جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کانشنس اور اخلاق پر ایک دلچسپ مکالمہ

بدیہی۔ ہاں یہ سچ ہے مگر آپ ضرور اس بات کو بھی تسلیم کریں گے کہ وہ تمام قوانین سے یکساں طور پر تجاوز نہیں کرتے اور تمام افعال ذمیمہ کو وہ اچھا نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک بعض افعال ذمیمہ اچھے اور بعض برے بھی ہیں۔ جو افعال برے ہیں ان کے ارتکاب پر ان کا کانشنس ضرور ان کو ملامت کرتا ہے۔ یہ اس بات کی کافی دلیل ہے کہ ان کے نفس میں کانشنس کی قوت موجود ہے مگر وہ راہِ راست پر چلنے سے اسی طرح قاصر ہے جس طرح ان کی عقلیں ان کے تعلیم یافتہ نہ ہونے اور وحشی اور غیر مہذب ہونے کے سبب سے قاصر ہیں۔ جس طرح ان کی عقلوں کے ناقص ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں عقل کی قوت بالکل موجود نہ ہو اسی طرح کانشنس کے ناقص ہونے سے اس کے وجود کا انکار نہیں ہو سکتا۔

دوسرا معترض۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ میرے معزز دوست نے جو اعتراض کیا ہے اس سے کانشنس کا وجود باطل نہیں ہوتا مگر آپ کے دعوے کا ایک حصہ ضرور باطل ہو جاتا ہے۔ آپ نے کہا ہے کہ حسن و قبح دو موجود صفتیں ہیں جو خود افعال کی ذات میں قائم ہیں۔ اور یہ صفتیں اضافی نہیں ہیں۔ عقل انسانی جب افعال پر نظر ڈالتی ہے تو فوراً ان صفات کو پہچان لیتی ہے اور یہ بات اس کی فطرت میں ودیعت رکھی گئی ہے۔ اس کی توجیہ آپ نے اس طرح کی کہ حسن و قبح کی صورتیں ذہنِ انسانی میں منقوش ہیں۔ جب انسان افعال کو دیکھتا ہے تو ان صفتوں کو ان میں موجود پاتا ہے اور پہلی ہی نظر میں بدیہی طور پر پہچان جاتا ہے کہ وہ افعال حسن ہیں یا قبح ہیں۔ آپ کے اس کہنے سے دو باتیں لازم آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حسن و قبح افعال کی اضافی صفات نہیں ہیں بلکہ ذاتی صفات ہیں۔ اور عقل انسانی افعال انسانی کو دیکھ کر ان کی صفات کے پہچاننے پر مجبور ہے۔ دوسرے یہ کہ جب عقل انسانی حسن و قبح کے پہچاننے پر مجبور ہے تو ہر انسان کی عقل سلیم جس طرح بدیہی طور پر کل کو جز سے بڑا جانتی ہے اسی طرح افعال کو دیکھتے ہی فوراً اور یکساں طور پر جان جائے گی کہ ان میں سے کون سے افعال اچھے ہیں اور کون سے برے ہیں۔ اور یہ آپ کے اس دعویٰ کے خلاف ہے کہ کانشنس معصوم نہیں ہے اور خلافِ واقع بھی ہے کیونکہ بعض انسان بعض افعال کو اچھا جانتے ہیں اور انہی کو بعض دوسرے برا خیال کرتے ہیں۔ پس آپ کا مذہب آپ کے دعویٰ کے بھی خلاف ہے اور واقع کے بھی خلاف ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ کا مذہب صحیح نہیں ہے۔

بدیہی۔ میں پہلی بات کو تو بیشک تسلیم کرتا ہوں مگر دوسری بات کو تسلیم نہیں کروں گا کیونکہ میرے قول سے یہ سارا الزام مجھ پر نہیں آتا۔ ایک حصۂ اعتراض کا مجھ پر لازم آتا ہے اور ایک حصہ نہیں آتا۔ اس لیے میں اسی حصۂ اعتراض کو تسلیم کروں گا جو مجھ پر لازم آتا ہے۔ میں یہ تو جانتا ہوں کہ آدمی اخلاقی افعال میں حسن و قبح کے وجود کو اسی طرح پہچان جاتے ہیں جس طرح وہ یہ جان لیتے ہیں کہ کل جز سے بڑا ہے مگر یہ بات نہیں مانتا کہ اس سے افعال کے حسن یا قبح ٹھہرانے میں انسانوں کا معصوم ہونا لازم آتا ہے۔ اخلاقی افعال میں حسن و قبح کے وجود کو پہچان لینے کا ثبوت تو اس سے ظاہر ہے کہ جو قوم روئے زمین پر موجود ہے وہ بعض افعال کو اچھا جانتی ہے اور بعض کو برا سمجھتی ہیں۔ اس سے قطع نظر کرو کہ کون سے افعال فی الحقیقت اچھے ہیں اور کون سے برے ہیں۔ پس اگر اخلاقی افعال میں حسن و قبح کی ذاتی صفات موجود نہ ہوتے اور اگر عقل انسانی ان میں ان صفات کے پہچان لینے پر قادر نہ ہوتی تو بعض افعال کو وہ اچھا اور بعض کو برا نہ قرار دیتے۔ پس تمام نوعِ انسان کا افعال میں حسن و قبح ٹھہرانا اس بات پر دلیل قاطع ہے کہ جس طرح وہ اولیات اور بدیہیات کو فوراً جان جاتے ہیں اسی طرح افعال کے اچھے ہونے اور برے ہونے کو بھی پہچان لیتے ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ثبوت نوعِ انسان کی تاریخ میں ان کے لٹریچر میں ان کے تمدن میں اور ان کے اقوال و تصنیفات میں جابجا ملتا ہے۔