اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خلافتِ اسلامیہ

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اسلام میں منتخب شدہ و انتخاب کنندہ کے مابین کیا رشتۂ تعلق ہے۔ امام الماوردی نے اس تعلق کو لفظ ’’عقد‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ گویا حکومت ایک عقد و پیمان قائم کرنے والے نظام کا نام ہے۔ جو حقوق و فرائض کا امین و محافظ ہے۔ الماوردی جب اس تعلق کو عقد سے تعبیر کرتا ہے۔ تو روسو‌Rousseau کی طرح اس کا یہ منشاء نہیں کہ سوسائٹی کے ماخذ کو ایک اولین معاشرتی عہد و پیمان پر مبنی کیا جائے۔ اُس کا مطلب لفظ عقد سے صرف یہ ہے کہ فی الحقیقت عملِ انتخابِ خلیفہ اور جمہور مسلمانان میں ایک اس قسم کا پیمان ہے جس کی رو سے خلیفہ پر یہ واجب ہو جاتا ہے کہ وہ بعض خاص فرائض کو بجا لانے کا پورا پورا ذمہ وار ہو۔ مثلاً وہ فرائض ان امور سے متعلق ہیں۔ حفاظتِ مذہب، شریعت پر عملدرآمد، شریعت کے مطابق محصول اور لگان وغیرہ کا عائد کرنا، سالانہ تنخواہیں تقسیم کرنا، بیت المال کے روپے کے مصرفوں کی نگرانی اور جانچ پڑتال کرنا۔ اگر خلیفہ ان کو بجا لائے تو مسلمانوں پر بھی اس کے مقابل میں دو فرض عائد ہوں گے۔ اوّل خلیفہ کی اطاعت، دوم شریعت کے نفاذ میں اس کی مدد و اعانت۔ اس عہد و پیمان کے خیال سے الگ بعض فقہاء نے ایسے واقعات بھی لکھے ہیں جن میں خلیفہ کی اطاعت کوئی لازمی شرط نہیں ثابت ہوتی۔ الماوردی کے نزدیک حکومت کا ماخذ طاقت و جبروت نہیں بلکہ ان افراد کی آزادانہ باہمی رضا و مصالحت ہے جو اس غرض کے لئے متحد و متفق ہوئے ہیں کہ قانونی مساوات کی بنا پر ایک اس قسم کی اخوت قائم کریں جس کا ہر رکن شریعتِ اسلامیہ کے ماتحت بحیثیتِ فرد اپنی فطرت کے تمام ممکنات کا امتحان کر سکے۔ اور اپنے انفرادی قویٰ کو کماحقہ ترقی دے کر اپنی انتہائی نشوو ارتقاء کے کرشموں سے آگاہ ہو سکے۔ الماوردی کے خیال کے مطابق گورنمنٹ یا حکومت ایک مصنوعی خود ساختہ نظام ہے۔ اور مقدس و مُطہر صرف ان معنوں میں ہے کہ شریعتِ اسلامیہ، جیسا کہ مسلمانوں کا اعتقاد ہے، وحی پر مبنی ہونے کی وجہ سے بنی نوع کے امن و حفاظت کی کفیل و امین ہے۔

خلیفہ اپنے انتخاب کے بعد سلطنت کے اعلیٰ احکام کا تقرر عمل میں لاتا ہے۔ یا جو حکام پہلے مقرر ہوتے ہیں انہیں بحال رکھتا ہے، شریعت کے مطابق حکامِ اعلیٰ اور ان کے فرائض حسبِ ذیل ہیں:۔ (1) وزیر اعظم (وزیر اعظم محدود اختیارات کا بھی ہوتا ہے اور غیر محدود اختیارات کا بھی)۔ غیر محدود اختیارات کے وزیر اعظم کے لئے اتنے اوصاف کا مالک ہونا شرط ہے جو خلیفہ کے لئے لازمی ہیں باستثناء اس امر کے (عند الماوردی) کہ اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ خاندانِ قریش سے ہو۔ وزیر اعظم کے لئے شرط ہے کہ عالمِ متبحّر ہو۔ ریاضی، تاریخ، فصاحت و بلاغت میں خاص قابلیت و مہارت رکھتا ہو۔ اُسے اختیار ہوتا ہے کہ خلیفہ کے تمام فرائض انجام دے۔ البتہ خلیفہ کے جانشین کو نامزد کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ وہ مختار ہوتا ہے کہ خلیفہ کی منظوری کے بغیر حکومت کے مختلف محکموں کے افسر مقرر کر دے۔ محدود اختیارات کا وزیر ایسا نہیں کر سکتا۔ غیر محدود اختیارات کا وزیر اگر معزول ہو تو اس کے ساتھ وہ تمام عہدہ داران بھی معزول سمجھے جاتے ہیں جو اُس نے مقرر کئے ہوئے ہیں۔ محدود اختیارات کا وزیر برخاست ہو تو اس کے مقرر کردہ عہدہ دار برخاست نہیں ہوتے، غیر محدود اختیارات کے وزیر ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتے، مختلف صوبوں کے والی (گورنر) اپنے وزیر آپ مقرر کر سکتے ہیں، ایک غیر مسلم محدود اختیارات کا وزیر مقرر ہو سکتا ہے جیسے عبیدیوں کے شیعہ خاندان نے ایک یہودی کو اس اعلیٰ عہدہ پر مامور بھی کیا۔ ان کی اس انتہائی آزاد روی کا ایک مصری (بغدادی؟) شاعر نے ان جلے الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے۔

یھود ھذا الزمان قد بلغوا

مرتبۃ یا لھا فملک

الملک فیھم والمال عندھم

ومنھم المستشار والملک

یا معشر الناس قد نصحت لکم

تھودوا قد تھود الفلک

(اس زمانہ کے یہودی اس مرتبہ کو پہنچ گئے ہیں۔ جسے فلک بھی چاہے تو پا نہیں سکتا۔ ملک اُن کا۔ مال اُن کا۔ وزیر اُن کے۔ بادشاہ اُن کا۔ لوگو! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔ کہ یہودی بن جاؤ۔ کیونکہ آج کل خدا خود یہودی بن چکا ہے)

(2) وزیر اعظم کے بعد حکامِ منتظمین کی صف میں مختلف ولایتوں کے والی (گورنر) ہیں۔ ان کو خلیفہ مقرر کرتا ہے۔ بعض کے اختیارات محدود ہوتے ہیں بعض کے غیر محدود۔ محدود اختیارات کے والی ملحقہ چھوٹے صوبوں کے لئے نائب والی خود مقرر کر سکتے ہیں۔ مثلاً سسلی‌Sicily کے نائب والی کو اندلس کا والی مقرر کیا کرتا تھا اور سندھ کے نائب والی کو بصرہ کا والی۔ اس تمام نظام سے حقیقت میں مدعا یہ تھا کہ مختلف صوبوں میں خود اختیار اسلامی مستعمرات قائم کی جائیں۔ دوسرے لفظوں میں صوبہ کا والی اپنے صوبہ کے اندر ایک چھوٹے پیمانہ پر خلیفہ ہوتا تھا۔ وہ اپنا وزیر اپنا قاضی القضاۃ اپنے دوسرے حکام و عمال خود آپ مقرر کرتا تھا۔ جہاں صوبہ کی مقامی سپاہ کا کوئی خاص کماندار معین نہ ہوتا تھ۔ وہاں خود والی بحیثیت والی امیر الجیش سمجھا جاتا تھا۔ مگر حکومت کا یہ طریقِ کار غلطی پر مبنی تھا۔ کیونکہ کئی جگہ گورنر بتدریج قوت پکڑ جاتے تھے۔ اور اکثر دفعہ مطلق العنانی کا اعلان بھی کر دیتے تھے۔ تاہم بحیثیت سپہ سالار گورنر کے اختیارات بالکل محدود تھے۔ یہاں تک کہ سوا خاص صورتوں کے سپاہیوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا فرض تھا کہ مقامی حکومت کے مصارفِ ضروریہ کے بعد جو روپیہ بچے وہ براہِ راست مرکزی خزانہ یعنی بیت المال خلافت میں روانہ کر دے۔ اگر ولایت کی آمدنی مصارف سے کم رہ جاتی تو وہ مرکزی خزانہ سے بقدرِ ضرورت روپیہ طلب کر سکتا تھا۔ اگر والی کو خلیفہ مقرر کرتا تھا تو خلیفہ کی معزولی کے ساتھ والی کی معزولی لازم ملزوم نہ ہوتی تھی۔ لیکن اگر والی وزیر اعظم کا مقرر کردہ ہوتا تو پھر وزیر اعظم کی موت کے ساتھ اس کے تمام مقرر کردہ والی بھی معزول سمجھے جاتے۔ البتہ ان صورتوں میں جہاں تقرر ابھی نیا ہوتا معزولی عمل میں نہ آتی تھی۔

محدود اختیارات کا والی محض ایک انتظامی افسر ہوتا ہے۔ اس کو عدالتی امور سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ فوجداری مقدمات میں اس کا اختیار بالکل محدود ہوتا ہے۔ فقہاء نے ایک تیسری قسم کا والی بھی تسلیم کیا ہے۔ یعنی غاصب مگر پیشتر اس کے کہ غاصب کا حق شرعاً تسلیم کیا جائے اسے چند خاص شرائط کو پورا کرنا ہوتا ہے۔

(3) افواج کے امیر الجیش: ان میں بھی محدود و غیر محدود اختیارات کی تمیز رکھی گئی ہے۔ کماندار، ماتحت افسر، سپاہی سب کے فرائض واضح و بین طور پر معلوم و معین ہوتے ہیں۔

(4) قاضی القضاۃ: قاضی القضاۃ کو خلیفہ بھی مقرر کر سکتا ہے، وزیر اعظم بھی۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بعض حالات میں اور ابو جعفر طبری کے نزدیک مسلمہ طور پر ہر حالت میں ایک غیر مسلم اپنے ہم مذہبوں پر اپنے مذہبی قانون کے مطابق مقدمات فیصل کرنے کے لئے حاکم یا منصف مقرر کیا جا سکتا ہے۔ قاضی القضاۃ بحیثیت کفیل و نمائندۂ شریعت خلیفہ کو معزول کر سکتا ہے۔ گویا دوسرے الفاظ میں اپنے بنانے والے کو مٹا سکتا ہے۔ اگر قاضی القضاۃ فوت ہو جائے تو اس کا تمام عملہ موقوف و معزول سمجھا جاتا ہے۔ برعکس اس کے خلیفہ کی موت کا یہ لازمی نتیجہ نہیں کہ اس کے مقرر کردہ تمام قاضی موقوف ہو جائیں، نئے خلیفہ کے انتخاب تک یعنی اس وقت کے اندر اندر جتنا عرصہ مسندِ خلافت خالی رہے ایک شہر کے لوگوں کو اختیار ہے کہ اپنا قاضی آپ انتخاب کر لیں۔ مگر خلیفہ کی زندگی میں وہ ایسا نہیں کر سکتے۔