اس نئی نا اقلیدسی فضا کو، جس کی جیومیٹری ایک گول کرے کی سطح کی جیومیٹری کے مماثل ہے، پیچ و خم والی یا مڑی ہوئی فضا کہتے ہیں۔ فضا کا یہ پیچ و خم اب ایک مسلمہ سائنسی حقیقت ہے۔ اقبال اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے اور اپنے اشعار میں بعض جگہ انہوں نے مڑی ہوئی فضا کے اس مفہوم کو باندھا ہے:

کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا