بدیہی۔ میرے معزز دوست کیا آپ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ دنیا کے عقلا اور حکما نے جو بعض افعال کو حسن اور بعض کو قبیح ٹھہرایا، اس کی وجہ یہ تھی کہ سب آدمی اس وقت سے بہت پہلے بعض افعال کو اچھا جانتے تھے اور بعض کو برا سمجھتے تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو ان عقلا اور حکما کے ذہن میں کیا وجہ تھی جس کی بنیاد پر انہوں نے اخلاق کے حسن و قبح کا قانون ایجاد کیا۔ کوئی قانون جس کو واضعانِ قانون نے بنایا ہو اور بنا کر اس کو جاری کیا ہو اس صفت سے خالی نہیں ہو سکتا۔ کہ وہ یا تو منصفانہ قانون کہلائے یا ظالمانہ قانون کے نام سے موسوم ہو یا وہ نہ منصفانہ ہو نہ ظالمانہ بلکہ اخلاق کے لحاظ سے اس کی کوئی قیمت اور کوئی وقعت نہ ہو۔ پس اگر وہ قانون نہ منصفانہ تھا۔ نہ ظالمانہ، تو نوعِ انسانی کے دل میں انصاف اور ظلم کا خیال کہاں سے پیدا ہوا۔ اور اگر وہ منصفانہ یا ظالمانہ قانون تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ انصاف یا ظلم کی تصویر پہلے ہی سے ان کے ذہنوں میں موجود تھی۔ میں چند الفاظ اس پر اور بڑھاتا ہوں اور وہ یہ ہیں کہ اگر کسی فعل کی اخلاقی لحاظ سے کوئی قدروقیمت نہیں ہے تو لوگوں کے اتفاقِ رائے سے اس فعل میں کوئی قدروقیمت نہیں آ سکتی۔ اسی طرح اگر کسی فعل میں اخلاقی قدروقیمت موجود ہے تو لوگوں کے اختلاف سے اس فعل کی وہ قدروقیمت نہیں جا سکتی۔ فرض کرو کہ ایک قوم نے ایک ایسے فعل سے باز رہنے پر اتفاق کر لیا ہے جو اخلاق کے لحاظ سے کچھ بھی وزن نہیں رکھتا۔ نہ اس کو کانشنس سے کوئی تعلق ہو تو لوگ اس فعل کے کرنے سے اس لیے باز رہیں گے کہ ان کو اس قوم کی طرف سے سزا کا خوف ہے نہ اس لیے کہ وہ فعل بذاتہ برا ہے اور اس کے کرنے سے خود ان کا کانشنس منع کرتا ہے۔ پس اگر تمام دنیا کے بادشاہ اور واضعانِ قانون کسی ذاتی غرض سے یا کسی سبب سے مثلاً اس بات پر اتفاق کر لیں کہ سر کے بالوں کا مونڈنا ایک منصفانہ فعل ہے۔ اور ان کا نہ مونڈنا سراسر ظلم ہے حالانکہ اس فعل کو ظلم و انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے تو ان کا اور ایک اپاہج اور کمزور آدمی کا حکم اصلیت کے لحاظ سے برابر ہو گا کیونکہ لوگ اس حکم کو یہ سمجھ کر ان کا کانشنس اس کو اچھا بتاتا ہے نہیں مانیں گے بلکہ سزا کے خوف سے اس پر عمل مجبوراً کریں گے۔ اس سے صاف طور پر معلوم ہو سکتا ہے کہ افعال کے حسن و قبح کی جو توجیہ آپ نے کی وہ کافی نہیں ہے۔
تیسرا معترض۔ اچھا آپ میرے مذہب کی نسبت کیا کہتے ہیں۔ میرا مذہب یہ ہے کہ اخلاقی افعال بذاتہ اچھے یا برے نہیں ہیں بلکہ ان پر حسن و قبح کے الفاظ اس لیے بولے جاتے ہیں کہ بہت قدیم زمانے سے لوگوں نے اپنی اولاد کو بعض افعال کے اچھے ہونے اور بعض کے برے ہونے کی تعلیم دی ہے۔ اور اسی فیلنگ کے سایہ میں ان کی پرورش اور تربیت کی گئی ہے، اسی سبب سے بعض افعال کو لوگ اچھا سمجھنے لگے اور بعض کو برا جاننے لگے، ورنہ حقیقت میں کوئی فعل نہ اچھا ہے نہ برا۔ یہ مذہب لاک اور بیلی وغیرہ فلاسفروں کا ہے اور میں اسی مذہب کو مانتا ہوں۔
بدیہی۔ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ تعلیم و تربیت سے انسان کے خیالات بدل سکتے ہیں اور اس کے افعال و عادات میں تغیر ہو سکتا ہے مگر تعلیم و تربیت اس کی ذات میں کوئی ایسی نئی چیز پیدا نہیں کر سکتی جو پہلے سے بالقوہ یا بالفعل موجود نہ ہو۔ میں نے اس سے پہلے جو اعتراض ہوبس کے مذہب پر کیا ہے وہی آپ کے مذہب کی تردید کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ والدین نے جو اولاد کو یہ سکھایا کہ بعض افعال اچھے ہیں ان کو کرنا چاہیے، اور بعض افعال برے ہیں ان کے کرنے سے باز رہنا چاہیے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پہلے سے افعال میں اخلاقی صفت کے ہونے کا یقین کرتے تھے۔ اور اچھے اور برے افعال میں تمیز کر سکتے تھے۔ ورنہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ بعض کو حسن اور بعض کو قبح ٹھہراتے اور کیونکر اپنی اولاد کو بتا سکتے تھے کہ یہ افعال اچھے اور یہ برے ہیں۔ ان کو کرنا چاہیے اور ان سے باز رہنا چاہیے۔ اگر آپ کہیں کہ والدین کے ذہنوں میں افعال کے حسن و قبح کا خیال پہلے سے بذاتہ موجود نہ تھا بلکہ ان کے والدین نے ان کو سکھایا تھا کہ وہ افعال اچھے ہیں اور یہ برے ہیں۔ تو میں پھر سوال کروں گا کہ ان کو افعال کا حسن و قبح کس نے سکھایا تھا؟ اس سے یا تو دور لازم آئے گا یا تسلسل۔ حالانکہ دور بھی باطل ہے اور تسلسل بھی۔ ناچار آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اخلاقی افعال بذاتہ اچھے یا برے ہوتے ہیں اور انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ ان کے حسن و قبح کو جانے اور پہچانے۔ اور یہی مذہب صحیح ہے۔
چوتھا معترض۔ میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے اپنے دلائل کے زور سے میرے معزز دوست پر جادو کا سا اثر ڈال دیا ہے۔ مگر میں تو کبھی نہ مانوں گا کہ جن مقدمات سے آپ نے کام لیا ہے ان سے دور و تسلسل لازم آتا ہے کیونکہ ابھی یہ کہنا ممکن ہے کہ ہمارے سب سے پہلے بزرگوں کو خدا نے افعال کا حسن و قبح بطورِ الہام کے بتایا۔ انہوں نے اپنی اولاد کو سکھایا۔ اولاد نے اپنی اولاد کو۔ اسی طرح سلسلہ بسلسلہ حسن و قبح کا خیال ہم تک آپہنچا۔ اس سے نہ دور لازم ہے نہ تسلسل۔ پس تمام افعال اصل میں ایک ہی جیسے تھے مگر خدا نے اپنی مرضی سے بعض کو اچھا اور بعض کو برا ٹھہرایا۔
بدیہی۔ اس میں شک نہیں ہے کہ جن افعال کے کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے وہ افعال اچھے ہیں اور ان کا کرنا واجب ہے اور جن افعال سے باز رہنے کا حکم دیا ہے وہ برے ہیں اور ان سے باز رہنا ہم پر فرض ہے مگر میری یہ رائے نہیں کہ اصل میں تمام افعال ایک ہی جیسے تھے۔ خدا کے حکم دینے سے بعض افعال اچھے ہو گئے اور اس کے منع کرنے سے بعض افعال برے ہو گئے۔ بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ خدا ہم کو انہیں افعال کے کرنے کا حکم دیتا ہے جو اصل میں اچھے ہیں اور انہی افعال سے منع کرتا ہے جو اصل میں برے ہیں ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ محض خدا کی مرضی سے بعض افعال اچھے ہو گئے اور بعض برے ٹھہر گئے۔ حقیقت میں جن افعال کو اس نے اچھا بتایا ہے وہ برے ہیں اور جن کو اس نے برا بتایا ہے وہ اصل میں اچھے ہیں۔ اگر خدا چاہے تو شیطان کے افعال کو اچھا اور فرشتوں کے افعال کو برا ٹھہرا دے۔ اور یہ کہنا ایسا ہی ہو گا جیسے کوئی کہے کہ اگر خدا چاہے تو دو اور دو کو پانچ کر سکتا ہے۔ اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسا کہنا کس قدر بعید ازِ عقل ہے۔
پانچواں معترض۔ آپ اس رد و قدح کو چھوڑیں۔ اور میری طرف متوجہ ہوں۔ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ ہر انسان افعال کے حسن و قبح کے جاننے پر اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے۔ مگر افعال کا حسن و قبح ذاتی نہیں ہے بلکہ اضافی ہے۔ خدا نے انسان میں ایک حاسہ منجملہ حواس کے رکھا ہے جس سے وہ افعال کے حسن و قبح کو محسوس کرتا ہے۔ جس طرح آنکھوں کو بعض چیزیں اچھی دکھائی دیتی ہیں اور بعض بری نظر آتی ہیں۔ کانوں کو بعض آوازیں مکروہ معلوم ہوتی ہیں اور بعض آوازیں دلکش سنائی دیتی ہیں۔ زبان کو بعض چیزیں بدمزہ اور بعض چیزیں خوشگوار محسوس ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس حاسہ کو بعض افعال اچھے معلوم ہوتے ہیں اور بعض برے۔ جن کو وہ اچھا بتاتا ہے ان کو انسان اچھا جانتا ہے۔ اور جن کو وہ برا بتاتا ہے ان کو برا سمجھنے لگتا ہے۔ پس افعال کا اچھا یا برا جاننا اسی حاسے کا کرشمہ ہے جس کو اخلاقی حاسہ کہا جاتا ہے۔
یہ مذہب انگلستان کے مشہور فلسفی ہیوم کا ہے اور میں اسی مذہب کا پیرو ہوں۔
