عربی مورخوں کی جنھوں نے تاریخ ایران کا بغور مطالعہ کیا ہے، یہ ایک عام خصوصیت ہے کہ وہ نہ محض تاریخ ایران پر ایک عام نظر ڈالنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں، بلکہ اپنی کتاب کا زیادہ حصہ ایرانی معاملات کے تذکرہ کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں، مثال کے طور پر ابن اثیر کو لو، اس نے جمشید کے متعلق لکھا ہے کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے پل تعمیر کئے، اور تمام ایرانی خاندانوں کا نہایت تفصیل سے تذکرہ کیا ہے، جس کو ابن قتیبہ نے ایک نہایت عمدہ خلاصہ کی صورت میں نقل کر دیا ہے، ابن اثیر نے اردشیر کے تعمیر کردہ شہروں کا بھی بیان کیا ہے، اور زردشت اور کسری نوشیروان کے حالات زندگی بھی کچھ لکھے ہیں، اول اول رائٹ آنریبل جسٹس امیر علی نے جو اس وقت کلکتہ ہائیکورٹ کے جج تھے، ابن اثیر کی طرف میری توجہ مبذول کرائی، اس سلسلہ میں دو اور عربی مصنفوں کے متعلق کچھ کہوں گا جن کی تصانیف سے اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایرانی معاملات سے کس درجہ دلچسپی رکھتے تھے، عربوں کو عموماً ایرانیوں کے علوم و فنون سے غیر معمولی شغف تھا، چنانچہ انھوں نے ایرانیوں کے فن خط نویسی کو بہت ترقی دی، ایران کے قدیم لٹریچر میں جو کچھ ان کو پسند آتا تھا وہ اس کو نہایت مستعدی سے مطالعہ کرتے تھے اور اپنی تصانیف میں آئندہ نسلوں کے فائدہ کی غرض سے نقل کر دیتے تھے، مثلاً تھوڑی دیر کے لئے بیہقی پر نظر ڈالو، اس نے اکثر بزرجمہر کے حکیمانہ اقوال کا حوالہ دیا ہے اور بادشاہ قباد کے قصوں، جنگ ذوقار کے واقعات، نوشیروان کی فصاحت و بلاغت، بحر قزوین کے شہروں کے عجائبات، پرویز وغیرہ کے افسانوں کا نہایت مفصل تذکرہ کیا ہے، اس نے بارہا بادشاہان ایران کی دانائی اور فراست کی جیسا کہ ان کے مقولوں سے ظاہر ہوتی ہے، نہایت پرزور الفاظ میں تعریف کی ہے، بہرام اور دختر مرزبان کے قصے اور بہرام گور وغیرہ کے عاقلانہ اقوال و امثال بھی بیان کئے ہیں، میرے خیال میں کوئی عربی مصنف ایسا نہیں ہے جس نے بار بار بزرجمہر کا حوالہ نہ دیا ہو، ممکن ہے کہ اس کے اقوال ہمارے دل و دماغ پر اپنا سکہ نہ جما سکیں، لیکن اس کے فلسفہ میں کچھ ضرور تھا، جس نے عربوں کے علمی دل و دماغ کو بالکل مسخر کر لیا، بیہقی نے ’’مہمان نوازی‘‘ کی نسبت عربوں اور ایرانیوں کے باہمی بحث و نزاع کا ایک نہایت دلچسپ قصہ بیان کیا ہے جس میں ایرانیوں کو اس صفت کے لحاظ سے فوقیت دی گئی ہے، بیہقی نے نوشیروان کے اکثر اقوال اصل فارسی میں بھی نقل کئے ہیں، ایرانی قبروں کے کتبوں کا بھی کچھ تذکرہ کیا ہے، اس مسئلہ کے متعلق ہماری علمی جماعت کے بہترین نمائندہ شمس العلماء ڈاکٹر مودی نے علمی مجلسوں کے سامنے اکثر نہایت وقیع اور قابل قدر مضامین پڑھے ہیں جن سے اس مسئلہ کے متعلق تحقیقات کرنے میں بہت بڑی مدد ملتی ہے،
اسی طرح ایک دوسری کتاب یعنی المحاسن والاضداد سے بھی ایران کے دربار، رسم رواج، تمدن و تہذیب، امثال و اقوال، شان و شوکت وغیرہ کا کافی طور پر پتہ چلتا ہے،
سلسلۂ سخن میں ہم کہاں سے کہاں نکل آئے، ہم کو حمزہ کی طرف پھر متوجہ ہونا چاہیے، ابو نواس کے ایڈیشن میں حمزہ نے عربی شعرا کے ان الفاظ و محاورات کی تحلیل و ترکیب کی ہے جو براہ راست ایرانیوں سے لئے گئے ہیں، حمزہ نے اکثر ایرانی الفاظ کے اشتقاق پر نقد کیا ہے، مثلاً لفظ ماہ چین کے متعلق لکھتا ہے کہ یہ چین کا نام ہے ’’ماہ‘‘ اور ’’چین‘‘ سے مرکب ہے، ’’ماہ‘‘ چاند کو کہتے ہیں اور ’’چین‘‘ ایک ملک کو، ان دونوں لفظوں کے ملانے کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی اس ملک کو جہاں نباتات کی پیداوار کثرت سے ہوتی ہے ’’ماہ‘‘ کہتے تھے، اور یہی وجہ ’’ماہ سیجان‘‘ کے نام کی بھی ہے، جس کو لوگ اب ’’سجستان‘‘ کہتے ہیں کیونکہ ایرانیوں کا یہ خیال تھا کہ چاند تری اور پانی پر جو نباتات کی زندگی کے لئے نہایت ضروری ہیں، بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے۔
اہل وردٹ نے دیوان ابو نواس کے مضامین کی جزئی تحلیل کی ہے، ہم فہرست مضامین پر ایک سرسری نظر ڈالنا چاہتے ہیں، پہلے باب میں ابو نواس کی شاعری کے محاسن پر بحث کی گئی ہے، دوسرے باب میں شاعروں سے باہمی معرکہ آرائیوں کے واقعات و حالات کا تذکرہ ہے، بقیہ حصوں میں ابو نواس کی شاعری بعنوانات ذیل تقسیم کی گئی ہے، مثلاً مرثیے، ہجو، توبہ، شکار، شراب وغیرہ، مؤنثات اور مذکرات کے بھی باب قائم کئے ہیں، اور آخری باب ظرافت اور خوش طبعی پر ہے، آٹھویں باب جس میں شکار کے متعلق اشعار ہیں، حمزہ کہتا ہے کہ مجھ کو ان میں سے 71 اشعار مسودات ہی میں ملے تھے، اور چونکہ وہ اشعار کسی دوسرے کی نظر سے نہیں گذرے، لہذا میرے نزدیک وہ الحاقی معلوم ہوتے ہیں، نویں باب کے دیباچہ میں حمزہ لکھتا ہے کہ میرے خیال میں اس باب میں الحاقی اشعار بکثرت ہیں، اور میں نے چند اشعار مصنوعی سمجھ کر خارج کر دیئے ہیں، لیکن اس حصہ کو ان مصنوعی اشعار سے جو بغیر کسی معقول وجہ کے ابو نواس کی طرف منسوب کر دیئے گئے تھے، پاک و صاف کرنا نہایت مشکل کام ہے، زمانۂ حال کے نقاد کی طرح حمزہ نے ان اشعار کو علیحدہ کر دیا ہے جو قدما سے لئے گئے تھے، اور ایسے اشعار کو بھی یکجا جمع کر دیا ہے جس کو ابو نواس کے بعد کے شاعروں نے ایک نمونہ کی حیثیت سے اپنے پیش نظر رکھا،
حمزہ محض الفاظ کی تشریح نہیں کرتا، بلکہ اس کی دقیق اور وسیع نظر شاعری کے حدود سے گذر کر اور علوم و فنون پر بھی پڑتی ہے، اکثر اس کی عالمانہ تشریحیں بجائے خود مستقل مضمون بن جاتی ہیں، گو یہ کتنی ہی دلچسپ ہوں، لیکن اب ہم کو حمزہ سے رخصت ہونا چاہیے۔
