عام طور پر کہا جاتا ہے اور بالکل سچ کہا جاتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے خدا نے اس کو انی جاعل فی الارض خلیفۃ کا طغرائے امتیاز عطا کیا ہے۔ اس غیر معمولی شان امتیازی کے بموجب اگر اس نے خدا کی دیگر مخلوقات پر حاکمانہ اقتدار حاصل نہ کیا، حیوانوں اور معمولی جانوروں کی طرح صرف کھانے پینے کے اسباب مہیا کرنے پر اکتفا کیا تو اس کے اشرف و اعلیٰ ہونے کا مفہوم بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
انسانی ارتقا کی تاریخ شاہد ہے کہ اس کا ابتدائی زمانہ غاروں، صحراؤں، اور جنگلوں میں بسر ہوا، عریانی اس کا لباس تھا، چند پرندوں کو اپنے بھدے آلات کے ذریعہ شکار کر لینا اس کی معاشی جد و جہد کا منتہٰی تھا لیکن اس میں امتداد زمانہ کے ساتھ جب ایک حد تک تہذیب پھیلی تو اس کی زندگی میں تدریجاً وسعت پیدا ہوتی گئی حتٰی کہ آج اس کی زندگی کے کارناموں پر غور کیجئے تو معلوم ہو گا اس نے سمندر پاٹے، پہاڑ کاٹے، ریگستان روندے، برفستان کھوندے، جنگل میں منگل منائے، سمندر سے موتی رولے، زمین کے دفینے کھولے، کرۂ ارض کی طنابیں کھینچیں، آگ و پانی کے عمل سے دنیا کو مسخر کر لیا، چیزیں اتنی بنائیں کہ ان کا حد نہ حساب اور ہر ایک ایسی انوکھی کہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جائے اور ابھی نچنت ہو کر بیٹھنے کا نام نہیں لیتا بلکہ جس قدر اس کی استطاعت بڑھتی ہے تحقیق و تجسس کے جذبات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ انسان کی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں بالواسطہ یا بلاواسطہ سائنس کی شعبدہ بازیاں کارفرما نہ ہوں اس لیے روز مرہ زندگی میں سائنس کی کارگزاریوں کو ایک ایک کر کے گنانا گویا آسمان کے تاروں کو گننا ہے۔
یوں تو انیسویں صدی کے آخر تک سائنس کی ترقی تدریجی رہی اور انسان سال بہ سال نئی نئی چیزوں سے واقف ہوتا گیا مگر بیسویں صدی میں سائنس کی ترقی اسراعی رہی اور ان 35 سال کی ایجادات و اختراعات کو شمار کرنا کوئی آسان امر نہیں۔ بناء بریں ہمارا زمانہ ”زمانہ سائنس“ کہلاتا ہے۔ ان ایجادات میں اکثر ایسی اشیاء ہیں جو انسان کی زندگی کو خوش حال بناتی ہیں اور انسان روز بروز ان سے مستفید ہو رہا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ چند ایسی بھی اشیاء ہیں جو انسان کی زندگی کے لیے باعث ہلاکت ہیں یعنی جہاں انسان نے سائنس سے مفید نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی اسی طرح اس کو بہتر اور مفید نتائج حاصل ہوئے اور برعکس اس کے سائنس کے غلط اور ناجائز استعمال سے وہ اپنے ہی بھائیوں کی ہلاکت کی اشیاء تیار کرنے میں منہمک رہا اور کامیاب بھی ثابت ہوا۔ انسان کی تخلیق کے ساتھ یہ متفقہ طور پر مسلمہ ہے کہ دنیا اور اس کے ان گنت عوالم، نسیم کے ہلکے ہلکے جھونکے، اجرام فلکی، بساط آسمان پر آفتاب و ماہتاب، فرش زمین پر عالم نباتات کی نیرنگیاں، طبقات ارضی کے اندر قیمتی دھاتوں کے معدنیات، اونچے اونچے درخت بلند بلند پہاڑ، وسیع ترین سمندر، ارض و سما کے مابین یہ معلق فضا اور دوسری محسوس و غیر محسوس مخلوقات خدا نے بے کار پیدا نہیں کیں بلکہ ان کا مقصد صرف یہی ہے کہ انسان جو ان سب پر اشرف ہے اپنی احتیاجات رفع کرے ان کے فوائد معلوم کر کے ان سے افادہ حاصل کرے نہ کہ نقصان۔ اگر انسان ان سے فائدہ حاصل کرلے تو ظاہر ہے کہ اس نے خدا کا منشا پورا کیا۔ ایک مشہور سائنسدان کا کہنا ہے کہ زندگی کے لیے سائنس ہے، نہ کہ زندگی، سائنس کے لیے Science is for life, and not life for science۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو خوش سے خوش تر، اور اچھی سے بہتر بنانے کے لیے سائنس سے مدد لے نہ کہ ایسی اشیاء تیار کرے جو بعد میں اس ہی کی ہلاکت کا باعث ہوں ان 35 سال میں انسان نے جنگ و جدل کے نئے نئے آلات بنائے اور قدیم زمانہ کی معیار جنگ کو جو جسمانی قوت تھی، گیسی قوت میں مبدل کر دیا۔ چند سال پیشتر جبکہ جنگ کے موقعوں پر تیر و بھالے استعمال کیے جاتے تھے، بعد میں مختلف بارود اور آتشگیر مادوں کا علم حاصل ہوا اور توپ و بندوق ایجاد ہوئے مگر غیر مطمئن انسان اسی شغل میں مصروف رہا اور آہستہ آہستہ بم اور زہریلی گیسیں ایجاد کرنے میں کامیاب ہوا۔ چنانچہ ان ہی اشیاء کی تیاری کے لیے اکثر ممالک میں بڑے بڑے کارخانے قائم ہیں جن میں سینکڑوں آدمی مصروف رہتے ہیں اب ہم اصل مضمون کی جانب رجوع ہوتے ہیں۔ چونکہ زہریلی گیسیں زیادہ تر جنگ عظیم میں دریافت ہوئی ہیں اسی لیے اس مضمون کا بیشتر حصہ جنگ عظیم سے متعلق ہو گا۔
کئی گیسیں ایسی ہیں جو انسان کے بقا و زندگی کے لیے ممد و معاون ہیں چنانچہ آکسیجن ایک ایسی گیس ہے جس کا عدم وجود جاندار شے کو چند منٹ تک زندہ رکھ نہیں سکتا۔ نیز نائٹروجن ایسی ہے کہ اگر یہ گیس اور اس سے تیار شدہ مرکبات پودوں کو نہ دستیاب ہوں تو کل کھیتی برباد ہو جائے اور انسان کو فاقوں مرنے کی نوبت آ جائے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ایسی بھی گیسیں ہیں جو جاندار کی زندگی کے لیے زہر کا سا اثر رکھتی ہیں اور چشم زدن میں جاندار شے کو ہلاک کیے دیتی ہیں۔ مثلاً لافنگ گیس1 کے سونگھنے سے چند منٹ تک طبیعت پر فرحت رہتی ہے اور خواہ مخواہ کی ہنسی آنی شروع ہوتی ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ اور انسان ہنستے ہنستے ہی عالم بقا کو سدھارتا ہے۔ مگر یہ گیس اس قدر زہریلی نہیں ہے جیسی کہ اور بہت سی گیسیں ہیں۔
زہریلی گیسوں کا علم جنگ عظیم سے پہلے کسی کو نہ تھا اور جنگ عظیم سے پہلے کوئی ایسی جنگ ایجاد نہ ہوئی تھی جس میں گیس بطور آلہ جنگ استعمال کی گئی ہو۔ جرمن قوم نے اپنی جدت طبع سے جنگ عظیم میں ان کے متعلق بہت جلد معلومات حاصل کر لیں۔
27؍ اکتوبر 1914ء میں زہریلی گیسوں کی تیاری شروع کر دی گئی اور اپریل 1915ء میں جرمنوں نے زہریلی گیس کو استعمال کیا سب سے پہلی گیس جو انہوں نے تیار کی اس کا نام کلورین2 ہے۔ انہوں نے اپریل 1915ء میں گیس مذکور کو اسطوانوں میں بھر کر فرانسیسیوں پر جو ان کے مد مقابل تھے پھینکا۔ فرانسیسی اس گیس سے بالکل ناواقف تھے اس لیے وہ بہت پریشان ہوئے اور ساری فوج میں سراسیمگی پھیل گئی۔ اگر جرمن اسی طریقہ کو جاری رکھتے تو بہت جلد ان کو کامیابی حاصل ہو جاتی مگر چونکہ گیس کا استعمال بالکل نیا اور عجیب تھا اس لیے وہ مزید استعمال سے گھبرائے۔ جرمن کے مقابل کی متحدہ فوج یعنی (الائز3) نے اس موقع کو غنیمت جان کر اس وقفہ میں گیس مذکور کے متعلق معلومات فراہم کر لیں اور خود بھی اسی گیس کو استعمال کرنا شروع کر دیا اور فوج میں اس سے بچاؤ کا انتظام بھی کر دیا گیا جب جرمنوں نے دیکھا کہ ان کی گیس کی پیدائش کا حال ان کے مخالفین کو معلوم ہو گیا ہے تو وہ ایک نئی گیس کی اختراع میں مصروف ہو گئے۔ نیز جرمنوں نے محسوس کیا کہ کلورین گیس کا استعمال زیادہ موزوں ہے کیونکہ ان کو ہوا کے جھونکوں پر بھروسہ کیے رہنا پڑتا تھا چنانچہ ہوا جس سمت کی ہوتی اسی سمت میں وہ گیس پھیل سکتی تھی لہٰذا اس بات کا بھی امکان تھا کہ الٹے انہیں کے آدمیوں پر گیس حملہ کر دے۔
اس لیے جرمنوں نے اپنے ملک سے کیمیا داں فراہم کیے اور ان کو نئی گیس کی ایجاد میں لگا دیا۔ چند ہی دنوں میں ان کیمیا دانوں نے ایک زہریلی گیس کی پیدائش کا حال معلوم کر لیا جس کا نام فاسچین4 ہے۔
