جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

جلترنگ

صبح سے اُس کو دو بار نکسیر پھوٹ چکی تھی۔ خالد کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے نتھنوں میں گرم گرم ریت ڈال کر اندر سے جھلسا دیا گیا ہو۔ سانس کی ہوا بھڑکتی ہوئی لالٹین کے دھوئیں کی طرح کثیف اور گھٹی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ تنگ آکر ناک کو رومال سے بند کر لیتا تھا۔ اور منہ کھول کر سانس لینے لگتا تھا۔ لیکن چند ہی لمحوں میں اس کا گلا خشک ہو کر سوکھے ہوئے پتے کی طرح چر چرانے لگتا تھا۔ وہ زور زور سے رو دینا چاہتا تھا لیکن رو نہ سکتا تھا۔ اب وہ سیانا ہو گیا تھا۔ اگلے سال میٹریکولیشن کے امتحان میں بیٹھنے والا تھا۔ محلے کی لڑکیاں جن کے ساتھ وہ مٹی کے گھروندے بنا کر کھیلا کرتا تھا اب اس کے سامنے جسم چرا کر سمٹ جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ اب جمو پہلوان بھی اس کو اپنے ساتھ چارپائی پر بٹھا کر روزنامہ ”انقلاب“ زور زور سے پڑھ کر سنانے کو کہا کرتا تھا۔

جمو پہلوان کے ساتھ چارپائی پر بیٹھنے کا اعزاز محلے میں بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا تھا۔ گلی کے نکڑ پر اس کا تنور تھا جس کے ماتھے پر ”خوش لذیذ ہوٹل از طرفِ جمال دین پہلوان، خادمِ قوم“ کا سائن بورڈ لٹکا رہتا تھا۔ ہوٹل میں ایک باورچی تھا۔ اس کا نام تاج دین تھا۔ لیکن موقع و محل کے لحاظ سے جمو پہلوان اسی خانساماں، بٹلر، بوائے، تاجو اور الو کی دم فاختہ کے مناسب القاب سے بلایا کرتا تھا۔ خوش لذیذ ہوٹل کے عقب میں ایک بوسیدہ چھجہ تھا۔ جس کے نیچے بہت سی ٹیڑھی ترچھی چارپائیاں بچھی رہتی تھیں۔ شہر میں آئے ہوئے مقدمہ باز دیہاتیوں میں یہ جگہ بہت ہر دل عزیز تھی۔ کیونکہ جمو پہلوان صرف 12 آنے نقد کے عوض انھیں کھانے کے لیے گوشت اور چپاتی، سونے کے لیے ایک چیں بہ جبیں چارپائی اور مقدمہ لڑنے کے لیے مشورہ مفت دیا کرتا تھا۔ ہاری ہوئی اسامی کے لیے وہ بڑی چابک دستی سے اپیل دائر کرنے کے ٹوٹکے، گرمیوں میں دہی کی لسی، اور سردیوں میں چائے کے ساتھ تازہ پراٹھے تیار رکھتا تھا۔ جیتنے والوں کے لیے تاج دین مرغ ذبح کر لیتا تھا۔ یا پلاؤ اور قورمے کے ساتھ شامی کباب بنا لیتا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ ایسے موقعوں پر ”خوش لذیذ ہوٹل“ کے نرخ بے لذت حد تک اونچے چڑھ جاتے تھے۔ لیکن اگر ڈوبتی ہوئی امیدوں کو تنکے کا سہارا ملے اور بلّیوں کی طرح اچھلتے ہوئے دل کے سامنے عین موقع پر بھنا ہوا مرغ اور کرارے کرارے شامی کباب رکھ دیے جائیں تو وکیلوں، مختاروں، پیشکاروں اور کلرکوں کی زد سے بچے ہوئے چند حقیر ٹکے یاروں کے یار جمو پہلوان کے ہوٹل میں خرچ کرنے میں بھلا کس کو اعتراض ہو سکتا تھا۔

ہوٹل کے سامنے سڑک پر ایک مضبوط چارپائی پڑی رہتی تھی۔ اس پر جمو پہلوان تکیہ لگا کر میرِ مجلس کی حیثیت سے بیٹھتا تھا۔ گاہکوں، ملاقاتیوں اور مسافروں کے لیے آس پاس لکڑی کے بینچ اور لوہے کی کرسیاں پڑی رہتی تھیں۔ بیٹھے بٹھائے کئی بار پہلوان کو شک ہوتا تھا کہ شاید گوشت ٹھیک طرح بھونا نہیں گیا۔ شاید کبابوں میں مرچ زیادہ ہو۔ شاید قیمہ میں نمک کم ہو۔ اس لیے وہ گھڑی دو گھڑی کے بعد اپنے خانساماں، بٹلر یا بوائے کو آواز دے کر گوشت کا بھرا ہوا پیالہ یا کبابوں کی پلیٹ منگوا کر چکھ لیا کرتا تھا۔ کبھی کبھی تاج دین صدائے احتجاج بلند کرتا تھا کہ ”پہلوان ایک ہی دفعہ اطمینان سے کیوں نہیں کھا لیتے؟ اب ہوٹل کی بکری کے لیے خاک چیز بچے گی؟“

”ابے چل کہیں کا۔ الو کی دم فاختہ نہ ہو“۔ پہلوان اپنے چوڑے چکلے سینے پر ہاتھ مارتا تھا۔ ”جان ہے تو جہان ہے۔ پیارے! تیرے باپ کی کمائی کھاتا ہوں، سالے! آیا بڑا ہوٹل کا مالک...“!

مالک تو جو ہو سو ہو لیکن ”خوش لذیذ ہوٹل“ کو لذیذ رکھنا تاج دین کا فرض تھا۔ چنانچہ اس فرض کی انجام دہی کے لیے وہ بھی عموماً دروازے کی اوٹ میں بیٹھ کر سالن اور کبابوں کا نمک چکھ لیا کرتا تھا۔ خادمِ قوم اور خادمِ ہوٹل کی باہمی فرض شناسی کا سارا نزلہ بچارے مسافروں پر گرتا تھا۔ لیکن جمو پہلوان کا مربیانہ برتاؤ اور حکیمانہ چرب زبانی کبھی کسی کو یہ محسوس کرنے کی اجازت نہ دیتی تھی کہ سالن میں بوٹیوں کی جگہ بڑے بڑے پیاز تیر رہے ہیں اور کبابوں میں قیمہ سے زیادہ بیسن کی ملاوٹ ہے۔

شام کے وقت خالد جب اسکول کے کھیلوں سے لوٹتا تو جمو پہلوان اسے آواز دے کر اپنی چارپائی پر بٹھا لیتا تھا۔ ”آؤ بیٹا خالد بابو! ارے او تاج دین ایک پلیٹ میں بھنی ہوئی مسالہ دار بوٹیاں تو لا ذرا، دیکھتے نہیں بیٹا خالد بابو آیا ہوا ہے“۔ جب پہلوان اور خالد دونوں مل کر بوٹیوں کا چٹخارہ ختم کر لیتے تو ”روزنامہ انقلاب“ کا دور شروع ہوتا تھا۔ خالد فر فر اخبار سناتا اور جمو پہلوان لیٹے ہی لیٹے خبروں پر تبصرہ جاری رکھتا۔ وہ شہیدان طرابلس کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے رضا کاروں کی ایک ٹولی کے ساتھ بمبئی، کلکتہ اور حیدرآباد کی طرف گھوما ہوا تھا۔ اس لیے وہ بین الاقوامی معاملات پر رائے زنی کرنا اپنا علمی حق سمجھتا تھا۔ جمو پہلوان کے ریویو میں دو چار چیزیں خاص طور پر نمایاں ہوتی تھیں۔ آگرہ کے پچھم میں چین کا بادشاہ۔ بمبئی کے پاس ہانگ کانگ کا ملک۔ انگریزی ولایت کے عقب میں طرابلس کا میدان جنگ۔ توپوں کے دہانے کو ہاتھوں سے چیر دینے والے جوان ترک۔ کلکتہ کے ہوٹلوں میں ننگی ناچنے والی میمیں! خالد کو عموماً اس بے تکی لاف بازی پر ہنسی آتی تھی۔ لیکن وہ پہلوان کو ٹوکنا خلافِ مصلحت سمجھتا تھا۔ ایسا کرنے سے نہ صرف جمو پہلوان کی چارپائی پر بیٹھ کر مسالہ دار بوٹیاں اڑانے کا مزا کرکرا ہو جانے کا ڈر تھا بلکہ پہلوان کی نظر میں خالد کا علمی درجہ گر جانے کا بھی اندیشہ تھا۔چنانچہ پہلوان کو ٹوکنے کی بجائے خالد اس کی باتوں میں مناسب طور پر لقمہ ہی دیا کرتا تھا۔ پہلوان خوش ہو کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا۔ ”شاباش بیٹا خالد بابو! خوب علم کما رہے ہو یار۔ جلدی جلدی کالج کر لو بیٹا۔ ڈپٹی کمشنر بن کے رہو گے! جی ہاں، جمال دین، خادمِ قوم کی بات پتھر پر لکیر سمجھو، ہاں!“

ڈپٹی کمشنر کا نام سن کر مقدمہ باز مسافروں کے کان کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ دم بھر کے لیے حقہ کی لے چھوڑ کر خالد کو ایک عجیب سی عقیدت مندی کے ساتھ دیکھنے لگتے تھے۔ اس وقت ان کے دل میں خفیہ سے ارمان اٹھتے تھے کہ کسی روز وہ اپنے بیٹوں کو شہر لا کر خالد سے ملا دیں۔ قسمت تو سب کی اپنے اپنے ساتھ ہے۔ لیکن کون جانتا ہے کہ یہ ملاقات کسی وقت ان کے بیٹوں یا پوتوں کی مقدمہ بازی میں کام آ جائے۔ ”پتا پر پوت، گھوڑے پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا!“ جمو پہلوان کہا کرتا تھا۔ ”کیوں نہ ہو اپنے باپ کا بیٹا ہے۔ شاباش میرے شیر جلدی جلدی کالج کر لو!“

جمو پہلوان کے منہ سے اپنے باپ کا ذکر سن کر خالد کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بھی آگرے کے پچھم میں چین کے بادشاہ کی طرح کوئی فرضی ہستی ہے۔ اس نے اپنے ماں باپ کو دیکھا تک نہ تھا۔ وہ ابھی ڈیڑھ برس کا تھا۔ جب اس کے والدین ریل کے حادثے میں کٹ کر مر گئے تھے۔ خالد کو اس کے ماموں نے اپنے زیرِ سایہ لے لیا تھا۔ ماموں تو تجارت کے لیے زیادہ عرصے باہر رہتے تھے۔ لیکن ممانی نے خاصی توجہ سے اس کو پالا تھا۔ وہ کسی حد تک اس کے ساتھ شفقت کا برتاؤ بھی کرتی تھی۔ البتہ جہاں معاملہ خالد اور عزیزہ کے درمیان ہو وہاں ممانی کا انصاف کھلم کھلا عزیزہ کا ساتھ دیتا تھا۔ عزیزہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ عمر میں خالد سے تین برس بڑی تھی۔ لیکن خالد مجبوراً اسے کندھے پر بٹھا کر بازار لے جایا کرتا تھا۔ عزیزہ غصے میں آکر اس کا منہ نوچ لیتی تھی، قلم توڑ دیتی تھی، کتاب پھاڑ دیتی تھی۔ اور اگر ممانی سے پٹتا تھا تو غریب خالد۔ ایک روز وہ دونوں رضائی میں لیٹے ہوئے بیس تک گنتی یاد کر رہے تھے۔۔ کسی بات پر الجھ گئے۔ عزیزہ نے کھٹ سے اس کی گردن میں کاٹ کھایا۔ خالد کی قمیض خون سے لت پت ہو گئی۔ اور وہ شاید پہلا موقع تھا جب ممانی نے خالد کی وجہ سے عزیزہ کے منہ پر ایک زور کا تھپڑ مارا۔۔ خالد کی گردن پر بائیں طرف دانتوں کا ایک گہرا نشان اب تک نئے چاند کی طرح نمایاں تھا۔