جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اقبال کے چند جواہر ریزے (حصہ اول)

(2) ”یہود“ کا لالچ اور دولت کا عشق ضرب المثل ہے، اس کے متعلق کئی مرتبہ ڈاکٹر صاحب سے میری گفتگو ہوئی، ایک مرتبہ مثال کے طور پر فرمانے لگے کہ جب میں انگلستان گیا تو میں نے ڈاکٹر آرنلڈ صاحب سے یہ خواہش کی کہ میرے قیام کا انتظام ایسے گھر میں کروا دیا جائے جہاں ذبیحہ کا خاص انتظام ہو، یورپ میں صرف یہود اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے ہیں کہ صرف اپنا ذبیحہ کھائیں، چنانچہ ایک اچھے یہودی گھر میں میری رہایش کا انتظام کروا دیا گیا، ان لوگوں میں بہت خوبیاں تھیں، اپنی ”نماز“ باقاعدہ پڑھتے تھے، جب میں گھر میں ہوتا تھا تو میں بھی شریک ہو جاتا تھا، میں نے ان سے کہا کہ مسلم ہونے کی وجہ سے حضرت موسیٰؑ میرے لیے بھی پیغمبر ہیں، اور میں ان کی روش پر چل سکتا ہوں، وغیرہ، لیکن کچھ عرصہ کے بعد میرا دل ان لوگوں کی طرف کھٹا ہو گیا، مجھے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ہر اُس چیز میں جس کی مجھے ضرورت ہوتی تھی اور جس کو میں ان کے ذریعہ سے منگواتا تھا، یہ لوگ دوکانداروں سے کمیشن لیا کرتے تھے، ان کی اسی ایک عادت نے ان کی تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیا۔

(3) ہندوستانی مذاہب پر ایک روز مجھ سے باتیں کر رہے تھے، بدھ مت کا ذکر آ گیا، فرمانے لگے انگلستان میں طالب علمی کے زمانہ میں مجھے ہر روز شام کے وقت اپنی قیام گاہ کی طرف ریل گاڑی میں سفر کرنا پڑتا تھا، یہ گاڑی ایک جگہ ختم ہوتی تھی، اور سب مسافروں کو سامنے والے پلیٹ فارم پر دوسری گاڑی میں سوار ہونا پڑتا تھا، گاڑی جب اسٹیشن پر پہنچتی تو گارڈ بلند آواز سے پکارتا (all change) یعنی ”سب بدل جاؤ“۔ ایک روز میں حسب معمول گاڑی میں بیٹھا تھا، کہ میرے ارد گرد اخبار میں مسافر آپس میں بدھ مذہب کے متعلق باتیں کرنے لگے، ایک صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ صاحب غالبًا ایشیائی ہیں، ان سے بدھ مذہب کے متعلق پوچھنا چاہیے، چنانچہ مجھ سے پوچھا گیا، میں نے کہا، ابھی جواب دیتا ہوں، یہ کہہ کر چپ رہا، چند منٹوں کے بعد انھوں نے مجھ سے دوبارہ پوچھا، میں نے پھر کہا ابھی جواب دیتا ہوں، وہ کہنے لگے، شاید آپ جواب سوچ رہے ہیں، میں نے کہا ہاں، اس دوران میں اسٹیشن آ گیا اور گارڈ all change پکارنے لگا، میں نے کہا بس یہی بدھ مذہب ہے، all change (یعنی مسئلہ تناسخ)۔

(4) کیمبرج کے زمانہ میں چند ہم عصروں سے مذہب پر بحث چھڑ گئی، ایک صاحب پوچھنے لگے، مسٹر اقبال یہ کیا بات ہے کہ جتنے بھی پیغمبر اور بانیانِ مذہب دنیا میں آئے، وہ بلا استثنا ایشیا میں مبعوث ہوئے، یورپ میں ایک بھی پیدا نہیں ہوا، ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا، بھئی شروع شروع میں اللہ میاں اور شیطان نے اپنا اپنا پینترا جما لیا، اللہ میاں نے ایشیا کو پسند کیا اور شیطان نے یورپ کو، اسی لیے پیغمبر جو اللہ میاں کی طرف سے آئے ہیں ایشیا میں مبعوث ہوئے، وہ صاحب بول اٹھے تو پھر شیطان کے پیغمبر کیا ہوئے؟ انھوں نے جواب دیا، یہ تمہارے میکائیولی اور مشہور اہل سیاست اس کے رسول ہیں، اس پر بہت قہقہہ پڑا۔

(5) یورپ اور انگلستان میں اس وقت بھی ہزاروں اشخاص ایسے موجود ہیں جن کے خیال میں ہندوستان میں صرف بڑے بڑے دریا، پہاڑ، جنگل، بیابان، چند بڑے بڑے شہر، شیر، سانپ، بچھو، سپیرے اور جنگلی لوگ پائے جاتے ہیں، یہ خیال بہت کچھ یورپین پادریوں، سرکاری ملازموں اور سیاحوں کی جدتِ طبع کا مرہون منت ہے، اسی طرح سے یہ لوگ اپنی بہادری اپنے ہم عصروں پر جتا سکتے ہیں اور گپیں ہانک کر مجلسوں کو گرما سکتے ہیں، چنانچہ طالب علمی کے سلسلہ میں جب اقبال انگلستان گئے (یہ 1905ء کا زمانہ تھا) تو انھیں بھی اس طرزِ خیال کا تجربہ ہوا، ایک مجلس میں ایک لیڈی صاحبہ پوچھنے لگیں، کیوں مسٹر اقبال! کیا آپ کے پلنگ کے نیچے بھی ہر روز صبح کے وقت سانپ ہوتا تھا؟ ڈاکٹر صاحب نہایت سنجیدگی سے بولے، نہیں بی جان، ہر روز نہیں، ہر تیسرے دن۔

(6) ایک مرتبہ ایشیا اور یورپ کے باہمی فرق و امتیاز کا ذکر ہو رہا تھا، میں نے پوچھا، کیا ایشیا اور یورپ کی عورتوں میں بھی وہی فرق ہے جو ان ممالک کے مردوں کے درمیان ہوتا ہے؟ اس سلسلہ میں مَیں نے انگریز اور جرمن عورتوں کے باہمی امتیاز اور فرق کے متعلق ڈاکٹر صاحب سے پوچھا، (انگریز اور جرمن عورتوں کی تخصیص اس لیے کی تھی کہ ڈاکٹر صاحب طالب علم کے زمانے میں زیادہ تر ان ہی دونوں ملکوں میں رہے تھے) فرمایا، انگریز عورت میں وہ ”نسائیت“، اور ”بے ساختگی“ نہیں جو جرمن عورت میں ہے، جرمن عورت ایشیائی عورت سے ملتی جلتی ہے، اس میں محبت کی گرمی ہے، انگریز عورت میں یہ گرمی نہیں، انگریز عورت گھریلو زندگی اور اس کی بندشوں کی اس طرح شیدا نہیں جس طرح کہ جرمن عورت ہے۔”میں نے عرض کیا آپ کے اس خیال کی تصدیق مسٹر ڈبلیو، ٹی، سٹیڈ (w.t.stead) (جو انگلستان کے مشہور سیاست دان تھے، اور کسی زمانہ میں انگریزی رسالہ ریویو آف ریویوز کے مدیر بھی تھے) کے ایک قول سے ہوتی ہے، جو اس وقت مجھے یاد ہے، ایک موقع پر انھوں نے یہ کہا تھا کہ جرمن عورتیں در حقیقت پردہ میں ہیں، (یہ قول زمانہ قبل از جنگ کا ہے، لیکن کوئی تعجب نہیں اگر اب بھی صحیح ہو) انگریز اور امریکن عورتوں کی آزادی کے مقابلہ میں جرمن عورتیں تقریبًا پردہ ہی میں ہیں۔

(7) طالب علم کے سلسلہ میں جب ڈاکٹر صاحب لندن میں تھے، تو سرسید علیہ الرحمۃ کے ایک رفیق جن کا اسم مبارک مولوی صاحب تھا (غالبًا آپ ایڈووکیٹ تھے) سیاحت کے سلسلہ میں یورپ کی سیر کرتے ہوئے انگلستان پہنچے، (ان بزرگ کو میں نے 1910ء میں مسلم یونیورسٹی کے وفد میں لاہور میں دیکھا تھا، میں ان دنوں اسلامیہ اسکول میں پڑھتا تھا، اس وقت مولوی صاحب شکل و ہیئت میں بالکل سرسید کا ثنی تھے، وہی لمبی ترکی ٹوپی، لمبی سفید داڑھی، سیاہ مارننگ ڈریس، الغرض چھوٹے پیمانے پر سرسید معلوم ہوتے تھے) پروفیسر ٹی، ڈبلیو، آرنلڈ جنھیں اقبال سے شغف تھا اور جن کی توجہ سے اقبال گورنمنٹ کالج لاہور میں ہی مستفید ہوئے تھے، ان دنوں لندن یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے، اور اقبال کے مربی خاص تھے بلکہ جب پروفیسر موصوف چند ماہ کے لیے مصر تشریف لے گئے تو اقبال ہی کو وہ اپنا جانشین بنوا کر گئے تھے۔

مولوی صاحب لندن میں تشریف لائے، چونکہ پروفیسر آرنلڈ سرسید مرحوم کے حلقۂ اثر بلکہ خود علی گڑھ کالج میں رہ چکے تھے، اس لیے مولوی صاحب ان ہی کے پاس گئے، انھوں نے اقبال کو حکم دیا کہ بھئی مولوی صاحب کو لندن کی تمام قابل دید جگہیں اور چیزیں دکھا دو۔ اقبال نے نہایت تندہی سے مولوی صاحب کو جگہ جگہ پھرایا، اور شام کے قریب کسی قہوہ خانہ میں جا بٹھایا، وہاں چائے اور قہوہ کے علاوہ چند ستم پیشہ لڑکیاں بھی موجود تھیں، اور خدا جانے اقبال کے اشارے یا خود اپنی جولانیِ طبع سے وہ مولوی صاحب قبلہ کے گرد جمع ہو گئیں، کوئی مولوی صاحب کو قہوہ پینے کی تلقین کرتی، کوئی ان کی نورانی داڑھی پر شیدا تھی، ایک دو نے تو شاید مولوی صاحب کے رخساروں پر عقیدت مندی کی ایک دو مہریں بھی جڑ دیں، اس مصیبت سے جب ان کو نجات ملی تو وہ غصہ سے بھرے ہوئے پروفیسر آرنلڈ کی خدمت میں پہنچے اور اقبال کی شکایت کی، دوسرے روز جب اقبال، پروفیسر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ بہت خفا تھے، فرمانے لگے، اقبال تم لندن میں آ کر بے حد شریر ہو گئے ہو، تمھیں شرم نہ آئی، مولوی صاحب ایسے بزرگ کو اس قہوہ خانے میں لے گئے، اقبال نے نہایت متانت سے جواب دیا، ”قبلہ“ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ لندن کی تمام قابل دید جگہیں مولوی صاحب کو دکھا دوں، اگر میں مولوی صاحب کو صرف لندن کا عجائب خانہ، چڑیا گھر، محلات، تاریخی عمارتیں، وغیرہ ہی دکھلا دیتا تو وہ لندن کے متعلق سخت غلط فہمی میں مبتلا رہتے، اور ہندوستان جاتے ہوئے، لندن کے متعلق نہایت غلط اور یک طرفہ خیالات لے کر جاتے، لندن کی زندگی میں قہوہ خانوں کا رخ خواہ برا ہو یا بھلا بہت اہم ہے، اسی لیے میں نے مناسب سمجھا کہ مولوی صاحب کو یہ تاریک پہلو بھی دکھا دوں، میں انھیں جان بوجھ کر وہاں لے گیا تھا، اقبال کا یہ خیال کہ زندگی کا ہر پہلو دیکھنے سننے اور تجربہ کرنے کے لائق ہے، ان کے اسلامی فلسفہ کا ایک اہم رکن تھا (اسی خیال سے مجبور ہو کر انھوں نے سوامی جی کے سوانح نگاروں کو ٹوکا تھا)۔