جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کے چند جواہر ریزے (حصہ دوم)

(12) 1926ء کے شروع میں ایک شام کو میں ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں بحیثیت مدیر کریسنٹ‌Crescent (رسالہ اسلامیہ کالج لاہور) حاضر ہوا، اور ملتجی ہوا کہ نئے سال کا پہلا نمبر نکالنا ہے، براہ کرم کوئی پیغام یا ارشاد طلبہ کے لیے دیجئے، تا کہ پہلے ورق پر اسے چھاپا جائے، فرمانے لگے، مضمون لکھنے کا تو وقت نہیں البتہ یہ شعر چھاپ دو،

پشیمان شو اگر لعلے ز میراثِ پدر خواہی

کجا عیش برون آوردن لعلے کہ در سنگ است

ترجمہ اگر تو باپ کی میراث میں سے لعل( دولت یا مقام) پانا چاہتا ہے تو تجھے شرمندہ ہونا چاہیے. کیونکہ اپنی محنت سے پتھر کا سینہ چیر کر لعل باہر نکالنے میں جو مزہ ہے وہ بنی بنائی میراث میں کہاں. 

میں نے اسے چھاپ دیا، اس سے بہتر پیغام مسلمان طلبہ کے لیے تو شاید نا ممکن تھا،

(13) 1927ء یا 1928ء میں جب مسٹر منوہر لال وزیر تعلیم پنجاب تھے، تو مسلمانوں میں اپنی حق تلفی کا بہت چرچا تھا، ڈائریکٹر صاحب محکمہ تعلیمات پنجاب ان دنوں سر جارج انڈرسن‌George Anderson تھے، مسلمان ممبران کونسل کا ایک مختصر سا وفد اس معاملہ پر بحث کرنے کے لیے ڈائریکٹر صاحب کے پاس گیا، ڈاکٹر صاحب چونکہ ان دنوں کونسل کے ممبر تھے، اور تعلیمی حالات سے واقف، وہ بھی وفد میں شامل تھے، رسمی باتیں جو ایسے موقعوں پر ہوتی ہیں ہوئیں، ڈائریکٹر صاحب بہادر نے وعدہ فرمایا کہ میں ضرور اس معاملہ پر غور کروں گا، اور جہاں جہاں حق تلفی یا بے قاعدگی ہوئی ہے، اس کی تلافی کی پوری کوشش کروں گا، ڈاکٹر صاحب نے فورًا ظرافتِ سقراط سے کام لیا، اور سر جارج سے فرمانے لگے، اجی صاحب آپ اتنی کاوش مت کیجیے گا، ہم لوگ تو مسلمان ہیں، آپ کے اس وعدہ ہی سے خوش ہو گئے ہیں، اب کچھ کرنے کرانے کی ضرورت نہیں،

(14) 1922ء میں جب ڈاکٹر صاحب کو نائٹ ہد (knight hood) کا خطاب ملا، تو اسلامیہ کالج کے کریسنٹ ہوسٹل کے طلبہ نے آپ کو چائے پر مدعو کیا، ڈاکٹر صاحب نے کمال مہربانی سے (جو ان کا عمر بھر شیوہ رہی) یہ دعوت قبول فرمائی، چنانچہ وقت مقررہ پر آپ تشریف لائے، آپ کے دوست نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب بھی ساتھ تھے، چائے کے بعد طلبہ نے درخواست کی، کہ ان کی ہدایت کے لیے چند کلمات فرمائے جائیں، ڈاکٹر صاحب نے ایک مختصر سی تقریر کی جس کا ماحصل یہ تھا کہ قوموں کے اخلاق کو خراب کرنے والی چیزوں میں سے ایک نہایت خطرناک بلکہ مہلک چیز وہ نظریہ ہے، جسے ’’فن برائے فن‘‘ (art for art's sake) کہتے ہیں، اس نظریہ سے مراد یہ ہے کہ جمالیات کا ہر شعبہ یا فن صرف اپنے اصولوں کو ہی اپنا معیار صحت اور نصب العین مقرر کرے، اپنے ان اصولوں سے باہر کوئی اصول (مثلاً اخلاقیات یا روحانیات کا کوئی اصول) اس فن کی راہبری کا حقدار نہ ہو، وہ فن خود اپنا راہبر ہو، اس کی ترویج یا ترتیب یا اس کا ارتقاء کسی فوق الفن اصول کے ما تحت نہ ہو، وغیرہ، مختصر یہ کہ حسن خود اپنا معیار ہے، اور اپنے سے بالا تر کسی معیار یا مدعا یا نصب العین کو ماننے کے لیے تیار نہیں، یہ نظریہ آج کل مغربی دنیا میں بہت مقبول ہے، اور اس کی مقبولیت کی رفتار اگر اسی طرح تیز رہی تو مجھے یقین ہے کہ وہ ان اقوام کو گرا کر رہے گا، میں نے اپنے کلام میں اس مہلک نظریہ کے خلاف جہاد کیا ہے، اور میں تم نوجوانوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ اس خطرناک غلطی میں نہ پڑنا، فن جب اخلاقیات اور حیاتیات سے علیحدہ ہوتا ہے، تو وہ بہت جلد مخرب اخلاق بن جاتا ہے، اعلیٰ مقاصد کی تکمیل یا پیروی کے لیے جمالیات کے کسی فن کو لو گے تو وہ اپنے بہترین مدارج طے کرے گا، اور قوم و ملت میں ایک نئی روح پھونک دے گا، لیکن وہی فن جب ان مقاصد سے بچھڑ جائے گا، تو قوم و ملت کے حق میں زہر قاتل بنے گا‘‘۔

میں نے اوپر ڈاکٹر صاحب کی مختصر تقریر کا ماحصل (جو شاید دس بارہ منٹ سے زیادہ نہ تھی) اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، بالخصوص اس نظریہ ’’فن برائے فن‘‘ کی تعریف کو واضح کر کے بیان کرنا میں نے مناسب سمجھا ہے، یہ تقریر سنے مجھے کئی سال گذر چکے ہیں، لیکن بعد کے واقعات نے ان خیالات کو میرے ذہن سے محو ہونے نہیں دیا، ہر طرف ’’فن برائے فن‘‘ کی تباہ کاریاں ایک وبا کی صورت اختیار کر رہی ہیں، جرمنی اور اٹلی میں تو ہٹلر‌Hitler اور مسولینی‌Mussolini کی کوششوں نے اس نظریہ کی اچھی خاصی بیخ کنی کی ہے، لیکن دوسرے مشہور مغربی ممالک میں اس کے خلاف کوئی منظم جہاد نہیں کیا گیا، ہندوستان میں کچھ عرصہ سے یہ نظریہ نام نہاد تعلیم یافتہ طبقہ میں رائج ہو رہا ہے، آزاد خیال فینین (artists) اس کے مبلغ ہیں اور عریانیت ان کے فن کے اسرار کی کلید، ڈاکٹر صاحب نے اس نظریہ کے مہلک نتائج کو جگہ جگہ اپنی تصانیف میں مثلاً محکوم اور زوال پذیر اقوام کے جمالیات کے تذکرہ میں بیان کیا ہے، اس نظریہ کے برعکس انھوں نے اپنی تعلیم اس شعر میں نہایت بلیغ طریقہ سے بیان کی ہے،

دلبری بے قاہری جادوگری است

دلبری با قاہری پیغمبری است

ترجمہ قاہری (طاقت و غلبہ) کے بغیر دلبری (دل موہ لینا) جادوگری ہے، اور قاہری کے ساتھ دلبری پیغمبری ہے۔

(15) 1927ء میں میں نے اسلامیہ کالج کو چھوڑا، ممبرانِ سٹاف نے کمال مہربانی سے چائے کی ضیافت دی، ڈاکٹر صاحب سے چونکہ مجھے عقیدت تھی، اس لیے انھیں بھی مدعو کیا گیا (یعنی اساتذہ کے علاوہ صرف وہی مہمان تھے) وہ از راہ ذرہ نوازی شامل ہوئے، باتیں ہوتی رہیں، دورانِ گفتگو میں منتظم صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی شرکت کا شکریہ ادا کیا فرمانے لگے پروفیسر میرا دوست ہے، اس کے ملازمتی جنازہ کے لیے مجھے ضرور وقت نکالنا تھا، (The professor is my friend. I had to find time for his official funeral.) اس پر قہقہہ پڑا، فرمانے لگے، کہ میں نے ان الوداعی پارٹیوں کے لیے ’’ملازمتی جنازے‘‘ کی اصطلاح وضع کی ہے،

اس پارٹی میں ڈاکٹر صاحب، مسٹر یوسف علی (جو پرنسپل تھے) کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہے تھے، باتوں باتوں میں پردہ کا معاملہ زیر بحث آیا، یوسف علی صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا، کیوں صاحب، آپ کو تو پردہ کی مخالفت ضرور کرنی چاہیے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں تو پردہ کا بہت حامی ہوں، یوسف علی صاحب نے وجہ دریافت کی، تو فرمایا کہ پردہ سے جنسیت کی خواہش تیز تر ہوتی ہے، بے پردگی اور عریانی سے وہ راز کھل جاتا ہے، جو جنسیت کی جان ہے، اس مختصر سے جواب میں انھوں نے انسانی نفسیات کے ایک اہم اصول کو لطیف پیرایہ میں بیان کر دیا،

(16) ڈاکٹر صاحب کو پورا یقین تھا کہ ان کا کلام اور ان کا کام باقی رہے گا، عرصہ ہوا، میں نے ایک روز عرض کی کہ یورپی زبانوں میں آپ کا کلام اگر ترجمہ کی صورت میں شائع ہو جائے تو نہ صرف خود یورپ کے حق میں مفید ہو گا بلکہ صحیح اسلامی نقطہ نگاہ اور تعلیم کے متعلق بھی اہل یورپ میں جو غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ بہت حد تک دور ہو جائیں گی، آپ ترجمہ کی اجازت ضرور دیں، فرمانے لگے، کہ میرا کلام باقی رہے گا، (my work shall live) تراجم آہستہ آہستہ ہو ہی جائیں گے،