بدیہی۔ اگر اخلاقی حاسے سے آپ کی مراد وہ قوت ہے جس کی مدد سے عقل انسانی بعض افعال کو بالواسطہ نہیں بلکہ بذاتہٖ اچھا اور بعض کو برا جانتی ہے تو آپ کی رائے صحیح ہے اور آپ کی اور میری توجیہ میں صرف الفاظ کا فرق ہے لیکن اگر آپ کی یہ مراد ہے جیسا کہ آپ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاقی حاسہ باقی حواس کی طرح ہے تو آپ کی رائے صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ خاص خاص افعال کے حسن یا قبح ٹھہرانے میں جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ اس بات پر دلیل بیّن ہے کہ جس حاسہ کا آپ نے ذکر کیا وہ موجود نہیں ہے یا کم سے کم وہ باقی حواس سے بالکل مختلف ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ آدمی بھی اگر ان میں سے کسی کی بینائی میں فرق نہیں ہے سرخ رنگ کو سفید رنگ سے تمیز کرنے میں ذرا بھی اختلاف نہیں کرتے۔ اسی طرح دو آدمی بھی اگر ان میں سے کسی کے ذائقہ میں خلل نہیں آیا مٹھاس اور کھٹاس کے پہچاننے میں ایک دوسرے کے بر خلاف رائے نہیں رکھتے مگر کانشنس کا حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگرچہ وہ عام طور پر اخلافی افعال کی صفات کو جان لیتا ہے مگر خاص خاص افعال کے حسن و قبح میں جگہ اور وقت اور حالات کے بدلنے سے کبھی کبھی ایک کانشنس دوسرے کانشنس سے بر خلاف نتیجہ نکلتا ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ کانشنس ایک حاسہ منجملہ حواس کے ہے تو آپ کو لازم تھا کہ آپ اس میں اور حواس میں مشابہت کا ہونا بیان کرتے مگر میں ثابت کر کا ہوں کہ دونوں میں کوئی مشابہت نہیں ہے۔ پس آپ کا دعویٰ سراسر باطل ہے۔ باوجود اس کے اگر ہم حواس اور کانشنس کے درمیان مشابہت ہونے یا نہ ہونے کا ذکر چھوڑ دیں اور یہ مان لیں کہ کانشنس منجملہ حواس کے ایک حاسہ ہو تو ہم کو بدیہیات اور اولیات کی دریافت کرنے والی قوت کو بھی حواس میں شامل کرنے سے ذرا تامل نہ ہو گا کیونکہ جس طرح ہم بدون اس کے کہ کوئی ہم کو سکھائے یہ جان لیتے ہیں کہ کل جزو سے بڑا ہے۔ اسی طرح افعال میں حسن و قبح کا ہونا بغیر کسی تعلیم کے پہچان لیتے ہیں۔ پس اگر دوسرے امر کی دریافت کرنے والی قوت منجملہ حواس کی ایک حاسہ ہو سکتی ہے تو پہلے امر کی بتانے والی قوت بھی ضرور حواس میں شامل کی جائے گی۔ اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ بدیہیات کے معلوم کرنے کے لیے کسی حاسے کی ضرورت نہیں۔ پس یہ کہنا بھی کچھ بیجا نہیں ہے کہ کانشنس کو حواس کے زمرے میں داخل کرنا بھی ایک تکلیفِ لاطائل ہے اور اخلاقی حاسے کے وجود کو تسلیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
چھٹا معترض۔ میری رائے ان سب سے جدا ہے جن کے مذہب پر آپ اس سے پیشتر اعتراض کر چکے ہیں۔ میرے نزدیک تمدنی حالات ہی انسان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ بعض افعال کو اچھا اور بعض کو برا، بعض کو حسن اور بعض کو قبیح ٹھہرائے۔ اس کو آپ بھی مانتے ہوں گے کہ انسان ایک سوشل حیوان ہے جو وحشت اور تنہائی سے بھاگتا اور میل جول اور محبت و ہمدردی کی طرف طبعی میلان رکھتا ہے۔ چونکہ میل جول اور محبت و ہمدردی اسی وقت میسر آسکتی ہے جبکہ ہر شخص اپنے افعال میں ان مصلحتوں کا لحاظ رکھے جن پر تمام سوسائٹی کی بہبودی اور زندگی کا مدار ہے۔ اور ان باتوں سے بچے جن سے ذاتی خوشی اور ذاتی فائدے حاصل ہونا ہے مگر ان سے اوروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس لئے نوع انسان نے شخصی اور قومی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے ان افعال کو جن سے سوسائٹی کو نفع پہنچتا ہو حسن قرار دیا ہے اور ان افعال کو جن سے اس کے وجود کو ضرر پہنچتا ہے قبیح ٹھہرایا۔ مفید افعال کے کرنے کا حکم دیا اور مضر افعال سے باز رہنے کی تاکید کی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ افعال حسنہ وہی ہیں جن سے سوسائٹی کے وجود کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اور افعال ذمیمہ وہی ہیں جن سے اس کی بہبودی اور زندگی کو خطرہ ہے۔ یہ خیال باپوں سے بیٹوں کو، بیٹوں سے پوتوں کو پہنچا اور ہم تک سلسلہ بسلسلہ آیا۔ اب اسی بنیاد پر ہم بعض اخلاقی افعال کو اچھا اور بعض کو برا جانتے ہیں۔
بدیہی۔ یہ مذہبِ فلاسفہ افادیین کا ہے۔ جو مفید افعال کو حسن اور مضر افعال کو قبیح جانتے ہیں۔ اور جن افعال سے نہ ضرر پہنچتا ہے۔ نہ نفع ان کو اخلاق کے دائرہ سے خارج کرتے ہیں۔ مگر ان کے دو بڑے فرقے ہیں۔ ایک فرقہ ہے جو کہتا ہے کہ نیک افعال وہ ہیں جن کا فائدہ سوسائٹی کے افراد کو پہنچے۔ دوسرا فرقہ وہ ہے جو ان افعال کو نیک اور حسن ٹھہراتا ہے جن کا فائدہ من حیث المجموع سوسائٹی کو حاصل ہو۔ پہلے فرقے کے آدمی بہت تھوڑے ہیں مگر دوسرے فرقے کے لوگ بہت ہیں اور ان کا مذہب عام طور پر شائع ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ ان دونوں فرقوں میں سے اپنے تئیں کس فرقے میں شمار کرتے ہیں۔
افادی۔ میرا مذہب یہ ہے کہ نیک افعال وہی ہیں جن کا فائدہ سوسائٹی کو پہنچے نہ کہ افراد کو۔ میرے دعوے کے ثبوت کے لیے بہت سے دلائل ہیں مگر میں ذیل کے چند دلائل کا بیان کرنا کافی سمجھتا ہوں۔
(اول) میرا دعویٰ نہایت مضبوط اور قوی ہے۔ اس لیے کہ میرے نزدیک یہ کلیہ ہے کہ ہر نیک کام مفید ہے اور برا کام مضر ہے۔ کوئی فعل اچھا نہیں ہے جب تک کہ وہ مفید نہ ہو۔ اور کوئی برا نہیں ہے جب تک کہ وہ مضر نہ ہو۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ وہ تمام افعال جن کو ہم اچھا سمجھتے ہیں مفید ہوتے ہیں تو ہم ان کے افادہ یعنی نفع پہنچانے کی خاصیت کو ان افعال کے اچھا ہونے کی وجہ کیوں نہ ٹھہرائیں؟ اور یہ کیوں نہ کہیں کہ یہی خاصیت ہے جس نے ان کو ہماری نظر میں اچھا ٹھہرایا ہے؟ اور اس بات کے ماننے کی کیا حاجت ہے کہ وہ افعال بذاتہٖ اچھے ہیں۔
(دوم) جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فائدہ رسانی افعال کے عمدہ ہونے کی بنیاد ہے اور ضرر رسانی ان کے ناپسندیدہ ہونے کی وجہ ہے تو ہمارا قول آسانی سے ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا ہے۔ مثلاً جب ہم کسی شخص سے کہیں کہ خونریزی نہ کرو اس لیے کہ اس سے تمہارے ہم قوم آدمیوں کو ضرر پہنچتا ہے اور یہ فعل ان کو زندگی کی لذت سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیتا ہے تو وہ صاف طور پر اس فعل کی برائی کو سمجھ جائے گا اور اس کو برا جانے گا اور اس سے اجتناب کرے گا لیکن اگر ہم اس سے کہیں کہ قتل سے بچو اس لیے کہ قتل کرنا ایک ایسا فعل ہے جو بذاتہٖ قبیح ہے تم کو اپنے تئیں اس قبیح فعل کے ساتھ آلودہ کرنا نہیں چاہیے تو وہ ہرگز اس فعل کی برائی کو نہ سمجھے گا۔ نہ اجتناب کرنے کے لیے کوئی قوی وجہ اس کو معلوم ہو گی۔
(سوم) ہمارے افعال سے جس قدر نفع عام آدمیوں کو پہنچ سکتا ہے وہی ان افعال کی قدر و قیمت ہے۔ چنانچہ لوگوں میں جب اس بات پر اختلاف ہوتا ہے کہ دو عمدہ اور نیک افعال میں سے کون سا فعل زیادہ اچھا ہے تو ان کے نتائج کو دیکھتے ہیں۔ جس کو زیادہ مفید پاتے ہیں۔ اسی کو زیادہ اچھا جانتے ہیں۔ پس اگر عمدہ افعال سے کوئی فائدہ ہم کو نہیں پہنچتا تو ان کی کچھ بھی وقعت نہیں۔ اور اگر برے افعال سے ہم کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا تو وہ افعال اور ایسے عمدہ افعال جو مفید نہیں ہیں برابر ہیں۔ اور سچ اور جھوٹ میں، ظلم اور عدل میں، بدی اور نیکی میں، حلال اور حرام میں کوئی تمیز باقی نہیں رہتی۔
(چہارم) اگر اچھے افعال مفید نہ ہوں تو ان کا کرنا ہم پر واجب نہ ہوتا اور اگر برے افعال سے ہم کو ضرر نہ پہنچتا تو ان سے ہم کو باز رہنے کی تاکید نہ کی جاتی۔ پس اگر کوئی حاکم یا ناصح ہم کو ایسا کام کرنے کا حکم دے جس سے ہم کو اور ہماری قوم کو نہ کوئی فائدہ ہو نہ نقصان تو اس کا حکم پادر ہوا سمجھا جائے گا۔
