جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کلامِ ٹیگور کا فلسفہ

یہ انتہا درجہ کی بیگانگی اور انتہا درجہ کی ہمدردی ٹیگور کی کامیابی کا راز ہے۔ جس نے ان کے کمال کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ ایک معمولی مثال اس کی یہ ہے کہ مسئلہ تناسخ یا آواگون کو یا بُت پرستی کو جن میں عام ہندوؤں کو پورا اعتقاد ہے مگر جو ٹیگور کے ہم مذہب برمھو سماجی نہیں مانتے، ربندر ناتھ نے اپنی کئی نظموں میں نہایت ہمدردی سے پیش کیا ہے۔ اور ہندوؤں کے ان جذبات کو نہایت پُر تاثیر الفاظ میں قلمبند کیا ہے۔ واقعی ربندر ناتھ جذبات کے شاعر ہیں اور ان کا کلام حیاتِ روز مرہ کے جذبات اور اعلیٰ درجہ کے روحانی اثرات سے مالا مال ہے۔ ربندر ناتھ کو جہاں کہیں صداقت نظر آ جاتی ہے وہیں ان کا سر جھک جاتا ہے۔ اس لیے کبھی وہ دویت واد یا دوئی کا راگ الاپتے ہیں۔ کبھی وحدتِ وجود کا نغمہ چھیڑ دیتے ہیں اور کبھی ہمہ اوست کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔

وحدت وجود یا ہمہ اوست، یہ دو ایسی بلندیاں ہیں کہ اوّلاً تو اہل مغرب ان پر چڑھتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ اور اگر کسی طرح دم بھر کو ان چٹانوں کی چوٹیوں پر پہنچ بھی گئے تو نیچے دیکھتے ہوئے اُن کے ہوش اُڑ جاتے ہیں اور ان کا دل تھرتھرانے لگتا ہے۔ مگر ربندر ناتھ کے رگوں میں ہندو رشیوں کا خون موج زن ہے۔ اور وحدت کی بلندی پر اُن کے سر میں چکر نہیں آتا۔ کلام ٹیگور کا فلسفہ جاننے کے لیے ربندر ناتھ کی ہندو نسلیت مد نظر رکھنی چاہیے۔ ان کی ہندو نسلیت کا اثر ان کے کلام پر ہونا ضروری ہے۔ ہندوؤں کا خاص مذہبی عقیدہ جو کچھ ہو مگر وحدتِ وجود و ہمہ اوست ایسے اُصول ہیں جو صدیوں سے ہندوؤں کے دیوان پر اپنا اثر ڈالتے رہے ہیں اور جو ان کی زندگی اور ان کے جذبات میں سرایت کر گئے ہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ ربندر ناتھ کی حقانی نظموں میں وحدت اور ہمہ اوست کی آواز سنائی نہ دی جاتی۔

کلام ٹیگور سے کچھ حصہ اقتباس کر کے یہ بات اچھی طرح سے ثابت کی جا سکتی ہے۔ ان انتخابوں میں بالکل متضاد اور برعکس عقیدے و جذبات اور مختلف کیفیتیں قلمبند کی گئی ہیں۔ جو اُصولِ منطق اور فلسفہ کے خلاف ہیں مگر جو بلحاظ شاعری اپنی اپنی جگہ پر درست و زیبا ہیں۔ شاعر کا کام ہے کہ چیزوں کی ہستی میں اپنی ہستی مٹا دے۔ نہ کہ نیک و بد اور صحیح و غلط کا فیصلہ کرنے بیٹھے۔ کسی جذبہ کا نمود اس کی صداقت کا خود ثبوت ہے۔ ٹیگور ہم کو ہر طرح کے جذبات سے لذت آشنا کرا کے اس سچی برادرانہ ہمدردی کا سبق سکھلاتے ہیں جو ہندو تہذیب کا مایہ ناز ہے اور جس سے وہ مذاہب محروم ہیں جنھوں نے بہشت و نجات کا ٹھیکہ کسی خاص عقیدے یا کسی خاص انسان کو دے دیا ہے۔ یہ فخر صرف ہندو مذہب ہی کو حاصل ہے کہ اُس کے آغوش میں بت پرستی سے لے کر اہم برمھ (انالحق) ایک صلح کل کے عالم میں پل رہے ہیں اور متضاد فلاسفے کھیل رہے ہیں۔ کلام ٹیگور اُسی ہندو تہذیب و تربیت کا عکس ہے جس کا کام ہی کثرت میں وحدت کا تماشہ دکھلانا ہے۔ ہندو نقطۂ خیال سے مختلف فلسفے واقعی مختلف نہیں ہیں بلکہ صداقت اور حقیقت کی مختلف تفسیریں ہیں۔ متضاد جذبات و مختلف عقائد ایک ہندو کے دل کو نہ صدمہ پہنچا سکتے ہیں نہ اس کو حیرت انگیز معلوم ہو سکتے ہیں۔ یہی فلسفہ ہے کلام ٹیگور کا اور یہی راز ہے ان کی حیرت انگیز ہمہ گیری اور وسعت کا۔

مئی 1913ء کے نارتھ امریکن ریویو میں ایک لائق خاتون مے سنکلیر گیتا نجلی پر تنقید لکھتے ہوئے فرماتی ہیں۔ ”صرف چند مقاموں سے تت توم اسی (تم وہی ہو) کے تصوفانہ مقولہ کی صدا سنائی دے جاتی ہے۔ محض کہیں کہیں وہ سُریلے اور پُر اثر نغمے بلند ہو جاتے ہیں جو وحدتِ وجود اور ہمہ اوست کا اعلان کرتے ہوئے ہمیں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام ہستیوں کا منزل مقصود وہی ایک ہستی ہے جن میں دنیا کی ہستیاں پنہاں ہو جائیں گی“۔ ربندر ناتھ نے بنگلہ گیتا نجلی سے انگریزی میں ترجمہ کرتے ہوئے قصدًا وحدانیت کی نظموں کو انتخاب کر لیا ہے۔ ورنہ وحدانیت کی آواز بہت دور تک بنگلہ گیتا نجلی میں گونج رہی ہے۔ آگے چل کر مے سنکلیر نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ”ٹیگور کی عظمت کا اندازہ محض اس قسم کی نظموں سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اس قدر وسیع اور ہمہ گیر ہیں کہ اُن کا کوئی خاص رنگ ہی نہیں اور نہ وہ کسی خاص عقیدے کے پابند ہیں۔ وہ روح کی ہستی کا خدا کی ہستی میں فنا ہو جانا یا اُس کا خدا سے الگ ہو کر بحیثیت عابد کے خدا کی پرستش کرنا دونوں رنگوں پر قادر ہیں۔ اور دونوں کیفیتوں کا لُطف یکساں اُٹھاتے ہیں“۔ چنانچہ گیتا نجلی میں ایک جگہ فرماتے ہیں۔

اے میرے مہر در خشاں میں موسم خزاں کے اس لکئہ ابر کی طرح ہوں جو بیکار اِدھر اُدھر اُڑتا پھرتا ہے۔ کرنوں نے مجھے چوم کر ابھی گلا نہیں دیا کہ میں فنا ہو کر تیرے نور میں مل جاؤں

اگر تیری مرضی ہے اور اگر تجھے یہی انداز پسند ہے تو میری اس پریشان ہستی موہوم کو لے کر اس میں اپنی کرنوں کی رنگ آمیزی کر دے۔ اُسے سنہرے رنگ سے چمکا دے اور آسمان پر مختلف اور پُر لطف منظروں میں اُسے پھیلا دے۔

اور جب تیری خوشی یہ ہو گی کہ رات کو یہ کرشمہ ختم ہو جائے تو میں شب کی تاریکی میں فنا ہو جاؤں گا اور اگر ت چاہے گا تو صبح کی منور ترو تازگی میں پھر نمایاں ہو جاؤں گا۔

یہاں روح کا ذاتِ ایزدی میں فنا ہو کر ہمیشہ کے لیے اپنی ہستی کھو بیٹھنے کا منشا نہیں ہے۔ بلکہ خدا میں پنہاں ہو کر پھر اپنی ہستی کو پا جانا مراد ہے۔ مگر مغربی منطق کی سمجھ میں یہ دونوں باتیں مشکل سے آئیں گی کیونکہ اہل مغرب مسئلۂ ہمہ موجودگی immanence کو اس کے حدود نتائج تک لے جانے میں ہچکچاتے اور پہلو تہی کرتے ہیں۔ ورنہ وحدت و کثرت کا ظاہراً اختلاف ان کو اتنا پریشان نہ کرتا۔

اس میں شک نہیں کہ اکثر اہل تصوف خدا سے ذاتی تعلق کو (جس میں اپنی ہستی خدا کی ہستی میں مفقود نہ ہو جائے بلکہ قائم رہتی ہوئی اور مطلق کا نظارہ کرتی رہے) تصوف اور عشق کی جان سمجھتے ہیں۔ مگر کیا یہ کیفیت ہمیشہ طاری رہ سکتی ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی کیفیت نہیں ہے۔ عاشق و معشوق کے تفرقہ کا احساس اور جذبۂ عشق کا احساس بھی اکثر مٹ جاتا ہے۔ اور بقول غالب صوفی کی کبھی وہ حالت بھی ہو جاتی ہے کہ

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں

آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا

محض فلسفہ سے اپنی اور خدا کی ہستی کی یگانگت کو سمجھ لینا اور محض دلائل سے اس خیال کو تقویت دے لینا اور بات ہے۔ اصل چیز وہ روحانی احساس اور جذبہ ہے جو ہندو تہذیب کی آب و ہوا میں نشونما پاتا ہے۔ جب ہم اس سے جدائی کا پُر درد نغمہ گاتے ہیں تو ایک ایک الاپ ہم کو اس سے قریب تر کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ یکتائی کا احساس ہوتے ہوتے ”من تو شدن تو من شدی“ کا نعرہ بلند ہو جاتا ہے۔ کلامِ ٹیگور کو اس روشنی میں اگر دیکھا جائے تو اس میں کسی قسم کا تضادِ باہمی نظر نہ آئے گا۔ ہمارے شاعر کے کمال کے عالمگیر ہونے کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ اُس نے طالب و مطلوب کی یگانگت کے مسئلہ کو اس قدر دلفریب و شیریں بنا دیا ہے کہ اہل مغرب کا دل بھی وجد کرنے لگتا ہے۔

گیتا نجلی کے مندرجہ ذیل گیت میں اس وصل اور جدائی کے مضامین کو اس خوش اسلوبی سے ایک ہی لڑی میں آویزاں کر دیا ہے جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ کہتے ہیں۔

”اے میرے خدا میری زندگی کے لبالب ساغر سے تو کون سی مئے رنگین نوش کرے گا۔ اے میرے شاعر کیا تیرا دل اپنی خلقت کو میری آنکھوں سے دیکھنے کو چاہتا ہے۔ اور کیا میرے کانوں پر بیٹھ کر اپنے وہی پردہ ساز کے نوا ہائے راز کو سننے کے لیے تو بیتاب ہو رہا ہے۔ میرے دماغ میں جہاں آواز گونج کر الفاظ کی صورت پکڑتی جاتی ہے اور تیرا نغمۂ حقیقت اپنے سُر اُن میں بھرتا جاتا ہے اور اُن الفاظ میں تیری ٹنکار سنائی دیتی ہے، کیا تو اسی کو سُن رہا ہے۔ اے میرے خدا کیا تو اپنی ہستی میرے حوالے کر کے اپنے کو میرے آغوش میں دیکھ کر خوشی میں پھولا نہیں سما رہا ہے اور فرط مسرَّت سے جھوم رہا ہے۔ میرے خدا یہ کیسا دلفریب کرشمہ ہے“۔