زمان و مکان کے متعلق جدید فلاسفہ اور سائنس دانوں کا تصور
قرون وسطیٰ کے مسلم مفکرین کے بعد اب ہم دورِ حاضر کے مغربی مفکرین کے خیالات بیان کریں گے۔ ان میں سب سے پہلا نام ڈیکارت (DSCARTES) کا ہے جو سترہویں صدی میں فرانس کا مشہور فلسفی اور ریاضی دان تھا اور جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ جدید فلسفے اور جدید ریاضی کا بانی ہے۔ اس نے اپنے فلسفیانہ نظام کے ضمن میں فضا کا ایک نیا تصور پیش کیا۔ اس کے فلسفے کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تمام اشیاء ذہن یا مادہ دونوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتی ہیں۔ خود ذہن اور مادے میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ ذہن کی خاصیت خیال ہے جو نہ تو جگہ گھیرتا ہے اور نہ فضا میں کسی خاص ترتیب کا حامل ہے۔ مادے کی خاصیت جگہ گھیرنا اور فضا میں واقع ہونا ہے۔ اس بنا پر ڈیکارت کا خیال تھا کہ تمام فضا میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور موجود ہونی چاہیے ورنہ خالی فضا کسی کام کی نہیں رہے گی۔ اور یہ خالقِ عالم کے کمال کے منافی ہے کہ کسی چیز کو بغیر مقصد کے پیدا کرے۔ علمائے قدیم بھی اس خیال سے متفق تھے۔ چنانچہ ایک پرانی ضرب المثل ہے کہ ’’نیچر خلا سے نفرت کرتی ہے۔‘‘ اس لیے اگرچہ ستاروں کی درمیانی فضا ہم کو خالی نظر آئے لیکن دراصل ایسا نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک قسم کی مسلسل شے بھری ہوئی ہے جس کوایتھر کہتے ہیں اور جو اپنی امتیازی خاصیتیں رکھتی ہے۔ ڈیکارت کے زمانے سے فضا محض خالی چیز ہونے کی بجائے ایک خارجی شے ہو گئی جس کا وجود حقیقی تسلیم کیا گیا۔
ڈیکارت کے بعد نیوٹن نے زمان اور مکان کے متعلق تفصیلی تصور پیش کیا۔ نیوٹن کے تصور کی بنیادیں ایک عالمگیر اثیر پر رکھی گئی تھیں کیونکہ اس کی میکانیات کا دارومدار ایسے مقاموں پر ہے جو مطلق طور پر ساکن اور ثابت ہوں۔ اگر اثیر موجود نہ ہو تو فضا میں ہم کو کوئی ثابت نقطے کہیں حاصل نہیں ہو سکتے۔ زمین اور سیارے سورج کے گرد حرکت کرتے ہیں اور ان کی رفتاریں 3 سے لے کر 30 میل فی ثانیہ تک بدلتی ہیں۔ خود سورج، ستارے اور سحاب بھی ہزاروں میل کی رفتاروں سے متحرک ہیں۔ غرض کہ ساری فضا میں کوئی جسم ایسا نہیں معلوم ہے جو ثابت ہو اس لیے فضا میں کسی نقطے کا معین کرنا ہمارے لیے ناممکن ہے۔
لیکن نیوٹن کے اصول حرکت کے لیے کسی ایسے مقام کا معلوم کرنا ناگزیر تھا جو مطلق طور پر ساکن ہو اور جس کے ذریعے اشیاء کے مقاموں اور رفتاروں کا تعین کیا جا سکے۔ چونکہ زمین یا آسمان میں کوئی ایسا بالکل ساکن جسم معلوم نہیں ہے اس لیے نیوٹن نے اثیر اور مطلق فضا کا تصور پیش کیا۔ چنانچہ وہ خود اس کو یوں بیان کرتا ہے:
’’مطلق فضا (مکان) کسی خارجی شے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی نفسہ اپنی حقیقت کی بنا پر غیر متغیر اور غیر متحرک ہے۔ اضافی مکان مطلق مکان کا ایک حرکت پذیر حصہ ہے۔ ہمارے حواس اس کو دوسری اشیاء کے لحاظ سے اس کے مقام کے ذریعے محسوس کرتے ہیں۔‘‘
زمان یا وقت کی ماہیت کے بارے میں بھی نیوٹن کے ایسے ہی خیالات ہیں:
’’مطلق، حقیقی اور ریاضیاتی وقت کسی خارجی شے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی نفسہ اور بذات خود یکساں طور پر بہتا ہے۔ اضافی، ظاہری اور معمولی وقت حقیقی اور مطلق وقت کا ایک خارجی ناپ ہے جسے ہم روزمرہ کے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں اور جو گھنٹے، دن، مہینے اور سال سے تعبیر ہوتا ہے۔‘‘
آگے چل کر نیوٹن کہتا ہے:
’’تمام حرکتوں کو تیز یا سست کیا جا سکتا ہے لیکن مطلق وقت کے بہاؤ میں کوئی تبدیلی پیدا کرنی قطعی ناممکن ہے۔ تمام اشیاء کے وجود میں ایک ہی امتداد اور ایک ہی استواری ہے، خواہ حرکت آہستہ ہو، تیز ہو یا بالکل نہ ہو۔‘‘
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ نیوٹن کے خیال میں مکان اور زمان دونوں مطلق خارجی وجود رکھتے ہیں اور کسی مشاہد یا متحرک شے پر منحصر نہیں ہیں۔ وقت کے اس تصور پر، جس کو نیوٹن نے پیش کیا ہے، اقبال نے کئی اعتراض کیے ہیں۔ چنانچہ ’’خطبات‘‘ کے صفحہ 102 پر وہ لکھتے ہیں: ’’اگر وقت کوئی ایسی چیز ہے جو خود بخود اور بلا کسی خارجی شے کے حوالے کے مسلسل طور پر بہتا ہے تو ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ کسی شے کے اس بہاؤ میں داخل ہونے سے کوئی تغیر پیدا ہو سکتا ہے اور وہ اس شے سے مختلف ہو سکتی ہے جس نے اس بہاؤ میں حصہ نہ لیا ہو۔ اور اگر ہم وقت کو ایک ندی کے بہاؤ کے طور پر سمجھنے کی کوشش کریں تو پھر ہم اس کی ابتدا، انتہا اور حدود کو نہیں سمجھ سکتے۔ نیز یہ کہ اگر وقت کی ماہیت سوائے اس کے کچھ نہ ہو کہ اس کو الفاظ بہاؤ، حرکت یا گزران سے کامل طور پر معین کیا جا سکے تو اس پہلے وقت کو شمار کرنے کے لیے ہمیں ایک اور وقت کی ضرورت ہو گی اور اس دوسرے وقت کو شمار کرنے کے لیے ایک تیسرے وقت کی اور اس طرح یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔‘‘ ان وجوہ کی بنا پر اقبال کا خیال ہے کہ وقت کے اس نیوٹنی تخیل میں کئی خامیاں ہیں۔ اسی کے ساتھ انہیں اعتراف ہے کہ وقت کو یونانیوں کی طرح ایک غیر حقیقی شے بھی نہیں قرار دے سکتے۔ اور نہ ہی اس سے انکار کر سکتے ہیں کہ اگرچہ ہمارے پاس وقت کے احساس کے لیے کوئی علیحدہ حس نہیں ہے، تاہم وہ ایک قسم کا بہاؤ ہے اور کچھ ایسی خارجی یا سالمی نوعیت رکھتا ہے جس کی کوانٹم نظریے سے تصدیق ہوتی ہے۔
زمان و مکان کا جو تصور نٹشے نے پیش کیا ہے اس پر بھی اقبال نے تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ نٹشے نے دائمی تکرار اور لافنائیت کے متعلق اپنے عقیدے کی بنیاد بقائے توانائی کے اصول پر رکھی تھی جو انیسویں صدی میں رائج ہوا تھا۔ اس عقیدے کی تشریح کے ضمن میں نٹشے نے زمان و مکان کے متعلق بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مکان یا فضا کے متعلق نٹشے کو کانٹ اور دوسرے فلسفیوں سے اتفاق ہے کہ مکان محض داخلی یا موضوعی شکل ہے اور یہ کہنا مہمل ہے کہ پہلے سے کوئی خلا موجود ہے جس میں دنیا واقع ہے۔ لیکن زمان یا وقت کے متعلق نٹشے کا تصور کانٹ اور شوپنہائر کے تصور سے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں زمان داخلی یا موضوعی شے نہیں۔ وہ وقت کو ایک حقیقی اور لامتناہی عمل تصور کرتا ہے جو بار بار لوٹ کر آتا ہے۔ چونکہ توانائی کا نقصان نہیں ہو سکتا بلکہ توانائی کی مقدار مستقل اور محدود ہے اس لیے توانائی کے مرکزوں کی تعداد بھی محدود ہے اور ان کے باہمی عمل اور رد عمل بخوبی محسوب کیے جا سکتے ہیں۔ اس توانائی کا نہ کوئی آغاز ہے نہ انجام۔ نہ کوئی اولین تغیر ہے نہ آخری۔ (جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے، توانائی کے ساتھ مادے کو بھی شامل کرنا چاہیے)۔ اب چونکہ کائنات کی حقیقت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ توانائی مختلف حالتیں اختیار کرتی ہے، یعنی کائنات محض توانائی کے تغیروں کا نام ہے، اس لیے نٹشے کا خیال ہے کہ یہ دنیا ازل سے قائم ہے اور ابد تک رہے گی۔ وقت کے اس طرح لامتناہی ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ توانائی کے مرکزوں کی تمام ممکنہ ترتیبیں اور اجتماع ختم ہو چکے ہیں۔ ہر واقعہ اپنے آپ کو ایک دوسری ترتیب میں بار بار دہراتا ہے۔ جو آج ہو رہا ہے وہ اس سے پہلے بے شمار مرتبہ ہو چکا ہے اور مستقبل میں بھی بے شمار مرتبہ ہو گا۔ کائنات میں واقعات کی ترتیب بھی بالکل معین ہے کیونکہ لامتناہی زمانہ گزرنے کی وجہ سے توانائی کے مرکزوں کا طریقۂ عمل معین ہو چکا ہے۔
اقبال، نٹشے کے اس تصور کو ایک بہت سخت قسم کی میکانیت اور جبریت قرار دیتے ہیں جس کی بنیادیں بجائے کسی معلوم شدنی واقعے کے محض ایک قیاسی مفروضے پر یعنی بقائے توانائی کے مفروضے پر رکھی گئی ہیں۔ ان کے خیال میں واقعات کا لاتعداد مرتبہ اعادہ بقائے دوام کو ناقابلِ برداشت بنا دیتا ہے۔ چنانچہ وہ حق تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں:
|
یا جہانے تازۂ یا امتحانے تازۂ |
می کنی تا چند با ما آنچہ کردی پیش ازیں |
|
ترجمہ یا تو ایک نئی دنیا (عطا کر) یا ایک نیا امتحان (لے)، کب تک ہمارے ساتھ وہی کرتا رہے گا جو اس سے پہلے کیا ہے۔ |
|
اقبال یہ بھی کہتے ہیں کہ نٹشے کا یہ تصور، تقدیر اور قسمت کے قدیم تصور سے بھی زیادہ قنوطی اور یاس انگیز ہے۔ ہم محض اس شے کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں جو بالکل نئی اور انوکھی ہو اور نٹشے کے قول کے مطابق کائنات میں کوئی نئی واردات نہیں ہو سکتی، لہذا یہ تصور انسان کے عمل اور جدوجہد کے رجحان اور رغبت کو معدوم کر دیتا ہے۔
