جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کا تصورِ زمان و مکان

لیکن مکان کے بارے میں ہمارا تصور اس سے مختلف ہے فضا میں اشیاء کے مقامات کا تعین ہم آنکھ کے ذریعے سے کرتے ہیں اور ہماری آنکھ کی ساخت کچھ اس قسم کی ہے کہ جو شعاعیں ایک ہی سمت سے آتی ہیں وہ ایک ہی نقطہ پر جمع ہوتی ہیں۔ اس طرح اشیاء کے متعلق ہماری پہلی ترتیب سمت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ مگر ہم کو احساس ہے کہ محض سمت کے ذریعے سے ہم اشیاء کا مقام معین نہیں کر سکتے، کیونکہ اگر ہم اپنی جگہ سے ذرا ہٹ جائیں تو ان کی سمت بدل جاتی ہے اور دو اشیاء جو پہلے ایک ہی سمت میں دکھائی دیتی تھیں اب مختلف سمتوں میں نظر آنے لگتی ہیں۔ اب جس طرح کہ دو واقعات کا جو یکے بعد دیگرے واقع ہوتے ہیں بالکل ایک دوسرے سے لگا ہوا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ دونوں کے درمیان خالی وقت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دو اشیاء جو ہماری آنکھ کو یکے بعد دیگرے نظر آتی ہیں بالکل ایک دوسرے سے متصل نہیں ہوتیں، بلکہ ان دونوں کے درمیان ’’خالی فاصلہ‘‘ ہوتا ہے۔ ایک گھڑی کی ٹک ٹک کو اگر ہم شمار کریں تو اس سے دو واقعات کا درمیانی وقت معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم ایک ناپنے کی پٹری کو بتدریج ایک شے سے دوسری شے تک رکھتے چلے آئیں تو اس سے دو اشیاء کا درمیانی ’’فاصلہ‘‘ حاصل ہو سکتا ہے۔ فاصلہ ناپنے کا یہ طریقہ ہماری قوتِ باصرہ پر یا روشنی کی خاصیتوں پر منحصر نہیں ہے ایسی مخلوق جس میں سوائے قوتِ لامسہ کے باقی تمام قوتیں مفقود ہوں ایک پٹری کے ذریعے سے فضا میں اشیاء کی ترتیب معین کر سکتی ہے اگرچہ ممکن ہے کہ یہ ترتیب اس ترتیب سے مختلف ہو جو کسی دوسری مخلوق نے صرف اپنی بصارت کی مدد سے معین کی ہو۔

غرض واضح ہے کہ فضا میں اشیاء کا تعین کوئی غیر متغیر مطلق یا خارجی شے نہیں ہے بلکہ وہ مصنوعی اور شخصی ہے۔ اس کے برخلاف ہم دیکھ آئے ہیں کہ دو واقعات کے درمیان وقت کی ترتیب ایک خارجی چیز ہے جو ہمارے ذاتی اثرات سے قطعاً بے نیاز ہے۔

زمان و مکان کے متعلق اہل یونان کا تصور

حکیم افلاطون نے اپنی کتاب (Timaeus) میں مکان کے متعلق ان خیالات کا اظہار کیا ہے3:-

’’مکان وہ ہے جس میں تمام اجسام واقع ہیں وہ ہمیشہ غیر متغیر ہے۔ کیونکہ وہ کبھی اپنی صفت نہیں بدلتا۔ اگر یہ کسی ایسی شے کی طرح ہو جو اس میں واقع ہے تو جب دو متضاد یا بالکل مختلف خاصیتوں والی اشیاء اس میں آئیں تو ان کی خاصیت بدل جائے گی۔ کیونکہ مکان کی خاصیت بھی ان میں ظاہر ہوگی۔ اس لیے جس چیز میں تمام دوسری اشیاء جگہ پائیں اس کو ہر قسم کی شکل و صورت سے پاک ہونا چاہیئے اس کی مثال یوں ہے جیسے خوشبودار عطر بناتے وقت ان مائعات میں جن سے مختلف عطر بنائے جاتے ہیں پہلے سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں یا جیسے کہ لائم مٹی سے مجسمے بنائے جاتے ہیں تو پہلے سے مٹی میں کسی قسم کی شکل کا انبار نہیں ہوتا بلکہ مٹی پہلے بالکل بے شکل ہوتی ہے۔ فضا کبھی معدوم نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ ہر پیدا شدہ شے کے لیے جگہ مہیا کرتی ہے۔ غرضیکہ تمام وہ اشیاء جن کا وجود ہے کسی نہ کسی جگہ ہونی چاہئیں۔ اور انہیں کچھ نہ کچھ فضا گھیرنی چاہیئے۔ جو نہ زمین پر ہے نہ آسمان پر وہ ’’لا شے‘‘ ہے۔‘‘

اس تصور کے مطابق نیچر کو ٹھوس اشیاء کا ایک مجموعہ سمجھا گیا جس کے درمیان ایک خلا ہے۔ جس کی کوئی شکل و صورت یا خاصیت نہیں۔ یونانیوں کے خیال میں مکان کوئی خارجی مطلق شے نہیں بلکہ اس کا مقصد محض یہ تھا کہ وہ مختلف مادی اشیاء کی ترتیب کیلئے ایک واسطہ کا کام دے۔

ایک دوسرے یونانی فلسفی زینو (Zeno) کا خیال تھا کہ فضا ایک لامتناہی درجہ تک قابلِ تقسیم شے ہے۔ یعنی فضا کے کسی حصے کو جس قدر چاہیں چھوٹے اجزاء میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ فضا میں حرکت محض ایک فریب نظر ہے، کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کسی محدود وقت میں لامحدود نقطے طے کیے جا سکیں۔ حرکت کو اس طرح غیر حقیقی تصور کرنے سے فضا کے خارجی مستقل بالذات وجود کی نفی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ زینو‌Zeno یہ سوال کرتا ہے کہ:

’’اگر آپ کسی آن میں کسی مقام پر ہوں تو اس کے بعد کی متصل آن میں متصلہ مقام پر کیوں کر پہنچ سکتے ہیں، جب کہ آپ کسی درمیانی آن میں کسی مقام پر بھی نہ ہوں؟‘‘

یہ خیال صریحاً اس بنا پر پیدا ہوا ہے کہ زینو کے نزدیک زمان لامحدود آنوں سے اور مکان لامحدود نقطوں سے مل کر بنا ہے۔ اگر اس لامحدود تقسیم پذیری کو مان لیا جائے تو پھر چونکہ ایک متحرک جسم دو متصلہ نقطوں کے درمیان خارج العمل ہو گا اس لیے حرکت ناممکن ہو گی کیونکہ ان کے درمیان اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔

یونانی فلسفی اور مفکر اس امر پر زور دیتے تھے کہ کائنات سکونی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس میں یونانیوں کا کارنامہ نقطوں کی جیومیٹری اور سکونیات کے علم سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ مقام کے بدلنے اور حرکت کی وجہ سے نقطوں، خطوں اور شکلوں میں کوئی فرق نہیں پیدا ہوتا۔ جب روزمرہ زندگی میں کسی یونانی فلسفی کو حرکت سے سابقہ پڑتا تھا تو وہ اس کو قدرت کی ایک غلطی سمجھتا تھا، جو اس کی خوش نما ذہنی اور تصوری دنیا کے برخلاف حرکت کو وجود میں لایا۔ اس بنا پر یونانیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ جہاں تک ہو سکے حرکت کے تصور کو نظر انداز کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ علم حرکت کی تشکیل نہیں کر سکے۔ ان کے فنون لطیفہ، مصوری اور بت تراشی میں بھی کسی ساکن اور خوابیدہ مجسمے کی کیفیتوں کا اظہار کمالِ ہنر سمجھا جاتا تھا۔ جس طرح ان کے اصنام بجائے عمل کے صرف سکون کو تعبیر کرتے تھے اسی طرح ان کی جیومیٹری میں بھی بجائے واقعات کے صرف نقطوں سے بحث ہوتی تھی۔

زمان و مکان کے متعلق علمائے اسلام کے خیالات

اقبال نے ’’خطبات‘‘ میں مسلم علماء کے مختلف مکاتب خیال مثلاً اشاعرہ، معتزلہ وغیرہ سے تفصیلی بحث کی ہے اور خاص کر الاشعری، ابن حزم، طوسی اور عراقی کے افکار پر تنقید اور تبصرہ کیا ہے:

’’اشاعرہ نے زمان و مکان کی لامحدود تقسیم پذیری کے تصور کو رد کر دیا۔ ان کے خیال میں زمان، مکان اور حرکت ایسے نقطوں اور آنوں پر مشتمل ہوتے ہیں جن کی مزید تقسیم نہیں ہو سکتی۔ گویا زمان و مکان کے متعلق اشاعرہ کا تصور ایک طرح کا کوانٹم تصور ہے۔ اس تصور کی مدد سے انہوں نے زینو کے اس خیال کی تردید کی ہے کہ حرکت ناممکن ہے۔ جب زمان و مکان کو صرف ایک حد تک قابل تقسیم مان لیا جائے تو پھر صریحاً یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ ایک محدود وقت میں مکان میں نقل مقام اور حرکت کی جا سکے۔ اشاعرہ کے نزدیک کسی جسم کی حرکت کا تصور حسب ذیل تھا، ان کا خیال تھا کہ فضا جواہر فردہ پر مشتمل ہوتی ہے اور اس لیے حرکت درحقیقت جواہر کا نقل مقام ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ کوئی جسم دورانِ حرکت میں فضا کے تمام نقطوں پر سے ہو کر گزرتا ہے کیونکہ اس طرح خلا کے آزاد اور خارجی وجود کو تسلیم کرنا پڑتا اور انہیں اس سے انکار تھا۔ اس لیے انہوں نے ’’چھلانگ‘‘ کا تخیل پیش کیا کہ سالمے دورانِ حرکت میں تمام درمیانی نقطوں پر سے گزرنے کی بجائے صرف چند نقطوں پر سے گزرتے ہیں اور بقیہ فضا چھلانگ جاتے ہیں۔ مولوی عبدالباری ندوی صاحب کے قول کے مطابق ’’طفرہ‘‘ (چھلانگ) کا نظریہ اشاعرہ کا نہیں بلکہ نظام معتزلی کا ہے۔ جوہر کی چھلانگ کا یہ تخیل پلانک (PLANCK) اور بوہر (BOHR) کے موجودہ کوانٹم تخیل سے ملتا جلتا ہے۔ جدید کوانٹم نظریے میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ کسی متحرک نظام کی حالتوں میں تغیر مسلسل نہیں بلکہ غیر مسلسل ہوتا ہے۔ ایک ذرہ الیکٹرون اپنے مرکزے کے گرد صرف چند خاص مداروں میں حرکت کرتا ہے۔ اسے اس امر سے کوئی تعلق نہیں کہ ان مداروں کے درمیان اور بھی مدار ہو سکتے ہیں۔‘‘