اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خلافتِ اسلامیہ

(5) شیخ الاسلام: یہ عہدہ اس غرض کے لئے ہے کہ مقدمات کی آخری اپیلوں کے لئے کوشش ہو اور حکومت کے تمام محکموں پر عام نگرانی کی جائے۔ خلیفہ عبد الملک (بنی امیّہ) جس نے اس عہدہ کو قائم کیا خود بطور شیخ الاسلام کام کرتا تھا۔ اگرچہ زیادہ پیچیدہ مقدمات قاضی ابو ادریس کو دے دیا کرتا تھا۔ دورِ متاخّر میں شیخ الاسلام کو خلیفہ مقرر کرتا تھا۔ عباسی خلیفہ المقتدر کے عہدِ حکومت میں خلیفہ کی اپنی والدہ شیخ الاسلام کے عہدہ پر متمکن تھی۔ اور ہر جمعہ کے روز اپنے گرد علماء۔ قضاۃ۔ مشائخِ عظام اور امراء و اراکین کی مجلس منعقد کر کے اپیلیں سنا کرتی تھی۔ بلحاظ ایک امر کے قاضی القضاۃ اور شیخ الاسلام میں فرق ہے اور وہ یہ کہ موخر الذّکر اول الذّکر کی طرح شریعت کے ہر لفظی مفہوم کا پابند نہیں۔ اس کے فیصلے قدرتی اور فطری عدل و انصاف کے عام کلیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ یوں کہو کہ شیخ الاسلام خلیفہ کے ضمیر کا محافظ و مُہیمن‌نگران ہوتا ہے۔ عدالت کے وقت اس کے ساتھ اس کی مدد کو قضاۃ و فقہاء کی ایک مجلس بیٹھتی ہے جس کا فرض ہوتا ہے کہ شیخ الاسلام کے فیصلے سنانے سے قبل اسی کے سامنے مقدمہ کے ہر پہلو پر بالتفصیل و توضیح جرح و بحث کرے۔ اس عہدہ کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی ان چند یادگاروں میں ایک تھی جسے نارمنوں‌Normans نے گیارھویں صدی میں سسلی پر قبضہ کرنے کے بعد اپنی حکومت کے دوران میں بھی قائم رکھا۔

شیعی نظریہ خلافت

اہلِ تشیع کے اعتقاد کے مطابق حکومت و سلطنت کا منبع الوہیت یعنی خود خدا ہے۔ خلیفہ یا ان کی اصطلاح میں امام ایک حقِ الٰہیہ کی رو سے حکومت کرتا ہے۔ یہ اعتقاد سب سے پہلے ایک غیر معروف عربی فرقے میں پیدا ہوا جسے سباعی کہتے تھے۔ اور جس کا بانی عبد اللہ ابن سباع ایک یہودی تھا جو یمن میں صنعا کا رہنے والا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں اس نے اسلام قبول کیا۔ اور بالآخر مصر میں اقامت اختیار کر کے وہاں اپنے معتقدات کا وعظ لوگوں میں شروع کیا۔ اس کا یہ عقیدہ بالکل ان سیاسی عقائد کے مطابق و ہم معنی تھا جو قبل ظہورِ اسلام ایران میں مقبول و مسلم تھے۔ لہذا اس عقیدے نے ایران میں بہت جلد جڑ پکڑ لی۔ ایرانیوں کے عقیدہ کے مطابق امام منتخب نہیں ہو سکتا۔ بلکہ مامور من اللہ ہوتا ہے۔ عمان کے شیعوں نے بیشک انتخابی اصول کو اختیار کیا اور یہ بھی تسلیم کیا کہ امام معزول بھی ہو سکتا ہے۔ وہ عقلِ کّل کا اوتار‌مجسم ظہور ہوتا ہے، تمام کمالات کا جامع ہوتا ہے، فوق البشری ادراک و فراست اسے حاصل ہوتے ہیں، اس کے فیصلے آخری اور ناطق اور بلا احتمالِ سہو و خطا ہوتے ہیں، سب سے پہلے امام حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا، حضرت علیؓ کے بلاواسطہ خلاف آپ کے مقرر کردہ خدا کے جانشین ہیں۔ دنیا کبھی بغیر زندہ امام کے نہیں رہ سکتی۔ خواہ وہ امام ظاہر ہو یا غائب۔ حضراتِ شیعہ کے اعتقاد کے مطابق اُن کے بارھویں امام کوفہ کے نزدیک اچانک غائب ہو گئے تھے۔ وہ پھر دوبارہ دنیا میں ظہور فرمائیں گے۔ اور دنیا کو امن و امان اور خوشحالی و فارغ البالی سے معمور کر دیں گے۔ اس اثناء یعنی زمانۂ غیبت میں وہ وقتاً فوقتاً اپنے مقبول و مجبوب افراد کی وساطت سے (جنہیں باب کہتے ہیں)، جن کا غائبانہ تعلق ہمیشہ ان سے قائم رہتا ہے، اپنی رضا و ارادہ کے متعلق لوگوں کو اطلاع دیتے رہتے ہیں۔ یہ غیبتِ امام کا مسئلہ سیاسی نکتۂ خیال سے نہایت اہم اور نتیجہ خیز ہے۔ اور ہمارا خیال ہے کہ بہت کم علمائے اسلام و محققینِ شریعت نے اس کو کماحقہ سمجھا ہے۔ یہ تو معلوم نہیں کہ بارھویں امام حقیقتاً غائب ہوئے یا نہ۔ اتنی بات ضرور اظہر من الشمس ہے کہ غیبتِ امام کا عقیدہ اس قدر قابل داؤ حیلہ گری پر مبنی ہے کہ اس کے ذریعہ سے مذہب و حکومت میں با آسانی افتراق و اختلاف پیدا کیا جا سکتا ہے۔ امامِ غائب جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں تمام امور و معاملات میں آخری اور مطلق سند ہے۔ لہذا موجودہ ظاہری حکام و عمال محض اس املاک کے محافظ و نگران ہیں جس کا حقیقی وارث و مالک خود امامِ غائب ہے۔ امامِ غائب کو بہ وراثت بلا واسطہ پہنچتی ہے۔ سوائے اُس صورت کے جہاں پہلے اماموں کے بلا واسطہ وارث نہ ہوں یعنی صرف اس صورت میں بالواسطہ آتی ہے۔ اس توضیح سے یہ بات بخوبی ذہن میں آ جائے گی کہ شاہِ ایران کے کل اختیارات ایران کے ملاؤں کی ہدایت و تصرف کے زیرِ اثر ہیں۔ اس لئے کہ وہ امامِ غائب کے نمائندے ہیں۔ البتہ اس لحاظ سے کہ شاہِ ایران اس جاگیر کا سب سے اعلیٰ انتظامی حاکم ہے، وہ اس املاک و وراثت کی بہبودی کے لئے جو ذرائع عمل میں لانا چاہے لا سکتا ہے۔ تاہم چونکہ وہ اس املاک کا محض نگران و پاسبان ہے اُسے ہمیشہ ملاؤں کی حکومت کے ماتحت رہنا پڑتا ہے۔ یہ معلوم کرنے کے بعد اس بات میں کوئی حیرت و تعجب باقی نہیں رہے گا کہ ایران میں گذشتہ آئینی اصلاحات کے حصول کی جدوجہد کے زمانہ میں ملاؤں نے اس قدر مستعدی و جرأت سے کیوں کام لیا۔

خوارج (جمہوریت پسند) اور مسئلہ خلافت

خوارج کے معتقدات بیان کرنے میں بہت حد تک اجمال سے کام لیا جائے گا۔ کیونکہ ان کے سیاسی عقیدہ کے ارتقاء کی تاریخ ابھی تک بہت تھوڑی لکھی یا سمجھی گئی ہے۔ خوارج کے نام سے سب سے پہلے اس مشہور بارہ ہزار کے دستۂ فوج کو پکارا گیا جس نے جنگِ صفّین میں حضرت علیؓ کے ماتحت لڑنے کے بعد آپ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ جس بات نے انہیں برافروختہ کیا وہ یہ تھی کہ حضرت علیؓ نے اپنے اور امیر معاویہ کے مابین خلافت کے تصفیہ کو ثالثوں پر چھوڑنے میں رضامندی کا اعلان کیا تھا۔ اِدھر ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ فیصلہ قانونِ الٰہی یعنی قرآن کے مطابق ہونا چاہئے۔ انہوں نے حضرت علیؓ سے کہا۔ کہ ’’قوم ہمیں کتاب اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف بلاتی ہے اور اس کے مطابق فیصلہ چاہتی ہے۔ تم ہمیں تلوار اٹھانے کا حکم دیتے ہو اور جنگ پر آمادہ کرتے ہو‘‘۔ امام شہرستانی کے نزدیک خوارج کے چوبیس فرقے ہیں۔ ان میں عام طور پر شریعت اور آئینِ اساسی کے مسائل کے متعلق ایک دوسرے سے تھوڑا تھوڑا فرق ہے۔ مثلاً مختلف فیہ مسائل اس قسم کے ہیں ’’قانون سے لاعلمی معقول عذر ہے‘‘ ’’زانی کو سنگسار نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ قرآن میں اس سزا کا ذکر نہیں‘‘ ’’تقیّہ2 حرام ہے‘‘ ’’خلیفہ کو امیر المومنین کے خطاب سے پکارنا ناجائز ہے‘‘ ’’ایک ہی وقت میں دو یا اس سے زیادہ خلیفوں کا مسندِ خلافت پر متمکن ہونا شرعاً ناجائز نہیں‘‘ مشرقی افریقہ اور مزاب (جنوبی الجیریا‌Algeria) میں خوارج ابھی تک اپنے جمہوری منتہا کے سادہ عقیدہ پر قائم و ثابت ہیں۔ عام عقائد کو مدنظر رکھتے ہوئے خوارج تین جماعتوں پر منقسم ہیں (1) وہ جن کا مذہب یہ ہے کہ خلیفہ منتخب ہونا چاہئے۔ لیکن اس کی یہ شرط نہیں کہ وہ کسی خاص خاندان یا قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو۔ عورت اور غلام بھی خلیفہ منتخب ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ سچے اسلامی حکمران ثابت ہوں۔ اس فرقہ کے خوارج جب کبھی برسرِ اقتدار ہوئے۔ انہوں نے دانستہ اپنی قوم کے ادنیٰ طبقہ کے لوگوں سے خلیفہ منتخب کیا (2) دوسرے اس قسم کے خوارج ہیں۔ جن کا عقیدہ ہے کہ خلیفہ کی سرے سے ضرورت ہی نہیں جمہور مسلمانان اپنے کوائف و حالات کے نگران آپ ہو سکتے ہیں۔ اور اپنے آپ پر آپ حکومت کر سکتے ہیں۔ (3) تیسرے وہ جو مطلقاً کسی قسم کے نظام و حکومت کے قائل ہی نہیں دوسرے الفاظ میں ’’اسلام کے انارکسٹ‌Anarchist‘‘ کہئے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ نے انہی لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا تھا ’’تم کسی نظام و حکومت میں ایمان نہیں رکھتے۔ مگر نظام و حکومت کے بغیر چارہ نہیں خواہ اچھا ہو یا بُرا‘‘۔