(17) گول میز کانفرنس کے سلسلہ میں انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کو اکابر اور فضلاء سے تبادلہ خیالات کا موقع ملا، ایک بزرگ نے عیسائی پادریوں کا مشہور اور جھوٹا اعتراض اسلام کے خلاف دہرایا اور پوچھا کہ ’’سر محمد کیا یہ سچ ہے، کہ اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ عورت کے روح نہیں ہوتی‘‘؟ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا ’’کیا روح سے آپ کی مراد وہی شے ہے، جو آپ لوگوں کے خیال میں جسم سے بالکل علیحدہ اور مختلف ہوتی ہے‘‘ معترض صاحب نے کہا جی ہاں، انھوں نے جواب دیا، ’’تو پھر صاحب اسلام کے مطابق عورت کیا مرد میں بھی روح نہیں ہے‘‘۔ اس دقیق اور لطیف جواب کو سمجھنے کے لیے یہ یاد رکھنا چاہیے، کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے فلسفیانہ مضامین میں اس نظریہ پر بہت زور دیا ہے، کہ روح اور جسم کی تقسیم قرآنی تعلیم کے بالکل خلاف ہے، اور یہ پرانے مذاہب اور فلاسفہ کی غلط تعلیم کا نتیجہ ہے، قرآن کے مطابق انسان ایک فرد ہے، جس میں روحانی اور جسمانی خاصیتیں موجود ہیں، لیکن روح اور جسم دو الگ الگ چیزیں موجود نہیں، جن سے وہ بنا ہو، روح اور جسم کی یہی غلط تقسیم ہے، جس کی وجہ سے بیسیوں ناقابل حل مسئلے فلسفہ مذہب میں پیدا ہو چکے ہیں، اسلام انسان کو ایک زندہ شخصیت (spiritual and organic being) تصور کرتا ہے، اور یہ تصور قرآن میں نہ صرف اسی ارضی زندگی کے لیے استعمال ہوتا ہے، بلکہ حشر اور حیات بعد الموت کے لیے بھی قائم رہتا ہے، چنانچہ حیات بعد الموت میں انسان کے لیے جو جزا اور سزا مقرر ہے، جس کا ذکر قرآن میں بار بار آتا ہے، وہ روحانی بھی ہے اور جسمانی بھی، ڈاکٹر صاحب نے مندرجہ بالا جواب میں اسی مسئلہ کو واضح کیا ہے کہ اسلام کے مطابق روح جسم سے علیحدہ کوئی شے نہیں، اس لیے نہ وہ عورت میں پائی جاتی ہے اور نہ مرد میں، کس بلاغت اور ظرافت سے ایک ہی بات میں نہ صرف ایک جھوٹے الزام کی تردید کی گئی ہے بلکہ ایک اہم اصول کو بھی واضح کر دیا گیا ہے، ڈاکٹر صاحب کی روز مرہ کی گفتگو میں یہی خاصیت بار بار نمایاں ہوتی تھی،
(18) دوسری گول میز کانفرنس کے زمانہ میں انگلستان کی مشہور سیاح خاتون، مس روزیٹا فوربس نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا شوق ظاہر کیا، چنانچہ مس صاحبہ نے انھیں اپنے ہاں مدعو کیا، یہ خاتون شمالی افریقہ اور اسلامی ممالک میں بہت پھری ہیں، اور ان پر اس سیاحت کا بہت اچھا اثر پڑا ہے، ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے، کہ ان کا محل جو لندن میں ہے، وہ ایشیائی بلکہ اسلامی طرز آرائش کا نہایت لطیف اور شستہ نمونہ ہے، سامان آرائش غالیچے، زیب و زینت کے انداز ہر لحاظ سے معلوم ہوتا ہے، کہ ہارون الرشید کے بغداد کے کسی محل کا خاکہ ہے، اسی محل میں ڈاکٹر صاحب کی ضیافت ہوئی، اور پر لطف مجلس رہی، لیکن انھیں خاتون کے محل کی تعریف کا موقع نہ ملا، روانگی کے وقت مس صاحبہ سے نہ رہا گیا، پوچھنے لگیں، ’’سر محمد میرے اس مکان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے‘‘؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا، ’’آپ نے اپنی بہشت دنیا میں پائی، میں اپنی بہشت کا منتظر ہوں‘‘۔
(19) دوسری گول میز کانفرنس سے واپسی پر ڈاکٹر صاحب کی ملاقات روما میں مسولینی سے ہوئی، اس ملاقات میں مسولینی نے ان کی تعلیم سے دلچسپی کا اظہار کیا، اور اس کی تعریف کی، گفتگو آدھ گھنٹہ سے زیادہ رہی دوران گفتگو میں قوم اور مذہب کا بھی ذکر ہوا، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اطالیہ کی موجودہ حالت (اور اس کی حل طلب مشکل) بہت حد تک ایسی ہے، جیسے کہ قبل از اسلام ایران کی تھی، ایران کی تہذیب فرسودہ تھی، اور قوم کے قویٰ شل ہو چکے تھے، ان کو تازہ خون کی ضرورت تھی، ایران کی خوش قسمتی سے اس کے جوار میں عرب کی جری اور بادیہ پیما قوم تھی، جس نے ایران کو اپنا تازہ اور خالص خون دیا، نتیجہ یہ ہوا، کہ ایران میں حیات کی ایک نئی لہر دوڑ گئی، اور یہ قوم ایک پر شکوہ تہذیب کی حامل اور علم بردار ہوئی، عربی خون کی بدولت ان میں بہترین اہل فن، اہل سیاست، اور اہل سیف پیدا ہوئے، اسی طرح روما کے زوال کے بعد گاتھ اور جرمن قوموں نے اطالیہ کو اپنا خون دیا، اور اسے قرون وسطیٰ میں نشاۃ ثانیہ نصیب ہوئی، اب پھر ایران اور اطالیہ دونوں کو تازہ خون کی ضرورت ہے، ایران اب بھی اس لحاظ سے خوش قسمت ہے، کہ اس کے شمال میں جری اور نیم مہذب ترکمان موجود ہیں، اور مغرب میں اندرون عرب کے جری قبائل، یہ قومیں اپنا خون دے کر ایران کو پھر زندہ اور قوی کر دیں گی، لیکن موجودہ اطالیہ کے گرد اسی کی جیسی مہذب قومیں آباد ہیں، جن میں صحرائی وحشت اور تازگی نام کو موجود نہیں، اطالیہ تازہ خون کہاں سے لے گی‘‘؟ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے، کہ موسولینی اس اچھوتے خیال سے بہت متاثر ہوا،
(20) ڈاکٹر صاحب پر حسن کا اثر بہت گہرا اور فوری ہوتا تھا، روما کے اسی قیام کے زمانہ میں (جو صرف چند روزہ تھا) ان کی ایک دوست خاتون نے (غالبًا اسی خاتون نے موسولینی کی ملاقات کے لیے وقت مقرر کرایا تھا) جو اطالیہ کے طبقہ امراء سے تھی، ان سے دریافت کیا، اگر آپ کو یہاں کوئی خاص چیز دیکھنی ہے، تو فرمائیے؟ تا کہ اس کا انتظام کیا جائے، فرمایا کہ اطالیہ کا حسن مشہور ہے، میں اس شہر روما کی حسین ترین خواتین دیکھنا چاہتا ہوں، چنانچہ موصوفہ نے ایک ٹی پارٹی میں اعلیٰ سوسائٹی کی چند حسین خواتین مدعو کیں، جن سے ڈاکٹر صاحب نے ملاقات کی، فرماتے تھے، کہ اطالیہ کا حسن یورپ میں بہترین ہے، اور اس ضیافت میں روما کے حسن کے بعض نہایت لطیف نمونے تھے،
(21) گول میز کانفرنس سے واپسی پر ڈاکٹر صاحب کی ملاقات پیرس میں پروفیسر برگسان سے ہوئی، برگسان کی تصانیف کا اثر ان پر بہت تھا، اس کا نظریہ ’’واقعیتِ زمان‘‘ (Reality of time) ڈاکٹر صاحب کے خیال میں اسلامی نقطہ نگاہ کے بہت قریب تھا، چنانچہ دوران ملاقات میں اس پر بحث ہوئی، ڈاکٹر صاحب نے برگسان کو یہ حدیث سنائی، کہ ’’زمانہ کو برا مت کہو کہ زمانہ خدا ہے،‘‘ فرماتے تھے، کہ جس وقت برگسان نے یہ حدیث سنی تو وہ کرسی سے اچھل کر آگے بڑھا اور مجھ سے پوچھنے لگا کیا یہ سچ ہے‘‘؟
(22) گول میز کانفرنس کے اختتام پر ڈاکٹر صاحب نے ہسپانیہ کا سفر کیا، اس سفر کے واقعات انھوں نے کمال مہربانی سے مجھے مفصل سنائے قرطبہ کے جس ہوٹل میں آپ ٹھہرے تھے، اس کے مالک (منیجر) سے آپ نے سب سے پہلے یہی پوچھا کہ کیا اس علاقہ میں قدیم مراکشی نسل کے لوگ آباد ہیں، اس نے جواب دیا کہ بڑی تعداد میں، آپ نے خواہش ظاہر کی کہ مجھے ان میں سے کسی ایک سے ضرور ملایا جائے، منیجر مسکرا کر بولا، اس کام کے لیے ہوٹل سے باہر جانے کی ضرورت نہیں، میں خود مراکشی اصل سے ہوں (جنوبی ہسپانیہ کے ان باشندوں کو مورسکو کہا جاتا ہے) حسن اتفاق سے آپ کو پرانی عمارتیں دکھانے کے لیے جو راہبر مقرر کیا گیا تھا، (آپ نے شرط یہ رکھی تھی، کہ راہبر انگریزی جانتا ہو، کیونکہ میں ہسپانوی زبان سے آشنا نہیں) وہ بھی مراکشی اصل سے تھا، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اس علاقہ میں عربی مراکشی اثر چہروں کی ساخت میں بہت نمایاں ہے، چنانچہ ’’مسجد قرطبہ‘‘ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے،
|
آج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزال |
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشین |
|
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے |
رنگِ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے |
اسی سفر ہسپانیہ میں آپ کو پروفیسر آسین (Asin) سے بھی ملاقات کا موقع ملا، یہ وہی پروفیسر ہیں، جنھوں نے قریبًا پندرہ سال یا شاید کچھ زیادہ ہوتے ہیں، ایک معرکۃ الآراء تصنیف کی تھی، جس میں یہ ثابت کیا تھا، کہ اطالوی شاعر دانتے پر عربی بالخصوص ان حدیثوں اور روایتوں کا اثر جو معراج نبوی صلعم اور عذاب دوزخ سے متعلق ہیں، کسی قدر غالب تھا، دانتے کی شہرہ آفاق تصنیف دیوینا کومیدیا میں یہ اثر صفحہ صفحہ پر نمایاں ہے، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا، کہ پروفیسر آسین کی خواہش تھی، کہ مسلمان طالب علم بالخصوص ہندوستان کے مسلمان طالب علم ہسپانیہ میں آئیں، اور ملک کی زبان سیکھ کر ان قیمتی اور بے شمار عربی مخطوطوں کا مطالعہ کریں، جو ہسپانیہ کے بعض کتب خانوں مثلاً اسکوریال میں بند پڑے ہیں، (خدا جانے اس خوفناک جنگ میں ان نایاب مخطوطوں کو کس قدر نقصان پہنچا ہو)
