آئن سٹائن کے نظریۂ اضافیت میں زمان اور مکان کا تصور
نٹشے کے بعد ہم آئن سٹائن کے نظریے سے بحث کرتے ہیں جس نے زمان و مکان کے تصور میں سائنسی نقطۂ نظر سے انقلاب پیدا کر دیا ہے اور انیسویں صدی کے جبر و لزوم اور مادیت کے اصولوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اقبال آئن سٹائن کے بڑے مداح اور معترف تھے۔ چنانچہ ’’پیامِ مشرق‘‘ میں ایک پوری نظم پروفیسر موصوف کی شان میں لکھی ہے۔ اس نظم میں اضافیت کے بنیادی اصول کی طرف بھی اشارہ ہے اس لیے اس کے چند شعر یہاں درج کرنا نامناسب نہ ہو گا:
|
جلوۂ می خواست مانند کلیمِ ناصبور |
تا ضمیرِ مستنیر او کشود اسرارِ نور |
|
ترجمہ وہ کلیم (موسیٰ) کی طرح بے صبر ہو کر جلوہ چاہتا تھا، یہاں تک کہ اس کے روشن ضمیر نے نور کے راز کھول دیے۔ |
|
|
بے تغیر در طلسمِ چون و چند و بیش و کم |
برتر از پست و بلند و دیر و زود و نزد و دور |
|
ترجمہ وہ کیسے، کتنا، زیادہ اور کم کے طلسم میں بغیر کسی تبدیلی کے، پست و بلند، دیر و سویر، اور نزدیک و دور سے بالاتر ہے۔ |
|
|
در نہادش نار و نور و سوز و ساز و مرگ و زیست |
اہرمن از سوز او وز ساز او جبریل و حور |
|
ترجمہ اس کی فطرت میں آگ اور نور، سوز اور ساز، موت اور زندگی ہے، اس کے سوز سے اہرمن اور اس کے ساز سے جبریل اور حور (پیدا ہوتے ہیں)۔ |
|
اب ہم آئن سٹائن کے پیش کردہ تصور زمان و مکان کی مختصر تشریح کریں گے۔ آئن سٹائن نے بتایا ہے کہ نظری اور تجربی دونوں قسم کے وجوہات کی بنا پر مطلق مکان اور مطلق زمان کا تصور ناقابل قبول ہے۔ مثلاً پہلے جملے کو لیجیے کہ فلاں فلاں دو واقعات ایک ہی وقت میں رونما ہوئے۔ اگر یہ واقعات ایک ہی جگہ پر ہوں اور ایک ہی نظام میں ہوں؛ یعنی اگر مشاہد ساکن ہوں یا یکساں سیدھی رفتار سے حرکت کر رہے ہوں، تو ’’ہم وقتی‘‘ کا ایک معین تصور لیا جا سکتا ہے اور اس کی واضح اور غیر مبہم تعریف کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ تعریف اس وقت کام نہیں دے سکتی جبکہ نظام مختلف ہوں اور واقعات مختلف مقاموں پر رونما ہوں۔ آئن سٹائن نے مثال دے کر بتایا ہے کہ واقعات کا ہم وقت ہونا ایک اضافی چیز ہے۔ ایک مشاہد زید کے لیے جو واقعات ہم وقت ہوں، ضروری نہیں کہ دوسرے مشاہد بکر کے لیے بھی وہ ہم وقت ہوں، بلکہ یکے بعد دیگرے ہو سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وقت کے بہاؤ کی شرح کا بھی ان دونوں کے لیے یکساں ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر دو واقعات کے درمیان زید کی گھڑی ایک گھنٹے کا وقفہ ظاہر کرے تو یہ ممکن ہے کہ انہی دو واقعات کے درمیان بکر کی گھڑی میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقفہ معلوم ہو۔ اس تمام بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وقت کوئی مطلق چیز نہیں بلکہ اضافی ہے۔ ہر مشاہد کا ایک خاص ذاتی وقت ہوتا ہے اور اگر دو مشاہد بلحاظ ایک دوسرے کے اضافی حرکت کر رہے ہوں تو ان کے وقت بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔
اسی طرح مکان یا فضا بھی مطلق نہیں بلکہ اضافی ہے کیونکہ دو متحرک اشیاء کے درمیانی فاصلے کے کوئی معنی نہیں، جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ کس خاص وقت کے لیے یہ فاصلہ ناپا جا رہا ہے اور کون سا مشاہد اس فاصلے کو ناپ رہا ہے۔ اب چونکہ وقت خود اضافی ہے اس لیے فاصلہ، جو وقت پر منحصر ہے، لازماً اضافی ہو گا۔ تجربوں کے ذریعے بھی سائنس دانوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ متحرک جسموں کا درمیانی فاصلہ دو مختلف مشاہدین کے لیے مختلف ہوتا ہے۔
غرض نظریۂ اضافیت کی رو سے مکان اور زمان مطلق اور ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں، بلکہ اضافی اور ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ کائنات میں دو مختلف چیزیں زمان اور مکان نہیں بلکہ صرف ایک ہی چیز ’’زمان-مکان‘‘ پائی جاتی ہے جس میں مکان اور زمان گھل مل جاتے ہیں اور ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انیسویں صدی تک دنیا کا جو سہ ابعادی تصور رائج تھا اس کی بجائے اب چار ابعاد مان لیے گئے ہیں۔ کیونکہ کائنات محض مقاموں اور نقطوں کا مجموعہ نہیں بلکہ واقعات پر مشتمل ہے۔ کسی واقعے کو معین کرنے کے لیے صرف اس کے جائے وقوع کا بیان کرنا کافی نہیں بلکہ یہ بھی بتانا لازمی ہے کہ واقعہ کس وقت ظہور میں آیا۔ اس طرح واقعے کے تعین کے لئے چار ابعاد یعنی طول، عرض، بلندی اور وقت کے معلوم ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہماری دنیا، جو واقعات کی دنیا ہے، چار ابعادی ہے۔
آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت میں زمان اور مکان مطلق نہیں بلکہ اضافی ہیں۔ اس اضافیت کی بنا پر عمل ریاضی کے ذریعے سے، یعنی محض منطق و استدلال سے، چند اہم نتیجے اخذ کئے جاتے ہیں جن کی صداقت میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔
(الف) اضافیت کے نظریے میں روشنی کی رفتار بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ رفتار تین لاکھ کلو میٹر فی ثانیہ، یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی ثانیہ ہے۔ بظاہر یہ رفتار ہم کو بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ روشنی کی ایک شعاع زمین کے ایک مقام سے کسی دوسرے مقام تک پلک جھپکنے میں پہنچ جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی یہ رفتار ایک محدود رفتار ہے۔ اور تجربہ خانے میں بعض ایسے مادی ذرے حاصل ہوتے ہیں جن کی رفتار روشنی کی رفتار کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ نیوٹن کے نظریے میں جو مساواتیں حاصل ہوتی ہیں ان میں یہ رفتار شامل نہیں ہوتی۔ لیکن آئن سٹائن کی مساواتوں میں یہ ہمیشہ پائی جاتی ہے۔ دنیا کے معمولی مظاہر میں رفتاریں بہت سست ہوتی ہیں۔ چنانچہ تیز سے تیز ہوائی جہاز کی رفتار ایک گھنٹے میں 500 میل یعنی ایک ثانیے میں چند گز سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ رفتار روشنی کی رفتار کے مقابلے میں بہت ہی حقیر ہے۔ ایسے معمولی واقعات کے لئے نیوٹن اور آئن سٹائن کی مساواتوں میں اس قدر خفیف اور ناقابل لحاظ فرق ہے۔ وہ موجودہ آلوں کی مدد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ان واقعات کے لئے نیوٹن کی مساواتیں استعمال کرنا کافی ہے۔ البتہ تیز رفتار والے واقعات کے لئے نیوٹن کا نظریہ قطعی غلط ہے۔ ان واقعات کی توجیہ کے لئے آئن سٹائن کا نظریہ استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس نظریے میں آئن سٹائن نے ثابت کیا ہے کہ کوئی مادی شے روشنی سے زیادہ تیز سفر نہیں کر سکتی اور اس لئے روشنی کی رفتار بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ نتیجہ جو با ضابط ریاضی کی مدد سے حاصل ہوتا ہے، فلسفیانہ نقطۂ نظر سے بھی تشفی بخش ہے کیونکہ بغرض محال اگر کوئی مادی شے روشنی سے زیادہ تیز سفر کر سکتی تو ایک ایسے مشاہدے کے لئے جو اس نظام میں واقع ہو علت و معلول کا تمام سلسلہ درہم برہم ہو جاتا۔ مثلاً فرض کیجئے کہ ایک مشاہد زید روشنی سے زیادہ تیز رفتار کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ جب وہ ایک مکان کے مقابل سے گزرتا ہے تو بکر ایک کھٹکا دبا کر چراغ روشن کرتا ہے۔ زید کو چراغ کی روشنی پہلے نظر آئے گی اور کھٹکا دبانا بعد میں دکھائی دے گا۔ اس لئے زید کی نظر میں کھٹکا دبانے کا نتیجہ روشنی ہونا نہیں بلکہ روشنی ہونے کا نتیجہ کھٹکا دبانا ہوگا۔ زید کے لئے تمام واقعات اسی الٹی ترتیب میں رونما ہوں گے۔ لیکن علت و معلول کی اس برہمی کا انسداد آئن سٹائن نے پہلے ہی کر دیا ہے، کیونکہ نظریہ اضافیت کا یہ بنیادی مسلمہ ہے کہ زید یا کسی مادی جسم کی رفتار روشنی کی رفتار کے مساوی بھی نہیں ہو سکتی۔ اس سے زیادہ تیز ہونا تو بدرجہ اولیٰ ناممکن ہے۔
