(پنجم) یہ بات ہماری فطرت میں داخل ہے کہ جب ہمارے ابنائے جنس خوش ہوں تو ہم بھی ان کی خوشی میں شریک ہوں اور جب وہ غمگین ہوں تو ہم بھی ان کے غم میں حصہ لیں کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان ہمدردی کا تعلق ہے۔ اسی بنا پر مفید کاموں کو ہم اس لیے اچھا جانتے ہیں کہ ان سے ہمارے ابنائے جنس کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور ان کے خوش ہونے سے ہم کو خوشی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم مضر کاموں کو اس لیے برا جانتے ہیں کہ ان سے ہمارے ابناء جنس کو تکلیف پہنچتی ہے اور ان کی تکلیف سے ہم کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہم جو بعض افعال کو اچھا جانتے اور بعض کو برا جانتے ہیں اس کا اصلی بھید یہی ہے۔ اب میں اپنا مذہب تفصیل سے بیان کر چکا کہ فائدہ رسانی افعال کو ہماری نظر میں اچھا اور قابل تحسین کر دیتی ہے اور ضرر رسانی ان کو برا اور لائق مذمت بنا دیتی ہے۔ اخلاقی افعال کی ذاتی قدر و قیمت کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے تو وہ بلحاظِ ان کی نفع رسانی اور ضرر رسانی کی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ افعال کا حسن و قبح ذاتی نہیں ہے جیسا کہ آپ نے خیال کیا بلکہ اضافی ہے۔
بدیہی۔ میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ جو کچھ آپ نے اب تک بیان کیا اس میں صداقت اور راستی کی جھلک پائی جاتی ہے لیکن اسی حالت میں جبکہ اس پر دوسرے پہلو سے نظر ڈالی جائے۔ اس سے پیشتر کہ میں آپ کے خیالات پر ریمارک کروں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ جن باتوں کو میں تسلیم کرتا ہوں اور جن کو نہیں مانتا ان کو صاف صاف بیان کردوں۔
(اول) میں اس بات کو مانتا ہوں کہ ہر اچھا فعل مفید ہوتا ہے اور ہر برا فعل مضر ہوتا ہے لیکن اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ اچھے فعل کا اچھا ہونا اس سبب سے ہے کہ وہ مفید ہے یعنی مفید ہونے کو میں کسی فعل کے اچھے ہونے کا سبب نہیں ٹھہراتا کیونکہ اس کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً ممکن ہے کہ کوئی اچھا فعل اس لیے مفید ہے کہ مفید ہونا اس کی ذات میں داخل ہے۔ اس صورت میں برخلافِ آپ کے دعوے کے وہ فعل علت ہے اور مفید ہونا معلول ہے۔
(دوم) میں مانتا ہوں کہ جب دو اچھے کاموں کی نسبت لوگوں میں اس بات پر اختلاف ہوتا ہے کہ ان میں کون سا کام زیادہ اچھا ہے تو زیادہ مفید کو زیادہ اچھا قرار دیتے ہیں۔ مگر مجھے اس بات سے قطعی انکار ہے کہ مفید ہونا اس کام کے زیادہ اچھے ہونے کا سبب ہے۔ میرے نزدیک اس سے اتنا ہی لازم آتا ہے کہ مفید ہونے سے اس کام کا عمدہ اور اعلیٰ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ پس مفید ہونا منجملہ دیگر پیمانوں کے ایک پیمانہ ہے جس سے افعال کی اخلاقی قدروقیمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ مجھ میں اور آپ میں جو اختلاف ہے وہ اتنا ہی ہے کہ آپ افعال کی مفید اور مضر ہونے کو ان کے حسن و قبح کی علت ٹھہراتے ہیں اور میں فائدہ اور نقصان کو بھلائی اور برائی کا معلول جانتا ہوں۔ وجدان کی شہادت بتاتی ہے کہ کسی چیز کا مفید ہونا ہم کو اچھا معلوم ہوتا ہے، مگر یہ اچھا معلوم ہونا کوئی اخلاقی فیلنگ نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہی ہو تو اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم جس طرح ان آدمیوں کے افعال کو اچھا جانتے ہیں جن سے ارادے اور شعور کے ساتھ وہ افعال صادر ہوتے ہیں اس طرح مجنوں اور بے شعور آدمیوں یا بے زبان جانوروں کے افعال کو اچھا نہیں جانتے اور دونوں قسم کے افعال سے ہمارے دل پر یکساں اثر نہیں ہوتا۔ نہ ویسا اثر بے جان چیزوں کے مفید ہونے سے ہم کو محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً بھاپ کی کلوں، بجلی کے آلوں، چھاپہ کے اوزاروں نے جو بیشمار فائدے دنیا کو پہنچائے ان کا عشر عشیر بھی کسی آدمی سے نفع نہیں ہوا باوجود اس کے کوئی ذی عقل آدمی ان کلوں، آلوں اور اوزاروں کو انسانوں کی طرح محسن نہیں جانتا۔ نہ ان کے مفید کاموں کو اس دلچسپی اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے جس سے وہ نیک آدمیوں کے عمدہ افعال کو دیکھتا ہے۔ پس اگر مفید ہونا افعال کے حسن و قبح کی علت ہوتی تو انسان کے اخلاقی افعال اور مفید آلات سے یکساں اثر ہمارے دل پر ہوتا۔ چونکہ یہ اثر بعض پہلو سے مختلف ہوتا ہےاس لئے مجبوراً ہم کو ماننا پڑے گا کہ مفید ہونا افعال کے حسن و قبح کی علت نہیں یے۔
افادی۔ نفع سے میری مراد وہ نفع ہے جو عاقل اور بالغ اشخاص کے افعال سے حاصل ہوتا ہے۔ مفید آلات یا بےشعور اشخاص یا بے زبان حیوانات یا بےجان اشیاء کے نفع سے میرے دعویٰ کو کوئی تعلق نہیں ہے۔
بدیہی۔ اگر آپ کے نزدیک محض مفید ہونا اچھے ہونے کی اور مضر ہونا برے ہونے کی دلیل ہے تو آپ کو یہ قید لگانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ فائدہ عاقل اور بالغ اشخاص کے افعال سے حاصل ہوتا ہو۔ کیونکہ نفع اور ضرر جس طرح انسان کے افعال سے ہوتا ہے اسی طرح آلات و اشیا سے بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا یہ قید لگانا اس بات پر واضح دلیل ہے کہ اخلاقی افعال اور مفید افعال میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ اگر دونوں میں کوئی فرق نہ ہوتا اور اخلاقی افعال وہی افعال ہوتے جو مفید ہیں تو جو اثر اخلاقی افعال سے دل پر ہوتا ہے وہی اثر مفید افعال سے بھی ہوتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مذہب جو نفع اور ضرر کو افعال کے حسن و قبح کی علت قرار دیتا ہے صحیح نہیں ہے۔
آخری معترض۔ کانشنس اور اخلاق کے مسئلہ پر بہت سی بحثیں ہو چکیں اور ہر شخص نے اپنے دل کا بخار اچھی طرح نکال لیا ہے اور اب کوئی حاجت زیادہ بولنے کی نہیں رہی مگر اس بحث کے خاتمے پر میں بھی چاہتا ہوں کہ چند الفاظ کہنے کی آپ سے اجازت لوں اور وہ یہ ہیں کہ جب بموجب آپ کے قول کے کانشنس غلطی کرنے سے معصوم نہیں ہے اور وہ غلطی کر سکتا ہے تو ہم کو اس کے وجود سے کیا فائدہ ہے؟ اس صورت میں ہم اس پر کیونکر بھروسہ کر سکتے ہیں اور کس طرح اس کے حکم پر گردن جھکا سکتے ہیں۔
بدیہی۔ کانشنس کے غلطی کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم اس کے مفید ہونے سے انکار کریں کیونکہ تمام عقلی قوتیں بھی غلطی میں مبتلا ہو سکتی ہیں مثلاً ہمارا حافظہ غلطی کر سکتا ہے۔ متخیلہ غلطی کر سکتا ہے۔ بلکہ رائے دینے اور استدلال کرنے کی قوتیں بھی غلطی کر سکتی ہیں۔ مگر کسی کی مجال نہیں ہے کہ ان قوتوں کے مفید ہونے سے انکار کر سکے۔ یہی حال کانشنس کا ہے۔ آپ کا یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ جب کانشنس غلطی کر سکتا ہے تو ہم اس پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ نہ اس کے حکم کو مان سکتے ہیں۔ اس لئے کہ جہاں انسان کا یہ فرض ہے کہ کانشنس کے حکم کو مانے اس پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ کانشنس کی خطا یا صواب پر ہونے کی نگرانی بھی کرتا رہے تاکہ وہ افعال کے اچھے ہونے یا برے ہونے کی نسبت جو رائے دے وہ صحیح ہو اور دھوکا نہ کھائے اور گمراہ نہ ہو۔ میں اپنی تقریر کے خاتمے پر پھر کہنا چاہتا ہوں کہ ہر انسان کو اپنے کانشنس کی اطاعت کرنا واجب ہے کیونکہ اگر اس کی اطاعت نہ کرے گا تو وہ ایسا ہی ہو گا جیسے کوئی کہے کہ اس کام کا کرنا تو مجھ پر واجب ہے مگر میں اس کو کروں گا نہیں اسی بنا پر اس سے مواخذہ ہو سکتا ہے کہ اس نے اپنے کانشنس کی اطاعت کیوں نہیں کی۔
