(ب) اضافیت کے نظریے کا دوسرا اہم نتیجہ یہ ہے کہ متحرک جسموں کا طول حرکت کی سمت میں کم نظر آتا ہے۔ مثلاً فرض کیجئے کہ زید مشرق کی طرف کسی یکساں سیدھی رفتار سے تیز حرکت کر رہا ہے اور بکر ساکن ہے۔ زید کے ہاتھ میں ایک لکڑی ہے جس کا طول ایک گز ہے اور جو شرقاً غرباً واقع ہے۔ بکر تجربہ کر کے معلوم کرتا ہے کہ زید کی لکڑی کا طول ڈھائی فٹ ہے لیکن زید خود ناپتا ہے تو اس کو اپنی لکڑی کا طول پورا ایک گز حاصل ہوتا ہے۔ نظریہ اضافیت میں اس امر کی تشریح کی جاتی ہے کہ زید اور بکر دونوں اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں اور ان کے مشاہدوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ لکڑی کے طول کو اپنے اپنے نظام میں یعنی مکان۔ زمان میں ناپتے ہیں۔ اگر ہم ان کے نتیجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے لورنٹز کے ضابطوں کو استعمال کریں تو دیکھیں گے کہ دونوں کے نتیجے ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ لکڑی کا ’’اصلی‘‘ طول کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہر طول کسی ناپنے والے یا مشاہد کے لحاظ سے ہوگا۔ کوئی طول مطلق نہیں، سب اضافی ہیں۔ یاد رہے کہ زید کی لکڑی کے طول میں کمی صرف بکر کو معلوم ہوگی۔ خود زید کو اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہوگا، کیونکہ اپنی نظر میں وہ ساکن ہے اور اس کی دنیا وہی معمولی دنیا ہے۔ البتہ زید دیکھے گا کہ بکر مغرب کی طرف تیز رفتار سے جا رہا ہے، اور بکر کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں وہ سب حرکت کی سمت میں سکڑی ہوئی ہیں۔ غرض کہ طول میں کمی کا یہ احساس باہمی ہے۔
(ج) مکان کی طرح زمان بھی اضافی ہے اور مختلف مشاہدین کے نزدیک وقت کا بہاؤ مختلف ہوتا ہے۔ اس کی تشریح کے لئے بھی وہی اوپر کی مثال لیجئے جس میں زید اور بکر ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت کر رہے ہیں۔ بکر دیکھتا ہے کہ زید کے ہر کام میں زیادہ دیر لگتی ہے۔ جس کام کو بکر خود پانچ منٹ میں کرتا ہے اس کے کرنے میں زید کو چھ منٹ لگتے ہیں۔ بکر کا سگار 20 منٹ میں ختم ہو جاتا ہے تو زید کا سگار بکر کی نظر میں آدھ گھنٹہ جلتا رہتا ہے۔ غرض بکر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ زید کا وقت سستی سے طے ہو رہا ہے۔ وقت کی یہ سستی کا احساس بھی باہمی ہے کیونکہ زید اور بکر میں سے ہر ایک خود کو ساکن اور دوسرے کو متحرک سمجھتا ہے۔
(د) اسی طرح نظریہ اضافیت کی بنا پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر متحرک شئے کی کمیت میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔ مثلاً فرض کیجئے کہ زید اور بکر ایک ہی مقام پر ساکن ہیں اور دونوں کے ہاتھ میں ایک ایک پونڈ کا گولہ رکھا ہوا ہے۔ پھر کسی طرح ان دونوں میں تیز اضافی حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ بکر سمجھتا ہے کہ زید تیز رفتار کے ساتھ حرکت کر رہا ہے۔ تجربہ کرنے پر بکر کو معلوم ہوتا ہے کہ زید کے گولے کی کمیت ایک پونڈ سے زیادہ ہے۔ اسی طرح زید کے نظام کی تمام چیزوں کی کمیت میں اور خود زید کی کمیت میں بھی بکر کو اضافہ محسوس ہوتا ہے، حالانکہ خود زید کو ان چیزوں کی کمیت میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا، چاہے وہ کوئی تجربہ کیوں نہ کرے۔ البتہ زید کی نظروں میں بکر تیز رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ اور اس لئے بکر کے ہاتھ کے گولے اور بکر کے نظام کی تمام دوسری چیزوں کی کمیت میں اضافہ معلوم ہوتا ہے۔
مختلف مشاہدین کے لئے، جو ایک دوسرے کے لحاظ سے اضافی حرکت کر رہے ہوں، اشیاء کے طول میں کمی، وقت میں سستی اور کمیت میں اضافے کو اقبال نے خطبات (ص 51) میں حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’جس جسم کا مشاہدہ کیا جاتا ہے وہ متغیر ہے اور مشاہدہ کرنے والے شخص کے لحاظ سے اضافی ہے۔ جسامت بدلتی رہتی ہیں۔ حرکت اور سکون بھی مشاہد کے لحاظ سے اضافی ہیں۔‘‘ زمان و مکان کی اس اضافی خاصیت کو اقبال نے ’’جاوید نامہ‘‘ (ص 19-22) میں ’’زروان‘‘ فرشتہ کے تذکرے کے ضمن میں بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ فرشتہ اقبال کو افلاک کی سیر کے لئے لے جاتا ہے۔ اس سیر سے قبل مولانا روم اقبال کو معراج کی حقیقت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
|
از شعور است ایں کہ گوئی نزد و دور |
چیست معراج؟ انقلاب اندر شعور |
|
ترجمہ یہ شعور ہی کی بدولت ہے کہ تو نزدیک اور دور کہتا ہے، معراج کیا ہے؟ شعور کے اندر ایک انقلاب۔ |
|
|
انقلاب اندر شعور از جذب و شوق |
وا رہاند جذب و شوق از تحت و فوق |
|
ترجمہ شعور کے اندر انقلاب، جذب و شوق سے (آتا ہے)، اور جذب و شوق (انسان کو) نیچے اور اوپر (کی قیود) سے آزاد کرتا ہے۔ |
|
|
ایں بدن با جانِ ما انباز نیست |
مشتِ خاکے مانعِ پرواز نیست |
|
ترجمہ یہ بدن ہماری جان کا شریک نہیں ہے، ایک مٹھی بھر خاک پرواز میں رکاوٹ نہیں ہے۔ |
|
پھر رومی، اقبال سے کہتے ہیں، کہ زمان و مکان زندگی کی مختلف حالتوں میں سے ایک حالت کا نام ہے اور اس آسمانی سفر کے لئے انسان کو جسم خاکی سے منزہ ہونا چاہیئے۔ اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان زمان و مکان پر سوار ہو، یعنی زمانی اور مکانی حدود پر غالب آئے:
|
بر مکان و بر زماں اسوار شو |
فارغ از پیچاک ایں زنار شو |
|
ترجمہ تو مکان اور زمان پر سوار ہو جا، اس زنار (زمان و مکان) کی پیچیدگیوں سے آزاد ہو جا۔ |
|
|
چشم بکشا بر زمان و بر مکاں |
ایں دو یک حال است از احوال جاں |
|
ترجمہ زمان اور مکان پر آنکھ کھول، یہ دونوں جان کے احوال میں سے ایک ہی حال ہیں۔ |
|
اس کے بعد زروان یعنی زمان و مکان کا فرشتہ اقبال کے سامنے آتا ہے۔ اقبال نے اس فرشتے کی دو مختلف صورتیں بتلائی ہیں جس سے ان کی مراد یہ ہے کہ زمان و مکان کی اضافی خاصیت کا اظہار کیا جائے:
|
زاں سحاب افرشتۂ آمد فرود |
با دو طلعت ایں چو آتش آں چو دود |
|
ترجمہ اس بادل سے ایک فرشتہ نیچے اترا، دو چہروں کے ساتھ، ایک آگ کی طرح اور دوسرا دھوئیں کی طرح۔ |
|
|
آں چو شب تاریک و ایں روشن شہاب |
چشمِ ایں بیدار و چشمِ آں بخواب |
|
ترجمہ وہ رات کی طرح تاریک اور یہ روشن ستارے کی طرح، اس کی آنکھ بیدار اور اس کی آنکھ سوئی ہوئی۔ |
|
|
بالِ او را رنگہائے سرخ و زرد |
سبز و سیمیں و کبود و لاجورد |
|
ترجمہ اس کے پروں کے رنگ سرخ، زرد، سبز، نقرئی، نیلے اور لاجوردی تھے۔ |
|
|
چوں خیال اندر مزاج او رمے |
از زمیں تا کہکشاں او را دمے |
|
ترجمہ خیال کی طرح اس کی طبیعت میں تیزی ہے، زمین سے کہکشاں تک (کا فاصلہ) اس کے لیے ایک لمحہ ہے۔ |
|
|
ہر زماں او را ہوائے دیگرے |
پر کشادن در فضائے دیگرے |
|
ترجمہ ہر لمحہ اس کی ایک نئی خواہش ہوتی ہے، (یعنی) ایک نئی فضا میں پر کھولنا۔ |
|
(ہ) نیوٹن نے مکان اور زمان کے ساتھ قوت کو بھی مطلق فرض کیا تھا لیکن ہم دیکھ چکے ہیں کہ مکان اور زمان اور کمیت اضافی مفہوم ہیں۔ مختلف مشاہد اپنے نظام میں ان کی مختلف قیمتیں حاصل کرتے ہیں۔ قوت بھی فاصلے اور کمیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لئے اپنے نظریہ اضافیت کو توسیع دے کر آئن سٹائن نے بتلایا کہ فاصلے اور وقت کی طرح قوت بھی اضافی ہوتی ہے۔ قوت کے اضافی ہونے کو سمجھنے کے لئے ذیل میں چند مثالوں پر غور کیجئے۔
