اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

کامیابی

خدا جانے خواب تھا کہ خیال تھا مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ مزے کا عالم تھا۔ غرض اس وقت طبیعت کو ذرا اطمینان سا حاصل ہو گیا۔ مکروہاتِ زمانہ سے ایک دم بھر کو رہائی نصیب ہو گئی تھی۔ قاعدے کی بات ہے کہ جب انسان کو اپنے افکار سے نجات ملتی ہے تو اور طرف متوجہ ہوتا ہے لہٰذا اگر ہم بھی ایک شوق کی نظر سے ادھر ادھر دیکھنے لگے تو کچھ قصور نہیں ہوا۔ چاروں طرف ایک میدان نظر آیا جو دامانِ تمنا کی طرح پھیلتا چلا گیا تھا۔ یہ میدان نہایت ہی دلفریب تھا۔ اور واقعی اس میں کچھ اس قیامت کی وابستگی تھی کہ دیر تک ہم اپنے تئیں بھولے رہے۔ اور طرف تو خیر مگر سامنے نظر دور تک بڑھی۔ اس میدان کا دلچسپ سین طے کر کے ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچی۔ نگاہ کی رفتار زمانے بھر میں مشہور ہے اور کون نہیں کہہ سکتا کہ بڑی بڑی دشوار گزار منزلیں سہولت کے ساتھ طے کر جاتی ہے۔ زیادہ طول دینے سے کیا فائدہ؟ دامنِ کوہ تک پہنچنا تھا کہ ہماری نظر ایک جست میں اس کی چوٹی پر تھی۔ یہ معمولی بات ہے کہ اکثر پہاڑوں پر چڑھتے وقت بہت سی چٹانیں اور مختلف قسم کے نشیب و فراز مزاحم ہوا کرتے ہیں، مگر نگاہ کی رفتار ان چیزوں کو دھیان میں بھی نہیں لاتی اور اس پیچیدہ اور سنگستانی راستے پر اسی طرح دوڑتی ہوئی جاتی ہے جس طرح کسی مسطح تختے پر۔ پہاڑ کی چوٹی بہت بلند معلوم ہوتی تھی۔ اور انسان خیال کر سکتا تھا کہ شاید اس سے اونچا پہاڑ دنیا بھر میں نہ ہو گا۔ پہاڑ کی چوٹی پر ایک تصویر تھی اور اس میں دو وصف نہایت کمال کے ساتھ پائے جاتے تھے۔ ایک تو یہ کہ گو بہت دور تھی مگر اس قدر صاف نظر آتی تھی کہ کوئی نزدیک کی چیز بھی کیا نظر آئے گی۔ اور دوسرا وصف اس کی وضع کے اعتبار سے تھا یعنی یہ کہ ہر شخص کو چاہے کہیں ہو یہی معلوم ہوتا تھا کہ اسی کی طرف متوجہ ہے اور اس وجہ سے جو شخص اس تصویر کو دیکھتا تھا اپنے زعم میں سمجھتا تھا کہ اس تصویر سے جو دلچسپی مجھے ہے وہ کسی کو نہ ہو گی۔

یہ تصویر نہایت خوبصورت بنی ہوئی تھی۔ اور بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ اس سے زیادہ خوبصورت چیز آج تک کبھی نظر سے نہیں گزری۔ اور شاید یہی سبب تھا کہ جس نے ایک نظر دیکھ لیا فریفتہ ہو گیا۔ اسی عام قاعدے کے موافق ہماری نظر بھی وہاں گئی تو وہیں کی ہو رہی۔ اُس مقام سے ہٹانا دشوار ہو گیا۔ ابھی تک تو ہماری نظر ہی اس راستے پر گئی تھی اب خود ہماری رفتار کا مرکز بھی وہی تصویر ہو گئی۔ عجب ذوق و شوق اور جوش و خروش سے اسی طرف کی سیدھ باندھ کے روانہ ہوئے۔ چلتے وقت ادھر ادھر پلٹ کے دیکھا تو سب ہی اس سفر کی تیاری کر رہے تھے۔ اپنے جوش کو ذرا اور بڑھایا اور تیزی سے قدم اٹھا اٹھا کے چلنے لگے کہ سب کے پہلے ہم ہی پہنچ جائیں۔ بڑی مصیبتوں سے ہانپتے ہوئے دامنِ کوہ تک پہنچے۔ بالکل تھک گئے تھے۔ اور گویا پاؤں کی طاقت نے جواب دے دیا تھا۔ دم بھر کے لئے ٹھہر گئے کہ سستا لیں۔

ادھر ادھر دیکھا تو اور لوگ جو ہمارے ساتھ چلنے کا سامان کر رہے تھے وہ بھی ہمارے برابر ہی یہاں تک پہنچ گئے تھے۔ بڑی حیرت ہوئی کہ بیکار ہی ہم دوڑتے آئے۔ خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم یہیں بیٹھے سستایا کریں اور یہ لوگ آگے نکل جائیں۔ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور تھکے پاؤں سے کام لیا۔ دامنِ کوہ تک تو بآسانی چلے آئے تھے مگر اب مصیبت کا سامنا ہوا۔

ابھی تھوڑی ہی ٹھوکریں کھائی تھیں اور تھوڑی ہی چٹانوں کو طے کیا تھا کہ پہاڑ کے وسط میں ایک مسطح مسافت نظر آئی۔ بظاہر تو اس مسافت کا طے کرنا آسان تھا مگر قدم اٹھاتے ہی قیامت کا سامنا ہو گیا۔ پہاڑ کا مسطح حصہ جہاں تک نظر آتا تھا وہ سب ایک گہرا دلدل تھا۔ اگر اسی وقت سے کچھ تدبیر کرتے جب گھٹنوں ہی تک دلدل میں دھنسنے کی نوبت آئی تھی تو شاید کوئی اور راستہ مل جاتا۔ مگر نہیں کچھ ایسے جوش میں جا رہے تھے کہ دلدل کا خیال بھی نہ کیا اور آگے قدم مارتے چلے گئے۔ آخر کمر کمر تک اور پھر گردن تک دلدل میں جا رہے اور ایسے پھنسے کہ بالکل بے بس ہو گئے۔ جب اس قابل نہ رہے کہ ذرا بھی آگے بڑھنے کا زور لگا سکیں تو قوت نے مایوس کر کے ساتھ چھوڑ دیا۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اور عجیب حسرت کی نگاہ سے اس پیاری دلفریب تصویر کو دیکھا جو چوٹی پر نظر آ رہی تھی۔

یہ بالکل بے کسی کا وقت تھا۔ اور ہر گز امید نہ ہو سکتی تھی کہ کوئی ہماری مدد کو آئے گا۔ ناگہاں آسمان سے ایک فرشتہ اترتا نظر آیا۔ اس نے آتے ہی کہا، ’’تو یہاں تک اپنی قوت سے آیا ہے تو آ اب میں تیری مدد کروں۔ میں اسی لیے ہوں کہ انسان کی مدد کروں۔ مگر اس وقت جب وہ اپنی قوت سے پورا کام لے چکے۔ (ہمت بھی انہیں لوگوں کے کام آتی ہے جو آپ اپنی مدد کرتے ہیں)۔ جو لوگ اپنے تئیں خود ہی بیکار کر دیتے ہیں ان سے مجھے کچھ علاقہ نہیں۔ لا اپنا ہاتھ بڑھا۔ میں تیرا ہاتھ پکڑ کے تجھے اس مصیبت سے نجات دلا دوں گا‘‘۔ پوچھا، ’’اے فرشتۂ غیب! تیرا نام کیا ہے؟‘‘ جواب ملا، ’’مجھے ہمت کہتے ہیں۔ میں تیری ہی ہمت ہوں مگر اس وقت کام آتی ہوں جب تو خود اپنے لیے کچھ کر لے‘‘۔ آخر اس فرشتے نے ہاتھ پکڑ کے اس جانکاہ آفت سے نجات دلوائی۔ اور دلدل کے میدان سے نکال کر اس پار کھڑا کر دیا۔ اپنی کامیابی پر خوش ہو کے فخر کی نظر سے ادھر ادھر دیکھا۔ اگرچہ وہ انبوہ نہیں نظر آیا جو ابتدا سے ساتھ ہوا تھا مگر بعض اور بھی نظر آئے جو ہمت کی مدد سے یہاں تک پہنچ گئے بلکہ بعض ہم سے پہلے پہنچے تھے۔ جنہیں ہم نے نہایت حسد کی نگاہ سے دیکھا اور لپکے کہ ان سے آگے نکل جائیں۔

الغرض آگے روانہ ہوئے۔ اب ٹھوکریں کھاتے اور چٹانوں سے بچتے چڑھتے چلے جاتے تھے۔ ایک مقام پر دو راستے نظر آئے اور تردد ہوا کہ کس طرف چلیں۔ ایک راستہ تو بہت اونچا ہوتا چلا گیا تھا۔ اور اسی معمولی طریقے پر تدریجاً بلندی کو گیا تھا۔ ہمارے بہت سے ساتھی اس بلند راستے پر ہو لیے۔ مگر ہمیں عقل سے معلوم ہوا کہ جس چوٹی تک ہم جانا چاہتے ہیں یہ راستہ وہاں نہیں گیا ہے۔ اس خیال سے ہم نے اور چند اور لوگوں نے دوسری راہ اختیار کی۔ جو لوگ بلندی کی راہ سے گئے تھے وہ جاتے جاتے ایک اور قلے پر پہنچے۔ اور وہاں جا کے دیکھا تو آگے اس قدر نشیب تھا کہ نیچے دیکھ کے ڈر معلوم ہوتا تھا۔ وہ مقام اس قدر بلند تھا کہ ہم کیا ساری دنیا ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ شاید کوئی مقام نہ ہو گا جہاں کے لوگ انہیں نہ دیکھ رہے ہوں۔ وہ نہایت حیران ہوئے۔ اور اپنی غلطی پر پچھتانے لگے۔ ایک تردد کے عالم میں کھڑے سوچ ہی رہے تھے کہ ایک بدصورت اور مہیب شکل کا دیو خدا جانے کس طرف سے آ گیا۔ پہلے تو وہ دیو دیر تک انہیں دھمکاتا رہا اور چونکہ اسی جانب آ کے کھڑا ہو گیا تھا جس طرف سے وہ لوگ آئے تھے۔ اس لیے انہیں پلٹنا بھی دشوار ہو گیا۔ بیچارے سہمے جاتے تھے۔ اور قریب تھا کہ نیچے گر پڑیں۔ اس دیو نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا تو اس کے ہاتھوں میں سیاہی چھوٹ آئی اور وہی ہاتھ بڑھ بڑھ کے ایک ایک کے منہ پر پھیرنا شروع کیا۔ جس کے منہ پر ہاتھ پھیرا کالا ہو گیا۔ اور دنیا بھر کے لوگ دیکھ دیکھ کے ہنسنے لگے۔