جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کے چند جواہر ریزے (حصہ دوم)

(27) 1937ء میں سید سر راس مسعود مرحوم کی وفات کی خبر اخباروں میں نکلی، اس کے چند روز بعد مجھے ڈاکٹر صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا، مجھے معلوم تھا کہ مرحوم ان کو بہت عزیز تھے، چنانچہ جب میں نے ان کی خدمت میں اظہار افسوس کیا تو انھوں نے مرحوم کی بہت تعریف کی، میں نے پوچھا کہ مرحوم میں خاص خوبیاں کیا تھیں، فرمانے لگے کہ ’’دو باتیں ان میں نمایاں تھیں، ایک یہ کہ وہ بے حد فیاض تھے، ہر کسی کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، کسی کی تنگدستی کو برداشت نہ کر سکتے تھے، اسی لیے ان کی تنخواہ (اگر چہ معقول تھی) ان کے لیے کافی نہ تھی، کوئی سائل ان کے گھر سے خالی نہ جاتا تھا، میں تمھیں ایک مثال دیتا ہوں، ان کی بیماری سے کچھ عرصہ پہلے میں نے انھیں لکھا، کہ میں نے اپنی وصیت میں چار اشخاص کو اپنے بچوں کا سربراہ مقرر کیا تھا، ان میں سے ایک صاحب فوت ہو گئے ہیں، مجھے بہت خوشی ہو گی، اگر آپ سربراہ بننا منظور فرمائیں، انھوں نے جواب میں لکھا کہ میں لاہور سے بہت دور ہوں، اس لیے بحیثیت سربراہ میں بچوں کو کیا فائدہ پہنچا سکوں گا، البتہ آپ براہ مہربانی اپنی وصیت میں یہ الفاظ ضرور درج فرمائیں کہ اگر بچوں کو خدانخواستہ کبھی مالی تکلیف ہو تو سب سے پہلے اطلاع کا حقدار مجھے سمجھا جائے، دوسری نمایاں خصوصیت مرحوم میں یہ تھی، کہ ان کا دستر خوان بہت فراخ تھا، اور ان کا کھانا بہترین، ان کے پاس بہترین باورچی ملازم تھے، اور عمدہ کھانوں اور ضیافتوں پر وہ بے دریغ خرچ کرتے تھے، چنانچہ انھوں نے اسی غرض سے خالص عربی میزبانی کا سامان مکمل جمع کیا تھا، الغرض مرحوم ہندوستان کے خوش وضع اور مخیر اکابر میں سے تھے اب ان کا جانشین یا ثانی مشکل سے ملے گا‘‘۔

(28) ڈاکٹر صاحب سے میری آخری ملاقات اخیر دسمبر 1937ء میں ہوئی، اس وقت وہ خوابگاہ میں پلنگ پر بیٹھے تھے، کچھ دیر تک وہیں باتیں ہوتی رہیں، پھر علی بخش نے آ کر اطلاع دی، کہ کھانا تیار ہے، (دوپہر کا وقت تھا) فرمانے لگے، چلو دوسرے کمرہ میں بیٹھیں، ڈاکٹر صاحب سوفا پر بیٹھ گئے، علی بخش نے کرسی سامنے رکھ دی، اور کھانا اس پر چن دیا، میں کھانا کھا کر گیا تھا، اس لیے قریب ہی دوسری پر بیٹھ گیا، آپ اشتہا سے کھانا کھاتے رہے، اور باتیں بھی ہوتی رہیں، اتنے میں رحما (دوسرا ملازم) اندر آیا، اور اطلاع دی کہ مسٹر یوسف علی اور چھوٹے میاں (نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب مرحوم کے صاحبزادے) آئے ہیں، آپ نے فرمایا یہیں بلا لو، چنانچہ کرسیاں قریب ہی رکھ دی گئیں، اور دونوں صاحب اندر تشریف لائے، مسٹر یوسف علی نے سلام علیک کے بعد مزاج پرسی کی، ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت فرمایا بہت اچھا ہوں، مسٹر یوسف علی نے فرمایا، میرا بھی یہ خیال ہے، کیونکہ کھانا کھانا خود صحت کی نشانی ہے، ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں، ڈاکٹر صاحب نے پوچھا، بتائیے انگلستان سے کیسے آمد ہوئی، یوسف علی صاحب نے جواب دیا، کہ قرآن کریم کے آخری تین پاروں کا ترجمہ زیر طبع ہے، یہ کام اپنی نگرانی میں کروانے کے لیے آیا ہوں، کسی بات پر آپ نے مسٹر یوسف علی کو ایک لطیفہ سنایا، (جو میں بھول گیا، اس میں وہابیوں کی ’’یبوست‘‘ کا ذکر تھا) میں مسٹر یوسف علی کے سامنے بیٹھا تھا، لیکن غالبًا وہ مجھے پوری طرح سے پہچان نہ سکے، ڈاکٹر صاحب نے ان سے کہا آپ پروفیسر حمید کو پہچانتے ہیں؟ اسلامیہ کالج میں دو سال آپ کے ماتحت کام کر چکے ہیں، مسٹر یوسف علی بولے ہاں، ہاں، بعد میں تمھیں گجرات میں بھی تو دیکھا تھا، لیکن بھئی تم نے اپنے بال کیوں اس قدر سفید کر رکھے ہیں؟ میں نے عرض کی کہ خاندانی رجحان سفید بالوں کی طرف زیادہ ہے، ڈاکٹر صاحب نے مسٹر یوسف علی کی طرف مڑ کر کہا، آپ کی صحت پہلے سے بہت اچھی ہے، وہ بولے پہلے (اسلامیہ کالج میں) میں غلام تھا، آج کل آزاد ہوں، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’نہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ ان کے لیے (میری طرف اشارہ کر کے) زمان کی رو آگے کی طرف بہہ رہی ہے، اور آپ کے لیے پیچھے کی طرف (Time is moving forwards for the professor and backwards for you) اس کے بعد حسب ذیل باتیں ہوئیں،

یوسف علی صاحب۔ فرمائیے آج کل کچھ زیر تصنیف ہے؟

ڈاکٹر صاحب۔ اردو اور فارسی دونوں میں کچھ کلام جمع ہو رہا ہے،

یوسف علی صاحب۔ آپ کو میرے ساتھ وہ وعدہ یاد ہے، کہ آئندہ فارسی چھوڑ کر اردو کی طرف دوبارہ متوجہ ہوں گا،

میں۔ بانگ درا کے بعد ڈاکٹر صاحب کی دو اور کتابیں اردو میں شائع ہو چکی ہیں،

ڈاکٹر صاحب۔ جی ہاں میں اردو میں چند سالوں سے لکھ رہا ہوں،

یوسف علی صاحب۔ موجودہ تصنیف کب مکمل ہو گی؟

ڈاکٹر صاحب۔ اگلے سال انشاء اللہ مدینہ منورہ میں پہنچ کر،

یوسف علی صاحب۔ آئندہ سال حج کو ضرور تشریف لے جائیے گا؟

ڈاکٹر صاحب۔ جی ہاں ارادہ تو یہی ہے، اطالوی کونسل جنرل نے مجھے دعوت دی ہے، کہ اطالوی کمپنی لائڈ ٹریسٹینو‌Lloyd Triestino کے کسی جہاز میں سفر کیجئے گا، یہ جہاز جدہ میں تو نہیں ٹھہرتے، لیکن جدہ کے سامنے اطالوی صومالی بندرگاہ پر ٹھہرتے ہیں، وہاں سے وہ میرے لیے ایک خاص اگن بوٹ کا انتظام کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، جو مجھے جدہ پہنچا دے گی، اس طرح سفر میں مجھے تکلیف نہ ہو گی، اس کے متعلق خط و کتابت جاری ہے،

یوسف علی صاحب۔ بیشک، اطالوی حکومت کو اسلامی دنیا میں آپ کی اہمیت کا پورا علم ہو گا، اور وہ ہر طرح سے اس کو سہولت پہنچانے کی کوشش کرے گی،

ڈاکٹر صاحب۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ سفر کی کوفت سے بچوں، صحت کی موجودہ حالت میں اس کوفت کو برداشت نہ کر سکوں گا،

چند منٹ اور گفتگو ہوئی، اس کے بعد دونوں صاحب تشریف لے گئے، اس ملاقات سے پہلے بھی ایک دو بار مجھ سے ڈاکٹر صاحب نے سفر حجاز کے متعلق اس تجویز کا ذکر کیا تھا، انھیں حج کی اس قدر لو لگی تھی، کہ غالبًا انتقال کے وقت انھیں اسی ایک آرزو کے پورا نہ ہونے کا رنج رہا ہو گا،

دس پندرہ منٹ کے بعد میں بھی اجازت لے کر رخصت ہوا، اس وقت میرے دل میں یہ خیال ہرگز نہ آ سکتا تھا، کہ چار مہینہ کے قلیل عرصہ میں ڈاکٹر صاحب اپنے عقیدت مندوں کو داغِ مفارقت دے جائیں گے۔ اس وقت ان کے چہرہ سے صحت ٹپک رہی تھی، خط تھوڑی دیر پہلے بنوا کر بیٹھے تھے، مونچھوں کو قدرے تاؤ بھی دے رکھا تھا، چہرہ کی شان جرمن جرنیلوں کی سی تھی، طبیعت بہت بشاش تھی، صرف دو تکالیف تھیں، ایک آواز جو کسی طرح کھلتی نہ تھی، اور دوسرے موتیا بند جو کچھ عرصہ سے اتر آیا تھا، آواز کے نہ کھلنے کا انھوں نے کبھی گلہ نہ کیا تھا، اور موتیا بند کا وہ مارچ 38ء میں آپریشن کرانا چاہتے تھے، ان کی شکل و ہیئت سے کوئی ایسے آثار ظاہر نہ تھے، جن سے میرے یا اور کسی شخص کے دل میں یہ وہم پیدا ہوتا، کہ خودی کا یہ دانائے راز سفر آخرت کے لیے تیار بیٹھا ہے، انا للہِ وَ انَّا اِلیْہِ رَاجِعُونبے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔