جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

کاؤنٹ ٹالسٹائی (حصہ اول)

1845ء میں انھوں نے مشرقی زبانیں یعنی عربی اور ترکی سیکھنے کا ارادہ کیا مگر تھوڑے عرصہ کے بعد قانون، تاریخ اور علمِ الہی و فلسفہ کی طرف متوجہ ہوئے لیکن یہ جملہ علوم ان کی دلی خواہش کو پورا نہ کر سکے۔ ان کو اگر کسی چیز کا شوق تھا تو وہ مذہب ہی کی تلاش تھی۔ یہ ان کی طبیعت کو سیر کر سکتی تھی۔ آخر سالانہ امتحان پاس کر کے 1847ء میں انہوں نے کالج چھوڑ دیا۔ مگر اس کے بعد بھائی و دیگر رشتہ داروں کے اصرار سے وہ فوج میں داخل ہو گئے اور طفلس کے مدرسے میں فوجی امتحان پاس کر کے توپخانہ میں کام شروع کیا۔ اس زمانے میں کوہِ قاف کے لوگ لوٹ مار کیا کرتے تھے اور یہ پہلا موقع تھا کہ ان کو ان لوگوں کی سرکوبی کے واسطے فوجی خدمات انجام دینی پڑیں۔ لیکن جس کا دل کسی اور ہی طرف ہو اس کو فوجی اشغال، سیر و سفر و شکار کا شوق و دیگر مصروفیات کب اپنی طرف راغب کر سکتے ہیں۔ تصنیف کی طاقت جو اب تک خوابیدہ تھی بیدار ہوئی اور چند سال کے عرصے میں انہوں نے بہت سی کتب لکھ ڈالیں جس کا ملک بھر میں بہت بڑا اثر ہوا۔ اب شہرت بھی ہو گئی۔ اس اثناء میں جنگ کریمیا چھڑ گئی۔ ٹالسٹائی سواسٹوپول4 میں جنگ خونرنریانہ اور تکالیف سے استقدرمتاثر ہوئے کہ وطن واپس آگئے۔ اور لوگوں کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ 1855ء میں الیگزینڈر دوم روس کا فرمانروا مقرر ہوا۔ اور اس نے ملک کی ترقی کی طرف توجہ دی۔ غلاموں کی آزادی کے مسئلہ نے زور پکڑا۔ ٹالسٹائی نے غلامی کی برائیوں کو ”پولی کوشکا“ نامی ناول میں بڑی خوبی سے ظاہر کیا اور خود اپنے غلاموں کو آزاد کر دیا۔ کئی بار جرمنی، اٹلی اور فرانس کا سفر کیا، پھر وہ سخت بیمار ہو گئے۔ انہی دنوں میں ان کا بھائی نکولس فوت ہو گیا، جس کا ان کو بہت رنج ہوا۔ پھر 1861ء میں لندن کا سفر کیا۔ واپسی پر روس میں اٹلی، فرانس اور جرمنی کے تعلیمی طریقوں کے مطابق تعلیم کا رواج دینا چاہا۔۔ ایک مدرسہ اور ایک رسالہ اس کی حمایت میں جاری کیا اور کچھ عرصے بعد ادنیٰ درجے کے لوگوں اور کسانوں میں تعلیم کی کوشش شروع کی۔ ٹالسٹائی اس مدرسہ میں خود تعلیم دیتے تھے، اس مدرسے کے نمونے پر بہت سے سکول کھولے گئے اور وزیرِ تعلیمات نے ٹالسٹائی کی تعلیمی خدمات کو پسند کر کے ترقیِ تعلیم میں ان کی مدد چاہی۔ اب ٹالسٹائی ملک کی سوشل خرابیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے خیالات کا پرچار شروع کیا۔ 1862ء میں انہوں نے ایک روسی ڈاکٹر کی لڑکی صوفیہ سے شادی کر لی۔ اور وہ وطن میں سکونت اختیار کر کے زراعت کے پیشے میں مصروف ہو گئے اور ساتھ ہی تصانیف کا کام بھی جاری رکھا۔ اس کے بعد انہوں نے یونانی زبان سیکھی اور شوپن ہار فلسفی کی کتب کا مطالعہ کیا۔ 1870ء میں ان کی زندگی میں ایک نیا باب کھلا اور انھوں نے اپنی زندگی کا شعار مذہبی خدمت قرار دیا۔ اور”میرے اقرارات“ نامی ناول میں انہوں نے اس تبدیلی کا واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے گوشت خواری اور تمباکو نوشی ترک کر دی اور نباتات پر گزر کرنا شروع کیا۔

1880ء میں ان کو مردم شماری کا کام سپرد کیا گیا۔ جس سے غربا کی سچی حالت ان کے مصائب و تفکرات اچھی طرح معلوم ہو گئے۔ اس سے متاثر ہو کر ٹالسٹائی 1888ء میں اپنی جائداد سے دست بردار ہو گئے۔ 1891-92ء کے قحط میں ان کی شہرت اور بھی بڑھ گئی جس میں انہوں نے قحط زدوں کی ہر طرح مدد کی۔ 1891ء میں کوہِ قاف کے علاقوں کے لوگوں میں کچھ تبدیلی پیدا ہوئی اور انہوں نے فوجی ملازمت، جو ہر شخص پر واجب اور لازم تھی، اور مذہبی رسوم کی ادائیگی سے انحراف کیا، اس وجہ سے اس صوبہ کے گورنر نے ناخوش ہو کر ان کی سرزنش کے لئے مہم بھیجی۔ ٹالسٹائی نے ان کی حمایت کی۔ ان کے لیڈروں کو جلا وطن کیا گیا، مگر آخر کار ٹالسٹائی کی آواز پر زارِ روس کو ان پر کوئی سختیاں نہ کرنے کا حکم جاری کرنا پڑا اور ان لوگوں کو نقلِ سکونت کرنی پڑی اور قریب 7500 لوگ کینیڈا چلے گئے۔ ان واقعات کی بنا پر ٹالسٹائی نے”قیامت“ نامی ناول لکھا جس میں روسی کلیسا پر حملے کیے۔ جس کے باعث ان کو کلیسا سے خارج کر دیا گیا۔ اس وقت ٹالسٹائی نے اپنے عقیدے کو ظاہر کیا جو یہ ہے کہ میں خدا پر اور اس کے احکام پر جو مسیح کی تعلیم میں پائی جاتی ہیں، یقین رکھتا ہوں مگر مسیح کی بطور خدا کے عبادت کرنا کفر سمجھتا ہوں اور کلیسا سے اخراج کے جواب میں جو مضمون آپ نے شائع کرایا، اس کا لبِ لباب یہ ہے۔”کشت و خون و مظالم بار بار ہوتے ہیں۔ لوگوں کو ستایا جاتا ہے۔ میں زار روس سے لے کر اس کے سارے افسروں اور رشتہ داروں تک کو مطلع کرتا ہوں کہ ایسا نہ کیا جائے اور ملک کی بہبودی کے لئے ذیل کی تدابیر عمل میں لائی جائیں۔(1)کسانوں کو دیگر فرقوں کی مانند حقوق دیے جائیں۔(2) ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے پروانہ راہداری نہ لیا جائے (3) جسمانی سزا نہ دی جائے (4) فوجی قانون کا عمل درآمد بند کیا جائے (5) تعلیمی رکاوٹیں دور کی جائیں سوشل مدارج کا امتیاز مٹا دیا جائے۔ سکولوں میں ہر مذہب اور فرقے کے لوگ تعلیم پائیں (6) مذہبی آزادی کے متعلق قیود اٹھا دی جائیں ہر فرقہ کو مذہبی عبادت گاہیں بنانے اور مذہبی جلسے کرنے کی اجازت ہو۔ لوگ اپنے بچوں کو اپنے عقائد کی تعلیم دیں“۔

ٹالسٹائی نے روس میں پارلیمنٹ قائم کرنے میں جو قابلِ قدر مدد دی، وہ دنیا بھر پر روشن ہے۔

دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ باریک ذرہ سے لے کر آسمان کے سیاہ تک ہر ایک اپنے فرض کی ادائیگی میں مشغول ہے اسی طرح ٹالسٹائی بھی دنیا میں خاص مشن کے لیے پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں آپ کو ایسے آدمی بہت کم ملیں گے جو اپنی کرسی پر بیٹھ کر دنیا کا اس غور سے مطالعہ کرتے ہوں جیسا کہ ٹالسٹائی نے کیا۔

وہ اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کچھ حصہ میری زندگی کا تاریک اور سیاہ تھا اور کچھ روشن و سفید۔ وہ کہتا ہے کہ میں جب کبھی اپنے گذشتہ ایام پر نظر ڈالتا ہوں گو میرا دل خوف سے کانپنے لگتا ہے۔ میں نے لوگوں کو لڑائی سے ہم بغل کرایا۔ میں دوسروں کو قتل کرنے کی غرض سے لڑا، قمار بازی کرتا رہا۔ اس مال کو جو غریب کسانوں کی گاڑھے پسینے کی کمائی تھا غصب کرتا رہا۔ ان کو بے رحمی سے سزائیں دیتا رہا۔ عورتوں سے خرمستیاں کرتا رہا۔ اور انسانوں کو دھوکا دیتا رہا۔ جھوٹ، لوٹ مار، ہر قسم کی بدمعاشی، شراب خواری، ظلم و قتل یہ سب کچھ میں نے کیے، غرضیکہ شاید ہی کوئی برا کام مجھ سے بچا ہو۔ دس سال تک میری یہی حالت رہی۔ اس کے نام پر واقعی یہ ایک بدنما دھبہ ہے۔ مگر اس کے ضمیر کا احساس اس کو بلند نظری، پشیمانی اور تاسف سے جیسے ایک مرتاض اپنے ایام گذشتہ پر لعن طعن کرتا ہے، سرزنش کرتا ہے اور یہ ایک عام بات ہے۔ ”بنیان“ خیال کرتا ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر گنہگار رہا۔ سینٹ فرانسس کہتے تھے کہ میری جوانی اوباشی میں گذری ٹالسٹائی بھی ان کا ایک ہمدم و ہمراہی ہے۔ جب اس کو 75 سال کی عمر میں اپنے روزنامچے میں مفصلہ ذیل سطور کا پتہ لگتا ہے۔

”میں اب جہنم کے عذاب اٹھا رہا ہوں۔ میں اپنی گذشتہ زندگی کی تمام برائیوں کو یاد کر رہا ہوں یہ باتیں یونہی نہیں گزر جاتی بلکہ ان کی یاد میری زندگی کو تلخ کیے دیتی ہے“۔

”اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ لوگ افسوس کیا کرتے ہیں کہ انسانوں کو موت کے بعد کی بات یاد نہیں رہتی۔ آہ، یہ کتنا بڑا کشٹ ہوتا اگر مجھ کو آیندہ زندگی میں بھی یہ تمام برائیاں اور پاپ جو میں نے اپنی سابق زندگی میں کیے تھے یاد رہتے“۔