حمزہ اصفہانی پر ریویو
حمزہ کی کتاب الاصفہان ضائع ہو گئی ہے، لیکن اس کے مضامین کسی حد تک معلوم ہو سکتے ہیں، خود اس نے کچھ حصہ اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے، یاقوت نے اصفہان کے ایک علمی خاندان کے متعلق کچھ معلومات اس سے حاصل کی ہیں، خوش قسمتی سے حمزہ کی ایک دوسری کتاب مجموعۂ امثال ہم تک پہنچی ہے لیکن یہ سخت خراب حالت میں ہے اور اس کی تصحیح و تحشیہ کرنے کے لئے ایک قابل شخص کی ضرورت ہے، اس کتاب کا بیان کتاب الفہرست میں ہے، اور حاجی خلیفہ نے اس کا عنوان کتاب الامثال والافعال لکھا ہے، میونخ میں اس کا پورا مسودہ موجود ہے، یہ نہایت نتیجہ خیز واقعہ ہے کہ المیدانی نے جیسا کہ اس زمانہ کی خصوصیت تھی، حمزہ کی اس تصنیف کو تقریباً بالکل ایسی ہی کتاب میں نقل کر دیا ہے، کتاب الفہرست کی سند کی بنا پر ایک دیوان عشقیہ حمزہ کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے، جو زمانہ کے ہاتھوں ضائع ہو گیا، غالباً مسلمان کاتبوں کی ان نسلوں نے جنہیں مذہبی روشن خیالی کچھ کم تھی، ان اشعار کو جو متقشفین کے ناگوار خاطر ہوتے تھے قلم انداز کر دیا، حمزہ خواہ ان اشعار کا مصنف رہا ہو یا نہ رہا ہو لیکن اس میں شبہ نہیں کہ وہ عرب کے عشقیہ لٹریچر سے مذاق رکھتا تھا اور اس فنِ لطیف کے سرمایہ میں اس نے جو اضافہ کیا وہ کچھ کم قابل قدر نہ تھا، عرب کی قدیم شاعری کے متعلق اس کی خاص کتاب حقیقت میں ابو نواس کا ایڈیشن ہے، یہ عجیب بات ہے کہ گو اس کے اس ایڈیشن کے مدون ہونے کے متعلق شبہ کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے، لیکن عربی ماخذوں میں اس کا کہیں خاص طور پر ذکر نہیں ہے،
حمزہ نے ایک مجموعۂ مضامین بریں عنوان کتاب الرسائل ترتیب دیا تھا، ان میں سے ایک مضمون بیرونی نے نقل کیا ہے، جس میں ان دو خاص نظموں کا بیان ہے جو قدیم ایران کی دو عظیم الشان قومی رسموں یعنی نوروز اور مہرجان پر لکھی گئی تھیں، فتح ایران کے بعد بھی ایک زمانہ تک یہ قدیم رسمیں اسی شان و شوکت کے ساتھ ادا کی جاتی تھیں، اور ان شاندار جشنوں کا نہ محض کریمر اور گولڈزیہر ایسے علما نے بغور مطالعہ کیا بلکہ بے شمار مغربی سیاحوں نے جو وقتاً فوقتاً ایران آتے رہے ہیں، غیر معمولی دلچسپی کے ساتھ نظارہ کیا ہے، حمزہ نے ایک کتاب فن زبان دانی کے متعلق بھی لکھی تھی، جس کا نام کتاب التنبیہ تھا اس کو مسعودی کی تصنیف جس کا یہی نام ہے نہ سمجھنا چاہیے، یاقوت نے اس کو کسی قدر طول کے ساتھ نقل کیا ہے، اس میں ایرانیوں کی پانچ مختلف زبانوں کا تذکرہ ہے یعنی پہلوی، دری، خاص فارسی، زبان خوزستان، اور زبان عراق، گولڈزیہر کی رائے ہے کہ حمزہ نے ایک خاص کتاب لکھی تھی جس کا مقصد ان نقائص کا دکھانا تھا جو جاہل عربوں کی بدولت ایرانی مقامات کے ناموں میں پیدا ہو گئے تھے، حمزہ نے ایک کتاب قدیم جغرافیائی اسما کے متعلق لکھی تھی، جس کا ثبوت ان منقولات سے جو طالبی کی تصنیف میں محفوظ ہیں، اور ان چند اوراق سے جو خدیو مصر کے کتب خانہ میں موجود ہیں، ملتا ہے، چین، اصفہان، ساغستان وغیرہ ایسے ناموں کے اشتقاق کے متعلق حمزہ کی تصانیف سے یاقوت کے منقولات گو ہماری نظروں میں طفلانہ اور عامیانہ معلوم ہوں، لیکن کم از کم ان سے حمزہ یا اس کی سند کی زبردست تخیل کا اندازہ ہوتا ہے،
حمزہ بحیثیت ایک عربی مصنف کے
اس زمانہ میں علمی دنیا دو جماعتوں میں منقسم تھی، ایک ایران کی قدیم تہذیب کی حامی تھی، اور دوسری عرب کے تمدن کو فوقیت دیتی تھی، علما اس امر کی بابت مختلف الرائے ہیں کہ آیا حمزہ کو کس جماعت سے ہمدردی تھی، یعنی ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ آیا حمزہ علانیہ شعوبیہ تھا یا نہیں، گولڈزیہر جس کی تائید براکلمین کرتا ہے، کہتا ہے کہ حمزہ قدیم تہذیب کا حامی تھا، ڈاکٹر مٹوچ اس رائے کی تردید کرتا ہوا کہتا ہے کہ گو حمزہ کبھی کبھی اپنی ایرانیت کو بھولتا نہیں، لیکن وہ کبھی متعصبانہ یا غیر معقول طریقہ پر نہ عربوں پر رد و قدح کرتا ہے اور نہ ایرانیوں کو بیجا طور پر چمکاتا ہے، حمزہ کی تصانیف میں ہمیشہ اس کی ایک خاص ذاتی خصوصیت نمایاں رہتی ہے، جہاں تک ممکن ہوتا وہ ایرانی معاملات سے معتد بہ اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کرتا، اور وہ اس زمانہ کے مذاق کے موافق ناقد فن بھی تھا، لیکن اس کی تنقید ذاتیات سے بالکل آزاد ہوتی تھی، ایک طرف وہ عربوں اور ان کے علمی کمالات کی جائز اور صحیح تعریف کرتا ہے، اور دوسری طرف ایرانیوں کو ان کی کم علمی اور خود بینی پر ملامت کرتا ہے، اس نے کبھی عربوں کی محض اس لیے تعریف نہ کی کہ وہ عرب تھے، اور نہ اس نے ایرانیوں کی خوشامد کی محض اس لیے کہ وہ ایرانی تھے، ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں، ملاحظہ ہوں،
حمزہ نے خلیل کی جو خالص عربی النسل اور عربی وزن کا موجد تھا، نہایت پرجوش الفاظ میں تعریف کی ہے، لیکن واقعات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ کچھ بہت زیادہ تعریف نہیں ہے، بغیر اس مسئلہ کو چھیڑے ہوئے، کہ آیا وہ خوبیاں جو قدیم ایران کی طرف منسوب کی جاتی تھیں، حقیقتاً اس قوم کی خصوصیت تھیں یا نہیں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر حمزہ ایران کا اندھا حامی ہوتا تو وہ کبھی اس بیباکی اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار نہ کرتا، جیسا کہ اس کے ایک مضمون سے ظاہر ہوتا ہے، حالانکہ یہ مسلم ہے کہ حمزہ خالص ایرانی النسل تھا اور اس کو اپنی مادری زبان سے جس کو وہ عربی پر ترجیح دیتا تھا، غیر معمولی دلچسپی تھی، گو ضروریات زمانہ نے اس کو حکومت کی زبان میں تصنیف و تالیف کرنے پر مجبور کیا، حمزہ اور اس کے ایرانی ہمعصروں اور جانشینوں کی حالت صدیوں تک ہماری حالت کے بالکل مشابہ رہی، ہم اپنے عام دنیاوی کاروبار میں انگریزی سے کام لیتے ہیں، حالانکہ ہندوستانی ورنا کیولر ہم میں سے اکثر کی مادری زبان ہے، حمزہ نے عربوں کی دروغ گوئی پر جو طعن و تعریض کی ہے اس سے لوگوں نے اس کو شعوبیہ ثابت کرنے میں ضرورت سے زیادہ کام لیا ہے، لیکن جب ہم ان واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جن کی بنا پر حمزہ نے عربوں پر حملہ کیا تھا تو یہ نتیجہ نکالنا کہ حمزہ کو عربوں سے بحیثیت ایک قوم کے نفرت اور دشمنی تھی، مشکل ہو جاتا ہے، ایک عربی مثل آکل من لقمان العدی (یعنی لقمان العدی سے زیادہ کھانے والا) کی نسبت حمزہ کہتا ہے کہ ’’لقمان العدی کھانے اور ناشتہ پر ایک پورا اونٹ کھا جاتا تھا، یہ عرب کی دروغ گوئیوں میں شامل ہے‘‘، شاید اس کی اصلی توجیہ یہ ہے کہ عرب سے مراد یہاں بدوی ہیں جن کو متمدن عرب وحشی خیال کرتے ہیں، میدانی نے اس واقعہ کو مع ایک دوسرے واقعہ کے نقل کیا ہے، یہ واقعات حمزہ کی مخالفت کے ثبوت میں پیش نہیں کئے جا سکتے، یہ محض اس کی آزادانہ تحقیقات کے نتیجے ہیں۔
ہمارے لئے سب سے زیادہ دلچسپ حمزہ کا وہ ریمارک ہے جو اس نے اپنی تاریخ میں ایرانیوں کے مذہبی صحیفہ کے متعلق کیا ہے، جس کا نام وہ الابستاق بتلاتا ہے، اور جس کا ذکر محض تفنن طبع کے لئے کرتا ہے، وہ باب کے آخر میں نہایت واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ ’’میرا مطلب اس ابستا سے ہے جو محض اوستا کا معرب ہے تاکہ اس کے ناظرین اس کے افسانہ ہونے کی حیثیت کو محسوس کر سکیں‘‘، حمزہ کے نزدیک اوستا کی اتنی ہی وقعت ہے جتنی کہ لقمان العدی اور بنی اسرائیل کے قصوں کی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ حمزہ کو چاہے ایران سے کتنی ہی ہمدردی ہو لیکن وہ کبھی انصاف اور حق پرستی کے دائرہ سے ذرہ برابر تجاوز نہ کرتا تھا، اس بنا پر وہ جو کچھ قدیم ایران کے متعلق لکھتا ہے، نہایت وقیع اور قابل قدر ہے، ہم کو اس کی رائے پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں، ہم کو صحیح معلوم نہیں کہ اوستا کا کون سا حصہ حمزہ کی نظر سے گذرا تھا، یہ بھی نہیں معلوم کہ آیا اصل عبارت تھی یا محض حاشیہ، اس میں بھی شبہ ہے کہ آیا اس کو جو ملا وہ اصل کتاب اوستا تھی یا اس کا کوئی صحیح حصہ تھا، اگرچہ وہ خود کہتا ہے کہ میں نے اوستا کا محض ایک ترجمہ دیکھا ہے قرأت فی کتاب نقل من کتابہم المسمی بالابسطا یعنی میں نے ایک کتاب بزیر عنوان اوستا جو ان کی کتابوں سے ترجمہ کی گئی تھی، پڑھی ہے،
