کلورین کی مثال پر غور کیجئے۔ خاکہ سے معلوم ہو گا کہ اگر ہوا کے دس ہزار حصوں میں اس گیس کا ایک حصہ ہو تو زہریلا اثر ہوتا ہے اس سے بچنے کے لیے ہر قوم اپنی اپنی سہولت کے مد نظر کئی قسم کے نقاب استعمال کرتی ہے مگر سب کا عمل ایک ہی ہے کہ انسان زہریلی ہوا کے بجائے اچھی اور پاک و صاف ہوا کی سانس لے سکے۔ اس کے لیے ہوتا یہ ہے کہ زہریلی گیس نقاب سے ہوتی ہوئی صاف ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے ایک چھوٹے سے ڈبہ میں سوڈیم تھیو سلفیٹ6 اور سوڈیم کاربونیٹ7 کے محلول میں ڈوبی ہوئی روئی رکھی ہوتی ہے جو منہ پر بندھا ہوتا ہے اس قسم کا نقاب سب سے پہلے بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد ایسے نقاب بنائے گئے جو سر پر چڑھا دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھوں اور پھیپھڑوں کی بخوبی حفاظت ہوتی ہے۔ آج کل ڈبہ میں چار کول8 استعمال ہوتا ہے اور ناک کو کلپ کر دیا جاتا ہے جس سے انسان ناک سے سانس نہیں لے سکتا بلکہ منہ سے ہی سانس لینے اور چھوڑنے کا کام لیتا ہے اور منہ کا تعلق نقاب کی ایک نلی کے ذریعہ ہوتا ہے اور نقاب سر پر بندھا ہوتا ہے جس سے آنکھ کی بھی حفاظت ہو سکتی ہے۔ فرانسیسی گیس روک نقاب میں کمال یہ ہے کہ اس میں آئینوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے جس سے سپاہی اچھی طرح دیکھ بھی سکتا ہے۔
آج کل گیس کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ معمولی سے معمولی فساد میں گیس استعمال کی جاتی ہے اگر فساد برپا ہو جائے اور مجمع منتشر نہ ہو سکے تو لاٹھی چارج وغیرہ کا عمل نہیں ہوتا بلکہ ایسی گیس استعمال کی جاتی ہے جس سے انسان کو مسلسل چھینکیں آتی ہیں اور آنکھوں میں تکلیف ہوتی ہے آنسو بہنے لگتے ہیں جس سے لوگ پریشان ہو کر منتشر ہو جاتے ہیں ان گیسوں میں سے بعض گیسوں کا یہی عمل ہوتا ہے کہ انسان کو ہلاک کرنے کے بجائے اس کو جنگ سے ناکارہ کر دیا جائے نیز بعض ایسی بھی گیسیں ہیں جو انسان کی ہلاکت کا فوراً باعث ہوتی ہیں دوسری گیسیں ایسی ہیں جو انسان کو فوراً ہلاک نہیں کرتیں بلکہ اس سے ناقابل برداشت تکلیف ہوتی ہے اور انسان تڑپ تڑپ کر جان دیتا ہے۔ یہ عمل اس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے کہ بہادر سے بہادر سپاہی بھی اس کی تاب نہیں لا سکتا اور فوراً ہی دوسرے سپاہیوں کو اس تکلیف میں مبتلا دیکھ کر میدان چھوڑ دیتا ہے بعض سپاہیوں نے یہ بھی کیا ہے کہ اس تکلیف اور مسلسل اشک باری و چھینکوں سے تنگ آ کر اور تکلیف کی تاب نہ لا کر خود کشی کر لی ہے۔
قیاس کیا جاتا ہے کہ گذشتہ جنگ حبش و اطالیہ میں مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا گیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اطالیہ کو بہت جلد فتح نصیب ہوئی اور حبشی جیسے بہادر و طاقتور و دلیر سپاہیوں نے بہت جلد میدان چھوڑ دیا کیونکہ حبشیوں کے ہاں گیس روک نقاب مطلق نہ تھے۔
کسی جنگ میں گیس کے استعمال کے بعد اس ملک میں خصوصاً اور اطراف و اکناف کے ممالک میں عموماً طرح طرح کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں چنانچہ جنگ عظیم کے بعد ہندوستان میں تک اس کے مضر اثرات پیدا ہو گئے تھے۔ سنا جاتا ہے کہ گذشتہ جنگ حبشہ میں گیس کے استعمال سے حجاز وغیرہ میں ایک نئے قسم کا مرض نمودار ہوا تھا۔ مرض کے حملہ کا اولین اثر دماغ پر ہوتا تھا۔ مریض کے ہوش و حواس فوراً غائب ہو جاتے تھے اس کے بعد وہ دیوانہ بن جاتا اور کچھ دیر بعد زندگی کی آخری سانس لیتا۔
یہ قیاس کرنا بیجا نہ ہو گا کہ آئندہ جنگوں میں بجائے تلواروں، بندوقوں اور توپوں کے گیس استعمال کی جائے گی۔
محمد خادم حسین قریشی بی ایس سی (عثمانیہ)
