جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کانشنس اور اخلاق پر ایک دلچسپ مکالمہ

مگر عام طور پر اخلاقی افعال میں حسن و قبح کی پہچان لینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام انسان خاص کر ہر فعل کی بھلائی یا برائی کو اس طرح پہچان لیتے ہیں کہ اس میں غلطی کا احتمال نہیں رہتا، جب تک کہ یہ ثابت نہ کیا جائے کہ ہر انسان اپنی عقلی قوتوں کو اچھی طرح استعمال کرتا ہے خاص حالات کے سبب سے ایک انسان اپنی عقل کو دوسرے انسان کی عقل کے برخلاف استعمال کرتا ہے اس لئے دونوں مختلف نتیجوں پر پہنچتے ہیں۔ مگر یہ رائے کا اختلاف اس بات پر کسی طرح دلیل نہیں ہو سکتا کہ عقلِ انسانی موجود نہیں ہے۔ اس مطلب کو زیادہ واضح کرنے کے لئے میں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔ مثلاً ہم کو معلوم ہے کہ جنگ بسوس عرب کے دو قبیلوں کلیب اور جساس میں برپا ہوئی تھی۔ اب اگر کوئی ایک شخص یا چند اشخاص یہ رائے دیں گے کہ جنگ بسوس واقع نہیں ہوئی تو ان کی یہ رائے ہماری رائے کے برخلاف تو ہو گی مگر اس سے اس جنگ کی حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پس جس طرح جنگ بسوس میں رائے کے اختلاف سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ جنگ کبھی واقع نہ ہوئی ہو، اسی طرح خاص خاص افعال کے اچھے ہونے یا برے ہونے میں جو اختلاف انسانی گروہوں میں موجود ہے اس سے حسن و قبح کی صفتوں کا انکار نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم ان تمام دلیلوں سے قطع نظر کر کے اصلی حقیقت پر مطلع ہونا چاہیں اور نوع انسان کے حالات کا مطالعہ کریں تو ہم کو معلوم ہو جائے گا کہ اکثر افعال کے حسن و قبح پر تمام انسانوں کا اتفاق ہے۔ اور مخالفوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ جب کچھ آدمی خواہ ان کی تعداد تھوڑی ہی ہو اوروں کی رائے سے افعال کے حسن و قبح میں اختلاف کرتے ہیں تو یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فی الحقیقت افعال میں حسن و قبح کی صفات موجود نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں صفتیں اضافی ہیں جو وقت اور جگہ اور حالات کے بدل جانے سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ میں اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ جب اکثر آدمی اکثر افعال کے حسن و قبح میں اتفاق کرتے ہیں اور ان کو اچھا یا برا جانتے ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ افعال بذاتہ اچھے یا برے ہیں۔ ان کا اچھا یا برا ہونا اضافی نہیں ہے۔ پس کوئی فعل جو بذاتہ اچھا ہے وہ ہمیشہ اچھا رہے گا۔ اور جو برا ہے وہ ہمیشہ برا رہے گا اگرچہ آسمان اور زمین اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔ پس آپ کی دلیل میں آپ کے دعوے کے ثبوت میں تھوڑے سے آدمیوں کا اختلاف ہے اور میری دلیل سے بہت سے آدمیوں کا اتفاق ہے۔ اگر آپ کی دلیل کچھ بھی قیمتی ہے تو میری دلیل نہایت بیش قیمت سمجھی جائے گی۔ اگر دس ہزار عقلمند آدمی کسی چیز کی نسبت یہ کہیں کہ یہ چیز سرخ ہے اور تنہا ایک شخص یہ کہے کہ نہیں، یہ تو سبز ہے۔ تو اس صورت میں وہ چیز آپ کے نزدیک سرخ ہو گی یا سبز؟ تھوڑے سے آدمی جو بہت سے آدمیوں سے اس مسئلے میں رائے کا اختلاف رکھتے ہیں اگر ان کے اختلاف پر آپ غور کریں گے تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ یہ اختلاف ظاہری ہے۔ حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بعض آدمی جن افعال کو اس صورت میں جائز قرار دیتے ہیں کہ ان کے مخالف انہیں میں جائز قرار دیتے ہیں کہ ان کے مخالف انہیں کو ناجائز ٹھہراتے ہیں تو ان کے جائز اور ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دونوں نے ان کو مختلف نظر سے دیکھا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں کہ اسپارٹا کے باشندے چوری کو جائز سمجھتے تھے اور چوروں کی تعریف کرتے تھے لیکن اگر آپ ان سے پوچھتے کہ کیا تمہارے نزدیک چوری کرنا بذاتہ اچھا فعل ہے یا تم چوروں کی اس لئے تعریف کرتے ہو کہ وہ چوری کرتے ہیں تو وہ فوراً جواب دیتے کہ حاشا و کلا، ہمارے نزدیک ہر حال میں غیر کے مال میں دست اندازی کرنا برا ہے اور جو ایسا کرے وہ بھی ہمارے نزدیک اچھا نہیں ہے۔ ہم جب چور کی تعریف کرتے ہیں تو ہماری نظر میں اس کی چالاکی اور ہوشیاری اور چوری کے لئے اس کا طرح طرح کی تدبیریں ایجاد کرنا ہوتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ہم چور کی تعریف اس خیال سے کریں کہ وہ دوسروں کے مال میں بغیر کسی حق کے دست اندازی کرتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ چور کی تعریف چوری کے سبب سے نہیں کرتے تھے بلکہ اسی خیال سے کرتے تھے جس کا ہم نے اشارہ کیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب چور چوری کرتے ہوئے گرفتار ہو جاتا تو اس کو ملامت کرتے تھے اور کافی سزا دیتے تھے۔ اسی طرح جو لوگ اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں وہ بذاتہ قتل کو کوئی عمدہ فعل تصور نہیں کرتے بلکہ اس خیال سے کہ اس ذریعے سے ان کی اولاد تکلیف اور مصیبت کی دنیا سے نکل کر سعادت اور راحت کی دنیا میں پہنچ جاتی ہے اس فعل کو اچھا جانتے ہیں۔ اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ ایک ہی قسم کے افعال جن کو ایک گروہ انسانی جائز قرار دیتا ہے اور دوسرا گروہ ان کو ناجائز ٹھہراتا ہے ان کے حسن و قبح میں اختلاف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دونوں نے مختلف اعتبار اور مختلف حیثیت سے ان کو دیکھا ہے۔ باوجود اس کے میرے اور آپ کے اقوال میں سے خواہ کسی کا قول صحیح ہو اور کسی کا قول غلط ہو تاہم دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ آدمی بعض افعال کو اچھا بتاتے ہیں اور ان کے کرنے کو اچھا سمجھتے اور ان کو کرنے والے کو اچھا خیال کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض افعال ایسے ہیں جن کو وہ برا کہتے ہیں اور لوگوں کو ان کے ارتکاب سے روکتی ہیں اور جو شخص ان کا مرتکب ہو اس کو برا جانتی ہیں۔ میں نے حسن و قبح کے مسئلے کی جو توجیہ کی اگر آپ کو اس میں ابھی تک شک ہے تو آپ اپنی طرف سے کوئی جدید توجیہہ بیان کریں اور بتائیں کہ انسان کو کیونکر اس بات کا علم ہو سکتا ہے کہ بعض افعال اچھے ہیں اور بعض برے ہیں۔ اور وہ کس بنا پر یہ فتویٰ دے سکتا ہے کہ بعض افعال کا کرنا واجب اور بعض کا کرنا ناواجب ہے اور اس کو کیا حق ہے کہ بعض افعال کے کرنے والے کو وہ برا جانے اور بعض کو اچھا بتائے۔ اور جب وہ کوئی اچھا کام کرے تو کیوں اس کے دل میں خوشی اور اطمینان کی حالت پیدا ہوتی ہے اور جب اس سے کوئی بڑا کام سرزد ہو تو کیوں اس کی طبعیت آپ ہی آپ غمگین اور منقبض ہو جاتی ہے۔

وہی دوسرا معترض۔ یہ سچ ہے کہ ہم دونوں اس بات میں متفق ہیں کہ سب آدمی اچھے اور برے افعال میں تمیز کرتے ہیں گو کہو ہ اس بات میں باہم مختلف ہیں کہ ان میں سے خاص کر کون سا فعل اچھا ہے اور خاص کر کون سا فعل برا ہے مگر باوجود اس کے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اخلاقی افعال بذاتہ حسن و قبح ہوتے ہیں۔ میری رائے تو یہ ہے کہ تمام افعال ابتدا میں حسن و قبح سے خالی تھے۔ جھوٹ اور سچ دونوں یکساں تھے، مار ڈالنا اور نیکی کرنا دونوں فعل برابر تھے۔ زنا اور پاکدامنی دونوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ نہ کسی فعل کو فضائل میں شمار کر سکتے تھے۔ نہ کسی کو رذائل میں عقلا اور حکما نے بعض افعال کو بعض سے جدا کیا، بعض افعال کے تو کرنے کا حکم دیا اور بعض کے کرنے سے ممانعت کی۔ جو لوگ ان کے قانون کی اطاعت کرتے تھے ان کو انعام دیتے تھے اور جو اس سے نافرمانی کرتے تھے ان کو سزا دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام آدمی ان افعال کو جن کے کرنے کا حکم تھا اچھا سمجھنے لگے اور ان کے کرنے والوں کو اچھا جاننے لگے۔ اسی طرح ان افعال کو جن کے کرنے سے وہ ممانعت کرتے تھے برا جاننے لگے۔ اور ان کے ارتکاب کرنے والوں کو برا سمجھنے لگے۔ اسی وقت سے افعال کے حسن و قبح کا آغاز ہوا اور وہ قانونِ اخلاق کے موافق یا مخالف قرار دیے گئے۔ یہ مذہب انگلستان کے مشہور فلسفی ہوبس کا ہے اور میں اسی مذہب کو صحیح سمجھتا ہوں۔