گیتا نجلی کی مدحیہ تنقیدوں کو پڑھ کر ہندوستانیوں کو اہل مغرب میں ایک خاص رجحان کا پتا چلتا ہے۔ اہل مغرب کا مذہبی مزاج اور میلان جو صدیوں کی عیسائی تہذیب و تربیت کا نتیجہ ہے۔ ان کو ایک ایسے خدا کی عبادت و پرستش پر مائل کرتا ہے جو حقیقت میں اُن سے جُدا ہے۔ اور اس لیے ٹیگور کی وہ نظمیں، جن کا نفس مطلب خدا اور انسان کی ہستیوں کا تفرقہ ہے، اہل مغرب کے مذاق کو زیادہ مرغوب ہوتی ہیں۔ ہمارے شاعر کے عاشقانہ گیتوں میں اس تفرقہ کا راگ اکثر سنائی دے جاتا ہے۔ لیکن ٹیگور کو عشق یا بھگتی کے خاص کیفیت کا شاعر تصور کرنا اُن کی ہمہ گیر اور کمال کی بہت محدود اور یکطرفہ داد دینا ہے۔ ایسی غلط فہمیوں سے بچنے اور ٹیگور کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ٹیگور کی بہت سی خصوصیات میں سے چند خصوصیات جان لی جائیں۔ تب ہم کو ایک ایسی کلید مل جائے گی جس سے ہم کلامِ ٹیگور کے اُن متضاد اور ایک دوسرے سے بظاہر برعکس تخیلات کو بخوبی سمجھ جائیں گے۔
ربندر ناتھ ٹیگور کے تخیل کی وسعت و جولانی محتاجِ بیان نہیں۔ وہ ہر طرح کے انسانوں اور انسان کے مختلف جذبات کی کیفیتوں کو ایسا اپنا بنا لیتے ہیں اور اُن میں شاعرانہ جوش و خروش و یگانگی اس طرح کوٹ کوٹ کے بھر دیتے ہیں گویا وہ اُنہی کا حصہ ہے۔ اُن کا ہمہ گیر تخیل نہایت کامیابی سے اپنے اوپر عورتوں کے خاص جذبات بھی طاری کر لیتا ہے اور خاص خاص موقعوں پر وہ اپنی بجنسہٖ وہی حالت کر لیتے ہیں جو ایک خاص عورت کی ایسے وقت میں ہو گی۔ عورتوں کی مزاج شناسی اور ان کے جذبات کے اظہار کا ٹیگور کو خاص ملکہ ہے۔ اور اس کا پتہ ان کے ناولوں اور ڈراموں سے صاف صاف چل جاتا ہے جن میں عورتوں کے جذبات کی مصوّری کرتے ہوئے وہ نسوانی فطرت کے تہہ کو پہنچ گئے ہیں۔
وہ ہم کو طرزِ معاشرت و طریقِ زندگی کے وہ مختلف نمونے، جو ہندوستان کی کثیرالتعداد آبادی میں نظر آتے ہیں، اس طرح دکھلاتے ہیں گویا اپنی ہی سرگذشت سُنا رہے ہیں۔ اُن کا تخیّل فطرت انسانی پر اتنا حاوی ہے اور اُن کی شاعری اصلیت میں اس قدر ڈوبی ہوتی ہے گویا اُنھوں نے اپنی شخصیت اُن لوگوں کی شخصیتوں میں تحلیل کر دی ہے، جن کا بیان اُن کی تصنیفات میں ہے۔ گویا اپنی ہستی اُن لوگوں کی ہستیوں پر قربان کر دی ہے۔
یہ بات اُن لوگوں کو جو ربندر ناتھ کے سوانحی حالات سے کچھ واقفیت رکھتے ہیں ذرا تعجب انگیز معلوم ہو گی۔ ربندر ناتھ کی عمر کا بہت بڑا حصہ ایک نہایت محدود دائرہ میں گذرا ہے۔ وہ عوام الناس سے اس قدر دور رکھے گئے تھے کہ اُن کے اعلیٰ درجہ کے مردم شناس ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ مگر ان کی نظر اُس سے کہیں زیادہ وسیع اور اُن کی جذبہ شناسی اور ہمدردی اُس سے کہیں زیادہ عام اور ہمہ گیر ہے جو اس علیحٰدگی کا نتیجہ ہونا چاہیے۔ اُن کی تصنیفات پڑھتے وقت وہ تفرقے، جو مشرق اور مغرب کے درمیان غار ہائے عمیق کی طرح حائل نظر آتے ہیں، ہم کو مٹتے ہوئے اور ملتے ہوئے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس خاص رمز یا کسی ایسے اُصول کو پا گئے ہیں جو مختلف اقوام اور مختلف تہذیب کے لوگوں کے جذبات اور کیفیات میں شامل ہے۔ اور وہ وحدت اور معرفت کی بلند چٹان پر بیٹھ کر ایسا دلکش نغمہ چھیڑتے ہیں جو بنی نوع انسان کو مسخر کر لیتا ہے۔ کتنے ہی اعلیٰ درجہ کی تہذیب ہو اُس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ان کی ایک نظر کافی ہے۔ اور ہم لوگ جو اپنے شاعر کی ہمہ گیری سے واقف ہیں یقین رکھتے ہیں کہ ربندر ناتھ کی سیاحتِ یورپ اور امریکہ ضرور کسی نہ کی شکل میں باور ہو گی کیونکہ اُن کی نظر عمیق اہل یورپ اور اہل امریکہ کی فطرتوں کی تہوں تک ضرور ڈوب کر نکلی ہو گی اور اُن کی آیندہ تصانیف غالبًا ضرور اس رنگ میں ڈوبی ہوئی اور مغربی زندگی کے رموز سے مملو اور معمور ہوں گی۔ یہ مشکل ہے کہ ان کی غائر نگاہ نے کہیں خطا کی ہو یا اُن کی لطیف اور باریک ہیں ذہانت نے کسی چیز کو نظر انداز ہونے دیا ہو۔ ظاہراً وہ کیسے ہی لا پرواہ اور بیگانہ معلوم ہوتے ہوں، یہ ممکن نہیں ہے کہ اُن کا تخیل ایک لمحہ کے لیے بھی غافل ہو جائے۔ ان کے تمام حواس جسمانی و دماغی ہر وقت بیدار رہتے ہیں۔ اگر چہ بادی النظر میں وہ ساکن اور بے حرکت نظر آتے ہیں۔ جن لوگوں سے وہ ملے یا جن لوگوں کو اُنھوں نے ایک سرسری نگاہ سے دوران سفر میں دیکھ لیا اُن کی سب باتیں اور اُن کے مقاصد اُن کے دل پر نقش ہوتے گئے۔ اور اُن کے حواسِ ثانیہ کے مستقل اجزا بن گئے۔ ہر ایک شے کا عکس اس معرکتہ الارا دماغ کے سنسیٹو پلیٹ Sensitive plate پر فوراً اُتر جاتی تھی۔ اور اسی دماغ کے کسی ڈارک چیمبر dark chamber میں اُن عکسوں کا نگیٹو negative ڈیولپ develope ہو رہا ہو گا۔
بالکل متضاد فطرتوں کے رموز شناسی اور بالکل برعکس جذبات کی مصوّری ربندر ناتھ کا خاص حصہ ہے۔ اور ربندر ناتھ کی یہ خصوصیت ہم کو مد نظر رکھنی چاہیئے۔ جو لوگ کلام ٹیگور کا محض سر سری مطالعہ کر کے اُن کے گرویدہ ہو گئے ہیں وہ اُن خاص کیفیتوں میں سے محض چند کیفیتوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ جن کو شاعر نے نہایت خوبی کے ساتھ ادا کر دیا ہے۔ ٹیگور کے یہ شایقین اپنے تخیل کو محض ان چند کیفیات تک محدود کر دیتے ہیں اور اُسی کو ٹیگور کی پیروی سمجھتے ہیں۔ مگر جب رمز ٹیگور سے کوئی بخوبی واقف ہو جاتا ہے تو اُس کو ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ شاید ٹیگور کی کوئی اپنی شخصیت ہے ہی نہیں بلکہ جس عقدہ کا نام ٹیگور ہے وہ جذبات انسانی کا ایک مجسم مجموعہ ہے۔ جس میں کسی ٹیگور کا نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے دل دھڑک رہے ہیں اور جس میں جذباتِ انسانی اظہار کے لیے بیتاب و پریشان ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس معمّہ کو ٹیگور کہتے ہیں وہ کوئی وادی ہے۔ جس میں بے شمار اور لا انتہا انسانی جذبات و کیفیات کی نہریں جاری ہیں۔ کیا عجب ہے اگر اہل مغرب ٹیگور کی ہمہ رُخی اور جامعیت سے گھبرا جاتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ شعرا فلسفیوں کی طرح منطق میں اپنے کو محدود نہیں کر سکتے۔ ان کو اس کی ضرورت نہیں کہ اپنے کمال اور تخیل کو منطق پر قربان کر دیں۔ قیودِ منطق سے کلامِ ٹیگور بالکل آزاد ہے۔ ٹیگور آزادی کی جیتی جاگتی تصویر ہیں اور ان کے کمال کی ماہیت جاننے کے لیے اُن کی آزادی مدِ نظر رکھنی چاہیئے۔ صداقت اور اصلیت اُن کے کلام میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔ مگر وہ صداقت اور وہ اصلیت جوشِ حیات سے تڑپ رہی ہے اور محض منطقی اصولوں کی صورت میں یا کسی خاص مذہبی اعتقاد کی شکل میں پیش نہیں کی گئی ہے۔
کلام ٹیگور کو سمجھ کر پڑھنے سے یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ صداقت کی کسوٹی شاید منطق نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صداقت اور اصلیت منطق سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ کلامِ ٹیگور کا رُجحان حقیقت کی طرف ہے۔ سگِ منطق بھونکتا رہتا ہے لیکن ٹیگور کا مضمون اس طرح چلا جاتا ہے ”کہ جیسے جائے کوئی مست فیل بے زنجیر“۔ اور یہ عار فانہ تجاہل ہے جو منطق کا غرور محض اپنی بے رُخی سے توڑ کر چور چور کر دیتا ہے۔ ربندر ناتھ کی منطق اپنی ثبوت آپ ہے۔ ان کی دلیلیں وہ جذباتِ انسانی ہیں جن کا احساس دلائلِ عقلی سے کہیں گہرا ہوتا ہے۔ ٹیگور کا کمال یہ ہے کہ وہ جذبات کو گویائی عطا کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور کلام ٹیگور محض اس خاموش اسٹیج کی طرح ہے جس پر جذبات خود ایکٹ کرتے ہیں اور کیفیات انسانی بے ساختہ پردوں سے نکل آتے ہیں۔
ٹیگور صرف سین اور ڈراپ سین کی ترتیب دیتے رہتے ہیں اور پردہ اُٹھانے اور گرانے میں محض یہ ملحوظ رکھتے ہیں کہ ہر ایک جذبہ اپنا قصہ صاف موثر اور پُر جوش الفاظ میں بیان کر کے دوسرے جذبات کی سر گذشت بھی سُن لے۔
اکثر شعرا کے بر خلاف ربندر ناتھ نے قلم ہاتھ میں لینے سے قبل کسی خاص فلاسفی یا مذہبی اعتقاد کو کوئی راضی نامہ نہیں لکھا۔ اجلاسِ منطق یا اجلاسِ فلسفہ یا اجلاسِ مذہب کے روبرو کوئی حلف نہیں اُٹھایا۔ اکثر شعرا بلا کوئی اُصول قائم کیئے کچھ لکھ ہی نہیں سکتے۔ شیکسپیر تک، حالانکہ وہ ڈراما نویس تھا، اپنی شخصیت کی زنجیر نہیں توڑ سکتا تھا اور اپنی بیتی اپنے ہیروز اور ہیروئینس کی زبانوں سے کہلاتا تھا۔ مگر ٹیگور کا کلام ڈرامیٹک آرٹ کا اعلیٰ نمونہ اور شاعرانہ بیگانگی کی بہترین مثال ہے۔
