(8) جسم اور روح کی جو غلط تقسیم پرانے زمانے سے فلاسفہ اور مذاہب میں ہو چکی ہے، اس کے برے نتائج میں سے سب سے برا نتیجہ یہ ہے کہ عام مذاہب میں جسم اور اس کی خواہشات کو برا کہا گیا ہے، لیکن اسلام میں نہ ”جسم“ کو کبھی برا کہا گیا اور نہ جسمانی لذات کو کوسا گیا ہے، صرف اس کی حدیں مقرر کر دی گئی ہیں، جو شخص اسلامی حدود کے اندر رہ کر جسمانی لذات حاصل کرے، اس سے مواخذہ نہیں، اور نہ وہ گنہگار ہے، البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ ان لذات میں ترتیب کا لحاظ رکھے اور اعلیٰ کو ادنیٰ کے لیے قربان نہ کرے، دوسرے مذاہب کے بانی اور پیرو لذات جسمانی سے اس قدر متنفر ہیں، کہ خود ”جسم“ کا وجود ہی گناہ تصور کیا جاتا ہے اور اس گناہ کا کفارہ صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر طرح سے ”جسم“ کو ایذا دی جائے، اور جسمانی لذات کے حصول کو گناہ کبیرہ سمجھا جائے، ادھر ”جسم“ میں خودی ہے، جس قدر اس کو ٹھکراؤ بگڑتا ہے، دباؤ ابھرتا ہے، لذات سے محروم رکھو تو ہر وقت ان ہی کی فکر میں رہتا ہے، ڈاکٹر صاحب نے اس اسلامی تعلیم کو بار بار اور نئے نئے رنگ میں اپنی تصانیف میں بیان کیا ہے۔
قریبًا بارہ یا سترہ سال ہوئے، میں ایک روز شام کے وقت ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، باتوں باتوں میں یہی مسئلہ معرضِ بحث میں آ گیا، فرمانے لگے، ابھی چند ہی روز ہوئے کہ مجھے اس اسلامی تعلیم کی صحت کا ثبوت ضمنًا ذکر کرنا پڑا، دو تین ہندو صاحبان میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے رشی سوامی جی کی سیرت لکھی ہے، آپ چونکہ سوامی جی کے گہرے دوست تھے، اس لیے آپ اس سیرت پر نظر ثانی فرمائیں اور ہمیں مزید مواد دیں، بلکہ خود بھی کچھ لکھیں وغیرہ، ڈاکٹر صاحب نے کہا ”جو سیرت آپ نے لکھی ہے، دکھائیے“۔ ڈاکٹر صاحب نے کتاب کو جستہ جستہ دیکھا، یہ سیرت بالکل اسی طرح سے لکھی گئی تھی جیسے اس نوع کی کتابیں بالعموم لکھی جاتی ہیں، یعنی ممدوح کو فرشتہ سیرت، ولی اور ہر قسم کی لغزشوں اور نقائص سے مبرا اور منزہ ثابت کرنا۔ ڈاکٹر صاحب نے ان سے فرمایا، آپ لوگوں نے سوامی جی کی زندگی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا، اور نہ اس درسِ عبرت کا جو ان کی زندگی سے حاصل ہو سکتا ہے، اس کتاب میں ذکر ہے۔ انھوں نے پوچھا وہ کیا، فرمایا آپ کو معلوم ہے کہ فلاں سال سوامی جی اپنی تعلیم ہمہ اوست، اور ”برھمچاریہ“ کے پرچار کے لیے امریکہ تشریف لے گئے تھے، وہاں بعض لوگ جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل تھے، ان کے حلقۂ اثر میں آ گئے، ان میں ایک مریدنی ضرورت سے زیادہ فیضیاب ہوئی، لیکن واپسی پر سوامی جی اس عورت اور بچہ دونوں کو امریکہ ہی میں چھوڑ آئے، یہ واقعہ ایک نہایت اہم اور عبرت آموز سبق ہے جو سوامی جی کی زندگی سے حاصل ہوتا ہے، کہ وہ خود ”برھمچار“ کو نباہ نہ سکے اور اپنے اس فعل سے انھوں نے اپنی تعلیم کو غلط ثابت کر دکھایا، لیکن بجائے اس کے کہ وہ اس غلط تعلیم اور غلط اصول کو چھوڑتے، انھوں نے اپنی نا کامی کو چھپانا چاہا، اور اس وجہ سے انھوں نے بچہ اور اس کی ماں کو امریکہ میں چھوڑ کر ایک اخلاقی گناہ کا ارتکاب کیا، آپ لوگوں کا فرض تھا کہ سوامی جی کی زندگی کے اس اہم واقعہ کو کھول کر بیان کرتے تا کہ معلوم ہوتا کہ وہ اپنی تعلیم میں جس کے لیے انھوں نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی کس حد تک کامیاب رہے۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ بات ان دوستوں کو کیوں بھاتی، کہنے لگے، جناب والا، ان باتوں کو کتابوں اور سیرتوں میں لکھنا نہیں چاہیئے، یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔
میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ سوامی جی سے آپ کی دوستی کس زمانہ میں تھی؟ فرمایا کہ لاہور میں طالب علمی کے زمانہ ہی میں میری ان سے دوستی بڑھ گئی تھی، میں نے انھیں مثنوی مولانا روم سے آشنا کیا تھا، بلکہ پڑھائی بھی تھی، سوامی جی سے میں نے سنسکرت سیکھنا شروع کی تھی، ڈاکٹر صاحب سوامی جی کے خلوصِ نیت اور روحانی سرشاری کے بہت معترف تھے، اور اسی لیے وہ سوامی جی کے برھمچار کی نا کامی میں ان کی حیات کا اہم ترین سبق پاتے تھے، یعنی جو بات سوامی جی سے بھی نبھ نہ سکی وہ ہے غلط۔
(9) چند سال ہوئے، ایک جرمن یا آسٹرین سیاح ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا، آپ اس زمانہ میں میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں مقیم تھے، سیاح صاحب ”جہاں گرد“ (GLOBETROTTER) تھے، علی بخش (ڈاکٹر صاحب کا ملازم) نے اسے پہلے دیکھا تو معلوم ہوا کہ پٹھانستان کا کوئی فقیر ہے، اسے اندر بلوایا گیا اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں، اس نے ڈاکٹر صاحب کو اپنی بیاض دکھائی جس میں ہر ملک کے مشہور و معروف لوگوں نے اپنے اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ لکھا تھا، سیاح مذکور نے ڈاکٹر صاحب سے درخواست کی کہ آپ بھی اس میں کچھ لکھ دیں، انھوں نے فارسی کا ایک قطعہ لکھ کر دستخط کر دیئے، اس نے پوچھا آپ کس چیز کی تعلیم دیتے ہیں؟ جواب میں فرمایا، میرے آباؤ اجداد برہمن تھے، انھوں نے اپنی عمریں اس سوچ میں گذار دیں کہ خدا کیا ہے؟ میں اپنی عمر اسی سوچ میں گذار رہا ہوں کہ انسان کیا ہے؟
(10) 1925ء میں ایک روز شام کے وقت میں ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر تھا کہ علی بخش نے اطلاع دی کہ چند طالب علم ملنے کو آئے ہیں۔ جاڑے کا موسم تھا، ڈاکٹر صاحب بڑے کمرے میں بیٹھے تھے (بالعموم وہ شام کے وقت بستر پر بیٹھے تھے اور ملاقاتی وہیں کرسیوں پر بیٹھ جاتے تھے) لڑکے اندر آئے، یہ اسلامیہ کالج کے طلبہ تھے، میں چونکہ اسلامیہ کالج میں ملازم تھا، اس لیے ان کی گفتگو سننا چاہتا تھا، مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں وہ شام کے وقت وفد کی صورت میں کیوں حاضر ہوئے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے دریافت فرمایا ”کیوں بھئی کیسے آئے؟“ انھوں نے جواب دیا کہ ایک مشاعرہ کرنے کا ارادہ ہے، جناب والا، اگر اس کی صدارت قبول فرمائیں تو عزت افزائی ہو گی اور لوگ بھی بہت جمع ہوں گے، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ”صدر“ تو میں کسی مجلس یا جلسہ کا بننا نہیں چاہتا، البتہ ”شعر بازی“ سے تمھیں روکتا ہوں، اس وقت ہندوستان کو اور بالخصوص مسلمانوں کو ”شعر بازی“ کی ضرورت نہیں، اور نہ ہر شخص شعر کہنے کے قابل ہوتا ہے، لوگ شعر بازی کی طرف اسی لیے جلد متوجہ ہو جاتے ہیں کہ بغیر کاوش، مطالعہ اور محنت کے انھیں شہرت حاصل کرنے کی خواہش دامنگیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بہت کم ایسے شاعر ہیں جن کے کلام میں بقا کا عنصر موجود ہو، آپ نوجوان ہیں، آپ کو اس غلط روش پر ہرگز نہ چلنا چاہیئے، ضرورت ہے نثر نگاروں کی، جو محنت اور مطالعہ کے بعد اردو زبان میں مختلف موضوعوں پر کتابیں، رسالے، تراجم وغیرہ لکھیں اور اپنی قوم کو اور خود اپنے آپ کو بہتر بنائیں۔ ڈاکٹر صاحب کی تقریر کا کم و بیش یہی ما حصل تھا، چنانچہ ان کی تقریر نے ان نوجوان شعرا کے جوش کو ٹھنڈا کیا، اور وہ یہ لکچر سن کر بورڈنگ ہاؤس سدھارے۔
(11) 1925ء میں ایک نامور بزرگ لاہور میں تشریف لائے، ان کی لیاقت، وسعتِ علم اور بالخصوص فصاحت و بلاغت کے متعلق عوام میں بہت مبالغہ آمیز باتیں مشہور تھیں، فنِ تقریر میں بہت کم لوگ ان کی ہمسری کر سکتے تھے اور انگریزی زبان، محاورہ، تلفظ اور ادب میں تو انھیں بلا کی دسترس حاصل تھی، میں نے ایک روز ڈاکٹر صاحب سے ان کی بہت تعریف کی، وہ بزرگ ابھی نئے نئے وارد ہوئے تھے، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ انگریزی فن تقریر میں ان کا پایہ مسلم ہے، لیکن یاد رکھو کہ (انبیاء اور مصلحین اقوام کو چھوڑ کر) جو لوگ بے ضرورت اٹھتے بیٹھتے تقریریں کرتے رہتے ہیں، ان میں روحانیت کا فقدان ہوتا ہے In people other than prophets and great national reformers too much of public speaking is verloftes a sign of spirit all poverty ”باتونی“ حضرات کے متعلق تو یہ نظریہ بالکل صحیح ہے، لیکن افسوس تو یہ ہے کہ بعض بڑے بڑے مقرروں کے متعلق بھی یہ نظریہ غلط نہیں، ڈاکٹر صاحب نے فرمایا، کہ انگلستان میں طالب علمی کے زمانہ میں، مَیں بھی تقریروں کے مشغلہ میں کچھ عرصہ کے لیے بہت منہمک رہا، لیکن بعد میں مَیں نے اسے بالکل ترک کر دیا، علامہ نے جو کلیہ اوپر بیان فرمایا ہے، اس میں ”بے ضرورت“ یا ”ضرورت سے زیادہ“ پر زور ہے، عوام اور سامعین سے خراج تحسین حاصل کرنے میں مقرر صاحب کو وہ لطف حاصل ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ زیر بحث پر پورا عبور کیئے بغیر دھواں دھار تقریر فرما دیتے ہیں، اس لیے ایسے بزرگوں کے اقوال و تقریروں میں سطحیت کا عنصر زیادہ نمایاں رہتا ہے، بہت کم مقرر ایسے ہوتے ہیں جو کاوش اور مطالعہ سے اپنے آپ کو اس خطرہ سے محفوظ رکھتے ہیں، ان سطحی مقررین کے بر عکس جو شخص کچھ لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے، وہ اپنے الفاظ پر غور کرتا ہے، اور جب تک اسے اپنی بات اور اپنے استدلال پر پورا یقین نہیں ہوتا، وہ انھیں عوام کے سامنے پیش کرنے سے گریز کرتا ہے، اس حقیقت کو البتہ فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ عوام کے دلوں کی تسخیر کے لیے جو طاقت اور جذب تقریر میں ہو سکتا ہے وہ تحریر میں ممکن نہیں۔
انبیاء اور مصلحینِ اقوام ہر وقت فکر و عمل میں مصروف رہتے ہیں، وہ جب تقریر کرتے ہیں تو ان کے الفاظ ان کے فکر و عمل اور ان کی روحانیت و الہام کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، وہ شوقِ تقریر سے مجبور ہو کر نہیں بولتے بلکہ صرف اس لیے بولتے ہیں کہ بغیر تقریر کے چارہ نہیں، ان کی تقریر سرا سر روحانیت ہوتی ہے، کیونکہ خود خدا ان کا سکھانے والا ہوتا ہے۔
