شاید یہ بچپن کے دبے ہوئے نقوش تھے جن کی وجہ سے خالد کے دل میں اب تک عزیزہ کے لیے ایک نا فہم سی بے اعتنائی، شاید ڈر، شاید نفرت، شاید تینوں کا ملا جلا جذبہ باقی تھا۔ وہ عزیزہ کے ساتھ نہایت سرد مہری کا برتاؤ کرتا تھا۔ عزیزہ اس کے ساتھ ہنستی تھی، وہ کتاب کھول لیتا۔ عزیزہ اس سے پڑھنے آتی تھی۔ وہ سو جاتا تھا۔ عزیزہ اس کے ساتھ خوبصورت باتیں کرنے کی کوشش کرتی تھی، وہ رکھائی سے ٹال دیتا تھا۔۔ لیکن عزیزہ تیوری پر بل نہ لاتی تھی۔ وہ اس کے آرام کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتی تھی۔۔ ماں کی نظر بچا کر وہ خالد کے دودھ میں ملائی کے موٹے موٹے ٹکڑے ڈال دیتی تھی۔ اس کے کپڑوں پر استری کر دیتی تھی۔ کمرے کی چیزیں قرینے سے سجا رکھتی تھی۔ اگر خالد کے سر میں درد ہوتا تھا تو سر دبا دیتی تھی۔۔ اگر فٹ بال کھیلتے ہوئے اس کے پاؤں میں موچ آجاتی تھی تو اس کی رضائی میں بیٹھ کر گھنٹوں پاؤں دباتی رہتی تھی۔۔ ایک روز ممانی پڑوس کی شادی میں گئی ہوئی تھیں۔ خالد انفلوئنزا کے شدید بخار میں مبتلا پڑا تھا۔ اس کے انگ انگ میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ عزیزہ نے اس کا سر دبایا، بازو دبائے، کمر دبائی، گھٹنے دبائے، لیکن خالد کراہتا رہا۔ عزیزہ نے کہا، ”میں ایک ترکیب بتاؤں خالد؟ تم سیدھے لیٹ جاؤ، میں تمہارے جسم پر ایک ساتھ دباؤ ڈالتی ہوں“۔ عزیزہ نے کمبل میں کھسک کر اپنے بھرپور جسم کا سارا گداز خالد پر ڈھیر کر دیا۔ خالد ریشم کے تانے بانے میں الجھ گیا۔ جال کی لڑیاں اس کے بدن میں پیوست ہوتی گئیں۔ عزیزہ نے لاکھ کہا کہ ”میرے خالد ذرا ٹھہر جاؤ۔ تم ابھی ٹھیک ہو جاؤ گے“۔ لیکن وہ جھنجلا کر اٹھا اور کمبل اوڑھ کر دوسرے پلنگ پر جا لیٹا۔
اگلے سال وہ میٹرک کا امتحان دینے والا تھا۔ اسکول میں گرمی کی چھٹیاں ہو گئی تھیں۔ وہ صبح سویرے کتابیں لے کر کمپنی باغ چلا جاتا تھا، اور دوپہر تک آموں کی چھاؤں میں لیٹ کر پڑھتا رہتا تھا۔ اب وہ کئی روز سے کمپنی باغ نہ جا سکا تھا۔ کیونکہ دوپہر کے وقت اسے نکسیر آ جاتی تھی۔ ممانی کا خیال تھا کہ گرمی کا غبار ہے، تھوڑا بہت نکل جائے تو اچھا ہے۔ تاہم احتیاط کے طور پر اس نے خالد کو گاجروں کی کلونجی بنا دی تھی۔ اور صبح و شام تازہ مکھن میں کالی مرچ اور کدو کے مغز ملا کر اسے چٹا دیتی تھی۔ لیکن آج صبح سے اس کو دو بار نکسیر پھوٹ چکی تھی۔ خالد کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے نتھنوں میں گرم گرم ریت ڈال کر اندر سے جھلس دیا گیا ہو۔
اس نے بیزار ہو کر تولیہ کندھے پر ڈالا، اور غسل خانے کی طرف چل دیا۔ شاید ٹھنڈے پانی کی بالٹی میں سر ڈبو کر اسے تسکین حاصل ہو۔۔ لیکن غسل خانہ کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ اسے غصہ آیا۔ یہ بھری دوپہر میں بھی کوئی نہانے کا وقت ہے بھلا؟ وہ غصے سے بڑبڑاتا ہوا گھوما۔ اور گھومتے ہی یونہی نادانستہ طور پر اس نے کھڑکی کی ایک دراڑ سے اندر کی طرف جھانکا۔ جھانکتے ہی اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ اور بجلی کی طرح تڑپ کر پیچھے ہٹ گیا۔ پھر وہ لمحہ بھر کیلئے رکا۔ ٹھٹکا، جھجکا اور چوروں کی طرح ادھر ادھر ایک بار پھر جھانکا۔ گھوما۔ پھرا۔ ہچکچایا۔ لیکن پھر جھانکا۔ اس بار اس کی آنکھیں دراڑ کے ساتھ جم کر لگ گئیں۔ جیسے مقناطیس کے ساتھ لوہے کا ٹکڑا چمٹ جائے!
یہ عزیزہ تھی۔ وہ جگمگاتے ہوئے موتی کی طرح صدف سے باہر کھڑی تھی۔ یا شاید وہ بجلی کی ایک آوارہ لڑی تھی جو کالی گھٹاؤں کے دبیز پردوں سے باہر نکل آئی ہو۔ اس نے اپنے گھنے بالوں کی لٹوں کو کھولا۔ اور ہاتھی دانت کی چھوٹی سی کنگھی ان کے پیچ و خم میں الجھا کر دیر تک آنکھ مچولی کھیلتی رہی۔ پھر اس نے زلفوں کے انبار چھوڑ دیے۔ بازو اٹھا کر دونوں ہاتھ جوڑے اور کمان کی طرح تن کر انگڑائی لی۔ خالد ڈرا کہ شاید زلزلہ آ جائے گا۔ اور سنگِ مرمر کے دو تاج محل گر کر چور چور ہو جائیں گے۔ آگرہ میں محبت کا ایک مرمریں خواب سویا ہوا ہے۔ آگرہ کے پچھم میں چین کا بادشاہ حکومت کرتا ہے۔ لیکن آگرہ کے اس طرف بھی تاج محل ہیں۔ برفیلی چوٹیوں کی طرح دمکتے ہوئے کوہستان۔ ہمالیہ کی چھاتی پر بنائے ہوئے بلوری منارے۔ عزیزہ نے دونوں ہاتھوں سے بال سمیٹ کر بالٹی میں ڈال دیے۔ پھر اس نے سر اٹھا کر گردن کو ذرا زور سے جھٹکا دیا۔ برسات کی کالی گھٹائیں بکھر کر چھا گئیں۔ بارش کی پھوار فضا میں جھلملانے لگی۔ ایک گستاخ قطرہ صبح کے ستارے کی طرح تاج محل کے کلس سے لٹک گیا۔ عزیزہ شرارت سے اس پر پھونکیں مارنے لگی۔ وہ جھولتا رہا۔ جیسے سفید گلاب پر جڑے ہوئے شبنم کے موتی کو نسیمِ سحر جھولا جھلا رہی ہو۔ اور جب وہ مجبور ہو کر ایک مچلتے ہوئے آنسو کی طرح گرنے لگا تو عزیزہ نے جھک کر اسے اپنے ہونٹوں کی گود میں دبوچ لیا۔ وہ نہا رہی تھی۔ پانی کی لہریں پہاڑی چشموں کی طرح اپنا جلترنگ بجانے لگیں۔ تاج محل کے دامن میں جمنا کے سیمابی دھارے بہنے لگے۔ کوہساروں پر کہکشاں کا غبار سا چھا گیا۔ کائنات کی رگ رگ سے قوسِ قزح کے فوارے چھوٹنے لگے۔ یہ مچلتا ہوا سیلاب کہاں جا رہا ہے؟ اس طوفان کی شورش کو کس سمندر کی گود سنبھالے گی؟ خالد کی باہیں سانپ کی طرح بل کھا کر کھڑکی کی سلاخوں کے ساتھ لپٹ گئیں۔ پتھر کی دیوار میں ریشم ایسا لوچ آ گیا۔ وہ دمبدم دیوار کے سینے میں سمایا جا رہا تھا۔ شاید اگلے لمحے وہ جھپاک سے اندر جا گرے گا۔ گرتے گرتے اس کو ایک جھٹکا سا لگا۔۔ اس کی آنکھیں دم بھر کے لیے بند ہو گئیں۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ برفانی چوٹیوں کے ساتھ لپٹا ہوا لٹو کی طرح گھوم رہا ہے۔ وہ تڑپ کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے سر کو جھٹکا دے کر، آنکھیں کھول دیں، اور جلدی سے اپنی خشک ناک پر رگڑنے لگا۔ اسے شک ہوا کہ شاید نکسیر پھر سے بہنے لگی۔
