ان کیمیا دانوں نے اپنی فوج کو اس کے معلومات بہم پہنچائے نیز اس گیس سے محفوظ رہنے کے طریقے و تدابیر بھی بتلادیئے مگر اتفاق سے اس لکچر میں مخالفین کے خفیہ لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے اپنی فوج کو اس گیس کا علم کرایا اور کل لکچر اپنی فوج کے سامنے دہرا دیا انہوں نے اس قسم کی گیس تیار کر لی اور اس کے لیے گیس روک نقاب بھی فراہم کر لیے گئے۔ جب جرمنوں نے اس گیس کو استعمال کیا تو دشمنوں پر کچھ اثر نہ ہوا۔ سب سے پہلا گیسی حملہ جو کہ برطانیہ نے جنگ عظیم میں کیا وہ 25 ستمبر 1915ء میں ہوا۔ چونکہ جرمنوں کو اپنی ہی پیدا کردہ گیسوں میں ناکامی ہوئی اس لیے انہوں نے دوسری گیس تیار کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ساتھ ہی ساتھ فرانسیسی بھی اسی خیال میں منہمک رہے۔ چنانچہ انہوں نے ایسے (Shell) شل تیار کیے جس میں فاسچین گیس بھر دی جاتی تھی اور اس کے ساتھ چند آتشگیر مادے بھی رکھ دیئے جاتے تھے تاکہ دشمن پر ان شلوں کو پھینکنے سے معمولی سے تصادم پر آتشگیر مادوں کی وجہ سے شل پھوٹ پڑے اور فاسچین گیس ان پر نکل پڑے۔ اوّل الذکر گیس یعنی کلورین گیس شکل کی ہے مگر فاسچین مائع ہے۔ اس طریقہ سے فرانسیسیوں کو 1916ء میں اچھی خاصی کامیابی ہوئی مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ جرمن سائنس سے کافی دلچسپی رکھتے ہیں انہوں نے چند ہی دنوں میں اس سے بہتر ذرائع حاصل کر لیے۔ 1917ء میں ہر قوم نے اپنی اپنی معلومات کی بنا پر شل تیار کیے جرمنوں کے تیار کردہ شلوں میں ٹرائی کلورو میتھل فارمیٹ، کلورو پکرین اور چند آتشگیر مادے ہوتے تھے، فرانسیسیوں نے اپنے شلوں میں فاسچین اور پرشک ترشہ استعمال کیا، اور برطانیہ کے شلوں میں کلورو پکرین اور چند آتشگیر مادے موجود ہوتے تھے۔
1917ء میں جرمنوں نے دو نئی گیسیں معلوم کیں۔ انہوں نے اس گیس کے لیے دو چیزوں کے خواص کا مطالعہ کیا۔ ان میں سے ایک تو ڈائی کلورو ایتھل سلفائڈ جو عام طور پر مسٹرڈ گیس (Mustard Gas) کے نام سے موسوم ہے اور دوسرے کا نام ڈائی فینل کلورو آرسین ہے۔ مسٹرڈ گیس ہی وہ شے ہے جو جنگ عظیم میں کئی ایک اشخاص کی جان لینے کی تنہا ذمہ دار ہے۔
اوّل الذکر گیسوں یعنی کلورین اور فاسچین کو سپاہی ان کی تیز بو کی وجہ سے معلوم کر سکتے تھے اس سے فائدہ یہ تھا کہ سپاہیوں کو ہر وقت نقاب لگائے رکھنا نہ ہوتا تھا بلکہ جب وہ کسی گیس کی بو محسوس کرتے، نقاب لگا لیا کرتے تھے ورنہ آزادی سے نقل و حرکت کرتے، کیونکہ نقاب باندھنے سے سپاہی کی نقل و حرکت، گفت و شنید اور کھانے پینے میں کافی دقت ہوتی ہے مگر مسٹرڈ گیس میں یہ خصوصیت تھی کہ اس میں تیز بو مطلق نہ تھی۔ یہ اپنے زہریلے عمل سے انسان کو کام کرنے سے معذور بنا دیتی ہے۔ یہ گیس انسان کی آنکھوں اور پھیپھڑوں پر اپنا عمل کرتی ہے اگر زمین میں نمی ہو تو اس کا اثر کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک رہ سکتا ہے اور جب تک اس کا اثر زمین پر رہتا ہے اسی طرح کا زہریلا اثر رکھتی ہے اور اگر اس قطعہ زمین کی آب و ہوا اتفاق سے گرم ہو تو اس کا عمل اور بھی تیز ہو جاتا ہے۔ یہ گیس انسان کے آنکھ اور پھیپھڑوں پر عمل کرنے کے علاوہ جلد پر آبلے لے آتی ہے جو بہت ہی تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ ڈائی فینل کلورو آرسین ایک ٹھوس مادہ ہے جو اگر ہوا میں مناسب اجزا میں ملا ہو تو چھینکیں آتی ہیں اور حلق اور ناک میں سخت تکلیف ہوتی ہے۔ بڑے بڑے شلوں میں اس مادہ سے بھری ہوئی شیشیاں رکھ دی جاتی ہیں اور جب شل پھوٹ پڑتے ہیں تو یہ مادہ باریک سفوف کی شکل میں نکل پڑتا ہے۔ جب تک کہ اس کے بچاؤ کے لیے نقاب نہ استعمال ہوں اس مادہ کا باریک سے باریک ذرہ بھی وہی زہریلا عمل کرتا ہے۔
جب جرمنوں نے دیکھا کہ اپنی مخالف فوج کو فاسچین گیس کا علم ہو گیا ہے اور اس کے بچاؤ کے لیے وہ نقاب استعمال کرنے لگے ہیں تو انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ سپاہیوں کو کسی طرح سے مجبور کر دیا جائے کہ وہ نقاب نکال کر پھینک دیں تاکہ زہریلی گیس کا عمل ہو سکے۔ چنانچہ کئی دن کی کوشش کے بعد ڈائی فینل کلورو آرسین مادہ کے خواص کا مطالعہ کر کے جنگ میں استعمال کیا گیا۔ اس مادہ کے استعمال سے سپاہی اپنے نقاب نکال دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ اس سے چھینکیں آتی ہیں اور حلق اور ناک میں جلن محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بعد مسٹرڈ گیس یا فاسچین گیس کا عمل کر کے سپاہیوں کو جنگ سے ناکارہ کر دیا جاتا ہے وہ آہستہ آہستہ ہلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ فاسچین گیس کے سونگھتے ہی ہلاکت واقع ہوتی ہے اور مسٹرڈ گیس کو سونگھنے سے آبلے وغیرہ آ جاتے ہیں۔
گیس کا استعمال آج کل بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے استعمال سے سپاہیوں کو کافی دقت محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس سے بچنے کے لیے گیس روک نقاب استعمال کرنا پڑتا ہے جو اچھے خاصے وزنی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سپاہی کی فوجی استعداد کمتر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس کے استعمال سے اس کی سماعت و بصارت پر اثر پڑتا ہے اور اس کو بات چیت کرنے میں کافی دشواری ہوتی ہے۔ نیز نقاب لگائے ہوئے کچھ کھا یا پی نہیں سکتے۔ جنگ عظیم میں برطانیہ کے 16 فی صدی اور امریکہ کے 33 فی صدی حادثات صرف اسی گیس کے استعمال سے واقع ہوئے ہیں۔
زہریلی اشیاء کے کئی اقسام ہیں:
(1) ایسی گیسیں جو زیادہ عامل ہوتی ہیں جو پھیپھڑوں پر فوراً اثر کرتی ہیں مثلاً کلورین اور فاسچین۔
(2) ایسی گیسیں جو آنکھ، ناک، اور تنفس کے اندرونی نظام پر عمل کرتی ہیں مثلاً ڈائی فینل کلورو آرسین۔ اس کے عمل سے مسلسل چھینکیں آتی ہیں، آنکھوں میں کافی تکلیف محسوس ہوتی ہے ناک میں جلن اور حلق میں خراش پیدا ہوتی ہے۔
(3) ایسی شے جو اپنے عمل سے انسان کو اندھا بنا دیتی ہے اور آنکھوں میں ناقابل برداشت تکلیف محسوس ہوتی ہے مثلاً زائلل برومائڈ5۔
(4) ایسی اشیاء جو انسان کو فوراً ہی ہلاک کر دیتی ہیں مثلاً پرشک ترشہ اور ہائڈرو سیانک ترشہ۔
(5) وسی کنٹس مثلاً مسٹرڈ گیس جس کے زہریلے اثر سے جسم پر آبلے آ جاتے ہیں اور آنکھیں بے کار ہو جاتی ہیں کیونکہ آنکھوں سے مسلسل اشک باری شروع ہو جاتی ہے اور سپاہی جنگ کے لیے ناکارہ ہو جاتا ہے۔
نیچے دیئے ہوئے خاکہ کے پہلے خانہ میں گیسوں کے نام بتلائے گئے ہیں، دوسرے خانہ میں ہوا میں ان گیسوں کا تناسب اس قدر ہو جائے تو گیس اپنا مہلک و زہریلا اثر دو منٹ میں پیدا کرتی ہے اور آخری خانہ میں ان قوموں کے نام بتلائے گئے ہیں جنہوں نے جنگ عظیم میں گیس مذکور کو استعمال کیا۔
| سلسلہ | نام شے | ہوا میں تناسب | تاریخ انکشاف | نام قوم |
|---|---|---|---|---|
| 1 | کلورین | 1 : 10000 | 1915ء | برطانوی، فرانسیسی، جرمن |
| 2 | فاسچین | 1 : 100000 | 1915ء | برطانوی، فرانسیسی، جرمن |
| 3 | ٹرائی کلورو میتھل کلورو فارمیٹ | 1 : 200000 | 1916ء | فرانسیسی، جرمن |
| 4 | کلورو پکرین | 1 : 200000 | 1915ء | برطانوی، فرانسیسی، جرمن |
| 5 | زائلل برومائڈ | 1 : 2000000 | 1915ء | جرمن |
| 6 | ہائڈرو سیانک ترشہ | 1 : 2000 | 1916ء | برطانوی، فرانسیسی |
| 7 | ڈائی فینل کلورو آرسین | 1 : 10000000 | 1917ء | جرمن |
| 8 | ڈائی فینل سائن آرسین | 1 : 10000000 | 1918ء | جرمن |
| 9 | مسٹرڈ گیس | 1 : 1000000 | 1917ء | برطانوی، فرانسیسی، جرمن |
