اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خلافتِ اسلامیہ

سیاسیاتِ اسلام میں یہی بڑے بڑے مذاہب ہیں جن کا ہم نے مختصراً ذکر کر دیا ہے۔ ان تمام کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کے تسلیم کرنے میں شبہ نہیں رہے گا۔ کہ قرآن پاک نے جو اصولِ اساسی قائم کیا ہے وہ انتخاب ہی کا اصول ہے۔ رہا یہ امر کہ عملاً حکومت کے اس طرزِ عمل کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے اس اصول کی کیا کیا تشریح و تاویل کی جا سکتی ہے اور اس سے کون کون سی فروعات و تفصیلات مستنبط ہوتی ہیں، اس بات کے فیصلہ کا دار و مدار وقتی حالات و دیگر واقعات پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو مختلف زبانوں میں مختلف جگہوں میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ مگر شومیٔ قسمت سے مسلمانوں نے انتخاب کے مسئلہ کی طرف کماحقہ توجہ نہیں کی۔ اور خالص جمہوری بناؤں پر اصولِ انتخاب کے مسئلہ کو فروغ دینے کی سعی سے قاصر رہے ہیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان فاتحین ایشیا کے سیاسی نشوو ارتقاء کے لئے مطلقاً کچھ نہ کر سکے۔ بغداد اور اندلس میں بے شک بظاہر اصولِ انتخاب کی ہیئت کو قائم رکھا گیا لیکن اس قسم کے با قاعدہ سیاسی نظام کوئی قائم نہ کئے گئے جن سے بحیثیتِ مجموعی قوم کو استحکام و استقرار نصیب ہو۔ اسلامی ممالک میں سیاسی زندگی نے کیوں فروغ نہ پایا میرے خیال میں اس کے دو بڑے وجوہ ہیں۔ اور وہ یہ ہیں:۔

(1) کہ اول تو ایرانیوں اور منگولوں کے اذہان و اوہام ہی فطرتاً انتخاب کے مفہوم سے غیر مستعد اور نا آشنا تھے بلکہ اس کے مخالف اور اس سے متوحش تھے۔ اور یہی دو سب سے بڑی قومیں ہیں جنہوں نے اسلام بطور مذہب قبول کیا۔ ڈوزی لکھتا ہے کہ ایرانی ہمیشہ خلیفہ کو مظہرِ الوہیت سمجھ کر اس کی پرستش پر آمادہ و کمر بستہ رہے ہیں۔ جب کبھی ان کو یہ بتایا گیا کہ عبادت و پرستش خدائے واحد و برتر ہی کو انسب و شایاں ہے، اس کے سوا معبود نہیں ہو سکتا تو انہوں نے ہمیشہ ایسے خلیفہ کے خلاف جو معبود بننا مناسب نہ سمجھتا ہو بغاوت کی۔

(2) دوسرا سبب میرے نزدیک یہ ہے کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی زندگی زیادہ تر فتوحات کی زندگی تھی۔ اُن کی تمام قوت و ہمت تمام رجحان و میلان ملک و سلطنت کی تقویم و توسیع کے لئے وقف تھا۔ دنیا میں اس روش کا ہمیشہ یہی نتیجہ ہوا کہ حکومت و ریاست کی باگ ہمیشہ چند افراد کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ جن کا اقتدار گو نادانستہ طور پ،ر تاہم عملاً، ایک مطلق العنان بادشاہ کے اقتدار کے مترادف ہو جاتا ہے، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جمہوریت قدرتاً شہنشاہیت کے دوش بدوش چلنے اور کام کرنے کو تیار نہیں۔ یہ ایک سبق ہے جسے موجودہ زمانہ کے شہنشاہیت پسند انگریز ہم مسلمانوں سے بڑی اچھی طرح سیکھ سکتے ہیں کہ بالآخر اس کوشش کا نتیجہ وہی ہو گا جو ہماری یا باقی اقوام کی تاریخ میں ہوا ہے۔

ہم اس اثر کے لئے جو مغربی سیاسیات کا اس وقت ہم مسلمانوں پر ہو رہا ہے اہل مغرب کے ممنون و شکر گزار ہیں۔ اس اثر کی بدولت ہے کہ اس زمانے میں اسلامی ممالک میں سیاسی زندگی کے آثار از سر نو پیدا ہو رہے ہیں۔ انگلستان کے زیر اثر مصر مضبوط و مستحکم ہو رہا ہے، ایران کو شاہِ ایران سے اصلاحات کی غرض سے نیا قانون اساسی حاصل ہو چکا ہے، ترکی میں انجمن اتحاد و ترقی اسی جدوجہد میں سرگرداں ہے اور اپنے حصولِ مقاصد کے لئے مختلف تجاویز و مساعیِ جمیلہ میں منہمک ہے۔ مگر ان تمام سیاسی مصلحین کو میں یہ رائے دوں گا کہ ان کے لئے یہ اشد ضروری ہے کہ پیشتر اس کے کہ وہ اپنے آپ کو نئی تہذیب کے پیغمبر ظاہر کر کے اپنے لوگوں کی اس قدامت پسندی کو، جو قدرتاً ان سے بدظن ہے صدمہ پہنچائیں، وہ اسلامی آئین اساسی کے اصولوں کو بغور و خوض مطالعہ فرمالیں اور اگر اس طرح وہ جمہور پر یہ ثابت کر دیں۔ اور ان کو یقین دلا دیں، کہ سیاسی آزادی کے وہ اصول جو بظاہر غیر اسلامی نظر آتے ہیں فی الحقیقت عین اسلامی ہیں، اسلام ہی کا مقصود و منتہا ہیں اور آزاد اسلامی ضمیر کا مطالبہ اسلامی اصولوں ہی پر مبنی ہے، اور انہیں کا مقتضی ہے تو یقیناً وہ جمہور و عامۃ الناس کو زیادہ متاثر کر سکیں گے اور ان کو مطلوبہ سیاسی انقلاب کے لئے آمادہ کار پائیں گے۔