گیتا نجلی کی یہ نظم اوپنشدوں کے چند حصوں پر روشنی ڈال رہی ہے اور صدہا صدیوں کی آواز اس گیت میں سنائی دے رہی ہے۔ اوپنشدوں میں ایک جگہ آیا ہے کہ ”جب اُس نے (خدا نے) چاہا کہ میں کئی ہو جاؤں تو اُس کے اس خیال سے عالم صور و کثرت نمودار ہو گیا اور اسی کثرت میں پھر اس کی وحدت سرایت کر گئی اور آئینہ خانہ جہاں میں اپنی صورت دیکھ کر اسے خود حیرت ہو گئی۔ ہم تماشا گاہِ جہاں میں اُس کا جلوہ دیکھنے کے لیے اچھی اچھی دوبینیں ایجاد کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں اپنا جلوہ دیکھنے کے لیے اور اپنا نغمۂ خاموش سُننے کے لیے بیتاب ہے‘‘۔ کیسا زبر دست اور بلند پرواز تخیل ہے۔
مگر رابندر ناتھ کی شاعری ان بلندیوں پر بے دھڑک چڑھ جاتی ہے۔
چونکہ خدا خود ہماری ہستیوں میں موجود ہو کر دنیا کے مزے اُٹھانے کے لیے بیتاب ہے اسی وجہ سے ہم سب دنیا کے مزے اُٹھانے کے لیے بیتاب ہیں۔ لہذا کلام ٹیگور میں کثر نفسی و ترک دنیا و عزلت پسندی کی ترغیب نہیں دی گئی ہے بلکہ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ ”ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا“ تو ٹیگور کہتے ہیں کہ ہوس کو ہوس سمجھنا غلط فہمی اور بُزدلی ہے کیونکہ ہوس اُس روحانی بے چینی کا نام ہے، جب ذات مطلق تنہائی سے گھبرا کر کثرت کا تماشا دیکھنا چاہتی ہے۔ فقرا ترک دنیا کا وعظ تو ضرور کرتے ہیں مگر تخلیقِ جہاں میں مشیَّت ایزدی کیا تھی؟ اس کا وہ کیا جواب دیں گے؟ آخر دنیا کی لذتوں کو شیطان نے تو پیدا نہیں کیا۔ دنیا کے مزے اُٹھانا عین عبادت ہے بشرطیکہ کوئی رازِ خلقت کو سمجھ جائے۔
|
داخل ہے قدرِ وقت بھی شکر و سپاس میں |
خوش ہو رہے ہیں ابر کو میخوار دیکھ کر |
یا بقول سعدیؒ
|
صوفی از صومعہ گو خیمہ بزن در گلزار |
وقت آن نیست کہ در خانہ نشینی بیکار |
|
ترجمہ صوفی سے کہو کہ وہ خانقاہ سے نکل کر باغ میں اپنا خیمہ لگائے۔ یہ بیکار گوشہ نشینی اختیار کرنے کا وقت نہیں ہے۔ |
|
ارتقا کا راز اس تخیّل میں پنہاں ہے۔ ترقی کی جان بھی شورش ہے۔ جب شاعر کا دل پوچھتا ہے کہ میری زندگی کے لبالب پیالے سے کون سی شرابِ ارغوانی تُو پیئے گا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا کیا کمال میں اپنی ذات میں بہم پہنچاؤں کہ تیری معبودیت کی داد دے سکوں۔ کس پاکیزگی سے اپنی ذات کو بھر دوں کہ تیری پرستش کے قابل ہو جاؤں۔ جلوہ قدرت کا عالم میں آشکارا ہو کر نشونما پانا فلسفۂ ارتقا و فلسفۂ عبادت کا اصلی مقصد ہے۔ بھگوت گیتا کی دسویں منزل میں اور پلیٹو کے ڈاکٹرائن آف آیڈیاز DOCTORINE OF IDEASمیں بھی یہی باتیں بتلائی گئی ہیں۔ اس بات کے احساس نے ٹیگور کے تخیل کو منوّر اور پُرزور بنا دیا ہے۔ اور ان کی ایک ایک نظم سورج کی شعاعوں کی طرح دنیا کی چیزوں کو جگمگا دیتی ہے اور زندہ بنا دیتی ہے۔ کیونکہ ٹیگور اس شورش کو، اس روحانی بے چینی کو جو ترقی کی جان ہے، سمجھ گئے ہیں۔
بقول استاد میر
|
لایا ہے مِرا شوق مجھے پردے سے باہر |
میں ورنہ وہی خلوتیٔ رازِ نہاں ہوں |
ممکن ہے کلام ٹیگور کے فلسفہ پر یہ رائیں قطعی طور پر درست نہ ہوں۔ ممکن ہے اور بھی کئی اجزا ربندر ناتھ کے تخیل میں داخل ہوتے رہے ہوں۔ کوئی چاہے تو اور طرح کے فلسفے بھی کلام ٹیگور سے اخذ کر سکتا ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کیونکہ ایسے ہمہ گیر شاعر کو کسی مخصوص اعتقاد یا فلسفہ کا پا بند کر دینا مناسب نہیں ہے۔ ٹیگور بھی ایسی تفسیروں کے رو برو چپ چاپ رہتے ہیں۔ وہ اپنے معبود کو بلا کسی فلسفہ میں اس کی ذات کو مقیَّد کیے ہوئے بخوبی جانتے ہیں۔ ان کا گہرا روحانی احساس کسی فلسفہ کا محتاج نہیں۔ گیتا نجلی میں ایک جگہ کہتے ہیں۔
”لوگوں میں مَیں نے یہ فخر کیا کہ میں تمہیں جانتا ہوں۔ لوگ میرے کلام میں ہر جگہ تمہاری ہی تصویر دیکھتے ہیں اور مجھ سے آ کر دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا ہے اور کون ہے۔ میں نہیں جانتا انھیں کیا جواب دوں اور یہ کہہ دیتا ہوں کہ واقعی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ مجھ سے آزردہ اور خفا ہو کر چلے جاتے ہیں اور تم وہیں بیٹھے مسکراتے ہو‘‘۔
”میں نے تمہارے افسانے دلفریب الفاظ میں نظم کیئے۔ تمہارا راز پنہاں بے اختیار ہو کر میرے دل سے نکل پڑتا ہے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں تمہارا کیا مطلب ہے۔ میں نہیں جانتا انہیں کیا جواب دوں اور یہ کہہ دیتا ہوں کون جانے ان اشعار کا کیا مطلب ہے۔ وہ طنز سے ہنس کر میری مذمّت کر کے چلے جاتے ہیں۔ اور تم وہیں بیٹھے مسکراتے ہو‘‘۔
بنگال کے ادبی دائروں میں اکثر اُن کی چند نظموں اور دیگر کلام کے نفس مطلب پر نقادوں اور علما میں بحث ہوتی رہی ہے مگر ٹیگور ہمیشہ خاموش رہے ہیں اور اپنی رائے ظاہر کرنے سے ہمیشہ بچتے رہے ہیں۔ مس سینکلر صاحبہ نے اپنے مضمونِ مذکور میں ایک بات اور کہی ہے جو قابل توجہ ہے۔ وہ کہتی ہیں۔
”اپنشد اُس روحانی خلش اور تشنگی کو جو محض ذات مطلق کے وصال کے احساس سے مٹ سکتی ہے (ہیگل کی فلاسفی سے بھی بڑھ کر) دور کرتے ہیں۔ اپنشد ہی اس کیفیت کو پیدا کر سکتے ہیں جس میں اپنی ہستی اور خدا کی ہستی میں واقعی وصل ہو جاتا ہے۔ اہل تصوّف اس کیفیت کے ہمیشہ سے جویاں رہے ہیں اور جب وہ ٹیگور کو ویدانتی یا بدہسٹ یا کسی مخصوص فلسفہ میں باندھ نہیں سکتے تو ان کو ایک طرح کی مایوسی ہوتی ہے۔ جب ٹیگور یہ کہتے ہیں کہ ”ہر زمانہ تجھ سے آنکھ مچولی کھیلتا ہوا گذر جاتا ہے“ تو یہ لوگ بُرا مانتے ہیں یعنی اہل ہند کو اور وحدت وجود کے ماننے والوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ کوئی ایسی بات کہیں جس میں خدا اور انسان میں ذاتی تعلق اس طرح سے بتلایا گیا ہو جس سے دونوں کی ذات میں تفرقہ کا اندیشہ ہو“
یہ خیال کہ اہل ہند یا وحدت وجود کے ماننے والوں کو کوئی حق خدا اور انسان میں ذاتی تعلق قائم کرنے کا نہیں ہے اُن چالاک اور خود غرض عیسائیوں کی گڑھنت ہے جو ویدانت کی عظمت اور فلاسفی کو ضرر پہنچانے کے لیے عوام کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ آخر اس ذاتی تعلق کا مفہوم کیا ہے۔ کیا ہندوؤں سے بڑھ کر کوئی بھگتی یا ذاتی تعلق کا دلدادہ رہا ہے؟ ہر ایک ہندو میں وہ روحانی احساس ہے جس میں اپنی ہستی اور ہستی مطلق سے خاص تعلق قائم رہتا ہے۔ واضح رہے کہ اہل ہنود میں یکتائی کی ہوس محض فلسفیوں کی علمی اور دماغی حرص نہیں ہے جو محض اپنے خیال کو فلسفۂ وحدتِ وجود سے بذریعہ چند عقلی دلیلوں کے تقویت دے لیتے ہیں۔ ہندوؤں میں وحدتِ وجود محض اعتقاد یا عقلی ریاضت کی صورت میں نہیں رہا ہے بلکہ ایک روحانی تجربہ اور کیفیت کی شکل میں قائم رہا ہے ہندوستان میں مذہب فلسفہ کی جان اور فلسفہ مذہب کی عقلی دلیل رہا ہے۔ خشک عقلی مسائل سے ہندوؤں کو ہمیشہ وحشت رہی ہے۔ مذہب ہندوؤں کے لیے چند اعتقاد کا انبار نہیں بلکہ روحانی کیفیت کا مفہوم رہا ہے۔
یہ بات کبھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیئے کہ ربندر ناتھ کا کلام موجودہ فلسفوں میں سے کسی میں بھی محدود نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ٹیگور کی شاعری کا سرچشمہ عقلی دلائل اور منطق نہیں ہے بلکہ وہ روحانی تجربے ہیں جو کسی خاص اعتقاد یا فلسفہ سے منسوب نہیں کیے جا سکتے۔ مُروّجہ قواعد کے مطابق کلام ٹیگور اختلاف باہمی اور برعکس جذبات سے پُر ہے۔ مگر اہل مذاق جانتے ہیں کہ در حقیقت کلامِ ٹیگور کے مختلف حصوں میں کوئی تناسب اور سلسلہ ضرور ہے جس کو کسی خاص نام سے منسوب نہیں کر سکتے۔ مثلاً جو لوگ اس بات پر ضد کرتے ہیں کہ ربندر ناتھ خدا کی ہستی کے قائل ہیں انہیں ٹیگور کے مندرجہ ذیل الفاظ پر حیرت ہو گی۔
”جب میں اور یہ دنیا ایک تھے، جب میرے جسم پر سبزہ اُگا ہوا تھا اور بادِ بہاری جھوم کر مجھ پر سے گذرتی تھی اور جب طلوع آفتاب کے وقت ان سبزوں سے جو مانند پشمینے کے میرے جسم پر اُگ رہے تھے ایک ٹھنڈی نکہت نکل کر سورج کی کرنوں کی طرح پھیل جایا کرتی تھی جب میری ہستی چرخ چنبرین کے وسیع اور چمکدار شامیانے کے تلے پہاڑوں اور دریاؤں اور میدانوں پر ایک لا انتہا وسعت کی طرح پھیلی ہوئی تھی، اُس وقت ایک خاص مسرّت اور لطف کا ہلکا ہلکا احساس میرے بے پایاں جسم میں گویا ایک غنودگی کی حالت میں ہوتا تھا۔ اور ایک خواب گذشتہ کی طرح اس کی یاد مجھے اب تک آتی ہے‘‘۔
