ایک شدھ اور پوتر آتما رکھنے والا شخص اپنے گذشتہ ایام پر سخت پیچ و تاب کرتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح مجھ کو بڑھاپے کے شروع میں تمام دنیا کی بھلائی کرنے اور لوگوں کی خدمت کا خیال پیدا ہوا۔ مجھے وہ ہولناک نازک وقت اچھی طرح یاد ہے جب میں پچاس سال کا تھا اور جس نے میری زندگی کو برباد کر دیا ہوتا۔ اور وہ یہ تھا کہ میں نے سیدھے سادھے قابل یقین عقیدے کو چھوڑ کر ملحدانہ دین اختیار کر لیا تھا۔ جس میں اس سچی روشنی کے واسطے کوئی راستہ نہ تھا جس کے بغیر زندگی وبال اور تنگ و تاریک معلوم ہوتی ہے۔ یکایک ایسی حالت میں میری زندگی سنسان اور بے رونق نظر آنے لگی۔ یہاں تک کہ میں نے خود کشی کی ٹھان لی۔ اور کتب خانے کے دروازے کی چٹخنی میں رسی لٹکا دی۔ ہر ایک چیز کی تیاری ہو چکی تھی۔ پھانسی کا پھندا زندگی کا خاتمہ کرنے کے لیے تیار تھا۔ چند لمحوں کی دیر تھی کہ کوئی نیک شکون آگے آ گیا اس سرعت کے ساتھ جیسے بجلی کی کوند میں نے دم بھر کے لیے آنکھیں بند کیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ رحمت کا فرشتہ بہ آوازِ بلند یہ بشارت دے رہا ہے کہ دیکھ، ضمیر کی ہدایت پر چل اور مجھے، جس نے گھڑی بھر پہلے موت کو آنکھوں سے دیکھ لیا تھا، حقیقی روشنی و علم کی جھلک جس کا پہلے مہاتماؤں نے اپدیش کیا تھا، نظر آئی اور میری جان ہلاکت سے بچ گئی۔ اس وقت سے میں نے اس کو اپنی زندگی میں جذب اور پیوست کرنے کی کوشش کی۔ اس کی زندگی میں اس وقت سے تبدیلی واقع ہوئی جب سے اس نے اپنی حالت پر وچار کرنا شروع کیا۔ اس کو یہ معلوم ہو گیا.
|
اگرچہ منزل بس خطرناک ست و مقصد نا پدید |
ہیچ راہی نیست کو را نیست پایان، غم مخور |
|
ترجمہ
اگرچہ منزل بہت پرخطر ہے اور مقصد نظروں سے اوجھل ہے، (پھر بھی) کوئی ایسی راہ نہیں جس کا کوئی انجام نہ ہو، پس تو غم نہ کر۔ |
|
دنیا کی بیہودہ و موہوم خوشیوں کے علم کے ساتھ ساتھ اس کی رائے میں پختگی آتی گئی۔ ایک شخص سوال کرتا ہے کہ کیا ٹالسٹائی کو اس روحانی عروج کے زینے پر پہنچنے کے لیے عرصہ تک ریاضتوں میں سے گزرنا پڑا جو ادنیٰ لوگوں کی خدمت اور کسانوں کے مجمع کو جو کھیتوں میں کام کرتے ہیں سچا مندر اور مذہب بتاتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں بلکہ اس کا تو اس کی اوائل عمر کی تحریروں سے بھی پتہ لگتا ہے۔ اس کی فضیلت اور قابلیت، اس کا پر اپکار، انکسار، خاموشی اور صبر کے ساتھ محنت، بے غرضانہ محبت کی انسان تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
وہ کہتا ہے ترقی، ہنر، فضیلت، اعلیٰ سامانوں سے خوشی، انسانی تمیز و تفاوت، یہ سب مکر اور دھوکا ہے۔ کیا ملک میں تہذیب کی آمد سے انس، محبت اور پریم کی ضرورت معدوم ہو جائے گی۔ ہر گز نہیں، تو پھر ترقی کے واسطے کیوں اس قدر سر توڑ کوشش ہے جب یہ سب چیزیں پہلے ہی سے موجود ہیں۔
ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں: ”آپ کا لیڈر بھی ایک معمولی انسان ہے جس کو اتفاقِ وقت عارضی سرداری، اور چند روزہ شہرت عطا کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی اسی طرح حالات کا غلام ہے جیسے دیگر انسان۔ ایسے ہی لوگ چھوٹے چھوٹے خرفشے و تنازعے برپا کرتے رہتے ہیں۔ جھگڑوں کو طول دیتے رہتے ہیں اور جھنڈوں اور عارضی تغیروں کے خواہشمند ہوتے ہیں اور صلح کل حلیم الطبع باشندوں کی بھاری مصارف پر اپنی شان و شوکت، قدر و منزلت کو بڑھانے کے متلاشی رہتے ہیں۔
ہر ایک مقصد میں کچھ نہ کچھ تقدس و عظمت ضرور ہوتی ہے جس کے معنی اعلیٰ اخلاقی کام اعلیٰ کوشش فرض اور خود ایثاری ہے۔۔ پھر بھی بسا اوقات مقصد کو خودغرضانہ مطلب، خواہش، خوشی، نفسانی جذبات ، تمغوں، پھندوں، باجوں یا جنگ کی آرزؤں سے پیوند کیا جاتا ہے۔۔ لیڈر تو اپنا کھیل اچھی طرح کھیل جاتا ہےلیکن اس کا خمیازہ ان بیچارے خاموش انسانوں کو جو توپ کی خوراک بننے ہیں، بھگتنا پڑتا ہے۔
اگر ایک لیڈر ہار جاتا ہے تو دوسری طرف یہی لیڈر ہے جو جیتا ہے۔۔ فریقین کے بندوق اٹھانے والے جو صرف توپ و تفنگ، تیر و تبر کے بار بردار ہوتے ہیں اور میدانوں اور جنگلوں سے بھرتی کر لیے جاتے ہیں کبھی نہیں جیتے۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے یہ بھی فرض کر لیں کہ آپ کا مقصد در حقیقت اعلیٰ و بلند ہے کہ جس میں لیڈر نے اپنی زندگی و دیگر اشخاص کی زندگیوں کو قربان کر کے اس کے مقدس بنانے کی کوشش کی ہے۔۔
ٹالسٹائی فرماتے ہیں کہ اس حالت میں بھی تم کو اپنے ذاتی عقل و عقیدے کی کمزور بنیاد پر کوئی حق نہیں کہ تم دوسروں کی جانوں کو قربان کرو۔ مانا کہ تم الیگزینڈر یا نکولس کو پامال کرو گے روس کو جمہوری سلطنت بنا دو گے۔۔
اور اس غرض کے لیے تم اسکول سے لڑکوں کو بم پھینکنے اور قلعبندی کرنے کے لیے بھیجتے ہو۔ تم لڑکیوں کو تپنچہ دیتے ہو، تم بغاوت پھیلاتے ہو اور کسانوں، زمینداروں اور دوسروں کو بھڑکاتے ہو۔۔ کہ وہ آگ لگائیں، قتل و خون کریں۔۔ تم آدمیوں کے ساتھ شطرنج کے پیادوں کی طرح کھیلتے ہو۔۔ تم جواریوں کی طرح اتفاق پر کام کرتے ہو، جس میں دسیوں لوگوں کی زندگیاں ہیں۔۔ بعض وقت تم اس سے بھی بڑھ جاتے ہو، تم خیال کرتے ہو کہ اگر بہت سے روسی مرد و عورت پھانسی پر لٹک جائیں یا توپوں سے اڑا دیے جائیں تو لوگوں میں عام ناراضی اور غصے کی آگ بھڑکے گی۔ جو مغرور حکام و وزراء کو تہ و بالا کر دے گی۔۔ اور تم اپنے نفع کے واسطے فوراً دوسروں کی جانوں کو خطرے میں جھونک دیتے ہو۔ تم کو اس بات کا بھی خیال نہیں آتا کہ اگر تم اس شے کو جس کو تم کامیابی تصور کرتے ہو حاصل بھی کر لوتو تم کو دوسروں کی جانوں کو فتح و نصرت کے دارالضرب میں سکہ بنانے کا کوئی حق نہیں، خواہ وہ آزادی ترقی یا تہذیب کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ ہر ایک خیالی اصلاح، ترمیم و توسیع جس کے حصول کی آپ کو امید ہے۔ نئی پارلیمنٹ میں اپنے ہر ایک وکلا کے انتخاب کے لیے یا آزادانہ اسپیچ کی ترتیب کے ہر ایک نظم و لطیفے کے لیے تم نے دوسروں کی جانیں ضائع کی ہیں۔۔ نفرت کو بڑھایا ہے ظلم و انتقام کے جوش کو پھیلایا ہے جو سوسائٹی کے حق میں سم قاتل ہے اسی طرح دوسرے سال کوئی انقلاب پسند اپنی رائے کو نیک و درست قرار دے کر تمہاری پارلیمنٹ کے برخلاف ہزاروں جانوں کا خون کر دے گا اور پھر اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا لیڈر انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دے گا پس تاریخ سے جو آپ تیار کرتے ہیں سوائے لیڈروں کے تسلسل کے جو خاموش انسانوں کو غریب بھیڑوں کی مانند مذبح کی طرف لے جاتے ہیں نہ کہ کسی عام فلاح و ترقی کی طرف، ظاہر نہیں ہوتا۔۔
اگر نکلس جیت جاتا ہے، تو لیڈر ہی ہیں جو دار پر لٹکائے جاتے ہیں اور اگر نکلس ہار جاتا ہے تو بھی لیڈر ہی ہیں جو اس کے تاجِ شاہی اختیارات پر قابض ہو جاتے ہیں۔۔
ٹالسٹائی کے نزدیک انسانی زندگی بہ لحاظ طہارت و تقدیس خدا سے دوسرے درجے پر ہے، جس کا انسانی زندگی ایک جزو ہے۔۔ وہ کہتا ہے کہ اگر آپ کو خدا اور آیندہ زندگی پر وشواس ہے تو پھر فروعات پر لڑائی جھگڑے کرنا سخت حماقت ہے۔ اپنی زندگی کو ظلم و ستم، خیر و تعدی، برائی اور پاپ کے مقابلے میں خطرے میں ڈال دو۔۔ مگر آپ اس ظلم کے مرتکب نہ ہوں اور نہ دوسروں کو ظلم پر مائل کریں۔۔ سلطنت جمہوری کا پکا حامی شاہی شان و شوکت، کلیسا، سلاطین، علم و کمال، غرضیکہ ہر قسم کی لیڈر شپ سے منحرف و متنفر یہ سب اس نیک انسان کی نیک نیتی کا یہی ثبوت ہے۔۔ وہ کہتا ہے، آزاد انسان اپنے بل پر بھروسا رکھ کر محنت کرے گا۔ اپنے ابنائے جنس کی مدد کرے گا اور ایشور کی مرضی پر کار بند ہوگا۔۔ اور یہی تمام قانون اور پیغمبروں کی تلقین کا خلاصہ ہے۔ غرض ٹالسٹائی نے لوگوں کو ایسا ہی اپدیش دیا۔ خدمت کی۔ پر اپکار کیااس نے ان پریم ،بھلائی خدمت خلق کی قدیم روایتوں کی یاد خبکارواج چینی اور ہندی مہاتماؤں نے دیگر ایشور بھگتیوں نے کیا تھا پھر ازسرنو لوگوں کے دلوں میں تازہ کردی۔
