روس کی سلطنت یورپ کے نصف حصے سے زیادہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس سر زمین میں کوسوں تک میدان ہی میدان ہیں۔ مگر کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں اور ہموار زمین بھی ہے۔ کہیں جنگل کے جنگل ہیں۔ کہیں دلدل پر دلدل ہیں۔ کہیں خشک چراگاہیں ہیں۔ ملک میں بارش کم ہوتی ہے، اس سے بڑھ کر شاید ہی کسی مقام میں سردی پڑتی ہوگی۔ اندرونی حصے میں خاص کر سخت سردی ہوتی ہے۔ جہاں پر بابوت اور بیروں کے درخت بکثرت ہوتے ہیں۔ جھیلوں اور کچے تالابوں کی کوئی انتہا نہیں۔ دریائے والگا، جس کی لمبائی 2400 میل ہے، نہ صرف روس بلکہ یورپ کا سب سے بڑا دریا ہے اور ملک کے ایک بڑے حصے کو سیراب و شاداب کرتا ہے۔ روس کا بادشاہ خود مختار ہوتا ہے۔ اس لیے شاہانِ روس آرام طلبی و عیش و نشاط کے غلام ہوتے چلے گئے۔ سلطنت کے کاروبار میں غفلت ہونے لگی۔ سرکاری انتظام و انصرام خود سر، خود غرض، جابر اور بد دیانت حکام کے ہاتھ میں چلا گیا۔ جو خود رعایا کے دشمن اور اس کے خون کے پیاسے تھے۔ عدالت کے حاکموں اور ججوں کو قلیل مشاہرے ملتے رہے اور وہ رشوت خواری کے مرض میں مبتلا ہوتے رہے۔ پولیس، جس کا فرض ملک کی حفاظت تھا، ہر کام میں دست اندازی کرنے لگی، لوگوں کے خانگی معاملات اور پرائیویٹ زندگی کی جستجو میں رہنے لگی۔ ذی عزت اور ایماندار اشخاص سے بدمعاشوں، چوروں اور دغابازوں کی طرح سلوک ہونے لگا۔ دیانت دار صاف باطن، راست گو ، وفادار اہل شہر قدم قدم پر قانون و قواعد کے شکنجے میں جکڑی ہوئے تھےلوگوں کے اخلاق حد سے زیادہ گر چکے تھے۔ عام رائے کا گلا گھوٹا جاتا تھا مذہبی مظالم جاری تھے۔ عوام الناس حکامِ سلطنت سے خائف و پریشان رہتے تھے۔ تعلیم نہایت پست حالت میں تھی، اسی وجہ سے روسی عرصے تک جاہل و بے علم رہے۔ خانہ جنگیوں کا بازار گرم تھا، اہل ملک آئے دن برائیوں کے شکار ہوتے جاتے تھے۔ خود غرضی، نفس پروری، بغض و حسد، فتنہ و فساد کی آگ ملک میں شعلہ زن تھی۔ عدل اور انصاف، راستی اور نیکی معدوم ہوتی جاتی تھیں۔ ایک طرف صاحبِ حشمت و ثروت و امرا تھے جو اپنے عیش و عشرت اور تمکنت میں مست تھے۔ دوسری طرف غریب، نچلے طبقے کے لوگ تھے جن کو معاش کی فکر کھائے ڈالتی تھی، پس اس صورت میں تعلیم و صنعت و حرفت کا کیا ذکر۔ اگر کسی صاحب کے پاس روپے کی افراط تھی تو شراب خواری معمولی بات تھی، ورنہ چائے ہی پر قناعت کی جاتی تھی۔ غرض، ملک کی عجیب نازک حالت تھی اور خوف تھا کہ کسی دن یہ بد انتظامی سلطنت کی تباہی کا باعث ثابت ہو۔ ملک کی ایسی مایوسانہ حالت دیکھ کر امن و بہبودی کے حامی و دیگر اہل دماغ و اہل تدبیر حیران تھے کہ ملک کے اس بیماری کا علاج کیا کیا جائے۔ جب یہ حالت تھی اس وقت ایک مصلح قوم روشنی و ہدایت کی مشعل ہاتھ میں لیے ہوئے ملک کو ایک امن و امان اور صلح و آشتی کی شاہ راہ دکھا رہا تھا وہ سچا رہنما و ہادیِ امن جس کو تشدد بغاوت کی پالیسی سے سخت نفرت تھی” کاونٹ ٹالسٹائی“تھا۔ آپ کا جنم 9 اگست 1828ء میں ٹسنایا پالینا1 میں ہوا۔ یہ مقام ماسکو2 کے قرب و جوار میں واقع ہے۔ آپ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ آپ کا خاندان جرمن نسل سے تھا جو عرصہ دراز سے روس میں قیام پذیر تھا۔ آپ کے سب سے پہلے بزرگ جنہوں نے روس میں بودو باش اختیار کی ”پیڑ ٹالسٹائی“ تھے جو کچھ عرصہ تک قسطنطینہ میں روسی سفیر کے عہدے پر مامور رہ چکے تھے۔ آپ کے والد کا نام نکلس تھا۔ آپ کی عمر بمشکل 3 سال کی تھی کہ والدہ ماجدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اس جانکاہ واقعہ کے چھ سال بعد باپ کا بھی انتقال ہو گیا۔ ٹالسٹائی میں یہ بڑی خوبی تھی کہ ان کو ایامِ طفولیت کی باتیں ذرا ذرا یاد تھیں۔ بچپن کی حالت میں آپ اپنے گہوارے میں لیٹے ہوئے تھے، ہاتھ پاؤں مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے جو اس وقت روس میں ایک عام رواج تھا آپ فرماتے ہیں کہ وہ حالت مجھ کو سخت شاق گزری، میں نے اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پہلے غصے میں رونے لگا اور مجھے اس گریہ و زاری سے ناقابلِ بیان دکھ ہوا۔ مگر میں اپنے آپ کو ضبط نہ کر سکا۔ میں نے اپنی بد بختی اور مصیبت کو محسوس کیا اور میرا دل درد سے بھر آیا۔ یہ زندگی کا پہلا واقعہ میرے سینے پر نقش کالحجر ہے۔
صاحبِ عقل و دانش نتیجہ نکال لیں کہ کیا مذکورہ بالا تمثیل ان نیک انسانوں کی آئندہ زندگی کے مطابق نہیں جو کہ تمام عمر توہمات اور تعصبات کی زنجیروں کے کاٹنے میں جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ ان کی بہن میری بیان کرتی ہیں کہ ایک دن کھانا کھاتے وقت وہ اپنے اتالیق کی نظروں سے اس غرض سے عائب ہوئے کہ وہ اپنے منصوبے کو جو مدت سے ان کے دل میں جا گزیں تھا پورا کریں۔ اور وہ انہوں نے اس طرح پورا کیا کہ وہ ایک کھڑکی سے صحن میں جس کا فاصلہ پندرہ فٹ تھا، کود پڑے، مگر ٹالسٹائی خدا کے فضل و حکمت سے صحیح و سالم بچ گئے۔ گو صدمہ اتنا سخت تھا کہ وہ اس واقعہ کے بعد اٹھارہ گھنٹے تک سوتے رہے۔ ایک دفعہ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ میں بہت برا اور بدصورت ہوں تو ان کو رنج ہوا۔ قدرت سے انتقام لینے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو اور بھی بدصورت بنانے کا قصد کر لیا اور اس غرض سے اپنی بھوؤں کو کاٹ ڈالا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ان کے اتالیق نے ان کو ایک بوڑھے گھوڑھے کو بڑی بے رحمی سے مارتے دیکھا کیونکہ وہ غریب چوپایہ اپنی پیشتر جیسی رفتار و تیزی سے نہیں چلتاتھا اور اپنے جوان آقا کی مرضی کے مطابق نہیں دوڑتا تھا۔ اتالیق نے لڑکے کو اس کے ظلم و بے رحمی پر بڑی ملامت کی اور سمجھایا کہ ایک پرانا خادم ایسے نوکر کی طرح ہوتا ہے جو اپنے مالک کی خدمت کرتے کرتے سفید ریش ہو گیا ہو اور وہ نیک سلوک کا مستحق ہو۔ اس وقت کی مشفقانہ نصیحت کا اثر بے غرضانہ محبت کا بنیادی پتھر ہے. فوراً لڑکے کا غصہ شرم میں تبدیل ہو گیا اور وہ ندامت سے عرق عرق ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اس نے اپنے ہاتھ غریب، تھکے ہوئے جانور کی گردن میں ڈال دیے اور محبت آمیز کلمات میں مخاطب ہو کر، اور رو رو کر دیر تک اس سے معافی مانگتا رہا۔ ٹالسٹائی کے ثناخوانوں کا خیال ہے کہ ایسے ایسے واقعات خواہ وہ کتنے ہی جھوٹے، معمولی، غیر ضروری کیوں نہ ہوں، اس ہونہار نوجوان کی آئندہ نیک دلی اور بلندیِ حوصلہ کا ثبوت اور”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ کی مثل کے مصداق ہیں۔
1843ء میں پندرہ سال کی عمر میں آپ کا کازان3 یونیورسٹی میں داخلہ ہوا اور عرصہ تک وہیں تعلیم پاتے رہے۔ ان میں الولعزمی اور خلقِ خدا کے کاموں کا جوش پیدا ہوتا رہا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی انھوں نے ادنیٰ طبقے کے لوگوں، کسانوں اور غلاموں کی زندگیوں اور ان کے مصائب کا اچھی طرح مطالعہ کیا جس کا ان کے دل پر بہت بڑا اثر ہوا، نیز ان لوگوں کی کتابوں نے جو سادہ زندگی، دیانت داری سے محنت اور فطرت پر عمل کرتے تھے اور بھی ان کی کایا پلٹ دی اور انہوں نے اپنے اہل ملک کے فلاح و بہتری کے لیے کوشش کا ارادہ کر لیا۔
