مکان کے خارجی وجود کو تسلیم کرنے سے جو مشکلیں واقع ہوتی ہیں ان کے اس حل کو، جو اشاعرہ نے پیش کیا ہے، اقبال صحیح نہیں سمجھتے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ بغیر وقت کے تخیل کے حرکت کو تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اور چونکہ وقت نفسیاتی زندگی سے پیدا ہوتا ہے اس لیے بہ نسبت حرکت کے وقت اہم تر ہے۔ اقبال کا خیال ہے کہ نفسیاتی زندگی، وقت اور حرکت میں منطقی تعلق کے لحاظ سے وہی ترتیب ہے جو اس جملے میں درج ہے، یعنی بغیر نفسیاتی زندگی کے وقت ناممکن ہے اور بغیر وقت کے حرکت ناممکن ہے۔ اس لیے اقبال کے نزدیک زمان بھی کوئی مطلق شے نہیں بلکہ نفسیاتی زندگی پر منحصر ہے۔ وہ اشاعرہ اور جدید علمائے طبیعیات کے ساتھ اس خیال میں متفق ہیں کہ زمان و مکان دو علیحدہ، ایک دوسرے سے بے تعلق چیزیں نہیں ہیں، بلکہ صرف ایک ہی چیز ’’نقطہ آن‘‘ موجود ہے جسے سائنس دان ’’سلسلہ زمان-مکان‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ لیکن جہاں تک نقطوں اور آنوں کے باہمی رشتوں کا تعلق ہے، اقبال کو اشاعرہ کی رائے سے اختلاف ہے۔ اقبال کے نزدیک نقطہ اور آن دونوں میں سے آن زیادہ اساسی ہے۔ اگرچہ نقطے کو آن سے جدا نہیں کیا جا سکتا بلکہ آن کے ظہور کے لیے نقطہ لازمی ہے۔ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ نقطہ اور آن کا یہ تصور جدید نظریۂ اضافیت کی رو سے بھی ٹھیک ہے۔
اشاعرہ نے زمان کا جو جوہری یا کوانٹم تخیل پیش کیا ہے اس پر بھی اقبال کو اعتراض ہے۔ وقت کو انفرادی آنوں کا سلسلہ ماننے سے یہ غلط نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ وقت کی دو آنوں کے درمیان کچھ نہ کچھ خلا یا خالی وقت ہے۔ اس کے متعلق اقبال کے اعتراضات کو ہم آگے چل کر نیوٹن کے ضمن میں بیان کریں گے۔ نیوٹن کے متعلق ہم دیکھیں گے کہ وہ بھی اشاعرہ کے سالمی تخیل کا حامی تھا۔
مسلم مفکر ابن حزم نے اشاعرہ کے اس سالمی تصور کی تردید کی کیونکہ اس کی رائے میں وقت کے اس تصور کو مان کر ہم زینو کے مذکورہ بالا معمے کو حل نہیں کر سکتے کہ دنیا میں حرکت ناممکن ہے۔ ابن حزم کے نزدیک زمان اور مکان مسلسل ہیں۔ یہ تصور عہدِ جدید کے ریاضی دانوں کانٹور (CANTOR)، ویرشٹراس (WEIERSTRASS) وغیرہ کے نظریے کے عین مطابق ہے۔ عددوں اور نقطوں کے اس جدید ریاضیاتی نظریے میں بتایا جاتا ہے کہ کسی دو نقطوں الف اور ب کے درمیان ’’خواہ یہ کتنے ہی قریب لے جائیں‘‘ ہم بے شمار نقطے معلوم کر سکتے ہیں۔ نقطوں کی جماعت کی اس خاصیت کو حسب ذیل طریقے سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی نقطہ کسی نقطہ الف کے متصل ہے۔ کیونکہ درحقیقت نقطہ ب نقطہ الف کے متصل نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا نقطہ ج یا د وغیرہ نقطہ الف کے متصل ہے۔ غرض ہم کسی مقام کے متصل مقام کا تعین نہیں کر سکتے۔ (متصل سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسرا مقام نہ ہو) اور نہ کسی آن کے متصل آن کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی جسم حرکت کر رہا ہے تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ مختلف آنوں میں ہم اسے مختلف مقامات پر دیکھتے ہیں۔ کسی آن ت 1 میں وہ کسی مقام م 1 پر ہوتا ہے اور دوسری آن ت 2 میں وہ کسی دوسرے مقام م 2 پر ہوتا ہے۔ اس طرح وقت کی کسی دی ہوئی آن کے متناظر جسم کا ایک مقام ہوتا ہے اور جسم کے کسی دیے ہوئے مقام کے متناظر وقت کی ایک آن۔ آنوں کے تواتر اور مقاموں کے تواتر کا یہ باہمی تناظر ہی حرکت کہلاتا ہے۔ اس جدید نظریے کے تحت ہم زمان و مکان اور حرکت کے حقیقی ہونے کی تصدیق اور توجیہ کر سکتے ہیں اور اس طرح زینو کے معمے کو حل کر سکتے ہیں۔
اقبال کا خیال ہے کہ یہ جدید ریاضیاتی نظریہ بھی ان مشکلوں کو رفع نہیں کر سکتا جو زمان و مکان کو لامحدود تقسیم پذیر ماننے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مقاموں اور آنوں کے باہمی تناظر کا یہ ریاضیاتی تخیل حرکت کی صرف خارجی تصویر کو واضح کر سکتا ہے، لیکن حرکت کے عمل پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا۔ حرکت کے عمل کو (یعنی اس حرکت کو جو جسم پر گزرتی ہے، نہ کہ اس حرکت کو جس کا ہم تصور کرتے ہیں) کسی طرح تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی تیر جو فضا میں راستہ بناتا ہے اسے یقیناً نقطوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، لیکن تیر کی یہ اڑان علاوہ اس کے کہ فضا میں اس کا راستہ کھینچا جا سکتا ہے، بذاتِ خود ایک عمل اور اکائی ہے جسے حصوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح تحلیل کرنے سے حرکت فنا ہو جاتی ہے۔‘‘
اقبال نے بتایا ہے کہ کس طرح مسلم مفکرین نے یونانیوں کے سکونی تصور کائنات کے خلاف بغاوت کی ہے۔ اسلامی تخیل یونانیوں کے اس تخیل کے بالکل مخالف تھا۔ اسلام نے انسانوں کو موجودہ حقیقت کی طرف متوجہ کیا اور بتلایا کہ دنیا جیسی کچھ بھی ہے اسی سے سابقہ رکھو اور یہ فکر چھوڑ دو کہ دنیا کو ایسا ہونا یا ویسا ہونا چاہیے تھا۔ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہماری کائنات ایک ارتقا پذیر متحرک کائنات ہے اور چونکہ حرکت اس کا اساسی جزو ہے اس لیے کائنات کے ہر نظام میں اس کو محفوظ رکھنا چاہیے:
|
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات |
تڑپتا ہے ہر ذرۂ کائنات |
ملا جلال الدین دوانی اور صوفی شاعر عراقی نے وقت کا ایک اضافی تصور لیا ہے۔ مختلف ہستیوں کے لیے، جو خالص مادیت سے لے کر خالص روحانیت تک مختلف مدارج رکھتی ہیں، زمان کی نوعیت مختلف ہے۔ مادی اشیاء کے لیے وقت آسمانوں کی گردش سے پیدا ہوتا ہے اور اس کو ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت کی نوعیت اس قسم کی ہے کہ جب تک ایک دن ختم نہیں ہو جاتا دوسرا دن شروع نہیں ہوتا۔ غیر مادی ہستیوں کے لیے بھی یہی ترتیب اور تسلسل موجود ہے لیکن وقت کا بہاؤ ایسا ہے کہ جو مدت مادی ہستی کے لیے ایک سال کی ہے وہ غیر مادی ہستی کے لیے ایک دن سے زیادہ نہیں۔ غیر مادی ہستیوں کے نچلے طبقوں کو درجہ بدرجہ طے کر کے آخر میں ہم ربانی یا الٰہی وقت پر پہنچتے ہیں جو گزرنے یا بہاؤ کی خاصیت سے بالکل مبرا ہے، اور اس لیے اس میں نہ تقسیم ہے، نہ ترتیب اور نہ تغیر۔ یہ دوام سے بھی بالاتر ہے اور اس کا نہ آغاز ہے نہ انجام۔ یہی وہ وقت ہے جس کو قرآن کریم نے ’’ام الکتاب‘‘ کا لقب دیا ہے اور جس میں ساری تاریخِ عالم علت و معلول کے سلسلے سے آزاد ہو کر ایک مافوق الدوام ’’اب‘‘ میں سما جاتی ہے۔
عراقی نے اسی قسم کی طبقہ بندی مکان یا فضا کے لیے بھی کی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ فضا کے تین طبقے ہیں:
1۔ پہلا طبقہ مادی اشیاء کی فضا کا ہے جس کے پھر تین درجے ہیں۔ پہلے درجے میں وزن دار اشیاء کی فضا ہے۔ دوسرے درجے میں ہوا اور اسی نوعیت کی ہلکی چیزوں کی فضا ہے اور تیسرے درجے میں نور یا روشنی کی فضا ہے۔ یہ تینوں فضائیں ایک دوسرے کے اس قدر قریب واقع ہیں کہ ان میں سوائے ذہنی تحلیل اور روحانی واردات کے اور کسی ذریعے سے امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔ اس پہلے طبقے کی فضا میں ہم دو نقطوں کے درمیان ایک فاصلے کی تعریف کر سکتے ہیں۔
2۔ دوسرا طبقہ غیر مادی ہستیوں یعنی ملائکہ وغیرہ کی فضا کا ہے۔ اس فضا میں بھی فاصلے کا ایک مفہوم موجود ہے۔ کیونکہ اگرچہ غیر مادی ہستیاں پتھر کی دیواروں میں سے گزر سکتی ہیں، تاہم وہ حرکت سے بالکل بے نیاز نہیں ہیں، اور حرکت کے ساتھ فاصلے کا مفہوم لازماً پایا جاتا ہے۔ فضا سے آزادی اور بے نیازی کا بلند ترین درجہ انسانی روح کو عطا ہوا ہے۔
3۔ تیسرا طبقہ ربانی یا الٰہی فضا کا ہے جس تک ہم فضا کے تمام لامحدود اقسام سے گزر کر پہنچتے ہیں۔ یہ فضا ابعاد اور فاصلوں کی تمام قیدوں اور بندشوں سے آزاد ہے اور اسی پر تمام لامتناہیاں آ کر مرتکز ہو جاتی ہیں۔ اس طرح عراقی نے مکان کے جدید تصور تک یعنی اس تصور تک پہنچنے کی ناتمام کوشش کی ہے کہ فضا ایک لامحدود سلسلہ ہے اور حرکیاتی خواص رکھتی ہے۔
