اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

خلافتِ اسلامیہ

خلیفہ کو اختیار ہے کہ اپنا جانشین نامزد کر دے خواہ وہ اس کا اپنا بیٹا ہی ہو۔ لیکن جب تک جمہورِ ملت اس کی تائید نہ کرے نامزدگی شرعاً غیر مکمل رہے گی۔ بنی امیہ کے چودہ خلفاء میں صرف چار خلیفے اس کوشش میں کامیاب ہوئے۔ کہ ان کے بعد ان کے بیٹے اُن کے وارثِ خلافت ہوں۔ خلیفہ کو یہ اختیار ہرگز حاصل نہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے جانشین کو لوگوں سے منتخب کرائے۔ ابن اثیر لکھتا ہے۔ کہ خلیفہ عبد الملک (بنی امیّہ) نے اس قسم کے انتخاب کا چارہ کیا۔ مگر مکہ کے مشہور فقیہہ ابن مصیّب نے خلیفہ کے اس طرزِ عمل کے خلاف نہایت بلند آہنگی سے احتجاج کی آواز اٹھائی۔ عباسی خلیفہ الہادی بیشک اس سعی میں کامیاب ہوا کہ اپنی زندگی میں اپنے بیٹے جعفر کو جانشین منتخب کرائے مگر یہ انتخاب عبث و بے معنی تھا کیونکہ اس کی وفات کے بعد لوگوں نے ہارون کو اپنا خلیفہ مقرر کر لیا اور جعفر کی پرواہ تک نہ کی۔ جب صورتِ حالات اس قسم کی پیدا ہو جائے کہ ایک خلیفہ پہلے منتخب ہو چکا ہو۔ اور جمہورِ ملت بعد میں ایک دوسرا خلیفہ انتخاب کر لیں تو پھر پہلے منتخب شدہ خلیفہ کو طوعاً و کرہاً اپنے حقوق سے عام پبلک کے سامنے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ اگر ایسا کرنے سے گریز و انکار کرے تو سزائے قتل کا مستوجب ٹھہرایا جاتا ہے۔

اگر خلیفہ شریعت کے مطابق احکام نافذ نہ کرے یا اگر جسمانی یا روحانی اسقام میں مبتلا ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ خلافت اس سے چھین لی جائے۔ خلیفہ کی اس قسم کی معزولی کے وقت عام طور پر جس قاعدہ پر عمل کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی صاحبِ اثر مسلمان بعد نمازِ جماعت مسجد میں سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور جماعت کو خطاب کر کے اُن تمام برہان و دلائل کو لوگوں پر واضح کرتا ہے جو اس امر کے مقتضی ہوتے ہیں کہ خلیفہ کو مسندِ خلافت سے برطرف کر دیا جائے۔ وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ خلیفہ کی معزولی تائیدِ مقاصدِ اسلام کی بنا پر عمل میں لائی جا رہی ہے نہ کہ اس کے سوا کسی اور غرض کے لئے۔ تقریر ختم کر کے وہ اپنے ہاتھ کی انگوٹھی اُتار کر زمین پر دے مارتا ہے اور زبان سے یہ لفظ پکارتا ہے ’’مجھے اس خلیفہ کی معزولی اس طرح مطلوب ہے جس طرح میں نے اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کو اُتار کر پھینک دیا ہے‘‘ بعد ازاں لوگ مختلف طریقوں پر اس تجویز کی تائید کرتے ہیں حتیٰ کہ معزولی کا عمل بالکل مکمّل سمجھا جاتا ہے۔

فقہاء نے اس مسئلہ پر بھی طویل بحث کی ہے۔ کہ آیا ایک ہی وقت میں دو خلیفوں کا ہونا شرعاً جائز ہے یا نہیں۔ ابن جمع کا قول ہے کہ خلیفہ ایک سے زائد نہیں ہو سکتا۔ ابن خلدون کی رائے ہے کہ ایک ہی وقت میں دو یا اس سے زیادہ خلیفوں کا ہونا کسی سبب خلافِ شرع نہیں مگر یہ شرط ہے کہ خلیفے مختلف ممالک میں ہوں نہ کہ ایک ہی ملک میں۔ ابن خلدون کی یہ رائے بیشک قدیم عربی مفہومِ خلافت کے مخالف ہے۔ تاہم جس حد تک کہ جمہوریتِ اسلام غیر شخصی و غیر صنعی قانون یعنی شریعتِ وحی کے تابع ہے، میرا خیال ہے کہ ابن خلدون کی رائے بالکل درست ہے اور مؤیدِ مقصود ہو سکتی ہے۔ مزید براں یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ فی الواقع بہت لمبے عرصے تک اسلام میں دو خلافتیں ایک ہی زمانہ میں قائم رہیں۔

جس طرح امیدوارِ خلافت کے لئے بعض مخصوص اوصاف کا مالک ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح الماوردی کے نزدیک انتخاب کنندہ کے لئے لازم ہے کہ وہ بھی چند مخصوص اوصاف سے متصف ہو۔ اور وہ یہ ہیں (1) دیانت داری اُس کی معلوم و معروف ہو (2) امورِ سلطنت کا ضروری علم اور واقفیت حاصل ہو۔ (3) دور بین اور عدل و انصاف کے مادہ سے خالی نہ ہو۔

اصولاً تمام مسلمان مرد و زن کو انتخاب میں رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ صاحبِ جائداد ہونا شرط نہیں تاہم عملاً عورتوں اور غلاموں کو اپنے حق کو عمل میں لانے کا کبھی موقعہ نہیں ہوا۔ معلوم ہوتا ہے، قرونِ اولیٰ کے فقہاء اس بات میں کچھ خطرہ محسوس کرتے تھے۔ کہ عوام الناس کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو یا کبھی عملاً ووٹ دیں۔ کیونکہ یہ تمام فقہاء عموماً اس پر زور دیتے ہیں اور انہوں نے اسے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انتخاب اور ووٹ دینے کا حق صرف خاندانِ پیغمبر تک ہی محدود ہے۔ عام مسلمان انتخاب میں دخل دینے کے مجاز نہیں۔ مگر ہم بالفعل اس معاملہ میں اپنی رائے نہیں دے سکتے کہ عورتوں کو الگ تھلگ رہنے کی پابندی روز افزوں اس لئے ہوئی کہ ان کو حقِ انتخاب سے محروم رکھا جائے جس سے اصولاً ان کو محروم نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ یا کسی اور غرض کے لئے۔

 انتخاب کنندہ کو خلیفہ یا اس کے عاملین کی معزولی کے مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے۔ بشرطیکہ وہ یہ ثابت کر دے کہ ان کا طرزِ عمل خلافِ شریعت ہے۔ اس کو یہ اختیار ہے۔ کہ بعد نماز مسجد میں تمام حاضرین کو اس موضوع پر خطاب کرے اور اپنے اعتراضات و دعاوی و دلائل کو ان کے سامنے پیش کرے۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مسجد مسلمانوں کی کونسل چیمبر یا دیوانِ عام ہے۔ مسجد میں نماز با جماعت اور روزانہ عبادت کا مسئلہ ملتِ اسلامیہ کی سیاسی زندگی کے ساتھ اس طرح پر جذب و متحد ہے کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی اور معاشرتی اُمور کو الگ رکھتے ہوئے مسجد کا تعمیر کرنا اس غرض پر مبنی ہے کہ مسلمان جس وقت چاہیں مسجد میں فوراً اکٹھے ہو کر حکومت و خلافت کے طرزِ عمل پر جرح و قدح کر سکیں۔ لیکن اگر انتخاب کنندہ جماعت کے سامنے تقریر نہ بھی کرنا چاہے تو اُسے اختیار ہے کہ حکومت کے جس افسر کے طرزِ عمل کے خلاف وہ چاہے یا ایسے امر کے متعلق جس کا بحیثیتِ مجموعی تمام قوم پر اثر پڑ سکتا ہو آئینی تحقیقات یا باصطلاحِ شریعت استفتاء‌فتویٰ طلب کرے۔ استفتاء میں قاعدہ ہے کہ کسی خاص شخص کا نام لے کر ذکر نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر ہم وہ الفاظ نقل کرتے ہیں جو عموماً ہر استفتاء میں استعمال کئے جاتے ہیں:۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‌اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و فقہائے شرعِ مبین اس مسئلہ میں کہ ذمّی لوگوں کی حوصلہ افزائی شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا دیتے ہیں وہ رائے اس بارہ میں کہ ملکی انتظامات میں ذمیوں کو حکام و عمال کے منشی یا محرر بنانے یا لگان کے محصّلین مقرر کرنے سے جو امداد و معاونت ان سے حاصل کی جاتی ہے۔ وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ دلائلِ قاطع سے مسئلہ مذکورہ بالا کی توضیح فرمائی جائے اور براہینِ ساطع‌واضح سے اس کے متعلق ایمانِ حقّہ کی تبیین کی جائے۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء‌اللہ تمہیں بہترین بدلہ عطا کرے

اس قسم کے استفتاء‌فتویٰ طلب حکومت خود بھی کرتی ہے جب مفتیوں کے فتوؤں میں اختلافِ رائے ہو۔ تو عمل کثرتِ رائے کے فیصلہ پر کیا جاتا ہے۔

جبری انتخاب قطعاً ناجائز ہے لیکن مصری فقیہہ ابن جمع کی رائے یہ ہے۔ کہ سیاسی ہلچل کے زمانہ میں جائز ہو سکتا ہے۔ شریعت ایسے عمل کو جو فوری و ہنگامی ضرورت سے پیدا ہوا ہو، تسلیم نہیں کرتی۔ اس قسم کے انتخاب جو اسلامی حکومتوں میں عمل میں آئے وہ بے شک و شبہ تاریخی واقعات کی نظیروں پر مبنی تھے نہ کہ آئینِ اسلام پر۔ اندلسی فقیہہ طرطوشی بھی غالباً اسی خیال کا ہے۔ کیونکہ اس کا قول ہے کہ ’’ظلم و ستم کے چالیس سال فتنہ و فساد کے ایک لمحہ سے اچھے ہیں‘‘۔