ہیگ، دارالخلافہ ہالینڈ، میں ایک انجمن مختلف قوموں کے علما و فضلا کی منعقد ہوئی جو صلح کی کانفرنس کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا مقصد قوموں کے درمیان رابطہ اتحاد قائم کرنے کا قانون پاس کرنا تھا۔ اس کا بانی مبانی شاہِ روس تھا۔ اس موقع پر جب ایک اخبار کا نامہ نگار ٹالسٹائی کے پاس اس بارے میں ان کے خیالات دریافت کرنے گیا کہ یہ ممکن ہے کہ یہ انجمن دیگر ہمہ گیر اقوام میں جن کے فوائد ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہیں ایک کامیاب جج کی حیثیت سے فیصلہ دے سکے؟۔ اس وقت ٹالسٹائی نے کیا ہی معقول جواب دیا: ”اول وجہ کہ کیوں کوئی سلطنت جنگ سے دست بردار نہیں ہو سکتی یا آئندہ نہ ہوگی، یہ ہے کہ افواج کا مجتمع ہونا اور جنگ کرنا اتفاقیہ حادثات نہیں ہیں۔ بلکہ کسی سلطنت کی ہستی یا اس کے قیام کے واسطے اشد ضروری ہیں۔ اس لیے جیسا کہ میں کہتا ہوں کہ کانفرنس مکار و ریاکار ہی ظاہر پرست ہے، تو میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بذات خود ایسی ہے بلکہ جیسا تم ایک ایسے کام کرنے کا ارادہ کرتے ہو جس کو تم جانتے ہو کہ یہ تمام زندگی کی تبدیلی کے بغیر تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا اور پھر تم زندگی کے رخ کو بھی بدلنا نہیں چاہتے تو تم بیشک منافق ہو۔ اس میں کلام ہی کیا ہے۔۔ اس لیے شاہ روس کی تجویز ایک مکر آمیز تجویز ہے اور اس بات کا دیگر اقوام کا قبول کرنا بھی محض ایک ظاہر داری ہے جس کی کامیابی پر کسی کو بھی اعتماد نہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ سلطنتیں جنگ کے موقعوں کو کم کر کے صرف اس بیماری کے نشانات کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان ذریعوں سے وہ عوام کے دلوں کو اصلی علاج سے پھیرنا چاہتی ہیں جس کا علاج ان کا ضمیر ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنی کوشش میں ناکام رہتی ہیں۔ ایک کانفرنس جس کو سلطنتوں نے مدعو کیا ہو، جنگ کے خطرات یا اس کی برائیوں کو کسی طرح رفع نہیں کر سکتی کیونکہ دو مصلح آدمیوں میں اعتماد نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے فوائد و متضاد میں وہ جنگی فوج اور ہتیار بند سپاہیوں کو محدود نہیں کر سکتے کیونکہ ان کو ایک دوسرے کے وعدوں پر اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اگر ان کو ایک دوسرے کے وعدوں پر اعتبار ہوتا تو فوجوں کی بالکل ضرورت نہ پڑتی۔ کیونکہ اگر ایک جھگڑے کے تصفیے کے واسطے دس لاکھ آدمیوں کی ضرورت نہیں ہو تو پھر پانچ لاکھ آدمیوں کی ضرورت کدھر رہی تو پھر صرف ڈھائی لاکھ ہی کیوں کافی نہیں اور اگر وہ سب ڈھائی لاکھ فوج برابر رکھ کر ہی فیصلہ کر سکتے ہیں تو دس یا ایک سے کیوں نہیں؟ وجہ صاف اور ظاہر ہے کہ ایک کو دوسرے کا اعتبار نہیں۔“
سواسٹوپول کے محاصرے پر پرنس ارسو نے دیکھا کہ ایک قلعہ جو ہم کئی بار ہار چکے ہیں اور پھر کئی مرتبہ جیت چکے ہیں اور پھر بھی اس کی آخری فتح محض اتفاق پر ہے تو اس نے اپنے جنرل سے یہ تجویز پیش کی کہ یہ بہتر ہو کہ مخالف فوج اپنے کسی افسر کو مقرر کرے جو اس قلعے کے قبضے کے واسطے شطرنج کھیلے۔ بلا شک اس کی تجویز مذاق میں اڑا دی گئی۔ کیونکہ کمانڈر کو خیال گزرا کہ جب بغیر کسی تکلیف کے قلعہ کے حاصل کرنے کے موقع پر ہر شخص شطرنج کھیلنے کو راضی ہو جائے گا تو مفتوح دشمن کو ازسرنو کوشش کرنے اور فوج کے زور سے قبضہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ وہ وجہ کہ کیوں مردم شماری بجائے شطرنج کھیلنے کے جھگڑوں کے فیصل کرنے کا ذریعہ اختیار کی گئی یہ ہے کہ انتہائی درجہ تھا اور جب تم کافی تعداد میں انسانوں کو مار چکے تو تمہارا دشمن ضرور تم سے صلح کر لے گا۔ لیکن یکساں یا محدود فوج کے ساتھ جنگ کرنا آخری علتِ غائی نہیں اور نہ غنیم ہی کے واسطے کوئی بندش ہو کہ وہ ازسرنو فوج فراہم کر کے لڑائی شروع نہ کرے۔ یہ بالکل سچ ہے کہ ایک پرامن کانفرنس اس کے انسداد کے قواعد منضبط کر دے لیکن ہر قوم جو جنگ پر آمادہ ہوتی ہے یہی بہانہ پیش کرتی ہے کہ اس کے دشمن نے عہد و پیمان کی پابندی نہیں کی۔ اور نہ کوئی قوم جنگ کے وقت اپنے دشمن سے بطور فرض سچائی، پابندئ قول و استواریِ ہمت پر قائم رہتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ قوموں نے پہلے ہی سے اس معاملہ میں کہ جس طریق سے وہ آئندہ جنگ کریں گے عہد و پیماں اور شرائط کر لیے ہیں۔ آپ بیشک درست کہتے ہیں۔ لیکن جنگ کو شائستہ بنانے کے قواعد پر کبھی عمل درآمد نہیں ہو سکتا۔ کیا کسی قوم نے دوسری قوم سے آج تک کبھی ایسا عہدنامہ کیا ہے کہ جس سے لڑائی میں وہ اپنی طاقت و لیاقت کو محدود رکھیں گے؟ اس کے علاوہ گورنمنٹیں دوسری وجہ سے بھی اپنی جنگی فوج و مسلح سپاہیوں کو کسی حالت میں محدود نہیں کر سکتیں کیونکہ ہر ایک سلطنت اپنے اپنے ملکوں پر جن کے باشندے آزادی کے خواستگار ہیں۔ زور و جبر سے حکومت کرتی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ ایک سلطنت دوسری سلطنت پر ہی اعتبار نہیں کرتی بلکہ ان کو اپنی رعایا پر ہی اعتماد نہیں اور ہر سلطنت کا یہ ضروری فرض ہے۔ کوئی سلطنت اس کے بغیر امن قائم نہیں رکھ سکتی۔ اگر تمام آدمی اپنے ضمیر کی رہنمائی سے کام لیتے اور ایک دوسرے پر اعتبار کرتے تو گورنمنٹ کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور نہ کبھی جنگ ہوتی۔ لیکن آپ فرماتے ہیں کہ اگر گورنمنٹ لڑائی روک نہیں سکتی تو کم از کم اس کو کم خطرناک تو ضرور کر سکتی ہے۔ ہاں اس بات نے بہت سے آدمیوں کے دلوں میں ولولہ ڈال رکھا ہے۔ یہ صرف ان لوگوں کی کہ جن کو جنگ کے جاری رہنے سے فائدہ پہنچتا ہے، ریاکاری ہے۔ اس لیے مجھے امید نہیں کہ شاہ روس کی کانفرنس کامیاب ہو۔ اور اگر بفرض محال کامیاب ہو بھی تو اس سے لوگوں کے دل اس آزادی سے جو ہر شخص کے واسطے ممکن ہے پھر جائیں گے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ضمیر کو رہنما بنائے اور اس کی ہدایت پر چلے جو اس کو دم بدم یہ وعظ سناتا ہے کہ لڑائی قتل ہے۔ جب ہر خاص و عام کو اس کا یقین ہو جائے گا تو پھر آئندہ لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور نہ سلطنتیں ہی رہیں گی جو یہ جنگ کراتی ہیں۔ لیکن فرض کرو کہ تمام سلطنتیں اس عقیدے کے پیرو ہو جائیں اور اس خیالی امن میں زندگی بسر کریں تو بھی یہ امید نہیں ہو سکتی کہ دنیا ایک ہی وقت میں ایک ساتھ تبدیل ہو جائے گی۔ نہیں۔ کیونکہ اگر وہ سب تبدیل ہو جائیں تو ان کا ضمیر ان کی رہنمائی کرے گا اور ان کو اس امر سے آگاہی ہو جائے گی کہ لڑائی قتل ہے۔
ایک اور عالم کہتا ہے کہ آپ مجھے وہ تمام زر و دولت دے دیں جو آج تک دنیا کی جنگ میں صرف ہوتی ہے اور میں کرہ ارض کی تمام زمین خرید لوں گا۔ میں ہر فردِ بشر، مرد، عورت اور بچے کو ایسی مکلف پوشاکوں سے ملبوس کر دوں گا جس حسن پر شاہوں اور شاہزادیوں کو ناز ہوتا ہے۔ میں تمام روئے زمین کے ہر مقام اور وادی پر درس گاہیں و مدارس تعمیر کرا دوں گا۔ میں ہر ایک قصبہ میں پاٹ شالا کھول دوں گا اور ہر ایک ریاست میں کالج قائم کر دوں گا۔ جن میں لائق پروفیسر موجود ہوں گے۔ میں ہر ایک پہاڑی پر عبادت گاہیں بنوا دوں گا جن سے دنیا امن و عافیت کا سبق سیکھے گی۔ میں دنیا کو راستی کی تلقین دینے کے لیے لائق استاد مقرر کر دوں گا۔ کیا آپ کو اس عالم کے الفاظ کی صداقت پر یقین نہیں؟۔ کیا اب بھی آپ کو خلقت کے نقصانِ جان و مال، مصائب و تکالیف جو جنگ سے ہوتی ہیں، اندازہ لگانے میں کچھ دقت ہے۔ مگر افسوس ہے کہ پھر بھی آج قومیں فوجیں آراستہ کر رہی ہیں۔ اور جنگ کے سازوسامان کا اضافہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ دنیا میں ابھی کشت و خون کا بازار سرد نہیں بلکہ روزبروز گرم ہو رہا ہے۔
