ان الفاظ سے دہریّت ٹپک رہی ہے مگر ٹیگور کی شاعری وہ جادو ہے جو دہریّت کے فلسفہ کو بھی خوشگوار اور پُر تاثیر بنا دیتا ہے۔ یہ الفاظ محض شاعرانہ جدّت اور مبالغہ نہیں ہیں بلکہ صدقِ دل سے محسوس کردہ جذبات معلوم ہوتے ہیں۔ یہ جذبات بھی اسی روحانی بے چینی کا نتیجہ ہیں جس سے مایۂ حیاتِ کائنات (خدا) تنہائی سے گھبرا کر آغوش گیتی میں آ کر اپنے اوپر مختلف کیفیات طاری کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ”مری ہستی نہیں وحدت میں کثرت کا تماشا ہے“۔ اسی کثرت میں جذبات دہریہ کے مزے بھی ہیں۔ کہیں کہیں تو شاعر کو خود پتا نہیں ہے کہ چند جذبات اس کے اندر کس طرح پیدا ہو گئے۔ ایک جگہ کہتے ہیں۔
’’میں ایک زندہ پیانو (باجا) کی مانند ہوں۔ میرے اندر تاریک پردوں میں بے شمار تار اور پُرزے اور کمانیاں ہیں۔ معلوم نہیں کون آ کر مجھے بجانے لگتا ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مختلف نغمے میرے اندر سے کیسے نکلتے ہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اس وقت کون سی چیز بج رہی ہے اور آیا اُس کی آواز پُر درد ہے یا مسرّت آمیز ہے یا سُر اونچے ہیں یا نیچے یا نغمہ بے سُرو تال ہے یا ٹھیک ہے‘‘۔
ربندر ناتھ در حقیقت ایک ہندو ہیں۔ ان کی شاعری ایک پھول ہے جس کی نکہت و رنگ صدیوں کی ہندو تہذیب سے نشونما حاصل کر رہی ہے۔ چاہے انہیں اس کی خود بھی خبر ہو یا نہ ہو۔ ان کو اپنے وطن ہندوستان سے گاڑھی محبت ہے۔ وہ ہندوستان کی پُرانی عظمت اور تواریخی کارنامے اور پُر فضا مناظر پر دل و جان سے فدا ہیں۔ ہندوستان کی بود و باش اور زندگی کو وہ کہیں اور کی بود و باش اور زندگی سے تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بول پور میں شانتی نکیتن نام کے مدرسے میں قدیم ہندو طریقہ پر طلباء کی تربیت کر رہے ہیں اور وہیں خود بھی تنہائی میں روحانی تصوّر میں غرق رہتے ہیں۔ ان کے والد مہرشی ربندر ناتھ ٹیگور بھی یہیں تنہائی میں نیچرل منظروں کے آغوش میں سر گرمِ ریاضت رہا کرتے تھے۔ ربندر ناتھ کا معمول ہے کہ ایک چھوٹی سی کشتی میں شام کو بیٹھے ہوئے یا لیٹے ہوئے دریائے گورائی کے مزے لیا کرتے ہیں۔ آپ اس دل بہلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں۔
’’میں ہر روز اپنے دل میں یہ پوچھتا رہتا ہوں کہ کیا میں اس سر زمین پر اس تاروں سے منور آسمان کے نیچے پیدا ہوں گا۔ کیا میں بنگال کے اسی گوشہ میں پھر پیدا ہو کر دریائے گورائی کے مزے اپنی ننھی سی کشتی میں بیٹھ کر ہر شام کو لے سکوں گا جب ندی کی دھیمی دھیمی چال اور آہستہ خرام ہوا میرے بیتاب دل کو تسکین دیا کریں گی۔ ممکن ہے آئیندہ جنم میں مجھے یہ چیزیں نصیب نہ ہوں۔ کون جانے یہ منظر اس وقت کہاں چلے جائیں گے یا میں کس طرح کا دل و دماغ لے کر دنیا میں آؤں گا۔ ممکن ہے مجھے ایسی شامیں کئی نصیب ہوں مگر کون جانے کہ اس وقت میں شام کی سیاہ زلفوں کو اپنے اوپر لہراتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوں گا یا وحشت زدہ ہو کر گھبرا جاؤں گا۔ کیا میں پھر پیدا ہو کر وہی آدمی رہوں گا جو میں اب ہوں۔ جو کچھ ہو مجھے سب سے بڑا ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں یورپ میں نہ پیدا ہو جاؤں“
ان الفاظ میں ربندر ناتھ نے اپنا باطن ہماری آنکھوں کے آگے کھول کر رکھ دیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان کی محبت میں ان کا دل دھڑک رہا ہے۔
