جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کاؤنٹ ٹالسٹائی (حصہ اول)

زارِ روس نے آخری حکم نافذ کرنے کی غرض سے کہا کہ میں اس کے متعلق بہت کچھ سن چکا ہوں۔ مجھ کو ٹالسٹائی کو اب بالکل آزاد کر دینا چاہیے، اگر ہم اس کو شہادت کا اعزاز بخشیں گے تو صرف روس میں ہی نہیں بلکہ تمام مہذب دنیا میں اس قدر شور و غوغا، جوش و خروش پھیلے گا کہ جس کا کبھی خاتمہ نہیں ہوگا۔ سکندر سوئم، شاہِ روس کا یہ حکم تھا۔ مگر اس کا وزیر ٹالسٹائی کے ایک خانقاہ میں قید کرنے کی ضرورت پر مصر تھا تاکہ آئندہ اس کو کسی قسم کی اشاعت کا موقع نہ ملے۔ غرض کہ اس دن ٹالسٹائی کو روسی حکام نے جازت دے دی کہ وہ اپنی تعلیم اور سچائی کا آزادانہ طور سے پرچار کرے۔ یہ سچ ہے کہ اس کو کلیسا سے خارج کر دیا گیا لیکن پھر بھی روسی پبلک کی ایک بڑی جماعت اس کی عقل و ادراک، فہم و ذہانت کو اپنی قوم کی سب سے بڑی علمی جائداد خیال کرتی ہے اور وہ اس کو مایہ ناز تصور کرنے میں حق بجانب ہے۔ روس میں ایسا عالم و عالی دماغ مصنف آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا۔ مفصلہ ذیل سطور سینٹ پیٹرز برگ کی کمیٹی نے اس وقت جبکہ اس کی اسی سالہ سالگرہ منائی گئی پڑھی تھیں: ”ٹالسٹائی کی شہرت مدت ہوئی اس ملک سے باہر نکل چکی ہے۔ اس کے اعلیٰ دماغ کی روحانی عظمت سے ہر قوم کے آدمی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اس نے اس متفقہ خیال کی اشاعت کی ہے کہ ہم سب ایک ہی گھرانے کے لوگ ہیں۔“

یہ وہی اصول ہے جو ہندوؤں کی کتابوں میں درج ہے کہ یہ سوال صرف تنگ ظرف لوگ کیا کرتے ہیں کہ یہ شخص اجنبی ہے یا ہماری قوم کا۔ جو لوگ وسیع دل ہیں اور جن کا خانۂ دل پریم اور محبت سے پر ہے ان کے لیے تمام دنیا ایک کنبہ ہے۔ اس نے اپنے لمبے دورِ زندگی میں انسانی تجربے کے پیالے کو اچھی طرح سے پیا ہے۔ زمانے کے نشیب و فراز کو پورے طور سے دیکھا ہے۔ گرمی، سردی بلا کسی شکایت کے برداشت کی ہے اور اس کو زندگی میں بہت سی کشمکش اور الجھنوں سے مقابلہ کرنا پڑا ہے۔

وہ ایک مذہبی پیشوا تھا۔ وہ اپنی اس سوسائٹی سے جس میں پیدا ہوا اور جس میں صاحب حکومت اور ذی رتبہ اشخاص شامل تھے باہر نکل آیا اور قدرتی روشنی اور آب و ہوا دیکھنے کے واسطے ایک کسان اور زمیندار کی آنکھ سے زندگی کا مطالعہ کرنے لگا۔ اس عمل سے اس نے بہت کچھ خدمتِ خلق کی کیونکہ اس طرح سے اس کو بہت سی نئی باتوں سے واقفیت ہوتی رہی، جبکہ پیشتر اس کو کوئی علم نہ تھا۔ کیا یہ بات ہم سب کے لیے قابل نفریں نہیں کہ ہم زندگی کی ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں بند ہو کر اپنے آپ کو کل سے جدا سمجھنے لگیں اور ان ہمدردی، نیکی اور فیاضی کے فرائض سے جو ہم پر بطور انسان کے واجب ہیں پہلو تہی کریں۔ وہ اپنی تعلیم و تلقین کا عملی ثبوت دینے کے لیے اپنے ہاتھوں کام کرتا تھا کبھی کسی موچی کے پاس جا کر اس کی مدد کرتا تھا کبھی کھیتوں میں زمینداروں کی، کبھی مدرس بن کر چھوٹی جماعتوں کو اٹھانے کی کوشش کرتا تھا، کبھی کسانوں کو ان کی جھونپڑیاں بنانے میں سہارا دیتا تھا، اپنی ذاتی ضرورتوں کو نیست و نابود کرتا گیا اور دوسروں سے حتیٰ الوسع کسی قسم کی مدد کا ملتجی نہیں ہوا۔ اس زمانۂ حال کے حامیِ دین و حامیِ امن کی یہ تلقین ہے: ”وہ انسان کی آئندہ زندگی کا قاتل نہیں۔ نجات اس کے خیال کے مطابق اس دنیا میں ہی نیک کاموں سے حاصل ہو سکتی ہے۔ غصہ کسی حالت میں جائز نہیں۔ شادی کا پاک رشتہ دوامی ہے۔ کبھی قسم نہیں کھانی چاہیے۔ اپنے دشمنوں کو پیار کرو۔ خواہ وہ تمہارے ہم ملک ہوں یا غیر۔ ہر قسم کی عیش و عشرت ترک کرو اور اپنی ضروریات کو محدود رکھو۔ قدرت اور جسمانی محنت سے پیار رکھو۔ غیر کے دست نگر نہ بنو اپنے قوت بازو سے کام لو۔ ایشور پر بشواس رکھو جو خوبصورتی،سچائی، پاکیزگی، نیکی اور پریم کا منبع ہے۔ تمام انسانوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھو۔“

اس نے اپنی خودنوشتہ سوانح عمری میں کھلم کھلا اور بڑی صاف دلی سے اپنی زندگی کے تمام واقعات کو اپنی جوانی کی اوباشیوں اپنی غلطیوں اپنے تندخو مزاج کی تیزی اور ظلم ناپسندیدہ جذبات قماربازی اخلاقی کمزوریوں شک و شبہات اور اپنی نئی زندگی کا جس سے اس کو کامیابی کی شعاع نظر آئی اور جس طرح سے اس کی آتما اس نور سے جس کو گیان کہتے ہیں منور ہوئی اور جس کو اب وہ سچائی تسلیم کرتا ہے، بڑی خوبی اور وضاحت سے قلمبند کیا ہے۔ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ میں بھی ایک کمزور انسان ہوں اور اس وجہ سے بہت سی نکمی اور بری عادتوں کو ترک نہیں کر سکتا مگر تمام دل و جان سے میں اپنے بہتر بنانے کا آرزو مند ہوں وہ خود اپنا ایسا نکتہ چین ہے کہ دوسروں کو حرف گیری کی گنجائش نہیں۔ چونکہ وہ ایک بڑا ناول نویس ہے۔ وہ اپنی سوانح عمری لکھنے والوں میں ممتاز رتبہ رکھتا ہے۔ اس میں بڑا وصف یہ ہے کہ وہ ذرا شرمندہ نہیں ہوتا۔ جس بات کو دوسرے چھپایا کرتے ہیں وہ بڑی خوشی سے ظاہر کر دیتا ہے۔ اس کی خود نوشتہ سوانح عمری میں یہی ایک بڑی خوبی ہے۔ اس کی طبعیت میں صاف گوئی اور فراخ دلی شروع سے واقع ہوئی ہے۔ اس نے اپنی جوانی کی غلطیوں کا اپنی چچی ٹاٹیانہ سے اسی آزادی سے اقرار کیا جیسا کہ اپنے ناظرین سے۔

اس کے بعض مخالف اس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ایسا مغرور ہے کہ نپولین، پیٹر اعظم، ارسطو، شیکسپیر، بیتھوون جیسے قدیم بزرگوں کی بزرگی کا لحاظ نہیں کرتا۔

غرض ٹالسٹائی کا بچپن، جوانی، اس کی تعلیم، اس کی جنگ، اس کا عشق، اس کی زندگی کے نشیب و فراز، اس کی خانہ داری کی زندگی، علمی مشاغل، پبلک خدمت واقعی قابلِ تحسین اور مطالعہ کے قابل ہیں۔ یہ اس کی پے درپے کوششوں کا نتیجہ ہے کہ لوگ اب بیدار ہوتے جاتے ہیں۔ عام لوگوں کا میلانِ طبع بنج و بیوپار کی طرف ہو چلا ہے۔ چھوٹے چھوٹے پیشوں کے آدمی مل کر کام کرنے کا عملی تجربہ کر رہے ہیں۔ ملاحوں، مزدوروں، اخبار فروشوں اور دیگر اہلِ حرفہ کے علیحدہ علیحدہ فرقے اور گروہ موجود ہیں۔ جن میں آئندہ بہتری و برتری کے آثار نمایاں ہوتے جاتے ہیں اور انہیں اہل حرفہ و مزدور جماعتوں کی تحریک تھی جس سے ملک میں عام جوش پھیلا، اور جس نے زار روس سے آزادانہ انتظامِ سلطنت کا وعدہ لے لیا، جس کو روسیوں کی اصطلاح میں ڈومہ کہتے ہیں۔