جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ایرانی لٹریچر پر عربوں کے احسانات

حمزہ نے کتاب الامثال میں اٹھارہ سو عربی مقولوں کی شرح اور اس کے ایک ضمیمہ میں پانسو عربی الفاظ پر محققانہ بحث کی ہے، یہ مقولے علم تشریح کے جاننے والوں کے لیے نہایت مفید اور دلچسپ ہیں، عربوں نے بیشمار حیوانات کی فطرت اور ان کی خصوصیتوں کو بغور مطالعہ کیا۔ حمزہ کہتا ہے کہ عربوں کی طرح ایرانیوں کے ہاں بھی مقابلہ کرنے کا معیار حیوانات ہی پر مبنی تھا، چنانچہ ایک ایرانی مقولہ نقل کرتا ہے کہ فوجی خدمت کے لیے وہ شخص موزوں ہے جو شیر ایسا دل، بھیڑیئے ایسی قوت، لومڑی ایسی مکاری، کوے ایسی ہشیاری، سارس ایسی نگہبانی، فاختہ ایسی مقامات کی شناخت، بھیڑ ایسی بچاؤ کی گھاتیں، اور بلی ایسا صبر و استقلال رکھتا ہو، ایک دوسرا مقولہ ہے کہ ’’بادشاہ میں مکھی کی ہمتی، چیونٹی کی قوت، اور عورت کی مکاری ہونی ضروری ہے‘‘، حمزہ کا بیان ہے کہ یہ مقولہ ایک بادشاہ کے سامنے بیان کیا گیا تو وہ بہت ناخوش ہوا، لیکن جب اس سے لوگوں نے یہ کہا کہ مکھی اس قدر دلیر ہوتی ہے کہ بادشاہ کی ناک پر بیٹھ جاتی ہے، چیونٹی اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ اپنے سے بھاری بوجھ کو اپنی پیٹھ پر لے جاتی ہے، عورت اس قدر مکار ہوتی ہے کہ بڑے بڑے چالاک آدمیوں کو دھوکا دے دیتی ہے تو اس کا غصہ بالکل جاتا رہا، حمزہ نے چونکہ اس کو ایرانی مقولوں سے غیر معمولی دلچسپی تھی، اکثر بزرجمہر کے اقوال نقل کئے ہیں، لوگوں نے بزرجمہر سے اس کی شاندار کامیابی کا راز پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ ’’چونکہ میں کوے سے زیادہ سویرے اٹھتا ہوں، ستور کی طرح تحصیل علم کے لئے ہر وقت پریشان رہتا، اور مجھ میں بھیڑیئے کی قوت اور بلی کا صبر و استقلال بھی موجود تھا‘‘، ایک عربی مقولہ کے متعلق جس میں مرغ کی زبردست قوت سامعہ کا بیان ہے، حمزہ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہوا کہتا ہے کہ ’’اسی لئے ایرانی مرغ کو فرزند آفتاب کہتے ہیں‘‘، احر من النار ’’آگ سے زیادہ گرم‘‘ کی تشریح کرتا ہوا حمزہ کہتا ہے کہ اس عربی مقولہ کا مقابلہ ایک ہندوستانی مقولہ سے اچھی طرح کیا جا سکتا ہے، کلیلہ کہتا ہے کہ ’’ہر قسم کی آگ کے لئے ایک دفع کرنے والی چیز موجود ہے، چنانچہ قدرتی آگ کے لئے پانی، زہر کے لئے تریاق، مصیبت کے لئے صبر و استقلال، محبت کے لیے جدائی، لیکن دشمنی کی آگ کو کوئی چیز نہیں بجھا سکتی‘‘، ایک اور عربی مقولہ اعمر من حیۃ (سانپ سے زیادہ دیرپا) کے متعلق حمزہ کہتا ہے کہ عربوں کا خیال تھا کہ سانپ خود نہیں مرتا جب تک کہ مارا نہ جائے، اور ایک ایرانی مقولہ سے اس کا مقابلہ کرتا ہے ( Onager اسی برس اور عقاب تین سو برس زندہ رہتا ہے، لیکن سانپ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اگر مارا نہ جائے ) ۔

اس کتاب کے آخر باب میں جو ایک ضمیمہ کی صورت میں ہے، تیس قصے مذکور ہیں جن میں کچھ حیوانات کے قصے ہیں، اور بقیہ قصوں میں قدیم عربوں کے بیہودہ مراسم اور وہم پرستی کا بیان ہے، مثلاً نگاہِ بد کی بیماریوں اور ان کے علاج اور جھاڑ پھونک وغیرہ کا تذکرہ ہے، ہمعصر ایرانی اور عرب دونوں وہم پرست تھے، دنیا کی کون سی قوم وہم پرست نہیں ہے، انھوں نے خاص کر فال و شگون کو بہت زیادہ ترقی دی، اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمام ایرانی فال ناموں کی ابتدا اگر زیادہ پہلے نہیں تو کم از کم سلطنت ساسانیہ کے زمانہ سے ہوئی، ہم عربوں کے منقولات کے شکر گذار ہیں کہ ان کی وجہ سے فن فال پر ایک نہایت اہم اور پرمغز مضمون ہم تک پہنچا ہے، ہم کو ان چند واہمانہ خیالات کے متعلق تفصیل سے گفتگو کرنے کا موقع ملے گا جو اب تک ہم میں رائج ہیں، اور جن کو چند لوگ ہندوؤں کے اثر کا نتیجہ کہتے ہیں، ان سے خانگی اور سوشل حالات کا پتہ چلتا ہے، اس حیثیت سے حمزہ اپنے ہمعصروں بلکہ بعض وقت جدید مورخوں سے بھی ایک قدم آگے نکل جاتا ہے، ان میں سے اکثر اس زمانہ کے توقعات سے کہیں زیادہ سائینٹفک تاریخ کے اصول و آئین سے واقفیت رکھتے تھے، چنانچہ اگر میری یاد نے غلطی نہ کی ہو تو دینوری نے اپنے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’میں نے باہمی جنگ و فساد کے تذکرے کے بجائے قدیم زمانہ کی طرز معاشرت اور تمدن و تہذیب کی ایک صحیح تصویر کھینچنے کی کوشش کی ہے کیونکہ تاریخ کا اصلی منشا یہی ہے نہ کہ معرکہ آرائیوں کا تذکرہ‘‘، قدیم عربوں کی توہم پرستی حمزہ کے ہمعصروں کے لئے ایک عام موضوع سخن گوئی تھی، چنانچہ نویری نے اپنی دسویں کتاب کے دوسرے حصے میں عربوں کے واہمانہ خیالات کا ایک معتد بہ ذخیرہ جمع کر دیا ہے، آخر حصے میں سترہ مختلف منتروں کا بیان ہے جو عربوں میں عام طور پر رائج تھے،

حمزہ کی کتاب الامثال نے جیسا کہ چاہیے تھا شہرت عام کی سند حاصل کر لی اور بہت سے لوگوں نے اس کے تتبع میں قلم اٹھایا، ان میں سب سے بڑا شخص جو حمزہ سے بھی کسی قدر آگے نکل گیا، میدانی تھا، وہ یورپ میں عربوں کے مثالیہ لٹریچر کا بہترین نمائندہ خیال کیا جاتا ہے، اس نے جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں، حمزہ کی پوری کتاب اپنی تصنیف میں نقل کر دی ہے، میدانی حمزہ کے خرمن علم کی خوشہ چینی کا اعتراف کرتا ہوا کہتا ہے کہ ’’میں نے اپنی کتاب لکھنے کے قبل پچاس کتابوں کا بغور مطالعہ اور اقتباس کیا‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ میدانی نے اپنے عربی اقوال کے مجموعہ میں متفق المضامین ایرانی مقولوں کو جن کو حمزہ نے نمایاں طور پر بیان کیا ہے، بالکل قلم انداز کر دیا، حالانکہ وہ ایرانی النسل تھا، اور فارسی میں لغات عربیہ اور علم النحو پر کتابیں بھی لکھی تھیں،

بلاشبہہ میدانی اور زمخشری ایسے علما اپنے روزانہ کاروبار میں جیسا کہ چند قصوں سے ظاہر ہوتا ہے، بے تکلف فارسی سے کام لیتے تھے، مثلاً زمخشری نے محض میدانی کا مضحکہ اڑانے کے لئے اس کے نام کو ’’نمیدانی‘‘ کی صورت میں بدل دیا، میدانی نے اس کا بدلہ یہ لیا کہ ’’زمخشری‘‘ کے نام کو ’’زن خرید‘‘ کی شکل میں مشہور کر دیا، اس سے یہ ظاہر ہے کہ گو علمی زبان عربی تھی، لیکن مصنفین فارسی سے بھی اچھی طرح آشنا تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ مجوسیوں سے نہایت اچھے تعلقات رکھتے تھے، اور ان کی عربی تصانیف میں اکثر جگہ فارسی اشعار اور فقرے ملتے ہیں، اس کا بھید یہی ہے، کاتبوں نے جو فارسی سے بالکل ناآشنا تھے، ان کی عبارت کی مٹی عجیب طرح پر خراب کی ہے، مثلاً مشکدانہ کو مشکوریہ، مہرزاد کو نہرزاد لکھ دیا ہے، سخاؤ‌Sachau اور ہرورٹ نے ایسے غلط الفاظ کی تصحیح کرنے میں غیر معمولی محنت کی ہے،