ڈاکٹر صاحب کو سفر ہسپانیہ میں معلوم ہوا، کہ اس ملک میں قومیت اور وطنیت کی ایک نئی لہر دوڑ رہی تھی، ملک میں ایسے نوجواں اور فضلاء نکل آئے تھے، جو ہفت صد سالہ اسلامی حکومت ہسپانیہ کے کارناموں کو فخریہ بیان کرتے تھے، اور اس دور کو اندلس کا بہترین زمانہ کہہ کر یاد کرتے تھے، اسی تحریک کا نتیجہ تھا، کہ مسجد قرطبہ کو کیتھولک چرچ کے مختلف فرقوں سے چھین لیا گیا، حالانکہ کئی سو سال سے ان فرقوں نے مسجد کے مختلف حصوں میں اپنی عبادت گاہیں بنا لی تھیں، وطنیت کی اس تحریک کا چونکہ مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا، اس لیے مسجد کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کر دیا گیا، اس ضمن میں ڈاکٹر صاحب نے حکمت الہٰی کی ایک دلپذیر مثال یہ سنائی کہ مسلمانوں کے اخراج کے بعد جب مسجد قرطبہ (جو تعمیری جمالیات کے لحاظ سے دنیا کی نادر ترین عمارتوں میں سے ہے) عیسائی راہبوں کے قبضہ میں آئی، تو انھوں نے آیات قرآنی پر جو سنہری حروف میں مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر لکھی ہوئی تھیں، پلستر کرا دیا، آج قریبًا پانچ چھ سو سال کے بعد جب وہ پلستر محکمہ آثار قدیمہ کے حکم سے اکھاڑا جاتا ہے، تو وہی نقوش اپنی پرانی شان میں دنیا کے سامنے آتے ہیں اگر پلستر نہ ہوتا، تو یہ نقوش غالبًا اس وقت تک بالکل محو ہو جاتے، ڈاکٹر صاحب کا یہ فقرہ میرے ذہن میں نقش ہے، کہ ’’مسجد اور اس کے نقوش کو دیکھ کر جو لذت قرآن اور اسلام کے مفہوم کے متعلق میں نے حاصل کی، وہ بیسیوں تفسیروں سے حاصل نہ کر سکا‘‘ ایک بات ڈاکٹر صاحب کو اسپین کے سفر میں خاص طور سے نوٹ کرنی پڑی، کہ اس وقت اس ملک میں پرانی مساجد کی تعداد بہت ہی کم ہے، ان کا خیال تھا کہ اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں، یا مسلمانوں کے ہسپانیہ سے اخراج کے بعد تعصب کی وجہ سے عیسائیوں نے ان تمام مساجد کو سخت بے دردی سے گرا دیا ہو گا، اور یا خود مراکشی اندلسی مسلمانوں کو بے ضرورت مساجد تعمیر کرنے کا وہ شوق نہ تھا، جو ہندوستانی مسلمانوں کو ہے، پہلا خیال غالبًا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے،
ڈاکٹر صاحب ہسپانیہ کی آب و ہوا کی بے حد تعریف کرتے تھے، فرماتے تھے، کہ اس ملک میں دو تین مقامات ایسے ہیں، اور ان کی فضاء اس قدر پاک اور شستہ ہے کہ آج کا پکا ہوا سالن کئی مہینوں تک نہ بگڑے گا،
(23) دو سال کے قریب ہوئے جب اسپین کی موجودہ ملکی جنگ کا آغاز ہوا تو یہ خبریں بھی پہنچنا شروع ہوئیں، کہ جنرل فرانکو کی فوج کا زیادہ حصہ خصوصًا وہ حصہ جو یلغاروں میں اور فیصلہ کن لڑائیوں میں صف شکنوں کا کام دیتا ہے، تمام تر مراکشی سپاہیوں اور رضا کاروں پر مشتمل ہے، کچھ عرصہ کے بعد ان جفا کش اور جری سپاہیوں کی تصاویر بھی اخباروں میں چھپنا شروع ہوئیں، ان خبروں سے ہندوستان کے ہر پڑھے لکھے مسلمان پر گہرا اثر ہوا تھا اور ہے، میں نے ایک روز ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں اس خیال کے اثر کا ذکر کیا، کہ سرزمین اندلس قریبًا بارہ سو سال کے بعد پھر مسلمان مراکشی بہادروں کے قوی بازوؤں سے سر ہو رہی ہے، ڈاکٹر صاحب فورًا بولے تمھیں میری نظم مسجد قرطبہ کا آخری بند یاد نہیں رہا، اس میں میں نے پیشین گوئی کی تھی،
|
آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی |
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کے خواب! |
|
عالمِ نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں |
میری نگاہوں میں ہے، اس کی سحر بے حجاب |
|
پردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سے |
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب |
(24) ڈاکٹر صاحب پر جرمن مفکر نٹشے کا بہت اثر تھا، ’’خودی‘‘ کے اسرار ان پر اس وضاحت اور جدت سے فاش نہ ہوتے، اگر نٹشے کی تصانیف سے وہ لا علم رہتے، بال جبریل چھپنے کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ میں نے ان سے عرض کیا، کہ پچھلے دنوں میں نے نٹشے کی فلاں فلاں کتابوں کو کئی سالوں کے بعد اور شاید تیسری بار پڑھا ہے، لیکن اس کی فکر میں وہ تازگی، جوش اور گہرائی ہے کہ ہر بار معلوم ہوتا ہے کہ پہلی بار پڑھ رہا ہوں، اس کے بنیادی خیالات اسلام سے اس قدر قریب ہیں، کہ افسوس ہوتا ہے کہ کسی نے اس کے سامنے اسلامی نقطہ نظر پیش نہ کیا، قرآن سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے اسے اپنے فلسفہ میں ’’انکار الہٰیت‘‘ (godlessness) کی تعلیم دینا پڑی، عیسائیت نے خدا کے بیٹے کو ’’بکری کا لیلا‘‘ اور اخلاق کو روحانی پست ہمتی کے مترادف بنا کر اسے صحیح مذہب سے متنفر کر دیا، وغیرہ، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’تمہارا یہ خیال بالکل صحیح ہے، اسی لیے تو میں نے نٹشے کے متعلق کہا ہے کہ
|
دلش مومن، دماغش کافر است |
|
|
ترجمہ اُس کا دل مومن ہے، (مگر) دماغ کافر ہے۔ |
ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں شاہین کا فقیر و درویش ہونا نٹشے کے زردشت کے اس وعظ سے بہت قریب ہے، جس میں وہ اپنے کوہستانی نشیمن کو اس لیے پسند کرتا ہے، کہ وہاں اسے عقاب اور ستاروں کی ہمسایگی نصیب ہے،
(25) ڈاکٹر صاحب سے میں نے دو تین موقعوں پر مرزا بیدل کی شاعری کے متعلق پوچھا، بیدل کے متعلق ان کی رائے نہایت اچھی تھی، میں نے ایک بار کہا کہ اس کی فارسی میں بے ضرورت مشکل پسندی ہے، فرمانے لگے، کہ تھوڑی کاوش سے یہ مشکل دور ہو سکتی ہے، بیدل نے اپنی خاص اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں، جنھیں وہ اپنے اشعار میں استعمال کرتا ہے، اگر ان اصطلاحات کو پہلے سمجھ لیا جائے تو بیدل میں مشکل باقی نہیں رہتی، بیدل اس قابل ہے کہ اس کا مطالعہ بغور کیا جائے،
(26) پچھلے سال اگست یا ستمبر میں ایک روز جب میں شام کے وقت حاضر خدمت ہوا تو آپ حسب معمول جاوید منزل کے صحن میں بستر پر لیٹے تھے، اس سے چند مہینے پہلے ایک دو مرتبہ انھوں نے اپنے بچوں کے لیے ایک معلمہ یا اتالیقہ کی ضرورت کا ذکر کیا تھا، کچھ دیر سیاسی خبروں کے متعلق باتیں ہوتی رہیں، اس دوران میں ایک یورپین خاتون بچوں کو لے کر گذریں، میرے دریافت کرنے پر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا، کہ یہ خاتون بچوں کی اتالیقہ ہیں، جرمن نسل سے ہیں، اور نہایت شریف الطبع ہیں، انھیں ہر وقت بچوں کی پرورش کا خیال رہتا ہے، اور فرصت کا کوئی وقت بھی وہ بے کار نہیں گذارتیں، کچھ کام نہ ہو تو کمرہ ہی جھاڑنا شروع کر دیتی ہیں، چنانچہ بچوں کی طرف سے تو میری طبیعت اب بالکل مطمئن ہے، البتہ مجھے کچھ عرصہ سے تنہائی بہت محسوس ہو رہی ہے، علی بخش میری ضروریات کی نگہ داشت کرتا ہے، لیکن میرے لیے اب زیادہ توجہ کی ضرورت ہے، صبح سے دوپہر تک کا وقت اچھا گذرتا ہے، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، شام کا وقت بھی اسی طرح گذرتا ہے، البتہ دوپہر سے چار بجے تک کا وقت سخت تکلیف دہ ہوتا ہے، پڑھنا بند ہو چکا ہے، اور سوئے انسان کب تک، میں نے عرض کی کہ موسیقی کا انتظام ہو جائے تو طبیعت کو تسکین ہو گی، فرمایا کہ مجھے موسیقی کی بہت خواہش ہے، میری طبیعت بھی اس کی طرف مائل ہے، لیکن افسوس ہے کہ ہندوستانی موسیقی بہت الم انگیز اور پژمردہ ہے، جس موسیقی کی مجھے ضرورت ہے، وہ ابھی شروع نہیں ہوئی،
ڈاکٹر صاحب کا یہ خیال کہ ہندوستانی موسیقی میں المیت کا عنصر بہت غالب ہے، اور ذوقِ حیات اس سے پیدا ہو ہی نہیں سکتا، میں نے کئی بار ان کی زبان سے سنا، اس نتیجہ پر برسوں پہلے پہنچ چکے تھے،
